12:34 pm
جو تم کرو گے وہ ہم کریں گے؟

جو تم کرو گے وہ ہم کریں گے؟

12:34 pm

شیخ رشید ، پندرھویں مرتبہ وزیر … آج کل داخلہ کے وزیر باتدبیر، دن کو رات اور رات کو دن ثابت کرنے کے فن سے آشنا… سیاسی شُرلیاں چھوڑنے کے ماہر، چٹکلے دا ر بیانا ت دینے کے عادی ، فرماتے ہیں ’’کہ اپوزیشن والوں پر واضح کر دینا چاہتے ہیں … جو آپ کرو گے وہی ہم کریں گے، اصل فساد کی جڑ مولانا فضل الرحمن ہیں، وہ کشتیاں  جلا کر لڑنے جارہے ہیں ، اس کے بھیانک نتائج سے وہ بے خبر ہیں ، مولانا سے نمٹنے کا فیصلہ جنوری میں ہو جائے گا، اخبارات میں شائع ہونے والے بیان کے مطابق ، شیخ رشید نے کہا کہ میری زندگی میں پہلی مرتبہ اس  نے جید علماء کو اپنی جماعت سے نکال دیا ہے، اس کی فرعونیت کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے۔‘‘
یادش بخیر، یہ نوے کی دہائی تھی جب شہر کراچی میں لندن میں مفرور پاپی الطاف حسین کا طوطی بولتاتھا… الطاف پاپی کی تقریروں کے ایم کیو ایم کے نوجوان شیدائی تھے … تب الطاف حسین اپنی تقریروں میں گلاپھاڑ پھاڑ کر یہ کہا کرتا تھا ’’جفا کرو گے ، جفا کریں گے ، وفا کرو گے ، وفا کریں گے، ظلم کرو گے، ظلم کریں گے، ستم کر و گے، ستم کریں گے، ہم آدمی ہیں تمہارے جیسے، جو تم کرو گے و ہ ہم کریں گے‘‘ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ تب کراچی کے سڑک کنارے، عمارتوں کی دیواریں ان جملوں کی چاکنگ سے بھری ہوتی تھیں … اس وقت الطاف اور اس کی ایم کیو ایم کا مخاطب وقت کی حکومت اورریاستی ادارے ہواکرتے تھے … آج کل شیخ رشید وہی جملے  اپنی پریس کانفرنسوں اور ٹاک شوز میں استعمال کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں… لیکن ان کا مخاطب اپوزیشن جماعتیں ہیں۔
27 دسمبر کو محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر لاڑکانہ میں ہونے  والے پیپلز پارٹی کے جلسہ عام سے آصف علی زرداری ، بلاول زرداری ، مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز، اویس نورانی، اختر مینگل، امیر حیدر ہوتی اور محمود خان اچکزئی نے جو تقریریں کیں… ان کا لب لباب یہ تھا کہ31 جنوری تک عمران خان استعفیٰ دے کر گھر چلے جائیں… ورنہ پھر لانگ مارچ ہوگا۔
28 دسمبر کو وزیراعظم عمران خان نے فوج مخالف بیانیئے پر اپوزیشن کو موثر جواب دینے  کی ہدایت کی اور کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے اثاثے کیسے بنائے؟ کتنے بنائے؟ عوام کو آگاہ کیا جائے، انہو ں نے اپنے ترجمانوں سے کہا کہ اپوزیشن راہنمائوں کو پتہ ہے کہ عمران خان این آر ا و نہیں دے گا… اس لئے وہ اپوزیشن پر دبائو ڈال   رہے ہیں ‘‘… انہوں نے فوج مخالف بیانات پر مفتی کفایت اللہ کے خلاف کارر وائی کا  عندیہ بھی دیا، کیا ہی اچھا ہوتا کہ وزیراعظم اس سارے فسانے سے پاک فوج کو جدا رکھتے، گزشتہ کئی روز سے وزیراعظم اپنے بیانات اور انٹرویوز میں یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ جیسے اپوزیشن کا مقابلہ ان کی حکومت سے نہیں ، بلکہ کسی دفاعی ادارے سے ہے … دوسری طرف مفتی کفایت اللہ ہوں یا اپوزیشن کے دیگر راہنما ان کو بھی اداروں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
یہ امر خوش آئند ہ ہے کہ حکومتی حلقوں بالخصوص وفاقی وزیروں نے پہلی مرتبہ مولانا شیرانی، حافظ حسین احمد، شجاع الملک اور مولانا نصیب گُل کی عظمت او ر علم  و فضل کو اعلانیہ تسلیم کرلیا، جے یو آئی کے ایک سابق رہنما کہ جو آج کل خیر سے وفاقی وزیر ریلوے بھی ہیں … ’’یعنی اعظم سواتی نے تو حافظ حسین احمد کو ’’انمول ہیرا‘‘ قرار دیتے ہوئے  بڑے حسرت بھرے لہجے میں کہا کہ کاش وہ پی ٹی آئی میں شامل ہو جائیں‘‘…اچھا ہے، اچھا ہے ، اگریہ مولانا حضرات پی ٹی آئی میں شامل ہو جائیں  تو بہت اچھا ہوگا، پی ٹی آئی کا علماء، مشائخ ونگ او ر مضبوط ہو جائے گا۔
بلوچستان کے ’’نظر، آتی‘‘ گروپ کے مولوی حضرات کی ایوان صدر میں دعوت ماشاء اللہ یہ بھی بہت اچھا قدم ہے… مولویوں اور حکومت کے درمیان رابطے جس قدر مضبوط ہوںگے … ’’علم و فضل‘‘ کی ’’خوشبو‘‘ اتنی ہی زیادہ عام ہوگی، جو عناصر ایوان صدر میں مولوی حضرات کی دعوت پر جلے بھنے بیٹھے ہیں … انہیں چاہیے کہ وہ غصہ تھوک کر مولانا فضل الرحمن کے خلاف اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کھڑکا دیں … اور پھر ایوان صدر کے کھانوں سے محظوظ ہو جائیں، ہم حکومت کے ہر اچھے کارنامے اور کام کے ساتھ ہیں … فضل الرحمن مخالف مولویوں کو کھانے کھلانا بھی ’’اچھا‘‘ کام ہے ، چلیں ’’کام‘‘  جیسا بھی ہو ، لیکن ’’کھانا‘‘ تو بہرحال ذائقہ دار اور اچھا ہی ہوگا… بات چلی تھی وزیر داخلہ کے بیان  سے انہوں نے جو یہ کہا ہے کہ ’’مولانا‘‘ سے نمٹنے کا فیصلہ جنوری میں ہو جائے گا، اب انہوں نے ’’مولانا‘‘ سے نمٹنے کا کس  طرح کا فیصلہ کیا ہے؟ حکومت مولانا فضل الرحمن اور اپوزیشن کے ساتھ جنوری میں کیا کرنے جارہی ہے؟ یہ تو جنوری  میں معلوم ہو ہی جائے گا، لیکن شیخ رشید کے اس قسم کے بیانات سے عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے … کیونکہ اس سے قبل بھی وزیر داخلہ بننے کے بعد وہ یہ بیان دے چکے ہیں، کہ بیس سیاست دانوں کی جانوں کو خطرہ ہے، کس کس سیاست دان کی جان کوخطرہ ہے؟ شیخ رشید نے باقی کسی کا نام نہیں بتایا … ہاں البتہ مولانا فضل الرحمن کا نام انہوں نے ضرور بتایا … جاننے والے جانتے ہیں کہ رسوا کن ڈکٹیٹر کے دور میں جب لال مسجد  آپریشن ہوا تو تب بھی شیخ رشید وفاقی وزیر تھے … یہ او ر بات ہے کہ 2018 ء کے انتخابات تک وہ مولویوں کو صفائیاں پیش کرتے رہے کہ ان کا لال مسجد آپریشن سے نہ کوئی تعلق تھا اور اس  آپریشن کو کروانے میں نہ ان کا ہاتھ، شیخ رشید کی سیاست کا حسن یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو مذہبی قوتوں بالخصوص مساجد اور مدارس کا نمائندہ بھی باور کروانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں … ویسے حکومت کا موقف یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن سیاست میں مذہب کا استعمال کرتے ہیں … لیکن شیخ رشید نے 2018 ء میں جو انتخابی کمپیئن چلائی ، اس میں انہوں نے اپنے نام کے ساتھ ’’مجاہد ختم نبوت‘‘ کا لقب بے دریغ استعمال کیا، اور حرف آخر یہ کہ ان کے نزدیک جن چار علماء کو جمعیت علماء اسلام سے نکالا گیا وہ تو ’’جید‘‘ ہیں … اور مولانا فضل الرحمن ’’فرعون‘‘  باوجود اس کے کہ ہزاروں ، لاکھوں علماء کرام انہیں اپنا امیر مانتے ہیں، اب بھی وقت ہے  ، حکومت  ہو یا اپوزیشن  دونوں اطراف کے لوگوں کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے پر تنقید ضرور کریں … لیکن مناسب الفاظ کے ساتھ، لفظوں کے چنائو میں اگر احتیاط نہ برتی گئی تو حالات مزید خراب ہوں گے۔

 

تازہ ترین خبریں

پاک فضائیہ کے 4 ایئر آفیسرز کو ایئروائس مارشل کےعہدوں پرترقی دے دی گئی۔

پاک فضائیہ کے 4 ایئر آفیسرز کو ایئروائس مارشل کےعہدوں پرترقی دے دی گئی۔

جام کمال کے بیٹے کے پروٹوکول کی تصاویر دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین آگ بگولہ ہوگئے

جام کمال کے بیٹے کے پروٹوکول کی تصاویر دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین آگ بگولہ ہوگئے

پی ایس ایل سکس ۔۔پشاور زلمی کا کراچی کنگز کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ 

پی ایس ایل سکس ۔۔پشاور زلمی کا کراچی کنگز کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ 

حکومت نے شراب کی فروخت سے ایک ارب کے ٹیکس کا ٹارگٹ دے دیا

حکومت نے شراب کی فروخت سے ایک ارب کے ٹیکس کا ٹارگٹ دے دیا

قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی ۔۔۔ غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے والے ارکان کوکل ایوان میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ اسد قیصر 

قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی ۔۔۔ غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے والے ارکان کوکل ایوان میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ اسد قیصر 

آن لائن شاپنگ پر سیلز ٹیکس لگانے کا فیصلہ

آن لائن شاپنگ پر سیلز ٹیکس لگانے کا فیصلہ

بلوچستان کے 5 کھرب سے زائد کا بجٹ 18جون کوپیش کیا جائےگا

بلوچستان کے 5 کھرب سے زائد کا بجٹ 18جون کوپیش کیا جائےگا

 الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے ووٹنگ ہماری ترجیح ہے، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین

 الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے ووٹنگ ہماری ترجیح ہے، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین

 شہباز شریف سے  یوسف رضا گیلانی اور مولانا اسد کی ملاقات ۔۔۔بجٹ کاپیاں اپوزیشن پر پھینکنے اور بدکلامی کے حکومتی رویہ کی شدید مذمت

شہباز شریف سے یوسف رضا گیلانی اور مولانا اسد کی ملاقات ۔۔۔بجٹ کاپیاں اپوزیشن پر پھینکنے اور بدکلامی کے حکومتی رویہ کی شدید مذمت

حکومت نے پٹرول کی قیمت میں اضافہ کر دیا

حکومت نے پٹرول کی قیمت میں اضافہ کر دیا

27میں سے 26نکات پر عملدرآمد مکمل، پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کے امکان روشن

27میں سے 26نکات پر عملدرآمد مکمل، پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کے امکان روشن

جتنا مرضی استعمال کریں ۔۔۔مفت انٹرنیٹ اور فون کالز کے مزے لیں، پاکستانیوں کیلئے شاندار خبر آگئی

جتنا مرضی استعمال کریں ۔۔۔مفت انٹرنیٹ اور فون کالز کے مزے لیں، پاکستانیوں کیلئے شاندار خبر آگئی

پیپلزپارٹی تحریک انصاف کے ساتھ نظر آرہی ہے۔ مولانا فضل الرحمان

پیپلزپارٹی تحریک انصاف کے ساتھ نظر آرہی ہے۔ مولانا فضل الرحمان

چین نے نیٹو اجلاس میں جاری کیے گئے بیان کا جواب دے دیا

چین نے نیٹو اجلاس میں جاری کیے گئے بیان کا جواب دے دیا