01:04 pm
اپوزیشن، الیکشن لڑے گی! استعفیٰ؟

اپوزیشن، الیکشن لڑے گی! استعفیٰ؟

01:04 pm

اپوزیشن، ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ...٭ مولانا فضل الرحمان کا فوج کے ہیڈ کوارٹر پر چڑھائی کا اعلان٭ ’’فوج عمران خان کو لانے کی  مجرم ہے‘‘ فضل الرحمان، 19جنوری کو، الیکشن کمیشن کے باہر دھرنے کا اعلان٭ دو وزرائے اعلیٰ سمیت 394ارکان اسمبلی نے گوشوارے جمع نہیں کرائے٭ لاہور کے متنازعہ سی سی پی او عمر شیخ تبدیل٭ اپوزیشن کو وزیر داخلہ شیخ رشید کی دھمکی ٭ ’’استعفوں کے باوجود سینٹ کا الیکشن نہیں رک سکتا۔‘‘ پیپلزپارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر کا بیان٭ ملک میں کاروبار میں تیزی ، سٹاک ایکس چینج انڈیکس 44435پر چلا گیا ’’کبھی نہیں کہا کہ میری تیاری نہیں تھی‘‘ عمران خان٭ کرونا 71ہلاک 2156نئے مریض۔
بلی تھیلے سے باہر آگئی، اپوزیشن کے ملک بھر میں پانچ بڑے جلسے، ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے اپنے جلسے، بڑے بڑے بلند بانگ دعوے، حکومت اور فوج کو سخت دھمکیاں ، ضمنی انتخابات کا بائیکاٹ، سب کچھ دھرا رہ گیا.....تھک ہار کر خود ہی اعلان کرایا کہ دو قومی اور چھ صوبائی اسمبلیوں کے ضمنی انتخابات میں بھرپور حصہ لیا جائے گا! مرزا غالب کا ایک فلسفیانہ شعر کہ 
’’اصل شہود و شاہد و مشہود ایک ہیں
 حیران ہوں پھر  مشاہدہ ہے کس حساب میں!‘‘
ذرا گہرا شعر ہے مگر معنی سادہ کہ سب کچھ ایک ہی ہے تو سوال جواب، شور شرابا کس بات پر؟
وہی بار بار والا لطیفہ ہے کہ ملازم نے تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ کیا، مالک نے آنکھیں دکھائیں تو ملازم ڈر کر بولا کہ جناب یہی تنخواہ ٹھیک ہے! ایک سال سے ہنگامے، جلسے، جلوس، ریلیاں، دھمکیاں! اسمبلیوں سے استعفیٰ دے دیں گے، اسلام آباد پر چڑھائی کریں گے! فوج کو براہ راست گالی نما دھمکیاں، سٹیج پر مریم نواز، بلاول کے ’’ہٹ جائو ورنہ مار دیں گے‘‘ قسم کے اعلانات..... چوہدری اعتزاز احسن نے باربار سمجھایا کہ حماقتیں نہ کرو، استعفوں سے کوئی اسمبلی نہیں ٹوٹے گی، سینٹ کے انتخابات نہیں رکیں گے، جو کچھ کرنا ہے، اسمبلیوں کے اندر رہ کر کرو! یہی بات آصف زرداری اور اب پیپلزپارٹی کے بزرگ سمجھدار رہنما فرحت اللہ بابر نے گزشتہ روز لاہور کے جاتی امراء محل میں اپوزیشن کے اجلاس میں کہی تو خاموشی چھا گئی۔ مولانا فضل الرحمان نے سخت مایوسی کے عالم میں اعلان کیا کہ اپوزیشن استعفے بھی دے گی اور ضمنی انتخابات میں حصہ بھی لے گی(بعد میں سینٹ کے انتخابات کی بات ہوگی!)
قارئین کرام ذرا جائزہ لیں کہ اسمبلیوں سے استعفے دیں گے مگر اس سے پہلے انتخابات میں حصہ لیں گے۔ یعنی موجودہ 400سے زیادہ نشستیں چھوڑ دیں گے اور آٹھ خالی نشستوں کا انتخاب لڑیں گے! ظاہر ہے پالیسی کے مطابق ان آٹھ نشستوں سے بھی استعفیٰ دینا ہوں گے! یعنی کامیاب امیدوار دائیں ہاتھ سے حلف برداری پر دستخط کریں گے اور ساتھ ہی بائیں ہاتھ سے استعفیٰ پیش کر دیں گے۔ ان مضحکہ خیز باتوں پر کیا کہا جائے!! کیا کیا ڈگڈگی نہ بجائی گئی کہ 13دسمبر کو لاہور کے جلسے کے ساتھ ہی حکومت ختم، اور اپوزیشن کے جھنڈے لہرائے جائیں گے؟ مگر یہ تماشا نہ ہوا.....الٹا یہ کہ خودکشی کی جانب لڑکھڑاتی ہوئی جانے والی حکومت، اپوزیشن کے ہر جلسے کے بعد سنبھلتی گئی! شدید مہنگائی، (انڈے 300روپے درجن) تمام اندرونی بیرونی پالیسیوں کی ناکامی، معیشت کی تباہی کے باوجود نیم جان حکومت کو بار بار آکسیجن ملتی گئی، اپوزیشن کے پک نک جلسوں، جلوسوں کا کوئی اثر نہ ہوا اور اپوزیشن کا حاصل  شہباز شریف کے بعد خواجہ آصف بھی جیل میں!!
میں بار بار مولانا فضل الرحمان کا ذکر نہیں کرنا چاہتا۔ اپوزیشن پارٹیوں کے حوصلہ شکن رویوں کے باعث ان کی مایوسی اور بددلی بڑھتی جارہی ہے۔ ایسے عالم میں زبان کی تلخی بھی بڑھ جاتی ہے اور ناقابل فہم بیانات بھی آنے لگتے ہیں۔ اخبارات میں مولانا کے ایک تازہ بیان کی دو تین بلاتبصرہ سرخیاں! فرماتے ہیں ’’فوج ہماری فوج ہے، جرنیلوں کا احترام کرتے ہیں، عمران خان کو لانے والے (جرنیل) اصل مجرم ہیں، اب تنقید کا رخ ان کی طرف ہوگا۔ ہمارے لانگ مارچ کا رخ راولپنڈی (جی ایچ کیو) کی طرف بھی ہوسکتا ہے۔‘‘ ..... ان باتوں پر کیا تبصرہ کیا جائے؟ صرف یہ کہ مولانا آرمی چیف کو پہلے بھی دھمکی دے چکے ہیں کہ ’’ہمارا ساتھ دو، ہمارے ساتھ جلسے میں سٹیج پر بیٹھا کرو، عمران خان کو دھمکیاں دیا کرو ورنہ.....!!‘‘ میں نے ایک فوجی دوست سے پوچھا کہ ایسی باتوں پر فوج خاموش کیوں رہتی ہے؟ اس نے جواب دیا کہ ’’ نہیں! فوج ایسی باتوں پر  ہنس دیتی ہے اور پھر اپنے کام میں مصروف ہو جاتی ہے۔‘‘
ان باتوں سے کالم پھر ضائع  ہوگیا۔ ابوظبی سے ایک محترم قاری خان زادہ نے ناراضی ظاہر کی ہے کہ میں کالم بھی بار بار صوبائی خاتون معاون خصوصی (ف،ع،ا) کا ذکر کرتا رہتا ہوں اسے سے کالم کا مزا خراب ہو جاتا ہے۔ خان زادہ صاحب! آپ کی ناراضی بجا مگر کیا کیا جائے! وہ اسلام آباد میں وزارت اطلاعات پر بیٹھی رہیں، اب یہی صوبائی عہدہ ہے، اسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ وہ اکثر اردو زبان و ادب کے ساتھ جو سلوک کرتی ہیں، غلط ملط اردو، ناقابل بیان مردانہ محاورے! میں خود بیزار ہو جاتا ہوں..... مگر پھر کیا کچھ نہیں؟ 51رکنی وفاقی کابینہ میں صرف 26منتخب وزیر ہیں، باقی25عام بھرتیاں! ان کی تعلیم و تجربہ کے بارے میں کیا کہا جائے، ستم یہ کہ ہر معاون خصوصی یا مشیر کو وزیر کا درجہ حاصل! شاندار بنگلے، لمبی سرکاری گاڑیاں، تعلیم یا تجربہ کا میرٹ صرف یہ کہ ’’سہاگن وہ جسے پیا چاہے‘‘ اور کام! کارکردگی کہ ’’میں بھی رانی، تو بھی رانی، کون بھرے گا پانی؟‘‘ برادرم خان زادہ صاحب کی ناراضی تسلیم ۔
الیکشن کمیشن کا اعلان کہ دو صوبائی وزرائے اعلیٰ، سات وفاقی وزراء سمیت 394ارکان اسمبلی نے تاحال اپنے اثاثوں کے گوشوارے جمع نہیں کرائے، ان کی اسمبلیوں کی رکنیت معطل ہوسکتی ہے، ایوان میں داخل نہیں ہوسکیں گے۔ الیکشن کمیشن کا یہ ہر سال  جاری ہونے والا محض رسمی بیان ہے۔ یہ لوگ بہت غریب ہونگے! اوپر سے کرونا نے چولہے ٹھنڈے کر دئیے!! ادھر ادھر سے پکڑ کر انتخابات کے اخراجات پورے کئے ہیں۔ کوئی جائیداد، کوئی اثاثے ہوں تو گوشوارے میں درج کریں پتہ نہیں الیکشن کمیشن کو بیٹھے بٹھائے کیا ہوتا ہے؟ ہم غریب غرباء کے اثاثے پوچھنے لگتا ہے۔ ویسے الیکشن کمیشن یہ تو بتائے کہ جو لوگ گوشوارے جمع کراتے ہیں، کبھی ان کے اثاثے چیک کئے ہیں، کوئی ایک مثال؟ (نوٹ، گوشوارے جمع نہ کرانے والوں میں پنجاب کے وزیراعلیٰ محمد عثمان بزدار کا نام بھی شامل ہے۔ ان کے پاس صرف دو ٹریکٹر، ایک دو گاڑیاں، چند سو ایکڑ زمین! یہ کوئی اثاثہ ہے؟‘‘
قارئین محترم! سیاسی باتوں سے دل گھبرانے لگتا ہے، ایسے میں کچھ ہنسنے ہنسانے والے لوگوں کی باتوں سے دل بہل جاتا ہے۔ ان لوگوں کے ناموں میں پرانے دوست شیخ رشید کا نام سرفہرست ہے۔ ماشاء اللہ! ہر وقت کوئی نہ کوئی سوجھتی رہتی ہے کہ سننے والوں ، پڑھنے والوں کے دل باغ باغ ہو جاتے ہیں۔ گزشتہ روز  پشاور کی ایک پریس کانفرنس میں اپنا پسندیدہ شعر سنایا کہ ’’ وفا کرو گے،  وفا کریں گے جفا کرو گے، جفا کریں گے ‘‘ یہ علامہ امرچند قیس جالندھری کی غزل کا آخری شعر ہے۔ شیخ صاحب نے حسب معمول اس شعر کی بھی ٹانگ توڑ دی ہے۔ انہوں نے جو دوسرا مصرع سنایا وہ بھول گیا ہے کچھ اس طرح کا تھا کہ ’’ہلا کرو گے، ہلا کریں گے،  حیا کرو گے، حیا کریں گے!‘‘ قارئین کرام! چھوڑئیے سیاسی فضولیات کو، ’’علامہ امرچند قیس جالندھری‘‘ کی پوری غزل بہت پرلطف ہے، علامہ امرچند قیس اردو کے معروف شاعر تھے۔ 1902ء میں تحصیل ہوشیارپور کے گائوں ’’بس‘‘ میں پیدا  ہوئے۔1994ء میں لدھیانہ میں وفات پائی۔ اردو میں نعتیں بھی کہیں، اس پر علامہ قرار پائے۔ چائے کی گرم گرم پیالی کے ساتھ علامہ قیس جالندھری کی غزل کا لطف اٹھائیے۔ کہا کہ:
’’ہماری شرط وفا ہی ہے، وفا کرو گے وفا کریں گے
ہمارا ملنا ہے ایسے ملنا، ملا کرو گے ملا کریں گے
کسی سے دب کر نہ ہم رہیں گے، ہمارا  شیوہ نہیں خوشامد
برا کہو گے، برا کہیں گے، ثنا کرو گے، ثنا کریں گے
یہ پوچھنا کیا کہ خط لکھو گے؟ یہ پوچھنے کی نہیں ضرورت
تمہاری مرضی پہ منحصر ہے، لکھا کرو گے، لکھا کریں گے!
ہمارے محبوب سینکڑوں ہیں، تمہارے شیدا ہزاروں لیکن
نہ تم کو شکوہ، نہ ہم کو شکوہ، گلہ کرو گے، گلہ کریں گے
یہ کہہ دیا قیس، ان سے ہم نے، ہماری غیرت کا دھیان رکھنا
وفا کرو گے، وفا کریں گے، جفا کرو گے، جفا کریں گے

تازہ ترین خبریں