01:38 pm
تحفظ مساجد و مدارس کے لئے ملک گیر تحریک کا اعلان

تحفظ مساجد و مدارس کے لئے ملک گیر تحریک کا اعلان

01:38 pm

عیسوی سال2021 ء کے پہلے دن کا سورج طلوع ہوا تو اس خوشخبری کے ساتھ کہ عمران خان حکومت نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا … یعنی پٹرول کی قیمت میں2روپے31 پیسے اور ڈیزل ایک روپیہ80 پیسہ مہنگا کرکے عمران خان حکومت نے قوم کو نئے سال کا تحفہ دے کر ثابت کر دیا کہ واقعی ان کے دل میں پاکستان کے کروڑوں غریبوں کا بہت درد ہے۔
سال2020 ء کا آخری دن یعنی31 دسمبر جاتے ہوئے قوم کو یہ خوشخبری دے گیا کہ اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ اور مذہبی، سیاسی جماعتوں کے اکابرین نے وقف املاک ایکٹ کو مسترد کرتے ہوئے نہ صرف اس کے خلاف بھرپو ر تحریک چلانے کا اعلان کیا بلکہ علماء نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ پابندیوں کے خلاف مزاحمت کریں گے۔
دارالحکومت اسلام آباد میں مختلف مسالک کے جید علماء کرام اور دینی مدارس اور مذہبی جماعتوں کے قائدین کی ایک بڑی بیٹھک سے وفاق المدارس کے مرکزی ناظم اعلیٰ، مولانا محمد حنیف جالندھری ، بریلوی مسلک کے مفتی اعظم مفتی منیب الرحمن، جمعیت علماء اسلام کے جنرل سیکرٹری مولانا عبدالغفور حیدری، جمعیت اہلحدیث کے سربراہ پروفیسر ساجد میر، علماء مشائخ کونسل کے قائد مولانا فضل الرحمن، مولانا ظہور علوی، مولانا قاضی عبدالرشید سمیت متعدد دیگر علماء کرام نے تحفظ مساجد و مدارس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’وقف کرنے والے شخص کے لئے سہولتیں فراہم کرنے کی بجائے رجسٹریشن کے نام پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں… مدارس و مساجد کو غیر ملکی قوتوں کے ایماء پر کسی قسم کی دہشت گردی، منی لانڈرنگ سے جوڑ کر ان کی کردار کشی کرنا … تاریخی بددیانتی ہی نہیں بلکہ بدترین اخلاقی جرم بھی ہے ، انہوں نے کہاکہ پاکستان میں مذہبی پابند یاں قبول نہیں، ایسی کوششوں کی مزاحمت کریں گے ، علماء کرام اور دینی مدارس کے قائدین نے الزام عائد کیا کہ حکمران … ریاست کی بالادستی کا نام دے کر مدارس کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔
دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث، جماعت اسلامی، جمعیت علماء اسلام اور دینی مدارس کے قائدین نے اگر مساجد و دینی مدارس کے تحفظ کے لئے ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے تو اس کا صاف مطلب یہی ہے کہ یہ سب قائدین موجودہ حکومت کے اقدامات سے مساجد و مدارس کو غیر محفوظ تصور کرتے ہیں۔
سیدھی سی بات ہے کہ جب ایف اے ٹی ایف کے دبائو پر پارلیمنٹ میں قانون سازی کی جائے گی … تو پھر اس کے نتائج سے ملک بھر کے عوام میں بے چینی کی لہر تو ضرور دوڑے گی، علماء کرام ہمارے معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں … دینی مدارس و مساجد پاکستانی قوم کے روحانی مراکز ہیں کہ جہاں سے قرآن و سنت کی خوشبو صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیابھر میں پھیلتی ہے … ان کے حوالے سے ’’وقف املاک ایکٹ 2020 ء جیسے بلیک قوانین منظور کرنا بدترین ظلم کے مترادف ہے، حکومت کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے دینی مداس اور مذہبی  جماعتوں کے قائدین کو اس حوالے سے مطمئن کرنا چاہیے … کیونکہ عمران خان حکومت نے اپنی خاص مہربانیوں سے ’’معیشت‘‘ کو پستی کی جن گہرائیوں تک پہنچا دیا ہے … اس سے ملک کے عوام پہلے ہی بدحال ہیں، ان حالات میں ملک کسی نئی احتجاجی تحریک کا متحمل نہیں ہوسکتا، تمام مکاتب فکر کے علماء اور مذہبی قائدین نے تحفظ مساجد و مدارس کے حوالے سے مندرجہ ذیل اعلامیہ جاری کیا ، مشترکہ اعلامیے کے مطابق،وقف املاک ایکٹ 2020 جسے انتہائی غیر پارلیمانی اور نامناسب طریقے سے پاس کیا گیا ہے، اس کو تمام شرکا نے متفقہ طور پر مسترد کرتے ہوئے یہ قرار دیا ہے کہ…اسلامی تعلیمات کی بنیادوں پر قائم وقف املاک، رفاہی ادارے، دینی مدارس اور مساجد کا آزاد سلسلہ برصغیر میں صدیوں سے جاری ہے اور اس سلسلے نے تاریخ کے اس طویل دورانیے میں بے شمار انسانوں کو مادی اور روحانی طور پر نہ صرف مستفید کیا ہے، بلکہ انہیں عزتِ نفس کے ساتھ، معاشرے میں مفید خدمات کی انجام دہی کے لیے بھی تیار کیا ہے۔    (جاری ہے)

تازہ ترین خبریں