01:03 pm
ہندولالے کوجان کے لالے

ہندولالے کوجان کے لالے

01:03 pm

(گزشتہ سےپیوستہ)
امریکی کانگریس کی ایک اوربھارتی نژاد رکن پرامیلاجے پال نے جب کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں امریکی ایوانِ نمائندگان میں ایک قرادادپیش کی تھی ،توجے شنکر، جواس وقت امریکامیں ہی تھے، نے امریکی کانگریس کی عمارت میں خارجہ امورکی کمیٹی کے کشمیر پرہونے والے اس اجلاس میں شرکت کرنے سے انکارکر دیاتھا،جس میں جے پال موجودہوں گی۔ کملاہیرس نے اس کی سخت مخالفت کی اورکہاکہ کسی بھی غیرملکی حکومت کوکانگرس کویہ بتانے کاحق نہیں ہے کہ اجلاس میں کون سے ارکان شریک ہوسکتے ہیں۔ کملا ہیرس  بھارت کے متنازع شہریت قانون پربھی تنقیدکرتی رہی ہیں۔اس قانون کی وجہ سے بھارت میں مسلمانوں سے امتیازی سلوک کیے جانے کے امکانات کے الزامات لگ رہے ہیں۔ گوکہ چین کے ساتھ نمٹنے کیلئے امریکاکوبھارت کی ضرورت پڑے گی،مگراگرحقوق انسانی کے حوالے سے امریکا بیجنگ پرانگشت نمائی کرتاہے توبھارت کو بھی اسی پلڑے میں رکھناپڑے گا۔فی الحال بھارتی حکومت بائیڈن کے حالیہ بیانات سے سخت خائف توہے مگردیکھاگیاہے کہ ڈیموکریٹک حکومتوں کارویہ بھارت کے تئیں خاصانرم رہاہے۔
1975ء میں پہلے جوہری دھماکوں کے بعدجب امریکی کانگریس میں بھارت پراقتصادی پابندیاں لگانے کی قرارداد پیش ہوئی توبس ایک ووٹ سے مستردہوئی۔وہ ایک ووٹ، جس نے بھارت کوپابندیوں سے بچایا،نئے سینیٹربائیڈن کاتھا۔اسی طرح2005ء میں صدرجارج بش اور وزیراعظم من موہن سنگھ نے جوہری معاہدہ پردستخط توکیے،مگرجوہری تکنیک کے عدم پھیلائو کے معاہدے کاحصہ نہ ہوتے ہوئے بھارت کوکسی بھی قسم کی رعایت دینے کی امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹس نے خاصی مخالفت کی۔اس وقت پھربائیڈن نے ہی اپنی پارٹی کے اراکین پارلیمان کومنواکر2008ء میں بھارت کوچھوٹ دلوانے کاقانون پاس کروالیا۔
ادھران دنوں مودی سرکارنے جوبائیڈن کی توجہ حاصل کرنے کیلئے ایک نیاڈرامہ رچایاہے تاکہ جوبائیڈن قصرسفید میں داخل ہوتے ہی خطے کی بگڑتی صورتحال پرمتوجہ ہوں اور جوبائیڈن کویقین دلایاجائے کہ اس خطے میں چین کاراستہ روکنے کیلئے صرف بھارت ہی کارآمداتحادی ہو سکتا ہے جبکہ لداخ میں چین کے ہاتھ بری طرح رسوائی کے بعدامریکاکی نادیدہ قوتیں یہ سوچنے پرمجبور ہوگئی ہیں کہ کہیں غلط گھوڑے پران کی ساری کوششیں  ہی بیکارنہ چلی جائیں۔مودی نے ایک دفعہ پھر پاکستان کی طرف سے ممکنہ اسٹرائیک حملے کا پروپیگنڈہ کرکے امریکاسمیت مغرب کی ہمدردیاں سمیٹنے کیلئے پاکستان کی جانب سے ائیرسٹرائیک کے خدشات کے پیش نظراپنی سرحدوں پر فضائی یونٹ قائم کرنے کافیصلہ کیا ہے۔  اس ضمن میں وزارت دفاع نے بتایا ہے کہ اس سلسلے میں مقبوضہ جموں و کشمیرکے کئی سرحدی علاقوں میں عارضی ایئربیس قائم کئے جارہے ہیں جو پاکستان کی کسی بھی ائرسٹرائیک کی کوشش کو فوری طورپرناکام بناسکتے ہیں۔بھارتی میڈیارپورٹ کے مطابق بھارت پاکستان سے متصل سرحدی پٹیوں پرانڈین ائیرفورس کے عارضی بیس قائم کررہاہے۔بھارت کو خدشہ ہے کہ پاکستان بالاکوٹ ائیرسٹرائیک کابدلہ لیگااوراس کیلئے کبھی بھی پاکستان ائیرسٹرائیک کرسکتاہے جس کا توڑ کرنے کیلئے بھارت نے سرحدوں پرائربیس قائم کرنے کا منصوبہ بنایاہے جبکہ پاکستانی دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق معاملہ بالکل اس کے الٹ ہے۔بھا رت اس آڑمیں بالاکوٹ پرہونے والی رسوائی اورخفت کابدلہ لینے کیلئے اپنے رافیل طیاروں کی آزمائش کیلئے پاکستان پردوبارہ دانت تیزکرنے کی مشق دہراناچاہتاہے جبکہ دفاعی نقطہ نظرسے بھارت سب سے بڑی غلطی کاارتکاب کررہاہے کہ اس نے پاکستانی شاہینوں کاسفر مختصر ترین کردیاہے۔
اب مکارہندولالے کواس بات کے لالے پڑے ہیں کہ اس نے پچھلے چاربرسوں میں ٹرمپ کے ساتھ جو رومانس بڑھایاتھا،کہیں امریکاکی نئی حکومت داغِ مفارقت نہ دے جائے اورامیدوں سے پہلے خواہشات کے چراغ نہ گل ہوجائیں جبکہ امریکاکی بے وفائی کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ امریکااپنے مفادات کے حصول کے بعدسب سے پہلے اپنے ہی دوستوں کواستعمال شدہ کراکری کی طرح کوڑھے کے ڈھیرمیں پھینکنے میں لمحہ بھرکی تاخیرنہیں کرتا۔اگرکسی کوکوئی شک ہوتوکھلی آنکھوں سے صرف پچھلی چھ دہائیوں کی امریکی تاریخ کا مطالعہ کرلے یامیں یہ کام اوربھی آسان کردیتاہوں کہ آپ مشہورامریکی مصنف ’’باب ورڈذ‘‘کی کتاب’’اوبامازوار‘‘کا مطالعہ کرلیں جس کاہرصفحہ اس  بات کی گواہی دے گاکہ
 امریکا اپنے مفادکیلئے چارے کے طورپراپنے کارندوں کی قربانی دینے سے بھی گریزنہیں کرتا،اس کی واضح مثال جنرل ضیا الحق کے فضامیں طیارے کی تباہی سے لگایاجاسکتاہے کہ کس طرح اس نے اپناایک اعلیٰ رینک کے فوجی بریگیڈیئر جنرل واسم اورلائق ترین سفیر رافیل کوبھی اس آگ کے ہیولے کے سپردکرکے پھر خودہی تحقیق کے نام پرشواہدمٹانے کیلئے بہاولپور حادثے کے مقام پرپہنچ گیااورآج تک وہ سربستہ رازلیاقت علی قتل کی طرح منوں مٹی کے نیچے دفن ہوچکاہے۔یہ الگ بات ہے کہ امریکانے اب تک دنیاکے 38 ممالک میں ننگی جارحیت کاارتکاب کیالیکن کسی ایک ملک میں فتح حاصل نہ کرسکااوربالآخر رسوائی اس کامقدر ٹھہری۔
نادیدہ قوتیں ہرملک میں پردے کے پیچھے رہ کرکام کرتی ہیں اورامریکامیں ان قوتوں کے اس مکارانہ کھیل اورعالمی سیاست کے دائوپیچ پربھی وضاحت کی ہے۔انہی قوتوں کے نمائندے ٹرمپ سے خلیجی اوردیگراسلامی ممالک سے اسرائیل کی قانونی حیثیت کومنوا کراسے تسلیم کروانا مقصود تھا جس کیلئے پہلے ہی دن سے ٹرمپ کے یہودی نژاد دامادجیرالڈکشنز کویہ مشن سونپا گیاجس نے سعودی ولی عہدکے ساتھ اپنی گہری دوستی کافائدہ اٹھاتے ہوئے ایک پتھرسے کئی کامیاب شکار کئے۔ اس مشن میں پاکستان سے بھی اسرائیل کے وجود کوسفارتی لحاظ سے منواناتھاجس کیلئے بیک وقت خلیجی دوست ممالک کے دبائوکے ساتھ ساتھ بھارتی دبائوبھی بڑھایاگیالیکن یہاں اسے وہ پذیرائی نہ مل سکی لیکن اب بھارت ان قوتوں کواس کام کیلئے اس پروگرام میں تبدیلی کااشارہ دیتے ہوئے اپنی خدمات پیش کررہاہے۔ 
بھارت اس وقت ناٹوپلس پانچ کے اتحادمیں چھٹے ملک کی حیثیت سے شرکت کاخواہاں ہے۔اس اتحادمیں ناٹوممبران کے علاوہ اسرائیل ،آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اورجاپان شامل ہیں یعنی کوارڈکے بعدبھارت امریکاکی قیادت میں ایک اوراتحادکی ممبرشپ کا خواستگارہے۔ اگر امریکا بھارت کواس اتحادمیں شامل کرواتا ہے، یاکچھ رعایات دلواتا ہے،توبائیڈن انتظامیہ لازمی طور اس کے بدلے مودی حکومت کواقلیتوں کے تئیں اپنے رویے میں تبدیلی کرنے اورکشمیرکے حوالے سے کسی مثبت  اور جوہری پیش رفت کرنے کامطالبہ کریں گے ۔ 

تازہ ترین خبریں