01:36 pm
وزیراعظم کا دورہ ٔچکوال

وزیراعظم کا دورہ ٔچکوال

01:36 pm

کسی بھی وزیراعظم نے کسی بھی علاقے کا دورہ کرنا ہو تو اس علاقے کے لوگ بہت خوش ہوتے ہیں کہ وزیراعظم خالی ہاتھ نہیں آ رہے ہوں گے۔اس علاقے کی ترقی،بڑے بڑے منصوبوں کا اعلان کریں گے۔ان اعلانات میں سے زیادہ تر اعلانات ہی تک محدود رہ جاتے ہیں۔اس لئے کبھی مایوسی بھی بڑی ہوتی ہے۔ منصوبوں کے اعلانات سے پہلے عمران خان کے دورے کی بات کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔میری عمر کے لوگوں نے بہت سے حکمرانوں کے جلسے دیکھے۔ان میں فوجی ڈکٹیٹروں کے دور کے جلسے بھی دیکھے۔سویلین حکومتوں میں بھٹو اور قومی اتحاد جلسے اور الزامات سنے بھی اور دیکھے بھی۔ ضیاء الحق سخت نظم و ضبط کے پابند تھے۔
مذہب،سیاست،لبرل ازم اور اسلام کوساتھ ساتھ چلاتے رہے لیکن اس کے باوجود سربراہ مملکت کی حیثیت ان کے اندر کا جرنیل کبھی بھی ختم نہیں کر سکی۔ جہاں اسلام کو استعمال کرنا ہوتا کھل کر کرتے اور سارے ملک کے مولویوں اورکبھی کبھی مذہبی جماعتوں کے سربراہوں کو بھی بلا لیتے۔ چکوال کا دن 1985ء کا یادگار تھا جس وقت اپنے ریفرنڈم کی مہم چلا رہے تھے اور چکوال کے ساتھ ان دنوں میں اور بھی چند تحصیلوں کو ضلع کا درجہ دے چکے تھے لیکن ان کے کسی بھی جلسے میں نظم وضبط اس طرح کا نہیں ہوتا۔ اس کے بعد پرویز مشرف کے فوجی اور سیاسی دونوں دور آپ کو یاد ہونگےبلکہ وہ چکوال بھی تشریف لائے اور چکوال ریلوے لائن کا تحفہ دینے کا بھی اعلان فرما گئے پھر ایک دفعہ پرویز الٰہی صاحب وزیراعلیٰ پنجاب تھے کالج کے گرائونڈ میں آئے اس وقت پرویز مشرف کا دور اپنے پورے عروج پر تھا۔ تمام بڑے رہنما سٹیج پر تشریف فرما تھے۔ چکوال کے علاوہ دوسرے اضلاع بلکہ دوسرے صوبوں کے سیاسی رہنما بھی تشریف لائے۔کم و بیش بیس پچیس ہزار کا مجمع تھا۔اس دن نظامت کے فرائض بھی میرے ذمہ تھے لیکن ڈسپلن نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔60سے زیادہ لوگ سٹیج پر بیٹھے تھے لیکن اس دفعہ کا سیاسی جلسہ میں نے اپنی زندگی میں پہلی دفعہ دیکھا۔ ایک ضرب المثل مشہور ہے کہ وہاں تو چڑیا پر نہیں مار سکتی۔ اس دفعہ حقیقت میں پہلا سویلین یا سیاسی جلسہ دیکھا جس میں واقعی چڑیا پر نہیں مار سکتی تھی۔ ہال میں بیٹھے حاضرین کے نہ صرف حلق، زبان اور ہونٹ خشک تھے بلکہ سب کی بولتی بھی بند تھی۔کسی کی جرأت نہیں تھی حاضرین میں اٹھ کر کوئی کسی قسم کا مطالبہ کر سکے۔ کوئی ضلعی انتظامیہ یا بیورو کریسی کے خلاف شکوہ کر سکے۔کوئی ممبران اسمبلی کا شکوہ کرے، اور تو اور کسی کی یہ بھی جرأت نہیں تھی کہ وہ حاضرین یا مقررین میں عمران خان کا نعرہ ہی لگا سکے۔ پہلا سیاسی جلسہ تھا جس میں سیاسی وزیراعظم سٹیج پر تشریف فرما ہو اور ممبران اسمبلی کو بولنے کے لئے صرف تین تین منٹ دئیے گئے ہوں اور پھر انہوں نے اس ٹائم کی پابندی بھی کر کے دکھائی ہو۔ بہرحال کھینچ تان کر ایک ایک منٹ اوپر لگا ہی لیا۔جن ممبران اسمبلی کو سٹیج پر نہیں بلایاگیا یا ان سے تقریر نہیں کروائی گئی وہ کوئی گلہ شکوہ بھی نہیں کر سکے،اور تو اور ضلع چکوال حکومتی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کے صدر بھی حاضرین میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک کہاوت ہے کہ ڈاہڈے لوگ مارتے بھی ہیں رونے بھی نہیں دیتے۔ اس دفعہ بالکل ایسا ہی جلسہ تھا کہ پورے جلسے میں نہ میں نے کسی کو خوشی سے ہنستے مسکراتے دیکھا اور نہ ہی کسی کو آنسو بہاتے دیکھا، بالکل ایسا ہی کہ ہر شخص ہر حکم کو ماننے کے لئے ذہنی طور پر تیارتھا لیکن اس کی دوسری طرف دیکھا جائے تو پروگرام بہت خوبصورت تھے۔بہت خوبصورت فرنیچر،صوفے سیٹ پھر ساتھ خوشبودار خوبصورت پھولوں کا تو جواب نہیں تھا۔ اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو اہلیان چکوال نے مہمان نوازی کی انتہا کر دی۔ کورونا کے نظم و ضبط یا ایس او پیز کو سو فیصد مدنظر رکھتے ہوئے پوری پابندی کی پھر چونکہ تعلیم کے دو بڑے اداروں کی افتتاحی تقریب تھی۔ انہوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کو یہ بتا دیا کہ چکوال میں علم و ادب کی کس طرح تعظیم و تکریم ہے۔ ہم واقعی ملک پر جان قربان کرنے والے (مارشل ایریا) سے تعلق رکھتے ہیں اور جو ہمیں تعلیمی اداروں کا تحفہ دینے آئے ہم اسے سرآنکھوں پر بٹھاتے ہیں۔ اہلیان چکوال نے وزیراعظم کا جس نظم و ضبط اور سلیقے سے استقبال کیا اور پھر جس پابندی کے ساتھ محبت کا اظہار کیا اس ایک بات کا تو اس طرح یقین ہو گیا کہ جیسے پتھر پر لکیر ہوتی ہے کہ جب تک چکوال کے لوگ عمران خان کے ساتھ ہیں اور اسی منظم طریقے سے وزیراعظم کے پیچھے کھڑے ہیں ایک پی ڈی ایم کیا دس پی ڈی ایم بھی عمران خان کو عہدے سے نہیں ہٹا سکتیں۔ نہ عمران خان استعفیٰ دے گا نہ این آر او۔ ہاں ایک بات کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ تمام اعلانات کے ساتھ چکوال مندرہ ریلوے ٹریک کا کوئی بھی سیاست دان مطالبہ نہ کر سکا۔جس کی مجھے قوی امید تھی۔ میں نے ان سیاست دانوں کی مجبوریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں شکوہ بھی نہیں کیا لیکن پھر میرے چکوال کے معروف گائوں لطیفال کی ایک غیرسیاسی اور معتبر شخصیت سے اس مسئلے پر بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ بھائی جان ریلوے لائن والے مسئلے پر کام بہت تیزی سے جاری ہے۔ انشاء اللہ آپ کو بہت جلد خوشخبری ملے گی۔ میں نے ان کی بات پر اس لئے یقین کر لیا کیونکہ اس سے انہوں نے پہلے کوئی ایسی بات منہ سے نکالی نہیں جو نہ ہونے والی ہو۔ وہ جو کہتے تھے یا بتاتے تھے وہ کام 100فیصد ہو گئے ہیں یا ہو جاتے ہیں۔ خدا کرے میرے اس چھوٹے بھائی کی ریلوے لائن بحالی والی بات بھی سو فیصد سچ ثابت ہو اور غریب اس ٹرین پر سفر کر سکیں۔

تازہ ترین خبریں