01:04 pm
30 دسمبر آل انڈیا مسلم لیگ کا یوم تاسیس

30 دسمبر آل انڈیا مسلم لیگ کا یوم تاسیس

01:04 pm

30 دسمبرآل انڈیا مسلم لیگ کا یوم تاسیس  تھا لیکن مسلم لیگ ن نے اس کو اپنا یوم تاسیس قرار دے کرمنایا۔ مریم نواز شریف نے مسلم لیگ ن کے یوم تاسیس  کے موقع پر خطاب کیا۔ یہ تاریخ کے ساتھ کتنا بڑا مذاق ہے اور قوم کو کتنا بڑا دھوکا دیا جارہا ہے۔ کہاں آل انڈیا مسلم لیگ اور کہاں مسلم لیگ ن، دونوں جماعتوں کی آپس میں نسبت میری سمجھ سے بالاتر ہے۔ مسلم لیگ ن کا یوم تاسیس  اپریل یا مئی1993 ء بنتا ہے جب نواز شریف کی حکومت کو کرپشن چارجز پر صدر غلام اسحاق خان نے برطرف کر دیا تھا اور یوں اسلامی جمہوری اتحاد کے خاتمے کے بعد جونیجو کی مسلم لیگ سے علیحدگی اختیار کرکے نواز شریف اور ان کا ساتھ دینے والوں نے اس وقت کے ڈپٹی سپیکر  نواز کھوکھر کے گھر ایف ایٹ اسلام آباد میں مسلم لیگ نواز کے نا م سے ایک نئی سیاسی جماعت قائم کرلی۔ یوں الیکشن کمیشن آف پاکستان میں بھی مسلم لیگ ن کی رجسٹریشن1993  ء کی درج ہے۔ اپنی رجسٹریشن کے اعتبار سے مسلم لیگ ن کو وہ دن یوم تاسیس کے طور پر منانا چاہیے جس دن  1993 ء کے سال وہ قائم  ہوئی تھی تاکہ عوام الناس کو دھوکا دینے کیلئے30 دسمبر کو آل انڈیا مسلم لیگ کے یوم تاسیس کا سہارا لیا جائے۔ اس وقت الیکشن کمیشن میں13 جماعتیں مسلم لیگ کے نام سے رجسٹرڈ ہیں یہ سب جماعتیں30 دسمبر کو اپنا یوم تاسیس کیسے اور کیونکر قرار دے سکتی ہیں؟ آل انڈیا مسلم لیگ قیام پاکستان کے بعد پاکستان مسلم لیگ بن گئی تھی۔ نام کی مناسبت سے اگر یوم تاسیس منانے کا  کسی کو حق ہے تو وہ چوہدری شجاعت حسین کی جماعت ہے جو ’’پاکستا ن مسلم لیگ‘‘ کے نام سے الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہے۔ باقی سب مسلم لیگوں کے ناموں کے ساتھ ن، زیڈ اور عوامی جیسے سابقے لاحقے لگے ہوئے ہیں۔ ویسے بھی آج کی مسلم لیگ ن کا آل انڈیا مسلم لیگ کے ساتھ کیا تعلق اور کیسی وابستگی؟
حق تو یہ بنتا ہے کہ تمام وہ جماعتیں جو الیکشن کمیشن میں مسلم لیگ کے نام سے رجسٹرڈ ہیں وہ اس دن کو آل انڈیا مسلم لیگ کے یوم تاسیس کے طورپر منانے کا بندوبست کریں اور بجائے اپنے رونے دھونے کے آل انڈیا مسلم لیگ کی جو جدوجہد حضرت قائداعظمؒ، علامہ اقبالؒ اور دیگر مسلم لیگی قیادت کے ویژن اور تحریک پاکستان کے حوالے سے پاکستانی عوام کو آگاہ کریں۔ اس طرح نئی نسل کو اپنے اسلاف کے بارے میں نہ صرف آگہی ہوگی بلکہ انہیں پتہ چلے گا کہ کس طرح مسلمانوں کی جماعت برصغیر میں قائم ہوئی۔ ابتداء میں اس کے مقاصد کیا تھے اوربتدریج اس کے منشور میں کیا تبدیلیاں آئیں اور رفتہ رفتہ آل انڈیا مسلم لیگ کس طرح مسلمانوں کی نمائندہ جماعت بنی اور اس نے قیام پاکستان کی منزل کیسے حاصل کی۔
تاریخ کا ادنیٰ طالبعلم ہونے کے ناطے آل انڈیا مسلم لیگ کی جدوجہد کو میں چار حصوں میں تقسیم کرتا ہوں۔ پہلا مرحلہ اس کے قیام1906 ء سے لے کر1920 ء تک کا ہے۔ اس دور میں مسلم لیگ کی بڑی کامیابی1909 ء کی منٹو مارلے ریفارمز کی صورت میں مسلمانوں کے لئے جداگانہ انتخابات کاحصول تھا۔ بقول مہاتما گاندھی یہ منٹو مارلے ریفارمز ہی تھیں جنہوں نے برصغیر میں علیحدگی کا بیج بویا۔1916 ء کے لکھنئو معاہدے میں کانگرس نے بھی مسلمانوں کے اس حق کو تسلیم کیا اور یہ بحیثیت سیاسی جماعت آل انڈیا مسلم لیگ کی بہت بڑی کامیابی تھی۔
آل انڈیا مسلم لیگ کی جدوجہد کا دوسرا مرحلہ1920 ء سے لے کر1935 ء کا تھا۔ اس  دوران مسلم لیگ دو حصوں میں تقسیم ہوگی۔ 1920  ء کے عشرے کی ابتدا میں خلافت موومنٹ کا عروج تھا چنانچہ مسلم لیگ کی سرگرمیاں بڑی حد تک ماند رہیں۔ نہرو رپورٹ کے جواب میں قائداعظم کے 14نکات اسی عرصے میں پیش ہوئے جنہیں مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک تاریخی دستاویز قرار دیا جاسکتا ہے لیکن عمومی طور پر یہ دور مسلم لیگ کے لئے انتہائی مشکل ترین دور تھا جس میں اس کی عوامی پذیرائی بہت کم تھی۔ مسلم لیگ کے اراکین کی تعداد انتہائی نیچے گرگئی۔ علامہ اقبالؒ کا تاریخی خطبہ الہ آباد1930 ء میں جس مسلم لیگ کے اجلاس میں پیش کیا گیا اس میں کورم پورا ہونے کا مسئلہ درپیش تھاچنانچہ حفیظ جالندھری اپنے شاہنامہ اسلام سے حاضرین کو لبھاتے رہے جبکہ د وسری طرف منتظمین نئے اراکین کی رجسٹریشن میں مصروف تھے تاکہ کورم پورا کیا جاسکے۔ قائداعظمؒ نے مسلم لیگ میں دھڑے بندی اور عام مسلمانوں کی مسلم لیگ سے لاتعلقی سے تنگ آکر  دوسری گول میز کانفرنس کے بعد لندن میں مستقل رہائش رکھنے کا فیصلہ کیا۔
آل انڈیا مسلم لیگ کا تیسرا دور1935 ء سے لے کر1940 ء تک کا ہے۔ اس دور میں قائداعظم واپس تشریف لائے اور آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی لیکن منشور کے لحاظ سے مسلم لیگ اور کانگرس میں کوئی فرق نہ تھا۔1937 ء میں مسلم لیگ اس وجہ سے خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کرسکی۔ مسلم لیگ نے کل مسلمان ووٹوں کا 4 فیصد ووٹ حاصل کیا۔ دریں حالات قائداعظم نے علامہ اقبال کے خطوط کی رہنمائی میں مسلم لیگ کا لائحہ عمل تشکیل دینے کا ارادہ کیا۔1937 ء کا سال اس لحاظ سے بڑا اہم ہے کہ بنگال کے اے کے فضل الحق ، پنجاب کے خضر حیات ٹوانہ اور آسام کے وزیر اعلیٰ نے قائداعظم کی  قیادت کو تسلیم کیا اور مرکز میں آل انڈیا مسلم لیگ کی پالیسی اور برتری کو تسلیم کیا۔ اس دوران برصغیر کے طول و عرض میں قائداعظم نے طوفانی دورے کئے اور عام مسلمانوں تک مسلم لیگ کا پیغام پہنچایا۔
آل انڈیا مسلم لیگ مسلمانان برصغیر کی نمائندہ جماعت1940 ء کی قرارداد پاکستان  کے بعد بنی ۔ یہ آل انڈیا مسلم لیگ کی جدوجہد کاچوتھا  اور انتہائی اہم دو ر تھا۔ ایک الگ وطن کے نصب العین نے مسلم لیگ کو برصغیر کے مسلمانوں کی مقبول ترین جماعت بنا دیا۔ قائداعظم کی قیادت میں آل انڈیا مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے پاکستان کا تصور برصغیر میں بسنے والے ہر مسلمان کے دل کی آواز بن گیا اور برصغیر کے گلی کوچے بٹ کے رہے گا ہندوستان اور لیکر رہیں گے پاکستان کے نعروں سے گونجنے لگا۔ 1945-46 ء کے انتخابات میں 100 فیصد مرکزی نشستیں آل انڈیا مسلم لیگ نے جیت لیں جبکہ مسلمان ووٹوں کا86 فیصد ووٹ آل انڈیا مسلم لیگ کے حصے میں آیا۔ یہ وہ وقت تھا جب انگریز سامراج اور ہندو سامراج کی ہٹ دھرمی اور تاخیری حربوں کے جواب میں قائداعظم نے راست اقدام اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ آل انڈیا مسلم لیگ کی تاریخی جدوجہد کے نتیجے میں14 اگست1947 ء کو ایک نظریاتی ریاست کے طور پر پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ ہم ان قائدین کو دل کی گہرائیوں سے خراج تحسین پیش کرتے ہیں جن کی جدوجہد سے پاکستان معرض وجود میں آیا اور انشاء اللہ تاقیامت اس کا وجود سلامت رہے گا۔


 

تازہ ترین خبریں

پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا

پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا

عید کی تعطیلات،شہرقائد کےباسیوں کوبری خبرسنادی گئی

عید کی تعطیلات،شہرقائد کےباسیوں کوبری خبرسنادی گئی

عید کیسے گزارنی ہے ؟ وزیراعظم عمران خان نے اراکین اسمبلی کو ہدایت کر دی

عید کیسے گزارنی ہے ؟ وزیراعظم عمران خان نے اراکین اسمبلی کو ہدایت کر دی

روزگار کے مواقع، شاہ محمود قریشی نے پاکستانیوں کو بڑی خوشخبری سنادی

روزگار کے مواقع، شاہ محمود قریشی نے پاکستانیوں کو بڑی خوشخبری سنادی

عامرلیاقت حسین نے عید ملنے کا نیا طریقہ  متعارف کروادیا، انٹرنیٹ صارفین برہم

عامرلیاقت حسین نے عید ملنے کا نیا طریقہ متعارف کروادیا، انٹرنیٹ صارفین برہم

حکومت کو کیسے گرائیں۔۔شہباز شریف نے بڑااقدام اٹھالیا

حکومت کو کیسے گرائیں۔۔شہباز شریف نے بڑااقدام اٹھالیا

جاوید ہاشمی پارٹی پالیسی کی ترجمانی نہیں کرتے ، انکا بیان ذاتی رائے ہے، ن لیگ

جاوید ہاشمی پارٹی پالیسی کی ترجمانی نہیں کرتے ، انکا بیان ذاتی رائے ہے، ن لیگ

پنجاب میں گندم کی زبردست پیداوارپرفواد چوہدری خوشی سے نہال ،کسانوںکومبارکباددے ڈا لی

پنجاب میں گندم کی زبردست پیداوارپرفواد چوہدری خوشی سے نہال ،کسانوںکومبارکباددے ڈا لی

عید پر پابندیوں میں سختی۔۔16 مئی تک پا کستان میں کاروبار، دکانیں اور بازار مکمل بند ۔۔ سر براہ این سی او سی

عید پر پابندیوں میں سختی۔۔16 مئی تک پا کستان میں کاروبار، دکانیں اور بازار مکمل بند ۔۔ سر براہ این سی او سی

فلسطین کیساتھ کھڑا ہوں ۔۔۔!!! وزیراعظم عمران خان نے دو ٹوک اعلان کردیا ،شہریوں کیلئے بڑی خبر آگئی

فلسطین کیساتھ کھڑا ہوں ۔۔۔!!! وزیراعظم عمران خان نے دو ٹوک اعلان کردیا ،شہریوں کیلئے بڑی خبر آگئی

 اسٹیٹ بینک کاعیدالفطر پر نئے کرنسی نوٹ جاری نہ کرنےکا فیصلہ

اسٹیٹ بینک کاعیدالفطر پر نئے کرنسی نوٹ جاری نہ کرنےکا فیصلہ

مرغی کے گوشت کی قیمت کو بریک نہ لگ سکی

مرغی کے گوشت کی قیمت کو بریک نہ لگ سکی

میٹھی عید کی خوشیاں پھیکی پڑ گئیں ۔۔۔!!! عید کے دوسرے اور تیسرے روز طوفان کا خدشہ،شہری یہ خبر ضرور پڑھ لیں 

میٹھی عید کی خوشیاں پھیکی پڑ گئیں ۔۔۔!!! عید کے دوسرے اور تیسرے روز طوفان کا خدشہ،شہری یہ خبر ضرور پڑھ لیں 

سعودی عرب کی ویکسین سے متعلق نئی شر ط پاکستانی مسافروں کیلئے مصیبت بن گئی،خبر پڑھ کر آپ بھی ششدر رہ جائینگے

سعودی عرب کی ویکسین سے متعلق نئی شر ط پاکستانی مسافروں کیلئے مصیبت بن گئی،خبر پڑھ کر آپ بھی ششدر رہ جائینگے