02:30 pm
کیا واقعی اسرائیل کوتسلیم کرلیناچاہیے؟

کیا واقعی اسرائیل کوتسلیم کرلیناچاہیے؟

02:30 pm

شنید ہے کہ وزیراعظم عمران خان پراسرائیل کو تسلیم کرنے کے سلسلے میں خاصا دبائو ہے۔ فی الوقت وہ اس دبائو کے اثر میں نہیں آرہے ہیں۔ لیکن مستقبل کے بارے میں کچھ نہیں کہاجاسکتاہے۔ وزیراعظم پراسرائیل کوتسلیم کرنے کیلئے سعودی عرب اور امریکہ کی جانب سے دبائو ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیل امریکہ اور برطانیہ کے باہمی گٹھ جوڑ کی بنا پر معرض وجود میں آیاہے۔ عالمی سامراج کی سازش کے ذریعہ بننے والے اس ملک کا مقصد دنیائے عرب کے علاوہ دیگر اسلامی ممالک کو اپنے زیراثر رکھنا مقصودہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے اشارے پر تقریباً پانچ عرب ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کرلیاہے۔
امریکی صدر ٹرمپ کا کہناہے کہ مزید عرب اور اسلامی ممالک اسرائیل کو تسلیم کرلیں گے۔ فی الوقت تین ممالک جس میں پاکستان اور ایران بھی شامل ہیں جنہوں نے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکارکردیاہے۔ تاہم اس ضمن میں سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ اسرائیل کوتسلیم کرلینے کے بعد کیا دنیا خصوصیت کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہوجائے گا؟ میرے خیال کے مطابق ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ مشرق وسطیٰ میں آج کل جو بدامنی پائی جاتی ہے اس کی بڑی وجہ اس خطے میں امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیاں ہیں۔ جو قدرتی وسائل سے مالا مال اس خطے میں اپناا ثرورسوخ سے کسی قیمت پر دستبردارہونے کو تیار نہیں ہیں۔ عالمی سامراج کی ان پالیسیوں کی وجہ سے شام‘ لیبیا‘ عراق‘ یمن‘ تباہی وبربادی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔ لاکھوں لوگ ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ لاکھوں افراد اپناگھر بار چھوڑنے پرمجبور ہوگئے ہیں۔ چنانچہ یہ پروپیگنڈہ کرنا کہ اسرائیل کے وجود کوتسلیم کرنے سے مشرق وسطیٰ کے ممالک کے سیاسی ‘معاشی وسماجی حالات یکسر بدل جائیں گے۔ محض ایک ناپختہ ذہن کی اختراح ہے۔ اسرائیل اتنا طاقتور ملک نہیں ہے۔ جتنا اس کا خوف پیدا کیاجارہاہے‘ کہاجاتا ہے کہ اس کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کا انبار لگا ہو اہے حالانکہ یہ ایٹمی ہتھیار اسرائیل نے خود اپنی محنت وذہانت سے نہیں بنائے ہیں‘ بلکہ اس نے مہلک ہتھیار امریکہ اور یورپ سے مستعارئے ہیں تاکہ ان ایٹمی ہتھیاروں کی وجہ سے اس کاوجود قائم رہے اور اس کا خوف بھی۔
تاہم اسرائیل کوتسلیم کرنے سے متعلق ماضی کی حکومتوں پربھی دبائوتھا‘ لیکن انہوں نے بھی عوام کے دینی وسیاسی جذبات کو محلوظ خاطر رکھتے ہوئے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔ لیکن یہ حقائق اپنی جگہ ناقابل تردید ہیں کہ سابق وزیراعظم نوازشریف نے خفیہ طور پر دو وفود اسرائیل بھیجے تھے‘ جن میں اکثریت ان کے دوستوں کی تھی ان وفود کی یہ ذمے داری تھی کہ وہ یہ معلوم کریں کہ اگر پاکستان اسرائیل کوتسلیم کرلیتاہے تو پاکستان کو کیا فوائد حاصل ہوں گے‘ نیز کیا اسرائیل کے ساتھ تجارت کے ذریعہ پاکستان کو کیا فوائد حاصل ہوسکیں گے۔ نوازشریف اسرائیل کے ساتھ تجارت کرنا چاہتے تھے جیسا کہ وہ بھارت کے ساتھ اس سلسلے میں اتنے آگے نکل گئے تھے کہ پاکستان کے وجود ہی سے انکاری ہوگئے۔ انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک لکیر ہی ہے جس کو مٹ جانا چاہیے۔ اس جملے پر ان کی پاکستان میں خاصی مذمت کی گئی ۔ لیکن وہ ہر قیمت پر بھارت کے ساتھ سیاسی ومعاشی تعلقات قائم کرناچاہتے تھے۔
 کشمیر کے مسئلہ کو وہ تجارت کے سامنے کوئی اہمیت دینے کو تیارنہیں تھے بلکہ بھارت کے ساتھ تجارت پر اس نے زور دے رہے تھے کہ اس میں سراسر ان کا ذاتی فائدہ تھا‘ بلکہ بعد میں پاکستان کے عوام نے  دیکھا کہ وہ اس تجارت کی آڑ میں بھارت کی اس خطے میں بالادستی قبول کرنے کو تیار ہوگئے تھے۔ اس پس منظرمیں بھارت کے ایک سابق وزیراعظم آنجہانی آئی کے گجرال کا حوالہ دینا چاہتاہوں‘ میں ان دنوں اردو کے ایک بڑے اخبار کی جانب سے انٹرویو کے سلسلے میںدہلی گیاتھا‘ انٹرویو کے دوران اچانک گجرال صاحب کے ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ یہ کال مرحومہ نوازشریف کی اہلیہ کلثوم نواز نے کی تھی‘ اس سے قبل کہ ان کے درمیان گفتگو شروع ہوتی گجرال صاحب نے مجھ سے کہا کہ آپ تھوڑی دیر کے لئے برابر والے کمرے میں تشریف رکھیں۔ تقریب پندرہ منٹ کے بعد گجرال صاحب نے مجھے بلایا تو میں نے ان سے پوچھا کہ سر پاکستان  میں سب خیر ہے‘ مسز کلثوم نواز نے کیوں  فون کیاتھا۔ انہوں نے مسکراکر جواب دیا کہ سب باتیں بتانے کی نہیں ہوتی ہیں لیکن انہوں نے اتنا ضرور کہا کہ نوازشریف نے دہلی کے قریب جوار میں ایک کارخانہ لگانے کے سلسلے میں زمین خریدنا چاہتے ہیں۔ میں نے ان سے مزیدکھوج لگانے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور انٹرویو مکمل کرنے کے بعد واپس اپنے ہوٹل آگیا۔  واپس اپنے موضوع کی طرح آتے ہوئے یہ لکھنا ضروری ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق سابق صدر پرویز مشرف پربھی امریکہ کا دبائوتھا۔لیکن انہوں نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے سے گریز کیا۔ ان کا خیال تھا کہ اگر انہوں نے ایسا کیا تو اس کاپاکستان کی افواج کے مورال پر برے اثرات مرتب ہوں گے۔ نیز پاکستانی عوام انہیں نہیں بخشیں گے اس ضمن میں انہوں نے قائداعظم ؒکے ایک بیان کا بھی حوالہ دیا تھا جوانہوں نے 1948ء  میں کراچی میں ایک انٹرویو کے دوران دیاتھا۔ بانی پاکستان نے کہا تھا کہ’‘ اسرائیل کا قیام ایک عالمی سازش کے تحت آیاہے‘ اس کو تسلیم نہیں کیاجاسکتاہے‘ نیز جب تک فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہوجاتاہے‘ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے‘‘۔ تقریباً ماضی بعید میں بیشترعرب ممالک کا یہی موقف تھا‘ بلکہ سعودی عرب کے بادشاہ مرحوم شاہ عبداللہ نے بھی land for peace کا فارمولا پیش کیاتھا‘ یعنی اگر اسرائیل عربوں کے وہ تمام علاقے خالی کردے جس پر اس نے1967 ء کی جنگ کے دوران قبضہ کرلیا تھا اور فلسطین کو آزاد ریاست کے قیام کے لئے تیار ہوجائے تو اسرائیل کو تسلیم کرلیاجائے گا لیکن اسرائیل نے بڑی ہٹ دھرمی سے امن کے اس فارمولے کو مسترد کردیا تھا ۔ 
 پاکستان کی ایک اور سابق وزیراعظم مرحومہ بے نظیر بھٹو نے بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنا چاہتی تھیں۔ لیکن عوام کے خوف سے انہوں نے یہ قدم نہیں اٹھایا۔ تاہم انہوں نے بھی خفیہ طور پر ایک وفد اسرائیل بھیجاتھا تاکہ یہ اسرائیلی قیادت کی پاکستان سے متعلق سوچ معلوم کی جائے اسرائیل سے واپس آکر اس وفد نے بے نظیر بھٹو کو جوکچھ بتایا وہ ابھی تک راز ہی ہے اور راز ہی رہے گا۔


 

تازہ ترین خبریں

پاک فضائیہ کے 4 ایئر آفیسرز کو ایئروائس مارشل کےعہدوں پرترقی دے دی گئی۔

پاک فضائیہ کے 4 ایئر آفیسرز کو ایئروائس مارشل کےعہدوں پرترقی دے دی گئی۔

جام کمال کے بیٹے کے پروٹوکول کی تصاویر دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین آگ بگولہ ہوگئے

جام کمال کے بیٹے کے پروٹوکول کی تصاویر دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین آگ بگولہ ہوگئے

پی ایس ایل سکس ۔۔پشاور زلمی کا کراچی کنگز کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ 

پی ایس ایل سکس ۔۔پشاور زلمی کا کراچی کنگز کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ 

حکومت نے شراب کی فروخت سے ایک ارب کے ٹیکس کا ٹارگٹ دے دیا

حکومت نے شراب کی فروخت سے ایک ارب کے ٹیکس کا ٹارگٹ دے دیا

قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی ۔۔۔ غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے والے ارکان کوکل ایوان میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ اسد قیصر 

قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی ۔۔۔ غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے والے ارکان کوکل ایوان میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ اسد قیصر 

آن لائن شاپنگ پر سیلز ٹیکس لگانے کا فیصلہ

آن لائن شاپنگ پر سیلز ٹیکس لگانے کا فیصلہ

بلوچستان کے 5 کھرب سے زائد کا بجٹ 18جون کوپیش کیا جائےگا

بلوچستان کے 5 کھرب سے زائد کا بجٹ 18جون کوپیش کیا جائےگا

 الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے ووٹنگ ہماری ترجیح ہے، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین

 الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے ووٹنگ ہماری ترجیح ہے، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین

 شہباز شریف سے  یوسف رضا گیلانی اور مولانا اسد کی ملاقات ۔۔۔بجٹ کاپیاں اپوزیشن پر پھینکنے اور بدکلامی کے حکومتی رویہ کی شدید مذمت

شہباز شریف سے یوسف رضا گیلانی اور مولانا اسد کی ملاقات ۔۔۔بجٹ کاپیاں اپوزیشن پر پھینکنے اور بدکلامی کے حکومتی رویہ کی شدید مذمت

حکومت نے پٹرول کی قیمت میں اضافہ کر دیا

حکومت نے پٹرول کی قیمت میں اضافہ کر دیا

27میں سے 26نکات پر عملدرآمد مکمل، پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کے امکان روشن

27میں سے 26نکات پر عملدرآمد مکمل، پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کے امکان روشن

جتنا مرضی استعمال کریں ۔۔۔مفت انٹرنیٹ اور فون کالز کے مزے لیں، پاکستانیوں کیلئے شاندار خبر آگئی

جتنا مرضی استعمال کریں ۔۔۔مفت انٹرنیٹ اور فون کالز کے مزے لیں، پاکستانیوں کیلئے شاندار خبر آگئی

پیپلزپارٹی تحریک انصاف کے ساتھ نظر آرہی ہے۔ مولانا فضل الرحمان

پیپلزپارٹی تحریک انصاف کے ساتھ نظر آرہی ہے۔ مولانا فضل الرحمان

چین نے نیٹو اجلاس میں جاری کیے گئے بیان کا جواب دے دیا

چین نے نیٹو اجلاس میں جاری کیے گئے بیان کا جواب دے دیا