01:07 pm
قصہ نوازشریف کے پاسپورٹ کی منسوخی کا

قصہ نوازشریف کے پاسپورٹ کی منسوخی کا

01:07 pm

٭بدبخت 2020ء ختم، 2021ء شروع! حسب معمول اچھی توقعات!O نئے سال کے آغاز پر بھی وہی پرانی دل آزار خبریں، سیاسی فضولیات، ایک دوسرے کو دھمکیاں، وارنٹ گرفتاری، مار دھاڑ!!O مقبوضہ کشمیر مزید تین کشمیری شہید، 2020ء میں شہدا کی تعداد O...474کنٹرول لائن، ایک اور پاکستانی فوجی فضل الٰہی شہید O یوٹیلٹی سٹورز پر ناقص گھی کی فروخت O روئت ہلال کمیٹی، مفتی منیب الرحمان کی 20 سالہ سربراہی ختم O نوازشریف، 16 فروری کو پاسپورٹ ختم! واپسی کا کوئی امکان نہیں… خواجہ آصف مالی بدعنوانیوںکے متعدد الزامات! O بجلی ایک روپیہ 6 پیسے مزید مہنگی، ملک بھر میں گیس کا شدید بحران O پورے ملک میں شدید دُھند، بھارت: کسانوںکے محاصرے اور مظاہرے جاری۔
٭محترم قارئین کرام! آج کالم کچھ مختلف ہو گا۔ کالم 31 دسمبر کی دوپہر کو لکھ رہا ہوں۔ باہر شدید دھند ہے سخت سردی ہے، اخبار لینے کیلئے باہر نکلا ہوں اور سخت زکام کے ساتھ واپس آ گیا ہوں۔ اسی حالت میں کالم لکھ رہا ہوں۔ روزانہ کالم لکھنا آسان بات نہیں۔ عام مضمون تو پندرہ بیس منٹوں میں لکھ دیتا ہوں مگر کالم تقریباً تین گھنٹے لے لیتا ہے۔ پہلے سارے اخبارات تفصیل کے ساتھ پڑھو، اہم نکات نوٹ کرو، تمام ٹیلی ویژنوں کی خبریں دیکھو (اکثر بے تکی، غلط الفاظ، مبالغہ، یک طرفہ!) موبائل فون پر بھارت، امریکہ، اسرائیل، عرب ممالک کے اخبارات پر نظریات پھر کالم لکھو، اسے فوری طور پر دفتر بھیجو۔ کالم کی طوالت زیادہ ہو جائے تو اسلام آباد کے ہیڈ آفس کی دُم کاٹنے والی قینچی!! بہر حال اس عالم میں کالم لکھ رہا ہوں کہ آج (31 دسمبر) کو سو کر صبح اٹھوں گا تو نئے سال کا پہلا دن دہلیز پر کھڑا ہو گا۔ میں 2020ء کی روح فرسا، بدبخت اذیت ناکیوں پرکچھ نہیںلکھوں گا۔ صرف دعا کہ رب کریم، نئے سال میں کوئی توآسانی، آسودگی!! اب 31 دسمبر بلکہ 2020ء کی آخری رات اور مَیں!! شاعر لوگ کیا کیا بڑی باتیں کہہ گئے! پنجابی میں صوفی شاعر حضرت محمد بخشؒ اور احمد راہی مرحوم کی بڑی باتیں! احمد راہی نے کہا کہ ’’اَج دِی رات اِخیر وے رانجھن، کل قِصہ ہو جائو ہِیر!‘‘ آسان بات ہے، ترجمہ کی ضرورت نہیں۔ حضرت صوفی محمد بخشؒ کیا بات کہہ گئے کہ ’’آج دی رات سہاگ والی! کل رب جانے کیہ رنگ ہوسی؟ کوئی گل دَسّو، جیہڑی یاد رکھاں، جدوں تُہاڈے باہجوں دل تنگ ہوسی!‘‘ اور…اور! جب رُخصت ہوتی ہوئی بیٹی ماں سے صرف ایک اور رات رکھ لینے کی دلگداز اپیل کرتی ہے کہ ’’اَج رکھ لے میری ڈولی نی ماں، نہ میں روئی تے نہ مَیں بولی نی ماں! روواں باپ دی بَن کے گولی (لاڈلی) نِی ماں! اَج رکھ لے میری ڈولی نی ماں!
٭بات دور نکل گئی۔ آنکھوں میں نمی تیر رہی ہے، الفاظ دھندلے ہو رہے ہیں۔ سخت زکام سے سر چکرا رہا ہے مگر مجھے لِکھنا ہے، جَلد جَلد لِکھنا ہے، نئے سال کے بارے میںاپنی ایک چار سال پرانی نظم یاد آ گئی ہے۔ وہی حالات اب بھی ہیں، کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا۔ وہ نظم دہرا رہا ہوں، اس میں بہت کچھ شامل ہے۔
نیا سال
آس نگر میں رہنے والے سادہ سچے لوگو
نیند کا موسم بیت گیا ہے اپنی آنکھیں کھولو
کل کیا کھویا کل کیا پایا آئو حساب لگائیں
آنے والا کل کیا ہو گا آئو نصاب بنائیں
جانے والے کل میں ہم نے دکھ کے صحرا دیکھے
آش، نراش میں گھلتی دیکھی غم کے دریا دیکھے
سوکھے جسموں والے دیکھے بھوکے ننگے سائے
لمحہ لمحہ رینگ رہے تھے سب کشکول اٹھائے
جانے والے کل میں ہم نے دستاروں کو بیچا
اونچے ایوانوں میں ہم نے سیپاروں کو بیچا
جانے والے کل میں ہم نے دکھ کی فصل کو کاٹا
بستی بستی بھوک افلاس کی اڑتی خاک کو چاٹا
خالی ہاتھ اور ویراں آنکھیں پائوں زنجیر پڑی
چاروں جانب زہر سمندر سر پہ دھوپ کڑی
دھرتی پر بارود اگایا امن کے گانے گائے
اک دُوجے کے خون سے ہم نے کیسے جشن منائے!
آنے والا کل کیا ہو گا آئو کچھ کھوج لگائیں
دیواروں پہ زائچے کھینچیں نامعلوم کو پائیں
آنے والے کل میں شائد خوابوں کی تعبیر ملے
بھوکی خلقت رزق کو دیکھے انساں کو توقیر ملے
بچوں کی تعلیم کے نام پہ ماں نہ زیور بیچے
اس دھرتی پر اب نہ کوئی زہر سمندر سینچے
آس نگر میں رہنے والے سادہ اچھے لوگو
ممکن ہو تو کل کا سوچو اپنی آنکھیں کھولو
سرفراز سیّد(نشر مکرر)
٭اور اب پھر وہی سیاسی اور غیر سیاسی باتیں! ایک خبر کہ نوزائیدہ وزیرداخلہ شیخ رشید کا چھت پر کھڑے ہوکر اعلان کہ 16 فروری کو نوازشریف کاپاسپورٹ منسوخ کر دوں گا! بندہ خدا! یہ پاسپورٹ پانچ سال کی مدت ختم ہونے پر خود ہی کالعدم ہو جائے گا، اس پر بڑھک کیسی؟ مگر بڑھکیں مارنا بعض لوگوںکی مجبوری ہوتی ہے۔ ذہن پر ہر وقت خمار چھایا رہتا ہے کہ ’’میں رُستم زماں ہوں…مجھ سے بھاگا! (خالی جگہ کا لفظ رانا ثناء اللہ سے پوچھا جا سکتا ہے) اب معاملہ یہ ہے کہ پاسپورٹ ختم ہونے پرکوئی شخص ملک سے باہر نہیں جا سکتا، باہر کسی جگہ ہو تو صرف اپنے ملک میں واپس آ سکتا ہے، کسی دوسرے ملک میں نہیں جا سکتا۔ نوازشریف کے برطانیہ میں قیام کے لئے ویزے میں چھ ماہ کی توسیع ہو چکی ہے، میڈیکل گرائونڈ پرمزید توسیع ہو سکتی ہے۔ واپسی پر جان کے خطرہ کی بنیاد پر سیاسی پناہ مل سکتی ہے بشرطیکہ کسی فوجداری کیس میں مفرور یا سزا یافتہ نہ ہو! سو سیاسی پناہ مشکل ہے، اب مسئلہ یہ ہے کہ آصف زرداری پچھلے سارے انتقام لینے کے لئے چالاک چالیںچل رہے ہیں کہ نوازشریف کو واپس آ کر اپوزیشن کے لانگ مارچ (بقول شیخ رشید، ’لونگ گواچا‘ مارچ) کی قیادت کرنی چاہئے۔ آصف زرداری جانتے ہیںکہ نوازشریف کو عدالت مفرور اور اشتہاری قرار دے کر عبوری ضمانت منسوخ کر چکی ہے، اس صورت میں ہوائی اڈے پر پائوں رکھتے ہی گرفتار اور پھر جیل بھیج دیا جائے گا۔ آصف زرداری کبھی ماضی کو نہیں بُھولتے، ان کی یادداشتوں میں یہ بات سرفہرست ہے کہ نوازشریف نے بطور وزیراعظم انہیں جیل میںڈالا تھا! موصوف کی طبیعت میں مزاح بھی بہت ہے۔ کراچی کی لانڈھی جیل میں بند تھے، جنرل مشرف کے ہاتھوں نوازشریف بھی قید ہو کر اسی جیل میںپہنچے تو آصف زرداری نے خوش دلانہ خیر مقدم کرتے ہوئے پَھل اور کھانا بھجوایا۔!!
٭ایک خبر: مفتی منیب الرحمان کو روئت ہلال کمیٹی کے چیئرمین کے عہدہ سے فارغ کر دیا گیا۔ اس عہدہ کی مدت دو سال ہے۔ مگر وہ حیرت انگیز طور پر 20 سال سے زیادہ عرصے سے جنرل مشرف، آصف زرداری، نوازشریف، عمران خاں، ہر حکمران کے دور میں، وفاقی وزیر کے برابر سہولتوںکے ساتھ اس عہدہ پر قائم رہے۔ اس طویل مدت کی سربراہی کے دوران ان کے وزارت سائنس اور پشاور کے عالم دین مولانا پوپلزئی کے درمیان روئت ہلال پر جھگڑے ہونے لگے۔ مولانا منیب الرحمان صحافیوں پر بھی برسنے لگے۔  خاص طور پر مختلف علما اور سائنسی امور کے وزیر فواد چودھری کے ساتھ واضح اختلافات پیدا ہونے لگے۔ جو وزیرسائنس کا موقف تھا کہ جدید ترین سائنسی راڈار اور دوسرے آلات کے ذریعے چاند کی ایک ایک سیکنڈ کی نقل و حرکت سامنے آجاتی ہے۔ محکمہ موسمیات کی ایک ایک ماہ کی ایک ایک گھنٹے کی موسمی پیش گوئیاں بالکل درست ثابت ہو رہی ہیں۔ ایسے میں روئت ہلال کمیٹی کی ضرورت نہیں رہی۔ وزارت سائنس ملک بھر میں ایسی رسد گاہیں قائم کر رہی ہے جن میں عام عوام خود جا کر چاند کا مشاہدہ کر سکتے ہیںاس طرح آئندہ روئت ہلال کا فیصلہ کوئی کمیٹی نہیں، خود عوام کریں گے! فی الحال بادشاہی مسجد لاہور کے خطیب مولانا عبدالخبیر آزاد نئے چیئرمین مقرر کئے گئے ہیں۔
 

تازہ ترین خبریں