12:58 pm
کابل اورمسئلہ کشمیر

کابل اورمسئلہ کشمیر

12:58 pm

جب 1989ء میں روس افغانستان سے نکل گیاتوکشمیرمیں بھارتی حکمرانی کے خلاف مزاحمت میں تیزی آگئی تھی۔مسئلہ کشمیر کاتنازع بھارت اورپاکستان کے درمیان برسوں سے چلا آرہاہے لیکن اب اس جنگ کوافغانستان سے بھی ایک ربط حاصل ہے کیونکہ کابل بھی اب پاکستان  اورنئی دہلی کے درمیان جنگ کامیدان بن چکا ہے۔5 اگست کوجب سے بھارت نے کشمیر کی  خصوصی حیثیت کوختم کرتے ہوئے وہاں غیر انسانی کریک ڈائون شروع کیاہے،کابل حکومت کے بھارت کے اس اقدام کے حق میں کئی بیانات ریکارڈ کاحصہ بنے ہیں۔افغان حکومت کے خیالات عمومی طورپر پاکستان مخالف ہیں لیکن کشمیرکی پیچیدہ ہوتی صورتحال پرلوگوں کے تاثرات ملے جلے ہیں اوروہ اس مسئلے پرنئی دہلی کی مکمل حمایت نہیں کررہے۔ بھارت اس صورتحال پرکافی پریشان ہے۔مخالف نقطہ نظرنہ صرف بھارت کے مستقبل پراثر اندازہورہا ہے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ خطے میں اس کاتھانیداربننے کا خواب بھی چکنا چور ہورہاہے اوراپنے تمام ہمسایوں کی حمایت بھی کھوبیٹھاہے۔
امریکی مددنے بھارت کے افغانستان کے ساتھ پراثرتعلقات میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بھارت افغانستان میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والے والے ممالک میں سے ہے،کچھ اہم منصوبے مثلاً سڑکوں اورعمارتوں کی تعمیر اور پارلیمنٹ ہائوس کی تعمیرمیں بھی بھارت پیش پیش رہا ہے۔نوجوان افغانیوں کوبھارت کی ثقافت کی طرف  مائل کرنے اور افغانستان سے دیرپا اور مضبوط تعلقات کیلئے بھارت بڑے پیمانے پر افغانستان میں انڈین فلموں کوپھیلارہاہے۔افغان حکومت عمومی طورپربھارتی فوج کوخطے میں توازن قائم  رکھنے والی قوت سمجھتی ہے۔اس کے برعکس پاکستانی فوج کے افغان طالبان کے ساتھ تعلقات اور پاک افغان سرحد پرہونے والی جھڑپوں کی وجہ سے افغان عوام میں اس کامنفی تاثرہے۔ اس کی واضح مثال 2014ء سے2017ء تک بڑے پیمانے پر ہونے والے احتجاجی مظاہرے تھے جس کے پیچھے بھارتی لابی بڑی سرگرم رہی لیکن اب بھارت کواس محاذ  پر بھی پسپائی اختیار کرنا پڑرہی ہے۔
 5 اگست کوجموں وکشمیرکی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعدآرٹیکل370کے نفاذ کیلئے بھارت  نے38ہزارمزیدبھارتی فوجی کشمیر میں  بھیج دیئے،اس دوران ہرقسم کے ذرائع ابلاغ پر پابندی لگا دی گئی جوہنوزجاری ہے۔کشمیرکی سیاسی قیادت کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیا گیا،طویل ہوتے کریک ڈائون کی وجہ سے پاکستانی پالیسی سازوں نے کشمیرکے سلگتے موضوع کو امریکاافغان امن مذاکرات سے جوڑدیاتاکہ مغربی پالیسی سازبھارت پردباوڈالیں لیکن ہماری کمزورخارجہ پالیسی ہنوزاس میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ جوبائیڈن کی انتخابی فتح کے بعدٹرمپ مودی رومانس کی لہرختم ہوگئی ہے جس کوبحال کرنے کیلئے بھارتی لابی اسرائیل کی مددسے شب وروزامریکا میں سرگرم ہے۔ 
کٹھ پتلی کابل حکومت نے مذاکرات کے مسئلہ کشمیر کے ساتھ تعلق کومستردکیاہے اور انہوں نے مسئلہ کشمیرکودوممالک کا داخلی مسئلہ قرار دیاہے جبکہ افغان طالباان مظلوم کشمیریوں کے حق میں کئی مرتبہ اپنے جذبات کااظہارکرچکے ہیں۔ افغان خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ امراللہ صالح نے بھارت کی حمایت کرتے ہوئے فوری طورپریہ ٹویٹ کی کہ بھارت کویہ حق حاصل ہے کہ وہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کوتبدیل کرے انہوں نے پاکستان پریہ الزام لگایا کہ ’’وہاں مدارس  میں دہشت گردتیار ہوتے ہیں جوافغانیوں کوصرف اس لیے قتل کردیتے ہیں کہ وہ بھارت مخالف نہیں ہیں‘‘جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے اور بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے  افغان سرزمین استعمال کررہاہے۔ 
افغانستان کے سیاستدانوں میں ہرقسم کی رائے رکھنے والے لوگ موجود ہیں،کچھ توغیرجانبداررہتے ہیں اورکچھ اپنے مفادات کی خاطرپاکستان سے دشمنی میں بھارت کی حمایت کرتے ہیں لیکن حال ہی میں افغان صحافیوں کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں اس بات کااندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ رائے عامہ اب تیزی سے بدل رہی ہے۔خانہ جنگی کے حوالے سے وہ اپنے تجربات کا اظہار کررہے ہیں اوراسی تناظرمیں وہ کشمیرکے بدترین حالات کاادراک رکھتے ہیں،ارسلائی کے مطابق افغانیوں کی کشمیریوں کے ساتھ ہمدردی اسی وجہ سے ہے کہ وہ جنگ کے دوران ظلم وجبرکے حالات کاطویل مدت تک سامناکررہے ہیں۔
افغانستان میں عوام کی اچھی خاصی تعداد کشمیریوں سے ہمدردی رکھتی ہے لیکن افغانستان میں اشرافیہ بھی بھارت سے اپنے تعلقات پر نظرثانی کررہی ہے۔افغان حکمران اسلام آباد سے نالاں ہیں،وہ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان افغانستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کرتاہے جبکہ بھارتی پروپیگنڈہ سے متاثران کی یہ منفی سوچ ہی انڈیا کے تمام برے کرتوتوں پر پردہ ڈال دیتی ہے۔ 80کی دہائی میں مجاہدین کے ساتھ مل کرروس کے خلاف لڑنے والے افغان ڈرائیوراکبرخان نے اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے بتایاکہ کشمیریوں کے ساتھ ہمدردی کی جانی چاہیے اورآزادی حاصل کرنے کیلئے ان کی مددبھی کی جانی چاہیے اور ہم سب کی خواہش ہے کہ افغانستان سے استعمارکی واپسی کے بعدیقینا کشمیریوں کی مدد اور انہیں بھارتی چنگل سے آزاد کروانا ہمارا فرض ہے۔
کشمیر اپنی مخصوص جغرافیائی وسیاسی صورتحال کی وجہ سے افغان مہاجرین کی نظرمیں اہمیت رکھتاہے لیکن وہ اسے اپنے ماضی کے سالہاسال کے جنگی تجربے کی وجہ سے زیادہ باریک بینی سے دیکھتے ہیں یعنی کشمیر کے حال میں وہ اپناماضی دیکھ رہے ہیں۔افغان کینیڈین کارکن سوریاسحرافغان مہاجرین اورپناہ گزینوں کیلئے کام کرتی ہیں،ان کے مطابق افغان کشمیریوں کی جدوجہدکے حامی ہیں، لیکن وہ یہ بات بھی سمجھتے ہیں کہ بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی عروج پرہے دوسری طرف بھارت کی دہری پالیسی کی وجہ سے مسلمانوں پرنہ صرف اندرون ملک یعنی بھارت میں زندگی مشکل کردی گئی ہے بلکہ کشمیر میں بھی مسلمانوں کاقتل عام جاری ہے۔خانہ جنگی کی صورتحال میں کشمیر کامستقبل اندھیرے میں ہے۔ا فغان باریک بینی سے مودی کی کشمیرپالیسی کاجائزہ لے رہے ہیں،نئی دہلی کویہ حقیقت یادرکھنی چاہیے کہ افغان اس وقت مودی کی کشمیر پالیسی کو دیکھتے ہوئے اپنی رائے بنارہے ہیں، ہوسکتا ہے کہ بھارت اپنے گماشتوں کے ذریعے افغان رائے عامہ بنانے کیلئے دولت اورطاقت کا استعمال بڑھادے لیکن کشمیر مخالف پالیسی سے بننے والے عدم اعتمادپر قابو پانے کیلئے بھارت کو بالآخربری طرح شکست وہزیمت اٹھانی پڑے گی۔


 

تازہ ترین خبریں

پاک فضائیہ کے 4 ایئر آفیسرز کو ایئروائس مارشل کےعہدوں پرترقی دے دی گئی۔

پاک فضائیہ کے 4 ایئر آفیسرز کو ایئروائس مارشل کےعہدوں پرترقی دے دی گئی۔

جام کمال کے بیٹے کے پروٹوکول کی تصاویر دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین آگ بگولہ ہوگئے

جام کمال کے بیٹے کے پروٹوکول کی تصاویر دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین آگ بگولہ ہوگئے

پی ایس ایل سکس ۔۔پشاور زلمی کا کراچی کنگز کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ 

پی ایس ایل سکس ۔۔پشاور زلمی کا کراچی کنگز کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ 

حکومت نے شراب کی فروخت سے ایک ارب کے ٹیکس کا ٹارگٹ دے دیا

حکومت نے شراب کی فروخت سے ایک ارب کے ٹیکس کا ٹارگٹ دے دیا

قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی ۔۔۔ غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے والے ارکان کوکل ایوان میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ اسد قیصر 

قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی ۔۔۔ غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے والے ارکان کوکل ایوان میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ اسد قیصر 

آن لائن شاپنگ پر سیلز ٹیکس لگانے کا فیصلہ

آن لائن شاپنگ پر سیلز ٹیکس لگانے کا فیصلہ

بلوچستان کے 5 کھرب سے زائد کا بجٹ 18جون کوپیش کیا جائےگا

بلوچستان کے 5 کھرب سے زائد کا بجٹ 18جون کوپیش کیا جائےگا

 الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے ووٹنگ ہماری ترجیح ہے، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین

 الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے ووٹنگ ہماری ترجیح ہے، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین

 شہباز شریف سے  یوسف رضا گیلانی اور مولانا اسد کی ملاقات ۔۔۔بجٹ کاپیاں اپوزیشن پر پھینکنے اور بدکلامی کے حکومتی رویہ کی شدید مذمت

شہباز شریف سے یوسف رضا گیلانی اور مولانا اسد کی ملاقات ۔۔۔بجٹ کاپیاں اپوزیشن پر پھینکنے اور بدکلامی کے حکومتی رویہ کی شدید مذمت

حکومت نے پٹرول کی قیمت میں اضافہ کر دیا

حکومت نے پٹرول کی قیمت میں اضافہ کر دیا

27میں سے 26نکات پر عملدرآمد مکمل، پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کے امکان روشن

27میں سے 26نکات پر عملدرآمد مکمل، پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کے امکان روشن

جتنا مرضی استعمال کریں ۔۔۔مفت انٹرنیٹ اور فون کالز کے مزے لیں، پاکستانیوں کیلئے شاندار خبر آگئی

جتنا مرضی استعمال کریں ۔۔۔مفت انٹرنیٹ اور فون کالز کے مزے لیں، پاکستانیوں کیلئے شاندار خبر آگئی

پیپلزپارٹی تحریک انصاف کے ساتھ نظر آرہی ہے۔ مولانا فضل الرحمان

پیپلزپارٹی تحریک انصاف کے ساتھ نظر آرہی ہے۔ مولانا فضل الرحمان

چین نے نیٹو اجلاس میں جاری کیے گئے بیان کا جواب دے دیا

چین نے نیٹو اجلاس میں جاری کیے گئے بیان کا جواب دے دیا