12:59 pm
کانگڑی ،فیرن اور سماوار کا حسین امتزاج

کانگڑی ،فیرن اور سماوار کا حسین امتزاج

12:59 pm

سرینگر سے سبزار احمد بٹ نے ایک مراسلہ میں کانگڑی اور فیرن کے بارے میں ایک خوبصورت اور معلوماتی تحریر قارئین  کے ذوق مطالعہ کے لئے پیش کرنے کی طرف  متوجہ کیا۔بعض احباب صفحہ قرطاس پر  اپنے الفاظ کے جیسے موتی بکھیر دیتے  ہیں۔آج کی سیاست گری اور افراتفری نے تہذیب و ثقافت اور سماجی موضوعات کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے۔  بلاشبہ موسم کی تبدیلی ایک قدرتی عمل ہے اور اس عمل سے پوری دنیا واقف ہے۔ پوری دنیا میں موسم تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ہر موسم کی اپنی اہمیت اور افادیت ہے۔ بہار، گرما، خزاں، سرما،کسی بھی موسم کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ سرما کا موسم اگر چہ ہر جگہ سردی کی سوغات لے کر آتا ہے تاہم کشمیر میں سرما کی الگ ہی اہمیت اور انفرادیت ہے۔ اس میں ہر کوئی ٹھٹھر کر رہ جاتا ہے۔کشمیر میں اس موسم میں برفباری ہوتی ہے بلکہ بہت زیادہ برفباری ہوتی ہے اور خون جما دینی والی سردی ہوتی ہے۔ 21 دسمبر سے شروع ہونے والے چلہ کلان میں کشمیر کے نل، ندی، نالے وغیرہ جم جاتے ہیں۔بچے جمی ہوئی جھیلوں کے اوپر کھیلتے ہیں۔ اس دوران لوگ گھروں کے اندر رہنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ کشمیر کے لوگ برفباری کی وجہ سے سال کے تقریباً چار مہینوں کے لیے محصور ہو کر رہ جاتے ہیں اور اس دوران کشمیری کبھی  سوکھی سبزیوں پر گزارہ کرتے تھے جو انہوں نے بہار کے موسم میں جمع کی ہوں یا سکھائی ہوں۔یعنی کشمیری لوگوں کو بہار کے موسم میں ہی سرما کے لیے مکمل تیاری کر لینی پڑتی ہے۔مگر اب سبزیاں ہر موسم میں وافر مقدار میں دستیاب رہتی ہیں۔ کولڈ سٹورز جگہ جگہ کھل چکے ہیں۔اب پتہ ہی نہیں چلتا کہ کون سا پھل یا سبزی کس موسم کی ہے۔ سرما کے ان چار مہینوں میں سب سے زیادہ پریشانی سردیوں میں ہوتی ہے۔ کشمیر کے مردوں کی ایک بڑی تعداد بھارت  کی مختلف ریاستوں کا رخ کرتی تھی جہاں وہ مزدوری بھی کرتے تھے اور سردی سے بھی بچتے تھے۔ مگر اب بھارت میںمودی حکومت میں ہندو انتہا پسندوں نے کشمیریوں پر حملے شروع کر دیئے ہیں۔ وادی کے  لوگ سردیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے آزماتے ہیں تاہم سرما کے موسم میں بجلی کی آنکھ مچولی کچھ زیادہ ہی عروج پر ہوتی ہے جس وجہ سے بجلی پر چلنے والے جدید آلات پھیکے پڑ جاتے ہیں۔ جبکہ بھارت کشمیر سے دیگر قدرتی وسائل کی لوٹ مار کی طرح  ہزاروں میگا واٹ بجلی چوری کر کے لے جاتا ہے اور کشمیریوں کو گپ اندھیروں میں چھوڑ دیتا ہے۔
 آزاد کشمیر حکومت نے گزشتہ سال پہلی بار کشمیریوں سے اظہار یک جہتی کے طور پر فیرن اور کانگڑی کا دن منایا اور اعلان کیا کہ یہ دن ہر سال دسمبر میں منایا جائے گا۔  حکومتی سیکرٹری صاحبان اور دیگر افسران نے بھی اس دن کو انجوائے کیا۔کشمیر میں سردی کا مقابلہ کرنے کے لیے کانگڑی سب سے زیادہ موثر ثابت ہو رہی ہے۔کشمیری لوگ صدیوں سے کانگڑی کا استعمال کرتے آ رہے ہیں۔ کانگڑی کے لفظی معنی مٹی کی انگیٹھی یا آتش دان کے ہیں۔ کانگڑی دراصل بید کی لچکدار ٹہنیوں سے بنی ہوئی ایک خوبصورت ٹوکری ہوتی ہے جس کی ہتھی ہوتی ہے اور اس کے اندر پکی مٹی کی ایک موٹی انگیٹھی (کْنڈل) نصب ہوتی ہے۔ اس میں دہکتے ہوئے کوئلے ڈالے جاتے ہیں جو انسان کو سات سے آٹھ گھنٹے گرم رکھتے ہیں اور تقریباً ہر کشمیری کانگڑی نام کی چیز کو اپنے ساتھ لے کر چلتا ہے۔ اس سے آدمی اپنے آپ کو گرم رکھتا ہے۔ شام کو سونے سے پہلے کانگڑی سے بستر گرم کیاجاتا ہے جبکہ دن میں کانگڑی فیرن کے اندر اٹھائی جاتی ہے۔کانگڑی کے شوق میں لوگ کبھی بستر ہی نہیں اپنا جسم میں جلا دیتے ہیں۔
 کانگڑی کشمیری روایت کا حصہ بن چکی ہے۔ اس کے بغیر کشمیر میں سرما گزارنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔ کانگڑی بنانے والے لوگ (چھج ساز) اسی کاروبار سے اپنی روزی روٹی کماتے ہیں۔ گاہکوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے کے لئے چھج ساز بہت خوبصورت اور دلکش کانگڑیاں بناتے ہیں اور جگہ جگہ جا کر بیچتے ہیں۔کشمیر میں چرار شریف کی کانگڑی بہت مشہور ہے جسے یہاں کے لوگ بڑے شوق سے خریدتے ہیں۔ خدا نخواستہ کبھی جھگڑا ہوتا ہے تو اس وقت بھی اس ہتھیار کا استعمال مخصوص انداز میں کیا جاتا ہے۔بھارتی فورسز کے خلاف مظاہروں کے دوران بھی کانگڑی کا استعمال ہوتا ہے۔
کانگڑی کو فیرن کے اندر اٹھایا جاتا ہے۔ فیرن اونی کپڑے کا بنا ہوا ایک لمبا کْرتا ہوتا ہے جس کی لمبائی گھٹنے سے نیچے تک ہوتی ہے جو باقی پہنے کپڑوں کے اوپر پہنا جاتا ہے جس کے دائیں جانب ایک جیب  یا دونوں جانب جیبیںہوتی ہیں۔ فیرن کشمیر کا روایتی لباس ہے۔ فیرن اور کانگڑی کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ کشمیری لوگ صدیوں سے فیرن کا استعمال کرتے آ رہے ہیں۔
 کشمیری عورتیں فیرن پر نقش و نگاری کا کام کروا کے فیرن کے ساتھ ساتھ اپنی خوبصورتی بڑھاتے ہیں۔  یہاں تک کہ فیرن پر دس بیس ہزار کا تِلا لگایا جاتا ہے۔فیرن پر گلکاری کرنے سے فیرن پْرکشش بن جاتا ہے۔ 
 سماوار بھی سرما میں کام آنے والا ہتھیار ہے۔ یہ ترامے کا بنا ہوا صراحی یا کیتلی نما تھرماس ہوتا ہے جس کے اندر کوئلے دہکتے ہیں۔اس میں دس سے بیس پیالی نمکین چائے اور زعفرانی قہوہ تیار ہوتا ہے۔گرمی ہو یا سردی،کشمیر میں صبح ناشتہ کے وقت اور دن کے تیسرے پہر سماوار چائے نوش کرنا روز مرہ کا معمول ہے۔تا ہم سردیوں میں اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔
کشمیر میں کانگڑی ،فیرن اور سماوار کے بغیر سرما کا وقت گزارنا بہت ہی مشکل ہے۔سماوار، فیرن اور کانگڑی ایسے ہتھیار ہیں جن سے ٹھٹھرتی سردی کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور یہ کشمیری تہذیب، تمدن، ادب اور ثقافت کا حصہ ہیں۔ کشمیر میں سرما کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ اس دوران دنیا کے کونے کونے سے سیاح کشمیر کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے کے لیے کشمیر کا رخ کرتے ہیں۔ کشمیر کے مختلف صحت افزا مقامات خاص طور گلمرگ میں کافی چہل پہل ہوتی ہے۔ کشمیر کے پہاڑوں اور میدانوں میں سفید چادر بچھی ہوئی ہوتی ہے۔ اس دوران کشمیری لوگ گرم ملبوسات کا اہتمام کرتے ہیں تاکہ سردی سے بچا جا سکے۔ سرما میں پوری وادی برف کی لپیٹ میں ہوتی ہے ہر طرف سے دلکش نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ کوئی دلہن سفید پوشاک زیب تن کئے دولہیکا انتظار کر رہی ہے۔

 

تازہ ترین خبریں

بھارت کو ایک ماہ کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت کی ذمہ داری۔۔۔دفتر خارجہ کا ردعمل سامنے آگیا

بھارت کو ایک ماہ کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت کی ذمہ داری۔۔۔دفتر خارجہ کا ردعمل سامنے آگیا

بلاول بھٹو زرداری اور ایمل ولی خان کی ملاقات۔۔۔۔۔سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال

بلاول بھٹو زرداری اور ایمل ولی خان کی ملاقات۔۔۔۔۔سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال

 پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو جیت کیلئے 158 رنز کا ہدف دیدیا۔

پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو جیت کیلئے 158 رنز کا ہدف دیدیا۔

وزیراعظم عمران خان کل عوام سے براہ راست مخاطب ہونگے 

وزیراعظم عمران خان کل عوام سے براہ راست مخاطب ہونگے 

موت تعاقب میں تھی ، پاکستان کے اہم شہر میں امتحان دینے نکلی نویں جماعت کی طالبہ کی افسوسناک موت

موت تعاقب میں تھی ، پاکستان کے اہم شہر میں امتحان دینے نکلی نویں جماعت کی طالبہ کی افسوسناک موت

پاکستان کے اس شہر کے عوام سپر احتیاط کریں، ہفتے کے روز ہونے والی موسلادھار بارش صرف شروعات تھی

پاکستان کے اس شہر کے عوام سپر احتیاط کریں، ہفتے کے روز ہونے والی موسلادھار بارش صرف شروعات تھی

مسٹر زرداری آپ کیا چاہتے ہیں لاک ڈاؤن، لاک ڈاؤن، لاک ڈاؤن۔اسد عمر کا بلاول کو جواب

مسٹر زرداری آپ کیا چاہتے ہیں لاک ڈاؤن، لاک ڈاؤن، لاک ڈاؤن۔اسد عمر کا بلاول کو جواب

پاکستان ٹیم کے نام ایک اور عزاز ۔۔۔۔محمد رضوان نے ٹی ٹوئنٹی میں ورلڈ ریکارڈ بنادیا

پاکستان ٹیم کے نام ایک اور عزاز ۔۔۔۔محمد رضوان نے ٹی ٹوئنٹی میں ورلڈ ریکارڈ بنادیا

 تحریک انصاف کے رکن اسمبلی نذیرچوہان کے پروڈکشن آرڈرز۔۔۔ ن لیگ نے بھی سپیکر اسمبلی پرویزالٰہی کی حمایت کافیصلہ کرلیا

 تحریک انصاف کے رکن اسمبلی نذیرچوہان کے پروڈکشن آرڈرز۔۔۔ ن لیگ نے بھی سپیکر اسمبلی پرویزالٰہی کی حمایت کافیصلہ کرلیا

افغانستان سے علاج کیلئے آنے والی خاتون کی ٹانگ سے ایسی چیز برآمد کہ بارڈر پر موجود سیکیورٹی اہلکار بھی ہکا بکا رہ گئے

افغانستان سے علاج کیلئے آنے والی خاتون کی ٹانگ سے ایسی چیز برآمد کہ بارڈر پر موجود سیکیورٹی اہلکار بھی ہکا بکا رہ گئے

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اضافہ ۔۔۔ وزارت خزانہ کی جانب سے نوٹیفیکشن جاری

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اضافہ ۔۔۔ وزارت خزانہ کی جانب سے نوٹیفیکشن جاری

 کراچی میں بھارت جیسی صورتحال ہوئی تو وزیراعظم اور ان کے وزرا ذمہ دار ہوں گے۔بلاول بھٹو 

 کراچی میں بھارت جیسی صورتحال ہوئی تو وزیراعظم اور ان کے وزرا ذمہ دار ہوں گے۔بلاول بھٹو 

اوگرانے اگست کیلئے ایل پی جی کی قیمت میں اضافہ کر دیا۔

اوگرانے اگست کیلئے ایل پی جی کی قیمت میں اضافہ کر دیا۔

بھارت میں مون سون بارشوں نے تباہی مچادی، 230 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے 

بھارت میں مون سون بارشوں نے تباہی مچادی، 230 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے