01:37 pm
ہندولالے کوجان کے لالے

ہندولالے کوجان کے لالے

01:37 pm

2016ء میں جس وقت ڈونالڈٹرمپ ریپبلکن پارٹی کی طرف سے صدارتی نامزدگی کیلئے جدوجہد کررہے تھے،بھارتی اپوزیشن کانگریس کی صدر سونیا گاندھی علاج کے سلسلے میں امریکا میں تھیں۔ واپسی پرجب وہ پارلیمان کے اجلاس میں شرکت کرنے کیلئے آئیں،تووقفہ کے دوران مرکزی ہال میں کئی صحافی اورسیاستدان ان کی خبروخیریت دریافت کرنے کیلئے ان کے اردگرد جمع تھے۔مختلف موضوعات کے علاوہ امریکی سیاست بھی زیربحث تھی۔چونکہ وہ امریکاسے تازہ وارد ہوئی تھیں، اکثرافرادان سے متوقع امیدواروں اوران کی کامیابی کے امکانات کے بارے میں استفسارکر رہے تھے۔اس دوران انہوں نے کہا کہ بزنس مین  ڈونلڈ ٹرمپ کے نہ صرف ریپبلکن پارٹی کی نمائندگی حاصل کرنے کے قوی امکانات ہیں بلکہ وہ امریکاکے آئندہ صدربھی ہوسکتے ہیں۔محفل میں بس ایک قہقہہ بلندہوا۔کسی نے لقمہ دیاکہ ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کی صورت میں نظریات اورکام کرنے کے طریقہ کے پیش نظراس کی وزیراعظم مودی کے ساتھ اچھی جوڑی جمے گی۔واقعی اگلے چارسال کے عرصے میں ہیوسٹن میں’’ہاوڈی مودی‘‘اورپھراس سال فروری میں احمدآبادمیں ’’نمستے ٹرمپ‘‘جیسی پبلک تقریبات کاانعقاد کرکے،دونوں نے یہ ثابت کردیاکہ وہ سفارتی آداب وتعلقات کوکسی بھی حدتک ذاتی تشہیرکیلئے استعمال کرسکتے ہیں۔
ستمبر2018 ء میں جب دہلی میں بھارت اور امریکاکے وزرائے خارجہ ودفاع کے اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس ہورہی تھی،تومیرے سمیت کئی صحافی امریکی وزیردفاع جم میٹس کی توجہ مبذول کرکے سوال کرنے کی کوشش کررہے تھے کہ اسی دوران پیچھے سے ان کے وفد میں شامل ایک امریکی صحافی نے میرے کندھے پرہاتھ رکھ کرکہاکہ سوال پوچھنے کاکوئی فائدہ نہیں ہے،میٹس اس عہدہ پربس چنددن کے مہمان ہیں۔شاید اسی شام جب امریکی وفدابھی دہلی کے ائیرپورٹ پرجہازمیں سوارہورہاتھاکہ ٹرمپ نے شام سے امریکی فوجوں کے انخلاکی مخالفت کرنے پرجم میٹس کے خلاف ٹویٹ داغااورچنددن بعدان سے استعفیٰ لے لیا۔اپنے چارسالہ دورحکومت میں میٹس، وزیرخارجہ ریکس ٹیلرسن،تین قومی سلامتی مشیروں مائیکل فلئن،ایچ آرمیک ماسٹراورجان بولٹن کے علاوہ ٹرمپ نے503افسران کومعطل کرکے یاان کودیگرکم رتبہ والے عہدوں پر ٹرانسفرکرکے بتادیاکہ وہ ہی حرف آخرہیں۔
وائٹ ہائوس کے اپنے پہلے چیف آف اسٹاف رینی پریبس کوتوانہوں نے چند ماہ میں ہی فارغ کردیا۔دفتری روایت وقواعدوضوابط کے مطابق چیف آف اسٹاف کے ذریعے ہی امریکی صدرسے ملاقات اوراوول آفس تک رسائی حاصل ہوسکتی ہے۔وائٹ ہائوس کی انتظامیہ کاسربراہ ہونے کے ناطے وہ صدارتی مصروفیات کانہ صرف نگران ہوتاہے بلکہ ملاقاتوں کیلئے اورفائلیں صدرکوپیش کرنے سے قبل ان کوپڑھ کربریف بھی  تیار رکھتاہے۔ایک بارجب ہوم لینڈسیکرٹری ٹام بوسرٹ بغیرکسی اپوائنٹمنٹ کے اوول آفس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کررہے تھے، تو پریبس نے کمرے میں داخل ہوکر،بوسرٹ کو خوب برا بھلاکہااوران کوقواعد و ضوابط یاد دلائے۔ شاید ان کوٹرمپ کے کام کرنے کے غیر روایتی طریقہ کااندازہ نہیں تھا،یاوہ نئے صدر کودفتری ضوابط  میں ڈھالنا چاہتے تھے۔اگلے ہی  دن اس پاداش میں ان کوبرخاست کردیاگیا۔
جون2019ء کوجب امریکی فضائیہ کے طیارے ایران کے تین ٹھکانوں پربمباری کیلئے قطر،افغانستان اورخلیج فارس کے فوجی اڈوں سے پروازکرنے والے تھےاوروائٹ ہائوس کے آپریشن روم میں اسکرین کے سامنے ٹرمپ اپنے معاونین کے ساتھ بیٹھ گئے تھےکہ انہوں نے سی آئی اے کے سربراہ جان برنان سے پوچھاکہ اس حملے میں کتنے افرادکی ہلاکت کااندیشہ ہے؟جب اس نے کہاکہ تقریبا150سے200کے قریب افراد ہلاک  ہوسکتے ہیں،توآپریشن سے دس منٹ پہلے ٹرمپ نے اس آپریشن کورد کرنے اور صرف ایرانی کمانڈودستے کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کا ہی تعاقب کرنے اورہلاک کرنے کا حکم دیا۔کئی جہازتو فضامیں بلندہوچکے تھےکہ ان کو اپنے مستقرواپس آنے کیلئے کہا گیا۔ ٹرمپ کے دور حکومت کی خاص بات یہ تھی کہ پوری طاقت وائٹ ہائوس میں ہی مرکوزہوگئی تھی۔کسی بھی امریکی افسرمیں یہ طاقت نہیں رہ گئی تھی کہ وہ اپنے بل بوتے پرکوئی فیصلہ کر سکے۔اس دوران تواسٹیٹ ڈپارٹمنٹ،سی آئی اے،پینٹاگون ودیگر ادارے ایک طرح سے عضومعطل بن کررہ گئے تھے۔
 دنیاکے حکمران بھی جان گئے تھے کہ اپنے ملکوں میں امریکی سفیروں کی نازبرداری کرنے کے بجائے بس صدرٹرمپ کے داماد جیرڈ کوشنر کو شیشے میں اتارکرٹرمپ تک براہ راست رسائی حاصل کرکے ہی کام نکالے جاسکتے ہیں۔کسی حدتک ٹرمپ کا یہ کہناصحیح ہے کہ ان کے خلاف امریکی میڈیاسمیت کئی طاقتوں نے مجتمع ہوکرمہم چلائی اوران کی ناکامی میں کردار اداکیا۔ان کاواضح اشارہ امریکی اسٹیبلشمنٹ کی طرف ہے، جوان کے دورمیں مفلوج ہوکررہ گئی تھی۔ان کاکوئی پرسان حال نہیں تھا مگراس قدرسخت مخالفت کے باوجودٹرمپ نے 70ملین ووٹ لے کر یہ ثابت کردیاکہ امریکی سوسائٹی کس قدربٹ چکی ہے اوران ورکنگ کلاس میں ان کی اپیل خاصی پراثر ہےجس کے امریکی سیاست اورسماج میں خاصے دوررس نتائج برآمدہوسکتے ہیں۔ اندازہ ہے کہ افغانستان،فلسطین،عرب۔اسرائیل تعلقات کے حوالے سے جوبائیڈن کی انتظامیہ ٹرمپ کی پالیسیوں کوبرقراررکھےگی مگرحقوق انسانی کے حوالے سے امریکاسے اب کچھ زیادہ چیخ وپکارسنائی دی جائے گی۔اسرائیل کی طرف سے فلسطینی علاقوں کوضم کرنے کے اقدامات پرامریکی حکومت کی پالیسی تبدیل ہوسکتی ہے۔ابھی فی الحال بائیڈن کی ٹیم کی ترجیحات میں چین یعنی ایشیا پیسیفک، ماحولیات اورکروناسے نمٹناشامل ہوگا۔
بائیڈن انتظامیہ میں امریکی اسٹیبلشمنٹ وڈیپ اسٹیٹ اب دوبارہ اپنے رنگ میں نظرآئے گی چونکہ بائیڈن کی عمرکے پیش نظران کی صحت کچھ زیادہ ٹھیک نہیں رہتی ہے،اس لیے نائب صدرکملا ہیرس اپنے پیش روئوں کے برعکس خاصی فعال نظر آئیں گی۔ان کے والدڈونالڈہیرس ویسٹ انڈیزکے ملک جمیکاسے امریکا آئے تھےجبکہ والدہ شیاملہ گوپالن بھارت کے شہرچنائی سے امریکاواردہوئی تھیں چونکہ انہوں نے کشمیرکی آئینی حیثیت کوتبدیل کرنے پرمودی کوآڑے ہاتھوں لیاتھا،اس لیے امیدہے کہ کم ازکم اس معاملے میں وہ بھارتی حکومت پردبائو بنائے رکھیں گی۔گزشتہ برس اگست کے اقدامات کے بعدجب بھارت نے کشمیرمیں سخت پابندیاں عائد کی ہوئی تھیں توکملاہیرس نے کہاتھا کہ ہمیں کشمیریوں کویہ یاددلاناہے کہ وہ اپنی اس جدوجہدمیں تنہانہیں ہیں۔انہوں نے مزیدکہاتھاکہ ہم حالات کامسلسل جائزہ لے رہے ہیں اوراگرحالات کا تقاضا ہواتوہمیں مداخلت کرنے کی ضرورت ہوگی۔ایک موقع پرانہوں نے بھارتی وزیرِخارجہ جے شنکرپر بھی براہ راست سخت تنقیدکی۔(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں