01:00 pm
بے نظیر بھٹو کی برسی پر اپوزیشن کا جلسہ

بے نظیر بھٹو کی برسی پر اپوزیشن کا جلسہ

01:00 pm

٭بلوچستان: فرنٹیر کور کی چوکی پر دہشتگردی، سات اہلکار شہیدO لاڑکانہ: بے نظیر بھٹو کی 13 ویں برسی اپوزیشن کی سیاست کی نذر!!فضل الرحمان کا آنے سے انکار، اندرونی کہانی O ’’عمران خان کو کرسی سے گھسیٹیں گے‘‘ بلاول زرداریO ’’عمران کا وقت ختم ہو گیا‘‘ آصف زرداری O فوج عمران کے پیچھے سے ہٹ جائے: مریم نوازO ’’جنرل باجوہ کو ہٹایا جائے‘‘: نوازشریف O سینٹ کے اور ضمنی انتخابات میں حصہ لیںگے:پیپلزپارٹی O پی آئی اے کا یورپ میں داخلہ بندO بھارت: کسانوں کا محاصرہ جاری، مزید سڑکیں بندO قومی، صوبائی اسمبلیوں کے ضمنی انتخابات کی تیاری مکمل، الیکشن کمیشن O کرونا، 58 ہلاک 1853 نئے مریضO قومی اسمبلی کے ارکان ایک ماہ میں ایک کروڑ کی دوائیںکھا گئے!O کراچی، لاہور، اسلام آباد شدید سردی!
٭عالم اسلام میں کسی مسلم ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم بے نظیربھٹو کی 13 ویں برسی پر گڑھی خدا بخش میں اپوزیشن اتحاد نے قبضہ کر کے اسے مریم نواز اور بلاول شو بنا دیا!! بے نظیر بھٹو کی باتیں کم، عمران خاں اور ان کی حکومت پر سخت زہریلی تقریروں سے برسی کا سماں بدل گیا۔ برسی کی ایسی تقریبات پر قرآن خوانی، نعت خوانی کے علاوہ مرحوم یا مرحومہ کی زندگی اور شخصیت کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ برسی صرف بے نظیر بھٹو کے مزار تک ہی محدود نہیں رہتی، ان کے مزار کے ساتھ ذوالفقار علی بھٹو، شاہ نواز بھٹو اور مرتضیٰ بھٹو کی قبریں بھی واقع ہیں۔ برسی کے نام پر اپوزیشن کے اتحاد کے جلسہ میں ان تمام افراد کا بہت کم ذکر ہوا۔ صرف بلاول بھٹو نے انہیں یاد کیا۔ باقی مقررین نے صرف عمران خان کو نشانہ بنائے رکھا۔ بے نظیر بھٹو اعلیٰ تعلیم یافتہ تھیں۔ ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو نے ان کی بہت سیاسی تربیت کی تھی۔ وہ طبعاً امن پسند تھیں، اس کا ایک اہم ثبوت یہ کہ پیپلزپارٹی کی مخالفت میں انتہا تک جانے والے نوازشریف سے 16 مئی 2007ء کو لندن میں میثاق جمہوریت کے نام پر ایک صلح نامہ تحریر کیا جسے، ان کے بعد، ان کے وارثوں نے کسی الماری میں بندکر دیا اور اس کے الٹ چل پڑے۔ چھوٹی سی مثال کہ میثاق جمہوریت کی دفعہ 23 میں واضح الفاظ میں کہا گیا ہے کہ آئندہ ہر قسم کے انتخابات میں کھلی رائے شماری ہوگی، کوئی خفیہ رائے شماری نہیںہو گی۔ پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت کھلی رائے شماری کو مسترد کر کے خفیہ رائے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
٭قارئین کرام! حکومت نے بقول شاعر، ’’ہر چند کہیں، کہ ہے، نہیں ہے!‘‘بلکہ بالکل نہیں ہے۔ اس کی بات تو کیا کی جائے؟ مگر اپوزیشن کے اتحاد کا کیا عالم ہے؟ اس کے اندر کیا دال بٹ رہی ہے؟ کوئی پارٹی زمین پر، کوئی آسمان پر، کوئی مشرق کی طرف کوئی مغرب کی طرف؟ بھانت بھانت کے نظریات، بیانات! ایک میراثی کا قصہ یاد آ گیا۔ لاہور سے راولپنڈی کا ٹکٹ خریدا اور کراچی جانے والی ٹرین کی برتھ پر لیٹ گیا۔ ٹرین کراچی کی طرف چل پڑی تو حیرت سے بولا کہ سائنس کا کیا کمال ہے، ایک ہی گاڑی میں اوپر والے مسافر راولپنڈی، نیچے والے کراچی جا رہے ہیں! اس وقت یہی حال اپوزیشن کے اتحاد پی ڈی ایم کا ہے۔ اس کا ایک منظر سب کے سامنے ہے۔ لاہور کے جلسے میں مولانا فضل الرحمان تقریر کے لئے اٹھے توبلاول زرداری اٹھ کر چلا گیا، ساتھ ہی ساری پیپلزپارٹی بھی چلی گئی۔ مریم نواز کی تقریر ختم ہوئی تو ن لیگ چلی گئی اور مولانا نے دو تہائی خامی کرسیوں سے خطاب کیا۔ اس کے بعد مردان کے جلسہ میں پیپلزپارٹی نہیں آئی اور گڑھی خدا بخش میں بے نظیربھٹو (شہید) کی برسی کے جلسہ میں مولانا فضل الرحمان نہیں آئے۔ فضل الرحمان کا مطالبہ ہے کہ استعفے دو، اسمبلیوں کے انتخابات مت لڑو، اسمبلیاں توڑ دو، پیپلزپارٹی اور ن لیگ اعلان کر رہی ہیں کہ اسمبلیوں کے ضمنی اور سینٹ کے عام انتخابات میں حصہ لیںگے! اب اندر کی بات کہ مولانا فضل الرحمان اور بلاول میں کھٹ پٹ کیوں شروع ہوئی؟ شائد بیشتر قارئین کو اسکی اندرونی کہانی کا علم نہ ہو! یہ بہت ڈرامائی کہانی ہے۔ پڑھئے:
Oبات یوں ہوئی کہ مولانا کو اس بات کا گمان تھا کہ جلسوں اور ریلیوں کی رونق تو ان کی پارٹی ’جے یو آئی‘ کے ارکان کی سٹریٹ پاور کے باعث ہوتی ہے، ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے پاس تو کچھ بھی نہیں۔ اپنی پارٹی کی اس اہمیت کے پیش نظر اچانک جے یو آئی نے پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت اور انتظامیہ میں حصہ مانگ لیا اور کابینہ اور انتظامیہ میں اعلیٰ تقرریوں کے لئے اپنے گیارہ ارکان کی فہرست پیش کر دی خاص طور پر یہ کہ لاڑکانہ میں جے یو آئی کا ڈپٹی کمشنر لگایا جائے۔ پیپلزپارٹی نے انکار کر دیا اسے رنج تھا کہ مولانا نے پیپلزپارٹی کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ پیپلزپارٹی کے اس انکار پر مولانا برہم ہو گئے اور جے یو آئی کی طرف سے بلاول کو دھمکی دی گئی کہ اب دیکھیں گے، 27 دسمبر کو گڑھی خدا بخش میں بے نظیر بھٹو (شہید) کی برسی کیسے منائی جاتی ہے اور تم لوگ وہاں کیسے جاتے ہو؟ یہ کھلا چیلنج تھا۔ اس پر پیپلزپارٹی بھی بپھر گئی۔ لاہور میں جلسہ ہوا تو بلاول زرداری نے لاہور میں موجود ہونے کے باوجود اپوزیشن کے مینارپاکستان والے جلسہ میں شرکت سے انکار کر دیا۔ اس جلسے کی میزبان ن لیگ تھی۔ رانا ثناء اللہ نے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان سے 20,20 لاکھ روپے فی رکن (کم از کم 5 لاکھ) وصول کئے تھے (کوئی حساب نہیں) بلاول نے شرکت سے انکار کیا تو جلسہ خطرہ میں پڑ گیا۔ ن لیگ کی منت سماجت پر شرکت پر آمادہ تو ہو گیا مگر ایاز صادق کے گھر اپوزیشن کے کھانے پر اس وقت پہنچا جب کھانا سمٹ چکا تھا۔ جلسہ میں بھی بہت دیر سے گیا اور مولانا فضل الرحمان کی تقریر شروع ہونے پر سٹیج سے چلا گیا۔ اس کے بعد مردان میں اپوزیشن کے جلسہ میں نہیں گیا۔ اعلان ہوا کہ فرحت اللہ بابر پیپلزپارٹی کی نمائندگی کریں گے وہ بھی نہیں آئے۔ مولانا کو ان ساری باتوں پر سخت غصہ تھا۔ انہوں نے بے نظیربھٹو کی برسی کے جلسے میں آنے سے انکار کر دیا۔ اس کا پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت نے نوٹس لیا۔ لاڑکانہ میں مختلف پارٹیو ںکے بہت سے بینر لگے ہوئے تھے۔ ڈپٹی کمشنر نے باقی بینر رہنے دیئے، جے یو آئی کے اتروا دیئے۔ جے یو آئی کے غم و غصہ پر دوبارہ لگوا دیئے مگر ایک بار توکام دکھا دیا گیا۔ ن لیگ کی منت سماجت پر مولانا کی بجائے عبدالغفور حیدری نے جلسے میں شرکت کی۔ (کہانی ختم ہوئی)
مجھے اپوزیشن کی اس صورت حال پر منیر نیازی کا شعر یاد آ رہا ہے کہ ’’کاغذ کے پھول سر پہ سجا کر چلی حیات…نکلی شہر سے باہر تو بارش نے آ لیا۔‘‘
٭بیشتر کالم اپوزیشن کے ہتھے چڑھ گیا مگر داستان ہی اتنی چشم کشا تھی۔ اب  مختلف داستانیں! سوشل میڈیا پر حکومت اور اپوزیشن کے خصوصی ’منظور نظر‘ اینکر پرسن قسم کے لائوڈ سپیکروں نے ’نہایت اہم‘ خبروں کا طوفان برپا رکھا ہے۔ کسی معمولی سی بات کو بہت بڑی بات کہہ کر بیان شروع کرتے ہیں۔ موہنجودڑو سے اب تک کی تاریخ بیان کرتے ہیں پھر اپنی بالکل ’خاص خبر‘ بیان کرتے ہیں جو پہلے کہیں چھپ چکی ہوتی ہے یا پھر اس کا کوئی وجود ہی نہیں ہوتا! کسی اخبار یا ٹیلی ویژن پر دکھائی نہیں دیتی۔ ایک اینکر بتا رہا ہے کہ فوج نے عمران خاں کو فوری طور پر ’واپس‘ لینے کا فیصلہ کیا ہے، بس ایک دو دن کی بات ہے۔ دوسرا اینکر بتا رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو وزیراعظم بنانے کی پیش کش کی گئی ہے۔ تیسرا، سرکاری اینکر اعلان کر رہا ہے کہ پاکستان کے سارے قرضے معاف ہو گئے ہیں، سعودی عرب ایک اور آئل ریفائنری لگا رہا ہے! اور اخبارات خبر دے رہے ہیں کہ وزیرخارجہ کے ہنگامی دورے کے باوجود عرب امارات نے پاکستانی افراد کے ویزوں پر پابندی ختم نہیں کی، بھارت کو ویزے دیئے جا رہے ہیں! مزید یہ کہ سعودی عرب نے فوری طور پر ایک ارب ڈالر کا وہ قرضہ بھی اس ماہ واپس مانگ لیا ہے جو ڈیڑھ برس کے بعد ادا کرنا تھا!
٭ہلکی پھلکی باتوںکے لئے ایک نام ’’فردوس عاشق اعوان‘‘ سامنے آ جاتا ہے۔ ان خاتون کا مسئلہ یہ تھا کہ ان کے ساتھ مریم نام کی دو خواتین ہاتھ اٹھا اٹھا کر عمران خاں کے خلاف نعرے لگاتی ہیں مگر ادھر اکیلی فردوس عاشق اعوان! مگر قدرت ان کا ساتھ دینے کے لئے دوسری فردوس کو آگے لے آئی ہے۔ نئی طلوع ہونے والی خاتون فردوس شمیم نقوی بھی زورشور سے فردوس عاشق اعوان کا ہاتھ بٹا رہی ہے!
٭بلاول نے اعلان کیا کہ پیپلزپارٹی کے جیالے عمران خاں کو کرسی سے گھسیٹ لائیں گے۔ آصف زرداری نے کہا کہ ’’ہم نے مشرف کو نکال دیا، عمران کیا چیز ہے؟؟ یہ بیلوں کی لڑائی ہے، دیکھنے والی ہو گی! آصف زرداری کے اعلان پر ایک شعر یاد آ گیا کہ ’’کُودا تیری چھت پر یُوں دھم سے نہ ہو گا! وہ کام کیا ہم نے جو رُستم سے نہ ہو گا!‘‘ نوازشریف نے مطالبہ کیا ہے کہ آرمی چیف کو ہٹایا جائے! مرزا غالب کا شعر یاد آ گیا کہ ’’میں نے کہا کہ بزمِ ناز چاہئے غیر سے تہی (گریز)، سُن کے ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ یُوں!‘‘
 

تازہ ترین خبریں

پاک فضائیہ کے 4 ایئر آفیسرز کو ایئروائس مارشل کےعہدوں پرترقی دے دی گئی۔

پاک فضائیہ کے 4 ایئر آفیسرز کو ایئروائس مارشل کےعہدوں پرترقی دے دی گئی۔

جام کمال کے بیٹے کے پروٹوکول کی تصاویر دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین آگ بگولہ ہوگئے

جام کمال کے بیٹے کے پروٹوکول کی تصاویر دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین آگ بگولہ ہوگئے

پی ایس ایل سکس ۔۔پشاور زلمی کا کراچی کنگز کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ 

پی ایس ایل سکس ۔۔پشاور زلمی کا کراچی کنگز کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ 

حکومت نے شراب کی فروخت سے ایک ارب کے ٹیکس کا ٹارگٹ دے دیا

حکومت نے شراب کی فروخت سے ایک ارب کے ٹیکس کا ٹارگٹ دے دیا

قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی ۔۔۔ غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے والے ارکان کوکل ایوان میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ اسد قیصر 

قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی ۔۔۔ غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے والے ارکان کوکل ایوان میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ اسد قیصر 

آن لائن شاپنگ پر سیلز ٹیکس لگانے کا فیصلہ

آن لائن شاپنگ پر سیلز ٹیکس لگانے کا فیصلہ

بلوچستان کے 5 کھرب سے زائد کا بجٹ 18جون کوپیش کیا جائےگا

بلوچستان کے 5 کھرب سے زائد کا بجٹ 18جون کوپیش کیا جائےگا

 الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے ووٹنگ ہماری ترجیح ہے، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین

 الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے ووٹنگ ہماری ترجیح ہے، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین

 شہباز شریف سے  یوسف رضا گیلانی اور مولانا اسد کی ملاقات ۔۔۔بجٹ کاپیاں اپوزیشن پر پھینکنے اور بدکلامی کے حکومتی رویہ کی شدید مذمت

شہباز شریف سے یوسف رضا گیلانی اور مولانا اسد کی ملاقات ۔۔۔بجٹ کاپیاں اپوزیشن پر پھینکنے اور بدکلامی کے حکومتی رویہ کی شدید مذمت

حکومت نے پٹرول کی قیمت میں اضافہ کر دیا

حکومت نے پٹرول کی قیمت میں اضافہ کر دیا

27میں سے 26نکات پر عملدرآمد مکمل، پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کے امکان روشن

27میں سے 26نکات پر عملدرآمد مکمل، پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کے امکان روشن

جتنا مرضی استعمال کریں ۔۔۔مفت انٹرنیٹ اور فون کالز کے مزے لیں، پاکستانیوں کیلئے شاندار خبر آگئی

جتنا مرضی استعمال کریں ۔۔۔مفت انٹرنیٹ اور فون کالز کے مزے لیں، پاکستانیوں کیلئے شاندار خبر آگئی

پیپلزپارٹی تحریک انصاف کے ساتھ نظر آرہی ہے۔ مولانا فضل الرحمان

پیپلزپارٹی تحریک انصاف کے ساتھ نظر آرہی ہے۔ مولانا فضل الرحمان

چین نے نیٹو اجلاس میں جاری کیے گئے بیان کا جواب دے دیا

چین نے نیٹو اجلاس میں جاری کیے گئے بیان کا جواب دے دیا