01:02 pm
تحفظ مساجد و مدارس کے لئے ملک گیر تحریک کا اعلان

تحفظ مساجد و مدارس کے لئے ملک گیر تحریک کا اعلان

01:02 pm

(گزشتہ سے پیوستہ)
اس لیے خیر وبرکت کے ان سرچشموں کو غیر ملکی قوتوں کی ایما پر کسی قسم کی دہشت گردی یا ظلم و عداوت کے ساتھ جوڑنا اور ان کی کردار کشی کرنا، تاریخی بددیانتی ہی نہیں بلکہ بدترین اخلاقی جرم ہے… وقف املاک ایکٹ 2020 دینی تعلیمات سے متصادم ہے، اسلامی تعلیمات کی رو سے وقف کو کسی صورت بھی اس کے مصرف کے علاوہ نہیں برتا جاسکتا، جب کہ موجودہ ایکٹ میں اس کا دروازہ کھول کر وقف کی افادیت کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے…اسی طرح دینی احکام میں وقف کی خریدو فروخت اور نیلامی کی کوئی گنجائش نہیں اور اسی لیے دنیا کے مختلف خطوں میں مسلمانوں کے قائم کردہ اوقاف نے صدیوں تک انسانوں کی بے مثال خدمت کی ہے،

جب کہ موجودہ ایکٹ میں وقف املاک کو بیچنے اور نیلامی کرنے کی گنجائش پیدا کرکے، کرپشن اور قبضہ کے ذریعے ان قومی اداروں کو برباد کرنے کا راستہ ہموار کیا گیا ہے…آئین پاکستان، وطن عزیز کے ہر شہری کو جو آزادء فکر و عمل دیتا ہے، اس ایکٹ نے اسے بری طرح مجروح کیا ہے،وقف کرنے والے شخص کے لیے سہولتیں پیدا کرنے کے بجائے رجسٹریشن کے نام پر اس کے لیے ایسی ناقابل عبور رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں، جس کے بعد وقف کرنا، جوئے شیرلانے کے مترادف ہوگا، اسی طرح موجودہ ایکٹ نے آزادی تقریر کے شخصی حق کو بھی سلب کرتے ہوئے آئین میں دیئے گئے انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیری ہیں…موجودہ ایکٹ نے لاکھوں پاکستانی عوام کی امنگوں کا خون کیا ہے، جو ریاستی سطح پر غفلت اور کوتاہی کے باوجود، تمام رفاہی اداروں بالخصوص دینی اداروں کے تمام انتظامات اپنے تعاون سے کرتے آرہے ہیں، بین الاقوامی طاقتوں کو خوش کرنے کے لیے ایسے محبِ وطن عوام کو مجرموں کی طرح کٹہرے میں کھڑا کرنا بالکل ناقابل قبول ہے… یہ اجتماع پاکستان کے تمام معزز طبقات کو اس بات کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہے کہ موجودہ ایکٹ صرف وقف کے ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ و برباد کر کے نہیں رکھ دے گا، بلکہ اس کے نتیجے میں ہماری آنے والی نسلیں بھی دینی اور رفاہی اعتبار سے بری طرح متاثر ہو کر رہ جائیں گی، وقف املاک ایکٹ 2020 ء کے نام پر کی گئی قانون سازی، وطن عزیز کی سالمیت کو تباہ کر دے گی اور اس سے معاشرے میں بے سکونی، بے اطمینانی، بے دینی اور غیر اخلاقی چال چلن پروان چڑھے گا…اس لیے ہم تمام معزز اراکین پارلیمنٹ،سیاستدانوں، سرکاری افسران، اہلِ صحافت، وکلا، ججز، ڈاکٹرز، تاجر حضرات سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس ناروا، ناجائز اور ظالمانہ ایکٹ کو منسوخ کروانے کے لیے اپنی قومی، دینی اور اخلاقی ذمہ داری بھرپور طور سے ادا کریں، اور اس تحریک کو پورے ملک میں ہر سطح تک پھیلانے میں اپنا مکمل کردار ادا کریں…چونکہ یہ ایکٹ اسلامی قانون، آئین پاکستان اور بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہے، اس لیے دینی مدارس کے تمام وفاق ہائے تعلیم پر مشتمل اتحادِ تنظیمات مدارس پاکستان بھی اس کو مکمل طور پر مسترد کرنے کا اعلان کر چکے ہیں اور دیگر تمام سنجیدہ قومی و ملی حلقے بھی اس پر اپنے کرب اور دکھ کا اظہار کر رہے ہیں،تحریکِ تحفظ مساجد و مدارس ان تمام حلقوں کی نمائندگی کرتے ہوئے اس ایکٹ کے خلاف ملک گیر تحریک چلا رہی ہے، جس میں اسے ان شا اللہ تمام محب وطن اہلِ پاکستان کی حمایت اور تائید حاصل ہوگی…یہ تحریک مرحلہ وار ملک بھر میں منظم کی جائے گی اور وقف کی واپسی تک جدوجہد جاری رہے گی۔

تازہ ترین خبریں