12:52 pm
اقتصادی  استحکام  کے  آثار  

اقتصادی  استحکام  کے  آثار  

12:52 pm

 گذشتہ دنوں وزیر اعظم نے کابینہ اراکین کو واضح الفاظ میں کارکردگی بہتر کرنے کی ہدایت کی ۔ یہ امر لائقِ تحسین ہے کہ وزیر اعظم نے لگی لپٹی رکھے بغیر ابتدائی ایام میں اپنی حکومت کی ناتجربہ کاری کی بنیاد پر ناقص کارکردگی کا اعتراف کر کے ملکی سیاست میں خود احتسابی کا نیا رجحان متعارف کروایا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ معاشی تنزلی نے موجودہ حکومت کی عوامی غیر مقبولیت میں اضافہ کیا ۔ توقعات کے برعکس عوام کو مہنگائی کی چکی میں پسنا پڑا۔ بجلی ، گیس اور پٹرول کے نرخ بڑھنے سے معاشی بوجھ میں اضافہ ہوا۔ کرونا وباء نے معیشت کا پہیہ جام کیا ۔ عوام کی بے چینی بجا ہے ! پنجابی محاورے کے مطابق بھوکے پیٹ میں روٹی نہ جائے تو سب باتیں اور بھاشن غلط لگتے ہیں۔ گو معاشی حالات پوری طرح سدھرے نہیں لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ پاکستان نے درست سمت میں سفر کا آغاز کر دیا ہے اور بہتری کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں۔ گذشتہ پانچ ماہ کے دوران زر مبادلہ کے ذخائر مثبت اشارے دکھا رہے ہیں ۔ خسارے کا رجحان ختم ہوا ہے۔ وہ فیصل آباد کہ جسے ماضی میں پاکستان کا مانچسٹر کہا جاتا تھا وہاں دم توڑتی ٹیکسٹائل انڈسٹری میں زندگی کی رمق دکھائی دی ہے۔ صنعت چل پڑی ہے تو روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ 
حکومت نے روشن ڈیجیٹل اکائونٹ متعارف کروا کر بیرون ملک سے زر مبادلہ بھیجنے والوں کو بھروسہ دلایا ہے۔ گو ٹیکس وصولی کے نظام کی پیدائشی بیماریاں ابھی ختم نہیں ہوئیں تاہم تطہیر کا عمل جاری ہے۔ امید رکھنی چاہئیے کہ یہ سفر درست سمت میں نیک نیتی سے جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان معاشی استحکام کی منزل حاصل کر لے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور حزب اختلاف سر جوڑ کر بیٹھیں اور ملک کی معاشی تنزلی اور مسلسل ناکامی کے اسباب پر غور کریں۔ اجتماعی ناکامی کے کچھ اسباب بالکل واضح اور کچھ نہاں ہیں ! دیگر امور سے صرف نظر کرتے ہوئے اگر معاشی ناسور پر توجہ مبذول رکھی جائے تو زیادہ بہتر ہو گا ۔ تاریخ کا یہ اہم نکتہ ذہن میں رکھئے کہ کروڑوں انسانوں کی جانیں لینے والی پہلی اور دوسری عالمی جنگیں معاشی برتری اور بالادستی کے حصول کے لیے لڑی گئیں۔ معاشی شہ رگ دبوچ کر دشمن ملک کی جان نکالنے کا حربہ بہت پرانا اور آزمودہ ہے۔ آپ غور کیجئے آج بھی اپنے حریف ممالک کے خلاف اقتصادی پابندیاں امریکہ بہادر کا پسندیدہ ہتھیار ہے۔ ایران کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ جن ممالک سے کھلی نہیں بلکہ پوشیدہ یا غیر اعلانیہ جنگ جاری ہے اور اُن سے کچھ مفادات بھی وابستہ ہیں تو وہاں شہ رگ مکمل طور پر دبوچنے کے بجائے عالمی بنک اور آئی ایم ایف کے قرضوں اور اقتصادی پروگرامز کے زہریلے انجکشن لگا کر حکومتی اعصابی نظام مفلوج کر دیا جاتا ہے۔ آج کا پاکستان اور اس کا ناسور زدہ معاشی ڈھانچہ زہریلے عالمی نظام کی کاریگری کی جیتی جاگتی مثال ہے۔ عالمی بنک اور آئی ایم ایف کے مطب سے کبھی کوئی قوم شفایاب نہیں ہو پائی۔ پاکستان کا علاج بھی خود انحصاری اور قرضوں سے پاک معاشی نظام میں پنہاں ہے۔ 
گزشتہ برس دفاعی بجٹ منجمد کیا گیا تھا۔ اس برس سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پنشن میں اضافہ نہ ہوسکا۔ حکومت خوردنی اشیاء سمیت بجلی ، گیس اور پیٹرول کے نرخ منجمد کر دے تو عوام کو حقیقی ریلیف مل سکتا ہے۔ ٹیکس چور سرمایہ دار اور سیٹھ کے حلق پر انگوٹھا رکھ کر مالی خسارہ پورا کیا جائے۔ ملک میں پیدا ہونے والی چینی اور گندم کی رسد اور نرخ ریاستی ادارے کنٹرول کریں۔ اقتصادی نظام میں جوہری تبدیلی درکار ہے۔ اول، پاکستان کا معاشی بحران مصنوعی اور خانہ ساز ہے۔ زرعی پیداوار ، توانائی اور ٹیکسوں کے نظام کی جنگی بنیادوں پر اصلاح میں سارے بحران کا حل پوشیدہ ہے۔ دوم، عالمی بنک اور آئی ایم ایف کے معاشی غارت گر(Economic Hitman) کبھی بھی پاکستان کی معیشت کو پیروں پر کھڑا نہیں ہونے دیں گے۔ سوم، ہر حکومت کی صفوں میں چھپے مافیا ء کے نمائندے فیصلہ سازی کے عمل کو ہائی جیک کر کے عوام دوست پالیسیوں کو ناکام بناتے ہیں ۔ایسے عناصر سے حکومتی صفوں کی تطہیر لازم ہے چہارم، معاشی بحران گہرا کر کے عالمی قوتیں سی پیک ، دفاعی استعداد، افغان بحران ، بھارتی علاقائی بالادستی اور ایٹمی اثاثوں جیسے حساس معاملات پر پاکستان کی معاشی شہ رگ دبوچ کر اپنی مرضی کے فیصلے کروانے کے درپے ہیں۔ معاشی بحران محض دال ،روٹی، چائے ، پانی یا بجلی اور گیس کی سپلائی کا معاملہ نہیں بلکہ یہ پاکستان کی بقاء کا معاملہ ہے۔ معاشی شہ رگ کو عالمی غارتگروں کی گرفت سے آزاد کروانا ہوگا وگرنہ پاکستان خطے میں اپنا وجود بر قرار نہیں رکھ پائے گا۔ 
حکومت نے معاشی میدان میں جو درست اقدامات اٹھائے ہیں اُن کی حمایت سیاسی وابستگیوں  سے بالا ہو کر کرنی چاہئیے۔ دشمن پاکستان کی معاشی بربادی کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہیں۔ معیشت کے میدان میں ابتدائی بہتری کے آثار خوش آئند ہیں۔ حکومت عوام کی بہتری کے لئے مزید اقدامات کرے جبکہ قومی قیادت ہر درست اقدام کی حمایت کر کے داخلی استحکام اور اقتصادی ترقی کے عمل کو مضبوط کرے۔











 






 

تازہ ترین خبریں

بھارت کو ایک ماہ کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت کی ذمہ داری۔۔۔دفتر خارجہ کا ردعمل سامنے آگیا

بھارت کو ایک ماہ کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت کی ذمہ داری۔۔۔دفتر خارجہ کا ردعمل سامنے آگیا

بلاول بھٹو زرداری اور ایمل ولی خان کی ملاقات۔۔۔۔۔سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال

بلاول بھٹو زرداری اور ایمل ولی خان کی ملاقات۔۔۔۔۔سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال

 پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو جیت کیلئے 158 رنز کا ہدف دیدیا۔

پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو جیت کیلئے 158 رنز کا ہدف دیدیا۔

وزیراعظم عمران خان کل عوام سے براہ راست مخاطب ہونگے 

وزیراعظم عمران خان کل عوام سے براہ راست مخاطب ہونگے 

موت تعاقب میں تھی ، پاکستان کے اہم شہر میں امتحان دینے نکلی نویں جماعت کی طالبہ کی افسوسناک موت

موت تعاقب میں تھی ، پاکستان کے اہم شہر میں امتحان دینے نکلی نویں جماعت کی طالبہ کی افسوسناک موت

پاکستان کے اس شہر کے عوام سپر احتیاط کریں، ہفتے کے روز ہونے والی موسلادھار بارش صرف شروعات تھی

پاکستان کے اس شہر کے عوام سپر احتیاط کریں، ہفتے کے روز ہونے والی موسلادھار بارش صرف شروعات تھی

مسٹر زرداری آپ کیا چاہتے ہیں لاک ڈاؤن، لاک ڈاؤن، لاک ڈاؤن۔اسد عمر کا بلاول کو جواب

مسٹر زرداری آپ کیا چاہتے ہیں لاک ڈاؤن، لاک ڈاؤن، لاک ڈاؤن۔اسد عمر کا بلاول کو جواب

پاکستان ٹیم کے نام ایک اور عزاز ۔۔۔۔محمد رضوان نے ٹی ٹوئنٹی میں ورلڈ ریکارڈ بنادیا

پاکستان ٹیم کے نام ایک اور عزاز ۔۔۔۔محمد رضوان نے ٹی ٹوئنٹی میں ورلڈ ریکارڈ بنادیا

 تحریک انصاف کے رکن اسمبلی نذیرچوہان کے پروڈکشن آرڈرز۔۔۔ ن لیگ نے بھی سپیکر اسمبلی پرویزالٰہی کی حمایت کافیصلہ کرلیا

 تحریک انصاف کے رکن اسمبلی نذیرچوہان کے پروڈکشن آرڈرز۔۔۔ ن لیگ نے بھی سپیکر اسمبلی پرویزالٰہی کی حمایت کافیصلہ کرلیا

افغانستان سے علاج کیلئے آنے والی خاتون کی ٹانگ سے ایسی چیز برآمد کہ بارڈر پر موجود سیکیورٹی اہلکار بھی ہکا بکا رہ گئے

افغانستان سے علاج کیلئے آنے والی خاتون کی ٹانگ سے ایسی چیز برآمد کہ بارڈر پر موجود سیکیورٹی اہلکار بھی ہکا بکا رہ گئے

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اضافہ ۔۔۔ وزارت خزانہ کی جانب سے نوٹیفیکشن جاری

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اضافہ ۔۔۔ وزارت خزانہ کی جانب سے نوٹیفیکشن جاری

 کراچی میں بھارت جیسی صورتحال ہوئی تو وزیراعظم اور ان کے وزرا ذمہ دار ہوں گے۔بلاول بھٹو 

 کراچی میں بھارت جیسی صورتحال ہوئی تو وزیراعظم اور ان کے وزرا ذمہ دار ہوں گے۔بلاول بھٹو 

اوگرانے اگست کیلئے ایل پی جی کی قیمت میں اضافہ کر دیا۔

اوگرانے اگست کیلئے ایل پی جی کی قیمت میں اضافہ کر دیا۔

بھارت میں مون سون بارشوں نے تباہی مچادی، 230 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے 

بھارت میں مون سون بارشوں نے تباہی مچادی، 230 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے