01:36 pm
جمہوریت بہترین انتقام،زرداری کا وار

جمہوریت بہترین انتقام،زرداری کا وار

01:36 pm

کہا جاتا ہے کہ کسی زمانے میں ایک علاقے کا سردار بہت منتقم مزاج، مغرور اور ظالم تھا وہ اپنے مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتا تھا ۔ اس سردار کی راج دہانی میں ایک سفید پوش شخص بھی رہتا تھا ۔حسب الحکم سردار، عام لوگ سردار کی سواری گزرتے وقت رستہ چھوڑ کر سردار کو سر جھکا کر آداب بجا لاتے اور سواری گزرنے تک احترام میں نہیں بلکہ خوف سے سر جھکائے کھڑے رہتے تھے۔ ایک دن ظالم سردار کی سواری آبادی سے گزر رہی تھی کہ شومئی قسمت سفید پوش شخص بھی اسی رستے پر آ نکلا جس نے ظالم سردار کو آداب بجا لانے کے لیئے سر نہ جھکایا بلکہ اپنی دھن میں رستہ چلتا رہا۔
سردار کا سفید پوش کے اس طرز عمل سے خون کھولنے لگا،محل  پہنچ کر اس نےگستاخ کواپنے حضور پیش کرنے کا حکم جاری کیا۔ سفید پوش شخص گھسیٹتے ہوئے دربارلایا گیا۔سردار نے آئو  دیکھا نہ تائو اور ایک پتھر اٹھا کر سفید پوش کے سر میں دے مارا۔وہ چکرا کر زمین پر گرااور سر سے خون جاری ہو گیا۔ سردار کے حواری اور گماشتے اس منظر کو دیکھ کر فاتحانہ انداز میں تالیاں پیٹنے لگے۔ سفیدپوش شخص نے وہ پتھر اٹھایااوررسوائی کا داغ لیئےگھر کی جانب چل پڑا۔وہ پتھر اس نے صندوق میں محفوظ کرلیا۔ وقت گزرتا گیا ۔سردار کے مظالم بڑھتے گئےچنانچہ قدرت نے اپنا کرشمہ دکھایا اور سردار سے سرداری چھن گئی۔اس کے ایک طاقتور حریف نےاس کی مسند اقتدار پر قبضہ جما لیا۔سابق سردار کو بیڑیاں پہنا کر نئے سردار کے اسی دربار میں پیش کیا گیا جہاں ظالم سردار برس ہا برس متمکن رہا تھا۔ نقیبوں کے ذریعے علاقے میں سرداری کی تبدیلی کے اعلانات کروا دئیے گئے۔ لوگوں نے ظالم شخص کی سرداری ختم ہونے پر سکھ کا سانس لیا اور نئے سردار کی آمد اور اس خوشگوار تبدیلی کو دل و جان سے قبول کیا۔ اگلی صبح نئے سردار نے عوام الناس کو دربار میں مدعو کیا۔ لوگ تحفے تحائف لیکر وہاں پہنچے جبکہ سفید پوش شخص بھی نئے سردار کے دربار میں پہنچ گیا۔ نئے سردار نے حکم دیا کہ معزول کیئے گئے ظالم سردار کو پابجولاں اس کے سامنے پیش کیا جائے چنانچہ دربار کی نئی انتظامیہ نے ظالم سردار کو ہتھکڑیاں، بیڑیاں لگا کر نئے سردار اور عوام الناس کے سامنے لا کھڑا کیا۔ نئے سردار نے اعلان کروایا کہ ظالم سردار کے خلاف جس کسی کا دعویٰ یا مدعا ہو وہ نئے سردار کے سامنے پیش کرے چنانچہ سب سے پہلے سفید پوش شخص آگے بڑھا اور اپنی جیب سے کئی سال پہلے ظالم سردار کی طرف سے اس کے سر پر مارا جانے والا پتھر نکالا اور ظالم سردار کی پٹپٹی پر دے مارا۔ہجوم میں کھلبلی مچ گئی۔ لوگ سفید پوش کو حیرانی سے دیکھنے لگے۔ نئے سردار نے سفید پوش سے اس کے اس اقدام کی وجہ پوچھی جوسفید پوش شخص نے نئے سردار کو اپنی آپ بیتی سناتے ہوئے بتایا کہ کئی سال پہلے یہی دربار تھا، یہی شخص سرداری کی کرسی پر براجمان تھا اور میں بطور ملزم اس کے سامنے کھڑا تھا ۔اس ظالم سردار نے مجھ بے قصور کو کمزور، نہتہ اور ناتواں جانتے ہوئے میری ذرا سی غلطی پر اسی طرح کے ہجوم کے سامنے یہی پتھر میرے سر پر دے مارا تھا۔اس وقت میری بہت بے عزتی ہوئی ۔میں لہو لہان ہوا، مگر اس امید کے ساتھ کہ ایک دن مجھے بھی مالک اپنا بدلہ لینے کا موقع دے گا میں نے وہ پتھر سنبھال لیا تھا اور آج انتہائی مناسب موقع پا کر اپنے زخموں کا بدلہ لے لیا۔
قارئین محترم!آج سے چند سال پہلے آصف علی زرداری کو مسٹر ٹین پرسنٹ کا نام دیا گیا۔ جیل میں اس کی زبان ہمیشہ کے لیئے بند کرنے کی کوشش کی گئی اور زبان کاٹی گئی ۔اس کو سزائے موت دلوانے کے لیئے منشیات کے مقدمات میں ملوث کرتے ہوئے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں اس کا ٹرائل کیا گیا۔آصف زرداری کے گلے میں پھانسی کا پھندہ فٹ کر نے کے لیئے میمو گیٹ سکینڈل بنایا گیا اور سزا یافتہ سابق وزیراعظم نوازشریف اور خواجہ آصف اس وقت کے اپنے پسندیدہ چیف جسٹس کی عدالت میں کالے کوٹ پہن کر آصف زرداری کے خلاف آرٹیکل 6 کا مقدمہ بنوانے کے لیے مدعی بن کر کھڑے ہوئے اور دیگر کئی الزامات میں سال ہا سال اسے جیل میں رکھا۔ آصف زرداری کو جیل میں رکھنے کے لیئے 100 سال پرانا ضابطہ فوجداری کا ضمانت کا قانون (Statutory Ground) بدل ڈالا گیا۔ اپنے چہیتے اور لفافی لکھاریوں کے ذریعے بے نظیر بھٹو کی شہادت بھی آصف علی زرداری کے کھاتے میں ڈالنے کی پوری کوشش کی گئی ۔آصف زرداری نے ہمیشہ" جمہوریت بہترین انتقام ہے" کہہ کر حالات سے سمجھوتہ کیا اور اپنا تاثر قائم کرنے کی کوشش کی کہ وہ درگزر کرنے والا آدمی ہے مگر آصف زرداری کو قریب سے جاننے والے یہ جانتے تھے کہ وہ بلوچ ہونے کے ناطے اونٹ والی دشمنی کی صفت رکھتا ہے چنانچہ     آصف زرداری نے اپنے اوپر ہونے والی زیادتیوں کا بدلہ چکانے کے لیے مناسب وقت کا انتظار کیا ۔ قدرت کی طرف سے ایسا وقت آن پہنچا کہ نواز شریف سزا یافتہ ہو کر بیماری کے بہانے انگلستان جا بیٹھا اور کھل کھلا کر ملکی ، آئینی اداروں اور پارلیمنٹ پر الزامات کی گولہ باری شروع کر دی اور یہ ذمہ داری پاکستان کے اندر شہباز شریف کے انکار کے بعد بیٹی مریم صفدر کے سپرد کر دی چنانچہ PDM کی تشکیل ہوئی اور نئے اتحاد کی بناء پر ملک بھر میں جلسے کیئے گئے ان جلسوں میں نوازشریف اور مریم صفدر نے ملکی اداروں کو نشانے پر رکھا۔PPP نے بلاول کی قیادت میں مریم صفدر کو حوصلہ دے کر حکومت اور آئینی اداروں کے ساتھ لڑائی کوناقابل واپسی رستے پر پہنچا دیا اور کمال مہارت سے اختلافات کی سیڑھی کے آخری پائے پر پہنچانے کے بعد نواز شریف کی سیاست کی سیڑھی اس کے نیچے سے کھینچ لی۔ آصف زرداری نے بلاول کے ذریعے پریس کانفرنس کروائی اور ضمنی انتخابات اور سینٹ الیکشن میں جانے کا اعلان کروایا اور کھل کھلا کر PDM کے بیانیے کے خلاف اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی اسمبلیوں میں موجود رہ کر حکومت کا مقابلہ کرے گی چنانچہ PPPکے اس بگ یو ٹرن کی وجہ سے  PDM کا بیانیہ، احتجاج کا پروگرام، استعفے ، لانگ مارچ وغیرہ وغیرہ اپنی موت آپ مر گیا۔ آصف زرداری نے بدلہ لینے کے لیئے نوازشریف اور اس کی بیٹی کو بیچ چوراہے نہتہ اور بے توقیر کر دیااور یوں اس سفید پوش شخص کی طرح کئی سال پہلے اپنے ساتھ ہونے والے زیادتیوں والا پتھر آصف زرداری نے بھی اپنی جیب سے نکال کر نواز شریف اور اس کی سیاست کی پٹپٹی پر دے مارا اور یوں جمہوریت بہترین انتقام "کے مصداق مناسب ترین وقت پر نوازشریف سے انتقام لے لیا ۔ آصف زرداری کے اس بگ یو ٹرن کے بعد PDM کی بقیہ دس جماعتوں کے سربراہان کی باڈی لینگوئج یہ بتا رہی ہے کہ PDM کی کاٹھ کی ہنڈیا مزید تپش برداشت نہ کر پائے گی اور جلد چوراہے کے بیچ میں پھوٹے گی۔  

تازہ ترین خبریں