02:06 pm
 اپنا احتساب سب سے پہلے !

 اپنا احتساب سب سے پہلے !

02:06 pm

اسلام میں ظلم کا تصور بھی نہیں کیاجاسکتا، امت مسلمہ نے ان اخلاقی اور قانونی ہدایات اور عہد رسالتؐ کے علمی نمونوں کو ہر دور میں پوری اہمیت دی اور روئے زمین پر ایک پرامن قوم کی
اسلام میں ظلم کا تصور بھی نہیں کیاجاسکتا، امت مسلمہ نے ان اخلاقی اور قانونی ہدایات اور عہد رسالتؐ کے علمی نمونوں کو ہر دور میں پوری اہمیت دی اور روئے زمین پر ایک پرامن قوم کی حیثیت سے اپنی پہچان قائم کی۔ مسلمانوں نے اس مقصد کے لیے غیرمسلموں کے ساتھ بھی فراخدلانہ رویہ اختیار کیا، ان کے حقوق و جذبات کی رعایت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور ہر ممکن کوشش کی کہ کسی طرح قیام امن کا عمل متاثر نہ ہو خواہ اس کے لیے ان کو بڑی سے بڑی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے ۔ مسلمانوں کی انہی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ مسلمانوں کی صدیوں پرانی تاریخ میں فرقہ وارنہ فسادات اور خونریز ہنگاموں کا دور دور تک کوئی نشان نہیں ملتا۔ مسلمانوں کے امن پسند ہونے کی اس سے بڑی شہادت کیا ہوسکتی ہے ؟اسلامی عہد حکومت کے مختلف ادوار سے بعض نمونے پیش کیے جاتے ہیں۔اسلام امن و سلامتی کا دین ہے۔ اس لیے وہ اپنے پیرو کاروں سے ان کی معمولات زندگی میں کسی بھی قسم کی کوتاہی یا غفلت برداشت نہیں کر تا۔خاص طور پر جب معاملہ حقوق العباد یا اجتماعیت کا ہوتو اس کی اہمیت اور حساسیت اور بڑھ جاتی ہے۔ اسلام اپنی تعلیمات میں انسانی اعلی اقدار اور قابل قدر صفات کو ترجیح دیتا ہے۔ دراصل اسلام ہی ایک ایسا دین ہے جس میں ہر قسم کی خوبیاں پائی جاتی ہیں ، یہ وہ صراط مستقیم ہے جو تمام بنی نوع انساں کی نجات اور فوز و فلاح کا ضامن ہے۔لطافت و طہارت اور پاکیزگی روح صرف اسی الہامی دین میں ہے۔اسلام چونکہ تمام تر محاسن کا مجموعہ ہے اسی لیے رب کائنات نے اسی دین کو اپنے لیے پسند فرمایا ہے ارشاد ربانی ہے دین تو اللہ کے نزدیک اسلام ہے۔(آلِ عمران)۔ اس کی بے شمار بہترین صفات میںسے ایک صفت ایفائے عہد یا وعدے کی پابندی بھی ہے۔ ایفائے عہد ایک مسلمان کے دیگر فرائض میں سے ایک بڑا فرض ہے۔اگر کوئی انسان ایفائے عہد کی صفت سے خالی ہے تووہ انسانیت کے شرف سے ہی عاری سمجھا جاتا ہے۔بد عہدی اور بے وفائی اعتماد اور یقین و بھروسے کو ختم کر دیتی ہے۔انتشار اور لا قانونیت کا ماحول پیدا کردیتی ہے ، بعض اوقات باہمی رشتوں میں بھی دراڑیں ڈال دیتی ہے اور رحمی رشتے بھی شک اور بے یقینی کا شکار ہوجاتے ہیں اور خاندان میں نفرتیں اور عداوتیں جنم لیتی ہیں۔ عہد کی یہ پابندی ہر ایک کے ساتھ ہونی چاہیے خواہ کوئی شخص کافر ہو یا مومن! اس لیے کہ اسلام میں اخلاق اور فضیلت کے لیے کوئی فرق و تفاوت نہیں ہے ۔ہر ایک کے ساتھ اچھے اخلاق برتنا اسلامی تعلیمات کا خاصا ہے۔اس سے تو اسلام اور دیگر مذاہب میں نمایاں فرق واضح ہوتا ہے۔اسلام کا سینہ ہر ایک کے لیے کشادہ اور اس کا دامن ہر ایک کے لیے امن و سکون اور بھائی چارہ کے لیے پھیلا رہتا ہے۔
پاکستان ہمیںاسلام کے نام پر اور بہت بڑی قیمت چکانے کے بعد ملا تھا۔جانی اور مالی قربانیوں کے علاوہ ہزاروں دوشیزاوں کو عزت کی قربانی دینی پڑی۔لٹے پٹے قافلے پاکستان پہنچے تھے اور شائد دنیا کی تاریخ میں یہ سب سے بڑی ہجرت تھی۔23مارچ 1940 ء کو قرار داد پاکستان منظور ہوئی اور صرف سات سال کی جدوجہد کے بعد پاکستان معرض وجود میں آیا۔ 14 اور 15اگست کی درمیانی رات کو ریڈیو پاکستان کا اعلان کیا گیا۔اس وقت مسلمان ایک بہترین قوم تھے ا ور محمد علی جناحؒ کی چھتری کے نیچے اکھٹے ہو گئے۔پھر جوں جوں وقت گزرتا گیا ۔ اس اتحاد میں دراڑیں پڑنا شروع ہو گئیں ۔اور بدقسمتی سے سیاست میں ایسے لوگ بھی آگئے جو اپنے ذاتی فائدے کے لئے پاکستان کا سودا بھی کر سکتے۔یہ تو اللہ کا خاص کرم ہے کہ اللہ اور رسول کے نام پر بننے والے ملک کی وہ خود رکھوالی کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک تعالیٰ کسی کافر کو اس ملک کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات ہی نہیں دے گا۔ہم دوسروں کے احتساب کی بہت باتیں کرتے ہیں لیکن بحیثیت مسلمان یا بحیثیت پاکستانی کبھی اپنا احتساب بھی کیا ہے کہ اس ملک نے ہمیں کیا دیا اور ہم اس ملک کو کیا دے کر جا رہے ہیں؟اس ملک اور مذہب نے جو کچھ ہمیں دیاوہ نعمتیں تو شائد ہم گن ہی نہ سکیں ۔اسی طرح دوسری طرف ہم نے جو کچھ اس ملک اور مذہب کا حشر کیا ہے ان کو بھی اعدادو شمار میں لانا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔ہم کئی فرقوں میں تقسیم ہو چکے ہیں ۔اور ہر فرقے کا عالمِ دین دوسرے فرقے کے لوگوں کو کافر قرار دینے سے بھی نہیں جھجکتا۔
اسی طرح ہم نے اتنی سیاسی پارٹیاں رجسٹر کروا رکھی ہیں ۔اگر ان کا بس چلے تو ایک دوسرے کو چیڑ پھاڑ کر کھا جائیں۔وہ پارٹیاں کرنا کیا چاہتی ہیں ۔ان کے پاس فنڈ کہاں سے آتے ہیں ۔ان پارٹیوں میں سب کچھ ہے لیکن پاکستانیت کہیں نظر نہیں آتی۔اگر پاکستانیت ہو تو بڑی پارٹیوں کا قبلہ سیدھا کر کے تین سال کے بچے سے لے کر100سال کے بوڑھے تک پاکستان کا پرچار کیا جائے۔ہم نے الزام تراشیوں اور بہتان بازیوں کی فیکٹریاں ایجاد کر رکھی ہیں ۔ ایک مسئلک کا مسلمان دوسرے مسئلک کے لوگوں کی مسجد میں نمازنہیں پڑھتااور نہ ہی اپنے مقتدیوں کو وہاں جانے کی اجازت دیتا ہے۔علاقائی اور لسانی سیاسی پارٹیوں کی تعداد بھی سینکڑوں میں ہے اور اپنا پنا منشور اٹھائے پھرتے ہیں ۔ان پارٹیوں کے منشور ان کی پارٹی کے رہنمائوں نے بھی نہیں پڑھے ہوتے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بے منزل مسافر ہیں کہ جس نے ہاتھ پکڑ کر جس راستہ پر چلا دیا اسی پر چل پڑے۔اسی پاکستانیت کے تصور کو مفاد پرست ٹولوں سے لے کر مقتدرِ اعلیٰ اور مطلق العنان حکمرانوں نے اپنے مفادات و اقتدار کے حصول و طوالت کی خاطر نئی سے نئی اشکال میں پیش کرکے شہریوں کے لئے پاکستانیت کو حقوق کے حصول اور ریاست کے فرائض سے مکمل قطع تعلق کرکے اس کا تار محض ریاست سے وفاداری کے نام پر مخصوص ہیجانی کیفیات اور رجحانات سے جوڑ دیا ہے۔ آج شہریوں کے لئے پاکستانیت کا تصور محض کھوکھلی جذباتی نعرے بازی، انفرادی طور پر اپنے آپ کو مہا پاکستانی اور ریاست کا آخری وفادار ثابت کرنے کی حد تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔عوامی سطح پر اپنے حقوق کا تحفظ اور ریاست سے اپنے حقوق کے مطالبے کا شعور ناصرف انتہائی محدود ہے بلکہ ریاستی بدانتظامی کی بنیادی وجہ بھی بنا ہے۔کلمہ طیبہ کی بنیاد پر بنے پاکستان کو بچانا ہے تو پاکستانیت اورریاست کو جھنجھوڑنا ہوگاہو پاکستانی پر اور ریاستِ پاکستان پر آج 69 برس بعد بھی اپنے شہریوں کے ان تمام حقوق کو لے کر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے جن کا وعدہ ریاستِ پاکستان کی تخلیق کے وقت کیا گیا تھا۔اسی مقصد سے سوال کیا جانابھی ضروری ہے۔ حقوق کی مکمل فراہمی تک، ریاست اور شہریت کے اصول میں توازن پیدا ہونے تک۔پاکستان تو رہے گا لیکن پاکستانیت کو تباہ کر نیوالے نہ رہے نہ رہیں گے ۔ یہاں سورہ الرحمن کی یہ آیت بار بار میرے ذہن میں آ رہی ہے تم اللہ کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاو گے۔بلاشبہ ہم اللہ کی کسی ایک نعمت کا بھی شکریہ ادا نہیں کر سکتے اور پھردونوں عظیم نعمتیں ہمارے لئے لازوال بھی ہیں ۔کیونکہ پاکستان اللہ کی طرف سے عطا کردہ ہیں اور اللہ ہی ان کا رکھوالا ہے۔
 

تازہ ترین خبریں

پاک فضائیہ کے 4 ایئر آفیسرز کو ایئروائس مارشل کےعہدوں پرترقی دے دی گئی۔

پاک فضائیہ کے 4 ایئر آفیسرز کو ایئروائس مارشل کےعہدوں پرترقی دے دی گئی۔

جام کمال کے بیٹے کے پروٹوکول کی تصاویر دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین آگ بگولہ ہوگئے

جام کمال کے بیٹے کے پروٹوکول کی تصاویر دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین آگ بگولہ ہوگئے

پی ایس ایل سکس ۔۔پشاور زلمی کا کراچی کنگز کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ 

پی ایس ایل سکس ۔۔پشاور زلمی کا کراچی کنگز کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ 

حکومت نے شراب کی فروخت سے ایک ارب کے ٹیکس کا ٹارگٹ دے دیا

حکومت نے شراب کی فروخت سے ایک ارب کے ٹیکس کا ٹارگٹ دے دیا

قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی ۔۔۔ غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے والے ارکان کوکل ایوان میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ اسد قیصر 

قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی ۔۔۔ غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے والے ارکان کوکل ایوان میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ اسد قیصر 

آن لائن شاپنگ پر سیلز ٹیکس لگانے کا فیصلہ

آن لائن شاپنگ پر سیلز ٹیکس لگانے کا فیصلہ

بلوچستان کے 5 کھرب سے زائد کا بجٹ 18جون کوپیش کیا جائےگا

بلوچستان کے 5 کھرب سے زائد کا بجٹ 18جون کوپیش کیا جائےگا

 الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے ووٹنگ ہماری ترجیح ہے، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین

 الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے ووٹنگ ہماری ترجیح ہے، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین

 شہباز شریف سے  یوسف رضا گیلانی اور مولانا اسد کی ملاقات ۔۔۔بجٹ کاپیاں اپوزیشن پر پھینکنے اور بدکلامی کے حکومتی رویہ کی شدید مذمت

شہباز شریف سے یوسف رضا گیلانی اور مولانا اسد کی ملاقات ۔۔۔بجٹ کاپیاں اپوزیشن پر پھینکنے اور بدکلامی کے حکومتی رویہ کی شدید مذمت

حکومت نے پٹرول کی قیمت میں اضافہ کر دیا

حکومت نے پٹرول کی قیمت میں اضافہ کر دیا

27میں سے 26نکات پر عملدرآمد مکمل، پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کے امکان روشن

27میں سے 26نکات پر عملدرآمد مکمل، پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کے امکان روشن

جتنا مرضی استعمال کریں ۔۔۔مفت انٹرنیٹ اور فون کالز کے مزے لیں، پاکستانیوں کیلئے شاندار خبر آگئی

جتنا مرضی استعمال کریں ۔۔۔مفت انٹرنیٹ اور فون کالز کے مزے لیں، پاکستانیوں کیلئے شاندار خبر آگئی

پیپلزپارٹی تحریک انصاف کے ساتھ نظر آرہی ہے۔ مولانا فضل الرحمان

پیپلزپارٹی تحریک انصاف کے ساتھ نظر آرہی ہے۔ مولانا فضل الرحمان

چین نے نیٹو اجلاس میں جاری کیے گئے بیان کا جواب دے دیا

چین نے نیٹو اجلاس میں جاری کیے گئے بیان کا جواب دے دیا