01:39 pm
ایک نوحہ سرسبز باغوں، پھولوں کے شہر کا

ایک نوحہ سرسبز باغوں، پھولوں کے شہر کا

01:39 pm

٭2020ء میں ہر طرف تباہی، لاشوں کے ڈھیر چولہے ٹھنڈے! اور سرکاری وغیر سرکاری طور پر جشن! رقص موسیقی، آتش بازی، وَن ویلنگ، بھنگڑے، ڈھول تماشے!! یہ اُمت توبہ تِلّا، اصلاح احوال کی بجائے خرافات میں کھو گئی!! اِنّا للہ و انا الیہ راجعون!!2020Oء کا آخری وار، لاہورکچرا منڈی، کراچی سے بھی کہیں زیادہ قدم قدم پر کچرے کے ڈھیر، ہر طرف غلاظت، تعفن! وزیراعلیٰ کے ترقی کے دعوے!!O کرونا، مزید58 اموت 2250 کی حالت تشویشناکO پٹرول، گیس، مٹی کے تیل کی قیمتوں میں نیا ہفتہ وار اضافہ O آج اپوزیشن اتحاد کا اجلاس، حتمی فیصلے، بلاول شرکت نہیں کرے گاO کرک: مندر مسمار، چیف جسٹس کا سخت نوٹس، 31 گرفتار، جے یو آئی کے امیر سمیت 350 کے خلاف مقدمے!!O نیب کو 4½ ارب روپے جرمانہ! O پہلے مولانا فضل الرحمان کو پھر بلاول کو وزیراعظم بنایا جائے، نوازشریف کا آصف زرداری کو مشورہ!
٭2020ء میں نہ صرف پاکستان، بلکہ دنیا بھر میں تقریباً 15 لاکھ سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں، صرف امریکہ میں تعداد تین لاکھ 55 ہزار تک ہو چکی ہے۔ دوسرے ملکوں کا بھی یہی حال ہے۔ پاکستان میں اتنی تباہی تو نہیں پھیلی پھر بھی تعداد دس ہزار سے اوپر جا چکی ہے، اس میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اب اصل بات کی طرف آتا ہوں کہ ہمارے دس ہزار ہیرے موتیوں جیسے قیمتی افراد کرونا کی نذر ہو گئے 2200 سے زیادہ کی حالت تشویش ناک ہے اور ہم!! نام نہاد نئے سال کی آمد پر جشن منا رہے ہیں، آتش بازی، بھنگڑے، موٹر سائیکلوں کے وَن ویلنگ کے مظاہرے، ڈھول تماشے، موسیقی کی محفلیں!! جگہ جگہ ’جشنِ مرگ‘!! انتہائی اذیت کہ لاہور میں لاہور آرٹس کونسل نے الحمرا سنٹر میں ڈھول تماشے اوربھنگڑے کا اہتمام کیا! کوئی شرم حیا، قوم کی تباہی کا غم! دعائوں کی کوئی محفل!! بےغیرتی کی انتہا! یہ بات سرفراز سید کہہ رہا ہے جو خود ملک کی کلاسیکی موسیقی کی سب سے بڑی تنظیم کے ساتھ 50 برس سے زیادہ وابستہ رہ چکا ہے، جس نے اپنے گھر میں اور باہر شاعری، کتابوں کی نمائش، ادبی مذاکروں کی تقریباً 250 محفلیں سجائی ہیں، بیرون ملک ثقافتی کانفرنسوں میں شرکت کی ہے۔ مگر یہ کہ ہر بات کا ایک وقت ہوتا ہے۔ گھر میں لاش پڑی ہو تو شہنائیاں نہیں بجتیں! ذہنی اذیت کا عالم کہ کچھ لکھنے کو جی نہیں چاہ رہا۔ بے شمار کرونا زدہ بے روزگار، مفلس افراد کی اپیلیں آ رہی ہیں، دوسروں کو امداد دینے والے خود بدحال ہو گئے ہیں! اب امداد کی کسی اپیل پر کوئی توجہ نہیں دیتا…گھروں میں لاشوں پر جشن منانے والے بے حمیت افراد کی بے حسی اور وحشیانہ جشن پر مرشد علامہ اقبال یاد آ گئے ہیں۔ بانگ درا میں (صفحہ 122) پر ’’حقیقت حسن‘‘ نظم میں فرماتے ہیں کہ ’’ایک روز حُسن نے خدا تعالیٰ سے سوال کیا کہ ’’میں دنیا کی حسین ترین چیز ہوں، مجھے کیوں نہ لازوال کیا؟‘‘ آواز آئی کہ ہر حقیقت کو زوال آنا ہے، دنیا میں حُسن، جوانی، عیش و عشرت ہر چیز فانی ہے۔ علامہ نے فرمایا کہ ’’وہی حسیں ہے حقیقت زوال ہے جس کی!‘‘ اس پر نظم کا اختتام کہ ’’چمن سے روتا ہوا موسم بہار گیا، شباب سیر کو آیا تھا، سوگوار گیا۔‘‘
٭محترم قارئین! 55 سال کی صحافت میں تقریباً مختلف اخبارات میں 13 ہزار کالم لکھ چکا ہوں، ابتدا میں تقریباً تین ہزار ادبی کالم لکھے۔ ایک روز ہدائت آئی کہ سیاسی تجزیے لکھا کروں۔ اس کے بعد تقریباً 10 ہزار  سیاسی کالم لکھ چکا ہوں۔ سب ضائع گئے۔ اور سیاہ سیاست میں کوئی فرق نہ پڑا۔ وہی سلطان ابن سلطان، ابن سلطان، سردار ابنن سردار، جاگیردار راجوں مہاراجوں کے نسل در نسل راج کمار اور راج کماریاں! لوٹ مار کے وہی لچھن، وہی طور طریقے! ملک کے اربوں کھربوں لوٹ لئے، برسوں اقتدار پر سوار رہے، مگر اب بھی بے پناہ لوٹ مار اور اقتدار کی ہوس نہیں بھرتی!! لاشوں کے ڈھیروں پر ناچ رہے ہیں، بھنگڑے ڈال رہے ہیں، استغفار!! آیئے دوسری روائتی فضول باتیں کریں۔
٭غالباً تیسری بار 1958ء میں نوائے وقت میں نامور صحافی اور اخبار کے مالک و چیف ایڈیٹر محترم حمید نظامی کے ہاتھ کے لکھے ہوئے اداریے کی ابتدائی سطریں نقل کر رہا ہوں کہ ’’خدا تعالیٰ نے کسی قوم پر عذاب اتارنا ہوتا ہے تو اس پر نااہل حکمران مسلط کر دیئے جاتے ہیں!‘‘ پنجاب پر ایک وزیراعلیٰ کی بے پناہ ’عنایات‘،’بے پناہ ترقی‘ کا نتیجہ کہ اڑھائی سال سے زیادہ کی حکمرانی اور نئے سال کی آمد پر ڈیڑھ کروڑ کی آبادی والا لاہور کا پورا شہر قدم قدم پر غلیظ کچرے اور غلاظت کے ڈھیروں سے بھر چکا ہے۔ 24 ارب روپے کے ٹھیکے!! تجوریاں بھر گئیں، نئے محلات بن گئے، وزیراعلیٰ کے لائوڈ سپیکروں کی بھڑکیں اور لاہور میں ہر گوشے، ہر کونے پر کچرے کے بلند ڈھیر! شہر میں پینے کا پانی، سٹوروں پر چینی، گھی، آٹا غائب! قومی خزانے کو دیمک کی طرح کھانے والے غیر منتخب، غیر تجربہ کار انتخابات میں پے درپے شکستیں کھانے والے معاون خصوصی، مشیروں، وزیروں کے لشکر، ترجمان نام کے ان گنت چوبدار!! بڑھ بڑھ کر ترقی و عوام کی خوشحالی کی قوالیاں اور میرا باغوں، پھولوں، بلند سبز درختوں والا تاریخی، ثقافتی شہر غلیظ کچرے میں ڈوب گیا! چوبداروں کے چھوٹے ظل الٰہی کی شان میں قصیدے اور سرفراز سید کے نوحے!! الامان، الامان!
٭ایک خبر: ڈیرہ غازی خاں میں ایک افسر کو ایک قبرستان کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کر دیا گیا ہے۔ دلچسپ خبر ہے۔ یہ ڈائریکٹر جنرل قبرستان میں بیٹھ کر کیا کریں گے؟ قارئین خود کوئی تجزیہ کر لیں البتہ مجھے ایک عرصے میں مولانا فضل الرحمان کے اس مطالبہ پر حیرت ہو رہی ہے کہ موجودہ حکومت سے کوئی مذاکرات نہیں کریں گے! عمران خان پہلے استعفا دیں، پھر مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ یہ نہیں بتایا کہ عمران خان کی حیثیت تو صِفر ہو جائے گی! پھر کس سے مذاکرات ہوں گے۔ فوج کو آپ سب مل کر گالیاں تک دے رہے ہیں، حکم دے رہے ہیں کہ فوج اپوزیشن کی ماتحتی قبول کر لے، فوجی جرنیل، جلسوں میں مولانا فضل الرحمان اور مریم نواز کے ساتھ بیٹھا کریں اور مولانا سے پوچھ کر تقریریں کیا کریں! ویسے ایک طرف عمران خان کو فوج کا سلیکٹڈ وزیراعظم قرار دے رہے ہیں اور پھر اسی فوج کو سیاست میں گھسیٹ رہے ہیں۔ فوج کے بعد عمران خان کے ہی مقرر کردہ پاکستان کے صدر اور قومی اسمبلی کے سپیکر سے کیا بات کریں گے؟ مذاکرات کے لئے ان کی کوئی اہمیت ہی نہیں بنتی! الیکشن کمیشن سرکاری ادارہ ہے، کسی قسم کے مذاکرات نہیں کر سکتا صرف انتخابات کے بہتر عمل پرمشورے قبول کر سکتا ہے اور بس! مزید یہ کہ اسی الیکشن کمیشن کے زیرانتظام انتخابات میں عمران خان کی حکومت بنی تھی، اب اسی الیکشن کمیشن کے زیر اہتمام نئے انتخابات کرانا چاہتے ہیں! ایک بار عام انتخابات کے لئے کم از کم 45 ارب روپے درکار ہوتے ہیں، وہ کہاں سے آئیں گے؟
٭بار بار لکھ چکا ہوں کہ مولانا! یہ بات بتائیں کہ فرض کریں، نئے انتخابات کا فیصلہ ہو جاتا ہے؟ الیکشن کون کرائے گا؟ فوج یا یہی الیکشن کمیشن؟، ان دونوں کو آپ مسترد کر چکے ہیں، اس سے آگے! کیا ضمانت ہو گی کہ یہ انتخابات صاف شفاف ہونگے! چلئے ہو گئے تو کیا انہیں تسلیم کر لیا جائے گا؟ پھر حکومت کون بنائے گا؟ نوازشریف نے تو مسئلہ حل کر دیا ہے کہ پہلے مولانا فضل الرحمان وزیراعظم بنیں گے پھر بلاول: اس کے بعد ن لیگ آئے گی! نوازشریف، مریم نواز سزا یافتہ ہیں، کسی سیاسی یا سرکاری عہدہ کے لئے نااہل ہیں۔ شہبازشریف، حمزہ شریف سنگین مقدمات سے دوچار ہیں، معلوم نہیں انجام کیا ہو گا، انہیںبھی سزا ہو گئی تو شریف خاندان کی سیاست ہمیشہ کے لئے ختم! یہ سارے کھلے حقائق اور سوالات میں سامنے دکھائی دے رہے ہیں مگر!…مگر! کوئی جواب نہیں آ رہا! نتیجہ یہ کہ خود کشی کی حالت تک پہنچنے والی حکومت اپوزیشن کی منتشر سیاست کے  سہارے چلتی جا رہی ہے!

تازہ ترین خبریں