01:02 pm
پی ڈی ایم کا اندرونی خلفشار

پی ڈی ایم کا اندرونی خلفشار

01:02 pm

ہمارے اکثر سیاستدان یہ بھول جاتے ہیں کہ آج وہ جو لوٹ مار کر رہے ہیں وہ کل کو ان کے راستے کی دیوار بنے گی اور کرپشن سے اکٹھی کی گئی دولت کا حساب بھی دینا پڑے گا۔ دولت اور طاقت کے نشے میں دھت یہ سیاستدان اپنے مستقبل سے بے خوف ہو جاتے ہیں اور سمجھناشروع کر دیتے ہیں کہ طاقت اور دولت ہمیشہ ان کا ساتھ دے گی حالانکہ ضرب المثل مشہور ہے کہ حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ دولت اور طاقت نے نہ فرعون کا ساتھ دیا نہ قارون کا۔سکندر نے مرنے سے پہلے اپنے لواحقین کو یہ ہدایت کی تھی کہ جب اسے قبر میں اتارا جائے تو اس کے دونوں ہاتھ باہر رکھے جائیںتاکی دنیا کو پتہ چل سکے کہ سکندر جب اس دنیا سے گیا تو اس کے دونوں ہاتھ خالی تھے۔کاش ہمارے سیاسی رہنما ان باتوں سے کوئی سبق سیکھ سکتے۔ہمارے اکثر سیاستدان یہی غلطی دہراتے ہیں۔اس کی ایک زندہ مثال پی ڈی ایم کے رہنما ہیں جو اپنی چوری بچانے کے لئے ایک جائز اور جمہوری طور پر قائم حکومت کو گرانے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگانے کو تیار بیٹھے ہیں۔
ان کی حکومت کے خلاف نفرت اور غصے کی کوئی انتہا نہیں۔13دسمبر2020ء کے لاہور کے جلسے کی ناکامی اور استعفوں کے معاملے پر پیپلز پارٹی کی سرد مہری بلکہ انکار کے باوجود وہ حقیقت سے آنکھیں چرانے سے باز نہیں آرہے۔وہ ابھی بھی یہ سمجھ رہے ہیں کہ عوام کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہو سمندر ان کی راہ دیکھ رہاہے۔وہ سمجھ رہے ہیں کہ کو ئی ایسی لہر اٹھے گی جو ان کو حکومت میں لا کر بٹھادے گی۔یہ ایک ایسا سہانہ خواب غفلت ہے جس سے پی ڈی ایم والے جاگنا نہیں چاہتے۔ان کی نفرت اور غصے کی وجہ کیا ہے۔یقینا یہ عوام کی محبت کے مارے تو یہ سب حربے استعمال نہیں کر رہے۔دراصل یہ عمران کے احتساب کا خوف ہے جس سے بچنے کے لئے استعفوں یا لانگ مارچ کے جتن کئے جا رہے ہیں۔پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون تاریخی طور پر ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔دونوں ہی اس حقیقت کو بھولنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ نون لیگ والوں نے بینظیر بھٹو کے خلاف کیا کیا شرمناک تحریکیں چلائیں اور اخلاقی با ختگی کے کون کون سے ریکارڈ قائم کئے۔ وہ بھول رہے ہیں کہ شہباز شریف آصف زرداری کو لاڑکانہ کی سڑکوں پر گھسیٹنے اور ان کا پیٹ پھاڑ کر لوٹی ہوئی دولت نکالنے کی بات کرتے تھے۔ آج یہ دونوں پارٹیاں اپنی دولت بچانے اور احتساب سے بچنے کیلئے فضل الرحمن جیسے تنکے کا سہارا لے رہے ہیں جس کی اپنی بھی کوئی حیثیت نہیں اور جو خود ایک کرپٹ سیاستدان ہے۔ عمران خان کو بھی اپنے راستے کی رکاوٹیں ہٹانے کی ضرورت ہے۔ اسے بھی چاہیئے کہ بے چارے اور غریب عوام کی حالت زار پر توجہ دے۔ عمران خان کے لئے سب سے بڑا چیلنج بڑھتی ہوئی مہنگائی کا خاتمہ ہے۔ لوگ بھوک اور افلاس سے مر رہے ہیں لیکن تحریک انصاف سے امید لگائے بیٹھے ہیں۔ یہ عوام کا عمران خان پر اعتمادہے جس کی وجہ سے پی ڈی ایم کو ابھی تک کامیابی نہیں ہو رہی لیکن عوام کب تک اس چکی میں پستے رہیں گے۔ ایک دن آئے گا جب عوام عمران خان سے بھی بیزار ہو جائیں گے۔ عمران خان کو بھی چاہیئے کہ عوام کے صبر وتحمل کا مزید امتحان نہ لے اور ان کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرے ۔ عوام کو اس حقیقت میں دلچسپی نہیں ہوتی کہ ملکی معیشت دن بدن بہتر ہو رہی ہے۔ عوام کو اس سے بھی زیادہ سروکار نہیں ہوتاکہ ملک میں تعمیراتی اور صنعتی میدان میں بہتری آرہی ہے۔ عوام کو کیا پتہ کہ تعمیراتی انڈسٹری میں بہتری سے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور ملکی معیشت پر مثبت اثرات پڑتے ہیں۔ ان کو صرف اس بات سے غرض ہے کہ ان کے بچے بھوک اور ننگ سے محفوظ ہیں کہ نہیں ۔
 اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان کے بنائے گئے سہولت بازار وں میں خوردونوش کی اشیاء اور ضرورت کی دوسری چیزوں کی قیمتیں کافی حد تک مناسب ہو چکی ہیں لیکن ایک عام آدمی کو ان باتوں کی کوئی خبر نہیں ۔ عمران خان کی میڈیا ٹیم کو چاہیئے کہ ہر وقت اپوزیشن کے خلاف زہر اگلنے کی بجائے عوام تک پہنچائی گئی سہولیات کی خبریں عوام تک پہنچائے۔عمران خان کا یہ اعتراف کہ بہت سے چیزیں سمجھنے میں بہت سا وقت ضائع ہوگیا کو حزب اختلاف نے خوب استعمال کیا۔ انہوں نے اس بیان کو اس طرح سے استعمال کیا جیسے کہ عمران خان نے اپنی شکست تسلیم کر لی ہے حالانکہ اگر اس بیان کو مثبت سوچ کے ساتھ دیکھا جائے تو یہ عمران خان کی خوبی ہے کہ اس نے سچ بولا۔ اسے عمران خان کی شکست نہیں بلکہ حقیقت پسندی سمجھنا چاہیئے ۔ ہمارے سیاستدان ہمیشہ جھوٹ بول کر عوام کو بے وقوف بناتے ہیں حالانکہ عوام کا یہ حق ہے کہ انہیں سچ بتایا جائے اور اپنی خامیوں اور کو تا ہیوں کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ عمران خان کے اس اعتراف کواس طرح سے لینا چاہیئے کہ وہ اپنے باقی ماندہ دور حکومت میں ان خامیوں کا ازالہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ عمران خان کو چاہیئے کہ اپنی ٹیم سے کارکردگی کا مطالبہ کریں۔   ایک دوسرے پر کیچڑا اچھالنے کی سیاست ختم ہونی چاہیئے ۔ 90کی دہائی میں نفرت کی سیاست نے اتنا زور پکڑاکہ سیاستدانوں نے ایک دوسرے کے خاندانوں کے لتے لینے شروع کر دئیے۔ شریف فیملی خود کو میڈان پاکستان جبکہ بینظیر بھٹو کو مغربی تہذیب کی پیداوار اور عمران خان کو یہودی لابی کا ایجنٹ کہتی تھی۔سیاست کا یہ انداز اب ختم ہو جانا چاہیئے ۔ پی ڈی ایم کی غلطی یہ ہے کہ انہوں نے آپس کی یکجہتی کیلئے ہوم ورک نہیں کیا۔ استعفوں کے معاملے پر پیپلز پارٹی کا موقف باقی جماعتوں سے مختلف ہے ۔ تحریک انصاف حزب اختلاف کی اس خامی کا فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ حکومت کے وزیر اطلاعات شبلی فراز نے حال ہی میں بیان دیا ہے کہ حکومت سنجیدہ مزاج سیاستدانوں سے مذاکرات کر سکتی ہے لیکن فضل الرحمن اور مریم نواز جیسے غیر سنجیدہ سیاستدانوں سے مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ کیا پیپلزپارٹی حکومت کی اس چال میں آئے گی۔ دراصل پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم کی دیگر جماعتوں میں اتنے زیادہ نظریاتی اختلافات پائے جاتے ہیں کہ ان کا آپس میں مل کر چلنا ممکن نظر نہیں آتا۔ ویسے بھی اس کھیل میں صرف پیپلز پارٹی کا نقصان ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔ وہ استعفے دے کر سندھ میں اپنی حکومت خود ہی کیوں گرائیں گے۔ استعفے دینے سے ان کی سینیٹ کی نمائندگی بھی ضائع ہو جائے گی اور ملکی سیاست میں پیپلزپارٹی کے پاس کچھ بھی نہیں بچے گا۔ پنجاب میں پیپلز پارٹی ویسے ہی نا پید ہو چکی ہے لہٰذا انہیں اپنے سارے کا رڈز عقلمندی سے کھیلنے کی ضرورت ہے۔

تازہ ترین خبریں