01:04 pm
ہماری گھریلو درسگاہ

ہماری گھریلو درسگاہ

01:04 pm

(گزشتہ سے پیوستہ)
مجھے اس بات پر بہت خوشی ہے کہ حضرت والد گرامیؒ کے جاری کردہ دونوں تعلیمی سلسلے بدستور مصروف عمل ہیں، مسجد والے نظام ہمارے چھوٹے بھائی مولانا قاری حماد الزھراوی اور گھریلو درسگاہ کو سب سے چھوٹے بھائی مولانا قاری منہاج الحق خان راشد چلا رہے ہیں اور ان کے ساتھ گکھڑ کے اصحاب ذوق اور اصحابِ خیر کا ایک حلقہ مصروف کار ہے۔ میں مسلسل دعاگو رہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ والد محترم ؒ اور ہماری دونوں مائوں کے درجات جنت الفردوس میں بلند سے بلند تر فرمائیں اور ہمارے بھائیوں اور ساتھیوں کو ان کے اس صدقہ جاریہ کا تسلسل جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔ 
اس کے بعد آج کی اس تقریب کے حوالہ سے ایک دو باتیں عرض کرنا چاہوں گا، چند بچیوں نے قرآن کریم حفظ مکمل کیا ہے اور ان میں انعامات تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ بچیوں اور ان کے خاندانوں کو مبارک باد دیتے ہوئے ایک بات بچیوں سے اور دوسری بات ان کے والدین سے عرض کروں گا۔ 
(۱) بچیوں کو یہ یاد دلانا چاہتا ہوں کہ انہوں نے قرآن کریم جیسی عظیم نعمت اور دولت کو اپنے سینوں میں محفوظ کیا ہے تو ان کے اس مبارک عمل میں اور بھی بہت سے لوگ شریک ہیں جنہیں اپنی دعائوں میں شریک رکھنا ان کی ذمہ داری ہے۔ پہلے نمبر پر ان کے ماں باپ ہیں جنہوں نے شوق اور توجہ کے ساتھ انہیں اس طرف لگایا اور ان کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کو یاد کر سکی ہیں۔ (۲) دوسرے نمبر پر اساتذہ ہیں جنہوں نے پڑھایا،ان کی محنت اور توجہ کے باعث بچیوں نے قرآن کریم کو یاد کیا ہے اور ان کی محنت مسلسل ان کے ساتھ شامل رہی ہے۔ (۳) تیسرے نمبر پر جس مدرسہ میں انہوں نے تعلیم حاصل کی ہے اس کے منتظمین ان کے اس عمل میں حصہ دار ہیں کیونکہ ان کے انتظام اور نگرانی کی وجہ سے اساتذہ کا پڑھانا اور طالبات کا پڑھنا اسباب کی دنیا میں قابل عمل ہوا۔ (۴) چوتھے نمبر پر وہ لوگ جن کے تعاون سے یہ مدرسہ چل رہا ہے،ان کا تعاون بھی اس تعلیم کا اہم سبب بنا ہے اور وہ اس عمل خیر میں شامل ہیں۔
حافظ قرآن بچیوں سے یہ گزارش کروں گا کہ اس سارے کام میں ان کا نمبر پانچواں ہے، اس بات کو ذہن نشین کرنا اور یاد رکھنا ضروری ہے، ان سب کو دعائوں میں یار رکھیں اور ان کا شکریہ ادا کرتی رہیں کہ ان سب لوگوں کی وجہ سے آپ سب نے قرآن کریم جیسی عظیم نعمت حاصل کی ہے جبکہ والدین سے یہ عرض کروں گا کہ آپ نے جس شوق اور توجہ کے ساتھ اپنی بچیوں کو قرآن کریم حفظ کرایا ہے اس سے زیادہ توجہ ان کو قرآن کریم یاد رکھوانے کے لیے ضروری ہے کیونکہ صرف ایک بار حفظ کر لینا کافی نہیں ہے بلکہ اس کو زندگی بھر یاد رکھنا یاد کرنے سے زیادہ ضروری ہے، ورنہ یہ ساری محنت ضائع ہو جائے گی اور جن مقاصد اور فوائد کے لیے یہ محنت کی ہے وہ حاصل نہیں ہو سکیں گے۔ میرا عرض کرنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ انہیں باقی سب کاموں سے روک کر صرف اسی کام کے لیے وقف کر دیں بلکہ یہ عرض کر رہا ہوں کہ زندگی کے سارے کام جو ان کے لیے آپ نے سوچ رکھے ہیں ضرور کریں مگر ان کی زندگی کی ترتیب ایسی سیٹ کر دیں کہ یہ قرآن کریم کو یاد رکھ سکیں اور قرآن کریم سننے اور سنانے کا وقت انہیں میسر آتا رہے کیونکہ اس کے بغیر قرآن کریم کو یاد نہیں رکھا جا سکتا اور یہ کام والدین ہی کی ذمہ داری بنتی ہے۔ 
ان گزارشات کے ساتھ حفظ قرآن کریم کی نعمت سے بہرہ ور ہونے والی بچیوں،ان کے والدین اور اساتذہ کو مبارک باد دیتا ہوں اور دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت انہیں قرآن کریم یاد رکھنے کی توفیق دیں،قرآن کریم کا علم اور فہم نصیب کریں، عمل کی توفیق دیں،قرآن کریم کی خدمت کے مواقع عطا فرمائیں اور ہم سب کو دنیا اور آخرت میں قرآن کریم کی برکات سے بہرہ ور فرمائیں،آمین یا رب العالمین۔ 

تازہ ترین خبریں