01:39 pm
ہماری گھریلوق درسگاہ

ہماری گھریلوق درسگاہ

01:39 pm

(۲۱ دسمبر ۲۰۲۰ء کو  جامعہ امام اہل سنتؒ گکھڑ میں تقسیم انعامات کی تقریب سے خطاب) ۔بعد الحمد والصلوٰة۔  آج کی اس محفل میں حاضری میرے لیے مختلف حوالوں سے خوشی اور سعادت کی بات ہے ، ایک تو اس لیے کہ چند بچیوں نے قرآن کریم حفظ مکمل کیا ہے جن میں میری بھتیجیاں بھی شامل ہیں جو ہمارے چھوٹے بھائی مولانا منہاج الحق خان راشد کی بیٹیاں ہیں،دوسرا اس حوالہ سے کہ یہ درسگاہ والد گرامی امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفرازخان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ اور ہماری دو مائوں کی گھریلو درسگاہ ہے، اور تیسرا اس لیے کہ میری اپنی ابتدائی درسگاہ بھی یہی ہے اور میں نے یہیں سے تعلیم کا آغاز کیا تھا۔ اس لیے حفظ قرآن کریم مکمل کرنے والی بچیوں اور ان کے والدین کو مبارک باد دیتے ہوئے اس درسگاہ کی مختصر تاریخ عرض کروں گا اور اس کے بعد موقع کی مناسبت سے ایک دو اور گزارشات بھی کروں گا۔    
والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ ۱۹۴۳ء میں  گکھڑ آئے تھے اور جامع مسجد بوہڑ والی میں خطابت و امامت کے فرائض انہوں نے سنبھالے تھے جبکہ ۱۹۴۵ء میں ان کی پہلی شادی ہوئی۔ ہماری والدہ محترمہ گوجرانوالہ کے راجپوت جنجوعہ خاندان سے تعلق رکھتی ہیں،انہوں نے اپنے والد گرامی حضرت مولانا میاں محمد اکبرؒ سے ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی۔ اس دوران گکھڑ میں دینی تعلیم کی دو درسگاہیں قائم ہوئیں،ایک درسگاہ مسجد میں تھی جس میں والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ تعلیم دیتے تھے، مختلف علاقوں سے طلبہ جمع ہوتے تھے اور اہل محلہ ان کو کھانا مہیا کر دیتے تھے جبکہ ان کی رہائش مسجد میں ہوتی تھی۔ یہ درسگاہ ۱۹۵۲ء میں  گوجرانوالہ میں مدرسہ نصرۃ العلوم کا آغاز ہونے تک اسی طرح چلتی رہی۔ اس دور میں دینی درسگاہوں کا عمومی ماحول یہی ہوتا تھا کہ کسی صاحب علم کے پاس مختلف علاقوں سے طلبہ جمع ہو جاتے تھے،مسجدوں میں رہائش ہوتی تھی اور اہل محلہ دو وقت کا کھانا دے دیا کرتے تھے۔ والد محترمؒ نے اس دوران اسی نظم کے ساتھ ملک کے مختلف حصوں کے سینکڑوں طلبہ کو تعلیم دی ہےجبکہ ۱۹۵۶ء میں وہ مدرسہ نصرۃ العلوم کے ساتھ منسلک ہو گئے تو اس مسجد میں پھر قرآن کریم حفظ و ناظرہ،قاری کلاس اور درس نظامی کی تعلیم مختلف مراحل میں ہوتی چلی آرہی ہے جو اب معارف اسلامیہ اکادمی کے عنوان سے جاری ہے اور ہمارے چھوٹے بھائی مولانا قاری حمادالزھراوی کی سربراہی میں ایک پورا نظام مصروف عمل ہےجبکہ دوسری درسگاہ ہمارے گھر میں تھی،ابتدا میں ہماری رہائش بٹ دری فیکٹری کی بالائی منزل میں تھی، میری پیدائش وہیں کی ہے، والدہ محترمہ کے پاس بچے اور بچیاں پچھلے پہر آتے تھے اور وہ انہیں قرآن کریم کی تعلیم دیتی تھیں، وہاں سے ہماری رہائش مسجد ٹھیکیداراں والی گلی میں منتقل ہوئی اورحضرت والد محترم کی دوسری شادی کے بعد ہماری چھوٹی امی جان بھی آگئیں۔ وہاں بھی صورت یہی تھی کہ شام کو بچے اور بچیاں جمع ہوتے تھے اور ہماری دونوں مائیں انہیں تعلیم دیتی تھیں پھر ہماری رہائش بٹ دری فیکٹری کے عقب میں ماسٹر خوشی محمد صاحب مرحوم کے مکان میں آگئی اور تعلیم و تعلم کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ اس کے بعد ۱۹۶۰ء میں ہم اس مکان میں آگئے جو ہمارا ذاتی مکان ہے اور گھریلو درسگاہ بھی اسی طرح چلتی رہی،ان سب مراحل میں مختلف مواقع پر والد گرامیؒ اور ہماری دونوں مائیں رحمہما اللہ تعالیٰ اس درسگاہ میں تعلیم دیتی تھیں،قرآن کریم حفظ و ناظرہ،ترجمہ قرآن کریم،بہشتی زیور کے علاوہ درس نظامی کے اسباق بھی حضرت والد گرامیؒ بچیوں کو مسلسل پڑھاتے رہے۔
اس درسگاہ سے مختلف اوقات میں سینکڑوں بچیوں اور بچوں نے استفادہ کیا جن میں سابق صدر پاکستان محمد رفیق تارڑ،سابق آئی جی پنجاب پولیس احمد نسیم چودھری، ریٹائرڈ بریگیڈیئر محمد علی چغتائی اور وزارت خارجہ کے ایک سابقہ افسرمحمد شعبان اپل شامل ہیں،اس دور میں بنات کے لیے درس نظامی کے باقاعدہ مدارس بہت کم تھے مگر گکھڑ کی بہت سی بچیوں نے والد گرامیؒ سے درس نظامی کی کم و بیش مکمل تعلیم حاصل کی جن میں ہماری تینوں بہنیں شامل ہیں اور اب یہ سلسلہ ’’جامعہ امام اہل سنت للبنات‘‘ کے نام سے جاری ہے۔ 
مجھے اس بات پر بہت خوشی ہے کہ حضرت والد گرامیؒ کے جاری کردہ دونوں تعلیمی سلسلے بدستور مصروف عمل ہیں، مسجد والے نظام ہمارے چھوٹے بھائی مولانا قاری حماد الزھراوی اور گھریلو درسگاہ کو سب سے چھوٹے بھائی مولانا قاری منہاج الحق خان راشد چلا رہے ہیں اور ان کے ساتھ گکھڑ کے اصحاب ذوق اور اصحابِ خیر کا ایک حلقہ مصروف کار ہے۔ میں مسلسل دعاگو رہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ والد محترم ؒ اور ہماری دونوں مائوں کے درجات جنت الفردوس میں بلند سے بلند تر فرمائیں اور ہمارے بھائیوں اور ساتھیوں کو ان کے اس صدقہ جاریہ کا تسلسل جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔ 
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں