12:58 pm
ظِل سبحانی، بٹن اور تبدیلی

ظِل سبحانی، بٹن اور تبدیلی

12:58 pm

وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ ’’لوگ پوچھتے ہیں کہ تبدیلی کا کیا ہوا؟ تبدیلی سب سے پہلے ذہنوں میں آتی ہے … پھر گرائونڈ پر آتی ہے، لوگ سمجھتے ہیں کہ ایک بٹن دبائو تو تبدیلی آجاتی ہے۔‘‘
’’بڑی دیر کر دی مہرباں آتے آتے‘‘ یہی موقف تو ہمارا تھا، لیکن انہیں کب پتہ چلا کہ تبدیلی پہلے ذہنوں میں اور پھر گرائونڈ پر آتی ہے؟ وہ تو ڈھائی سالوں سے قوم کو بتاتے چلے آرہے تھے کہ ’’تبدیلی آنہیں رہی بلکہ آچکی ہے‘‘ ان کی صاف چلی شفاف چلی، تحریک انصاف چلی کی لڑکیاں اور لڑکے تو جھوم جھوم کے گایا کرتے تھے کہ ’’آئی رے، آئی رے، تبدیلی آئی رے‘‘ ’’روک سکو تو روک لو تبدیلی آئی جے‘‘ جب یہ ڈرامہ باز یاں کرکے قوم کو ’’تبدیلی‘‘ کے آنے کی نوید سنائی جارہی تھی … تب آپ نے قوم کو یہ کیوں نہ سمجھایا کہ ’’تبدیلی‘‘ عمران خان کا نام نہیں ، تبدیلی، زلفی بخاری، علی زیدی اور فیصل واڈا کا نام نہیں بلکہ ’’تبدیلی‘‘ سب سے پہلے ہر پاکستانی کو اپنے ذہن میں لانا پڑے گی، ہر پاکستانی کو سب سے پہلے اپنے آپ کو بدلنا ہوگا … اس کے بعد ’’تبدیلی‘‘ گرائونڈ پر آئے گی۔
قوم کو ’’تبدیلی‘‘ کے گھوڑے پر سوار کرکے … ترقی اور خوشحالی کے سنہرے سپنے دکھا دکھا کر آپ نے جب ’’تبدیلی‘‘ کا نقشہ دوچند کر دیا ، قوم نے آپ سے امیدیں استوار کرلیں ، ڈھائی سالوں تک اقتدا رکے مزے لوٹنے کے بعد آپ فرماتے ہیں کہ ’’لوگ سمجھتے ہیں کہ ایک بٹن دبائو تو تبدیلی آجاتی ہے۔‘‘
نہیں ’’جناب‘‘ نہیں، لوگ یہ نہیں سمجھتے تھے … لوگوں کو آپ اور آپ کی ’’شفاف چلی‘‘ کے لوگ سمجھانے کی کوشش کیا کرتے تھے ؟ ہم جیسے طالب علم تو اس وقت بھی اپنے کالموں میں لکھتے رہے کہ اگر نعرہ ریاست مدینہ کا لگایا جارہا ہے تو پھر تبدیلی کی طرز اور طریقہ کار بھی قرآن و سنت سے پوچھنا پڑے گا، نعرہ ریاست ’’مدینہ‘‘ کا اور کشمیر بھارت کے حوالے، نعرہ ریاست مدینہ کا اور معیشت آئی ایم ایف کے حوالے۔ نعرہ ریاست مدینہ کا ، کبھی واشنگٹن اور کبھی لندن کے در پر،  اس سے تباہی تو آسکتی ہے ، انتشار و افتراق تو پھیل سکتاہے مگر تبدیلی نہ آسکتی ہے اور نہ لائی جاسکتی ہے۔
میرا یہ دعویٰ ہے کہ اگر ریاست مدینہ کا نعرہ بلند کرنے کے بعد وزیراعظم اپنی کابینہ کو لے کر … خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیقؓ، خلیفہ دوئم سیدنا عمر فاروقؓ کی چوکھٹ پر بیٹھ جاتے اور خلفاء راشدینؓ والے پاکیزہ نظام کو پاکستان میں عملاً نافذ کر دیتے تو آج پاکستان میں ’’تبدیلی‘‘ آچکی ہوتی، جب وزیراعظم خود یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ جو انقلاب اور تبدیلی محسن عالمﷺ دنیا میں لائے اس کی کوئی نظیر نہیں پیش کی جاسکتی… اور یہ بھی کہ قرآن وہ کتاب ہے کہ جو د رس انقلاب ہے، تو پھر انہیں دائیں، بائیں دیکھنے اور آئیں، بائیں ، شائیں کرنے کی کیاضرورت تھی … اب آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ’’تبدیل‘‘ بٹن دبانے سے نہیں آسکتی، یہ بات تووہ تھی کہ جو اقتدار سنبھالنے کے پہلے ہی دن آپ کو کہہ دینی چاہیے تھی ، آج جب اقتدار انجوائے کرتے کرتے آپ  کو ڈھائی پونے تین سال گزر گئے … تو اب فرماتے ہیں کہ تبدیلی بٹن دبانے سے نہیں آسکتی۔
انہیں کوئی بتائے کہ پاکستان کسی جنگل یا لیبارٹری کا نام نہیں کہ جس کو کسی نااہل کے تجربے کی بھینٹ چڑھا دیا جائے … بلکہ پاکستان 22کروڑ انسانوں کے ملک کا نام ہے کہ جہاں حکمرانوں کی ’’نااہلی‘‘ ملک کے تنزل اور بے شمار انسانوں کی موت کا سبب بن جایا کرتی ہے، کیا وہ جانتے ہیںکہ ان کے ڈھائی سالہ دور اقتدار میں ملکی معیشت جس خوفناک بحران سے دوچار ہے … اس کی وجہ سے عوام کی چیخیں نکل رہی ہیں؟ اب تو وہ  خود یہ بات تسلیم کررہے ہیں کہ ’’مہنگائی بہت زیادہ  ہے، تنخواہیں کم ہیں اور معاشی حالت تنخواہیں بڑھانے کی اجازت نہیں دیتی، اس لئے عوام معیشت بہتر ہونے تک صبر کریں‘‘ گزشتہ سال حکومتی وزیر یہ کہا کرتے تھے کہ اگر ٹماٹر مہنگے ہوگئے ہیں تو ان کی جگہ دہی کا استعمال کیاکریں …وزیراعظم کو چاہیے تھا کہ وہ ’’صبر‘‘ کی تلقین کے ساتھ ساتھ قوم کو یہ مشورہ بھی دے دیتے کہ جو صبر نہیں کرسکتے ’’وہ پھر مٹی پھانکیں‘‘ کیوں کہ ’’مٹی‘‘ تک تو ہر غریب کی آسانی سے رسائی ہوسکتی ہے، یہ بات حقیقت بھی ہے کہ ’’تبدیلی‘‘ کا کوئی بٹن نہیں کہ جس کے دبانے سے وہ آجائے گی ، بلکہ اصل تبدیلی انسان کے دل  و دماغ کی تبدیلی سے ہی ممکن ہے، لیکن انسانوں کا دل  و دماغ  کو تبدیل کرنا صرف اور صرف قرآن و سنت پر عمل پیرا ہونے سے ہی ممکن ہے، ڈھول، ڈھمکوں، ٹھمکوں، بھنگڑوں، گانوں، ڈسکو ڈانس اور موسیقی کی دُھنوں پر نہ انقلاب آیا کرتا ہے اور نہ ’’تبدیلی‘‘ مخالفین پر الزامات کی بارش کرنے، دشنام طرازیوں، پگڑیاں اچھالنے اور گالیاں دینے سے نہ انقلاب آیا کرتا ہے او ر نہ تبدیلی۔

 

تازہ ترین خبریں

پاک فضائیہ کے 4 ایئر آفیسرز کو ایئروائس مارشل کےعہدوں پرترقی دے دی گئی۔

پاک فضائیہ کے 4 ایئر آفیسرز کو ایئروائس مارشل کےعہدوں پرترقی دے دی گئی۔

جام کمال کے بیٹے کے پروٹوکول کی تصاویر دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین آگ بگولہ ہوگئے

جام کمال کے بیٹے کے پروٹوکول کی تصاویر دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین آگ بگولہ ہوگئے

پی ایس ایل سکس ۔۔پشاور زلمی کا کراچی کنگز کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ 

پی ایس ایل سکس ۔۔پشاور زلمی کا کراچی کنگز کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ 

حکومت نے شراب کی فروخت سے ایک ارب کے ٹیکس کا ٹارگٹ دے دیا

حکومت نے شراب کی فروخت سے ایک ارب کے ٹیکس کا ٹارگٹ دے دیا

قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی ۔۔۔ غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے والے ارکان کوکل ایوان میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ اسد قیصر 

قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی ۔۔۔ غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے والے ارکان کوکل ایوان میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ اسد قیصر 

آن لائن شاپنگ پر سیلز ٹیکس لگانے کا فیصلہ

آن لائن شاپنگ پر سیلز ٹیکس لگانے کا فیصلہ

بلوچستان کے 5 کھرب سے زائد کا بجٹ 18جون کوپیش کیا جائےگا

بلوچستان کے 5 کھرب سے زائد کا بجٹ 18جون کوپیش کیا جائےگا

 الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے ووٹنگ ہماری ترجیح ہے، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین

 الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے ووٹنگ ہماری ترجیح ہے، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین

 شہباز شریف سے  یوسف رضا گیلانی اور مولانا اسد کی ملاقات ۔۔۔بجٹ کاپیاں اپوزیشن پر پھینکنے اور بدکلامی کے حکومتی رویہ کی شدید مذمت

شہباز شریف سے یوسف رضا گیلانی اور مولانا اسد کی ملاقات ۔۔۔بجٹ کاپیاں اپوزیشن پر پھینکنے اور بدکلامی کے حکومتی رویہ کی شدید مذمت

حکومت نے پٹرول کی قیمت میں اضافہ کر دیا

حکومت نے پٹرول کی قیمت میں اضافہ کر دیا

27میں سے 26نکات پر عملدرآمد مکمل، پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کے امکان روشن

27میں سے 26نکات پر عملدرآمد مکمل، پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کے امکان روشن

جتنا مرضی استعمال کریں ۔۔۔مفت انٹرنیٹ اور فون کالز کے مزے لیں، پاکستانیوں کیلئے شاندار خبر آگئی

جتنا مرضی استعمال کریں ۔۔۔مفت انٹرنیٹ اور فون کالز کے مزے لیں، پاکستانیوں کیلئے شاندار خبر آگئی

پیپلزپارٹی تحریک انصاف کے ساتھ نظر آرہی ہے۔ مولانا فضل الرحمان

پیپلزپارٹی تحریک انصاف کے ساتھ نظر آرہی ہے۔ مولانا فضل الرحمان

چین نے نیٹو اجلاس میں جاری کیے گئے بیان کا جواب دے دیا

چین نے نیٹو اجلاس میں جاری کیے گئے بیان کا جواب دے دیا