02:02 pm
مشتری زحل تاریخی قِران، منفی راہ گذر پر

مشتری زحل تاریخی قِران، منفی راہ گذر پر

02:02 pm

جب برصغیر انگریز عہد حکمرانی میں تھا تو کتنی زیادہ ریاستیں برصغیر میں موجود تھیں؟ حیدر آباد، دکن، بھوپال، جوناگڑھ، بہاولپور، سوات اور سکم و گوا
جب برصغیر انگریز عہد حکمرانی میں تھا تو کتنی زیادہ ریاستیں برصغیر میں موجود تھیں؟ حیدر آباد، دکن، بھوپال، جوناگڑھ، بہاولپور، سوات اور سکم و گوا جونہی برصغیر کی تقسیم ہوئی تو یہ بہت سی مسلمان اور ہندو ریاستیں پاکستان اور ہندوستان میں ضم ہوگئی تھیں۔ اکثر پر ہندوستان نے جبراً قبضہ کرلیا تھا۔ حیدر آباد، دکن، بھوپال، جونا گڑھ، مقبوضہ کشمیر پر جبراً قبضہ ہوا تھا۔ یہی صورتحال ہندو سات جنوبی وزیرستانی ریاستوں کے ساتھ بھی ہوئی تھی ۔ 1947ء کی برصغیر کی تقسیم نے بادشاہوں، شاہی خاندانوں، نوابوں، جاگیرداروں کو فقیر ، مفلس اور ریاستوں سے محروم کر دیا تھا  اور جو خاندانی طور پر ، مالی طور پر، جائیدادوں کے اعتبار سے مفلس تھے انہیں نئی جائیدادوں کا مالک بنا دیا گیا، آج  کے سیارگان، ستاروں، نجوم اسی قدیم تاریخ کی نئی گزر گاہ سے پھر گزر رہے ہیں۔ یہ بات مجھے 27تاریخ کی صبح بزرگ ماہر نجوم نے کہی۔
مودی، بی جے پی، مسلمان دشمن تصورات رکھتی ہندواتوا سوچ کا نام ہے۔ یہی ہندوتوا سوچ تھی جس نے اندرا گاندھی کی صورت دسمبر1971ء میں مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنوایا تھا، یہی ہندوتوا اندرا گاندھی سوچ تھی جس نے گولڈن ٹمپل جیسی سکھ مقدس عبادت گاہ پر حملہ آور ہونا قبول کیا تھا۔ یہ سکھوں، مسلمانوں، عیسائیوں، دلتوں کی جگہ مذہبی ہندو انسانی تقسیم پر ایمان رکھتی برہمن ذہنیت کا وجود تھے۔ 5اگست کو مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے ساتھ ہندتوا نے کیا کیا؟ پھر شہریت قانون کے ذریعے مسلمانوں کے ساتھ کیا کیا؟ اگلے ’’بیس ماہ‘‘ یہی انتہا پسند ہندوتوا مودی، بی جے پی، آر ایس ایس سوچ مسلمانوں کے ساتھ بہت زیادہ نقصان دہ  سخت روئیے اپنائے گی۔ یہاں شائد ’’بیس ماہ‘‘ بعد یا ’’دو سال‘‘ بعد پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے ستارے، سیارگان، نجوم  مسلمانوں کی حمایت میں پھر نئی گزر گاہ سے گزریں گے تو مسلمان متحدہ ہونگے۔یہ سب ’’تقدیر الٰہی‘‘ ہے۔ ’’تدبیر الٰہی‘‘ ہے۔ ’’حکمت الٰہی‘‘ ہے۔ مگر یہ سب کچھ آیات اللہ کے طور پر سیارگان، ستاروں، نجوم گزر گاہوں کے ذریعے وقوع پذیر ہوتے معاملات ہیں۔
میں تو صبح ہی صبح بزرگ ماہر نجوم کے پاس گیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے بیان دیا ہے کہ وہ 6جنوری کو بتائے گا کہ وہ کیا ہے؟ وہ بدستور انتخابی  شکست قبول کرنے سے انکار کر رہا ہے؟ بزرگ ماہر نجوم نے کہاکہ 6,7جنوری 2021ء اور پھر 19جنوری 2021ء بہت زیادہ سخت تاریخیں ہیں۔ ان تاریخوں کے ساتھ امرربی سے بہت کچھ ظہور پذیر ہوسکتا ہے۔ ٹرمپ جو کچھ کر رہا ہے۔ جو کچھ کہہ رہا ہے۔ سارگان، نجوم، ستارے، اسی راہ گزر سے گزریں گے۔ ان دنوں میں ٹرمپ امریکہ میں کیا خلفشاء، انتشار، انارکی لاتا ہے یا مشرق وسطیٰ میں بھی، ایران کے ساتھ بھی، کیا کرتا ہے۔ 6,7جنوی اور 17جنوری کو امر ربی سے یہ سب کچھ شائد سامنے آجائے گا۔
میں نے پوچھا عمران خان اپوزیشن کے آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف کی طرف سے غلط باتوں کا بہت کھلے عام ذکر کر رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ 6,7جنوری،17جنوری ہماری فوج کے لئے نئے مسائل، نئے معاملات سامنے لاسکتے ہیں۔ فروری کے آخری مناظربھی تو بہت زیادہ توجہ، سنجیدگی کے متقاضی ہیں۔ فوج، آرمی چیف، ریاستی اداروں کے حوالے سے جنوری، فروری میں نجوم کی چالیں کسی بڑی جنگ کی ہولناکی کے اندیشے کو جنم دے سکتی ہیں۔ چین و بھارت معاملات کو الگ رہنے دیں۔ صرف پاکستان کے جنگ زدہ ہونے سے جو معاملات، خرابیاں، نقصانات سامنے آئیں گے، اس کا تدارک کرنا ضروری ہے۔ عمران خان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 29جون سے جس شدید دبائو سے دوچار ہے۔ وہ انشاء اللہ 6جنوری سے وہ نکل جائے گا۔ مگر ملک کو ’’مالی‘‘ معاملات میں بہت زیادہ پریشانیاں نئے سرے سے دبوچ سکتی ہیں۔ (وہ دوست ممالک جن سے مالی مدد ملتی رہی ہے عقل کا تقاضا ہے کہ ان ممالک سے خراب تعلقات کو دور اندیشی، تدبر کے ساتھ درست کیا جائے)
26تاریخ کو  میں نے روحانی وجدان رکھتی شخصیت سے پارلیمانی جمہوریت کے خاتمے کے  اندیشے کا جب ذکر کیا تو ان کا کہنا تھا کہ اگر اسمبلیاں ٹوٹتی ہیں تو 25دسمبر کے بعد 45دنوں میں تو ایسا ہوسکتا ہے کیونکہ مشتری، زحل قِران کے اثرات 45دنوں میں جلدی سے ظہور پذیر ہو جاتے ہیں۔ اگر اسمبلیاں ٹوٹتی ہیں تو یہ سینٹ الیکشن سے پہلے یا فروری ختم ہونے سے پہلے ممکن ہے۔ اپریل کا مہینہ گزر جانے کے بعد تو اسمبلیوں کو خطرہ بہت کم ہوگا۔ البتہ اب زیادہ ہے جبکہ سورج گرہین کے اثرات بھی فروری تک زیادہ ہیں۔
میں نے روحانی وجدان شخصیت اور ماہر نجوم بزرگ سے پوچھا کہ درانی شہباز شریف ملاقات اگر گرینڈ ڈائیلاگ کا امکان اور مستقبل کیا ہے؟ دونوں روحانی شخصیت نے توجہ دلائی کہ  عطادر ڈیڑھ مہینے مدت کے لئے غروب ہے۔ عموماً یہ 15دن  یا تین ہفتوں کے لئے غروب ہوتا تھا۔ اس مرتبہ یہ ڈیڑھ مہینے کے لئے غروب ہے۔ یہ غیر معمولی بات ہے 11جنوری کو پھر طلوع ہوگا۔ لہٰذا ڈیڑھ مہینے میں جو بھی حکومت مخالف جلسے، جدوجہد ہوئی۔ ریاستی اداروں، فوج کے خلاف سیاسی باتیں ہوئی، یہ سب ثمر آور نہیں ہوسکتی کیونکہ عطادر غروب رہا ہے۔
 

تازہ ترین خبریں

بھارت کو ایک ماہ کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت کی ذمہ داری۔۔۔دفتر خارجہ کا ردعمل سامنے آگیا

بھارت کو ایک ماہ کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت کی ذمہ داری۔۔۔دفتر خارجہ کا ردعمل سامنے آگیا

بلاول بھٹو زرداری اور ایمل ولی خان کی ملاقات۔۔۔۔۔سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال

بلاول بھٹو زرداری اور ایمل ولی خان کی ملاقات۔۔۔۔۔سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال

 پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو جیت کیلئے 158 رنز کا ہدف دیدیا۔

پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو جیت کیلئے 158 رنز کا ہدف دیدیا۔

وزیراعظم عمران خان کل عوام سے براہ راست مخاطب ہونگے 

وزیراعظم عمران خان کل عوام سے براہ راست مخاطب ہونگے 

موت تعاقب میں تھی ، پاکستان کے اہم شہر میں امتحان دینے نکلی نویں جماعت کی طالبہ کی افسوسناک موت

موت تعاقب میں تھی ، پاکستان کے اہم شہر میں امتحان دینے نکلی نویں جماعت کی طالبہ کی افسوسناک موت

پاکستان کے اس شہر کے عوام سپر احتیاط کریں، ہفتے کے روز ہونے والی موسلادھار بارش صرف شروعات تھی

پاکستان کے اس شہر کے عوام سپر احتیاط کریں، ہفتے کے روز ہونے والی موسلادھار بارش صرف شروعات تھی

مسٹر زرداری آپ کیا چاہتے ہیں لاک ڈاؤن، لاک ڈاؤن، لاک ڈاؤن۔اسد عمر کا بلاول کو جواب

مسٹر زرداری آپ کیا چاہتے ہیں لاک ڈاؤن، لاک ڈاؤن، لاک ڈاؤن۔اسد عمر کا بلاول کو جواب

پاکستان ٹیم کے نام ایک اور عزاز ۔۔۔۔محمد رضوان نے ٹی ٹوئنٹی میں ورلڈ ریکارڈ بنادیا

پاکستان ٹیم کے نام ایک اور عزاز ۔۔۔۔محمد رضوان نے ٹی ٹوئنٹی میں ورلڈ ریکارڈ بنادیا

 تحریک انصاف کے رکن اسمبلی نذیرچوہان کے پروڈکشن آرڈرز۔۔۔ ن لیگ نے بھی سپیکر اسمبلی پرویزالٰہی کی حمایت کافیصلہ کرلیا

 تحریک انصاف کے رکن اسمبلی نذیرچوہان کے پروڈکشن آرڈرز۔۔۔ ن لیگ نے بھی سپیکر اسمبلی پرویزالٰہی کی حمایت کافیصلہ کرلیا

افغانستان سے علاج کیلئے آنے والی خاتون کی ٹانگ سے ایسی چیز برآمد کہ بارڈر پر موجود سیکیورٹی اہلکار بھی ہکا بکا رہ گئے

افغانستان سے علاج کیلئے آنے والی خاتون کی ٹانگ سے ایسی چیز برآمد کہ بارڈر پر موجود سیکیورٹی اہلکار بھی ہکا بکا رہ گئے

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اضافہ ۔۔۔ وزارت خزانہ کی جانب سے نوٹیفیکشن جاری

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اضافہ ۔۔۔ وزارت خزانہ کی جانب سے نوٹیفیکشن جاری

 کراچی میں بھارت جیسی صورتحال ہوئی تو وزیراعظم اور ان کے وزرا ذمہ دار ہوں گے۔بلاول بھٹو 

 کراچی میں بھارت جیسی صورتحال ہوئی تو وزیراعظم اور ان کے وزرا ذمہ دار ہوں گے۔بلاول بھٹو 

اوگرانے اگست کیلئے ایل پی جی کی قیمت میں اضافہ کر دیا۔

اوگرانے اگست کیلئے ایل پی جی کی قیمت میں اضافہ کر دیا۔

بھارت میں مون سون بارشوں نے تباہی مچادی، 230 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے 

بھارت میں مون سون بارشوں نے تباہی مچادی، 230 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے