01:13 pm
                     سیاسی کھلواڑ۔۔!

                     سیاسی کھلواڑ۔۔!

01:13 pm

کپتان تباہ کن بیٹنگ کرنے پر تلا ہے ،وہ سمت کا تعین کئے بغیر ہٹ پر ہٹ لگائے چلا جارہا ہے ،ایسے لگتا ہے وہ جیت کی دھن میں یا ہار کے
کپتان تباہ کن بیٹنگ کرنے پر تلا ہے ،وہ سمت کا تعین کئے بغیر ہٹ پر ہٹ لگائے چلا جارہا ہے ،ایسے لگتا ہے وہ جیت کی دھن میں یا ہار کے خوف میں مبتلا ہے ،وہ اپوزیشن کو فالوآن جتنا ہدف دینے کے چکر میں ہے مگر وہ اس جانب دھیان ہی نہیں دے رہا کہ اپنے اس جنون سے وہ اپنی ٹیم کو شکست کے دہانے جا کھڑاکرسکتا ہے کہ اس کی ٹیم میں جتنے بھی کھلاڑی ہیں سب کے سب میچ فکسنگ کی مہارت رکھتے ہیں ،وہ ہر برے وقت میں دھوکا دینے کی شہرت رکھتے ہیں ،اُن کے کردار کی آلودگی سے پوری قوم آگاہ ہے ،ایک بے خبر اور بے بہرہ ہے تو عمران خان ہے ،اُسے اپنی پچ پر بڑھتی ہوئی پھسلن کا احساس بھی نہیں ہو رہا ،شایداس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بائیس سالہ جہد مسلسل کا حوالہ دیتے ہیں وہ ساری خوش فہمیوں کے خواب بُنتے گزری ،میدانِ سیاست میں ہونے والی سازشیں اُن کی نظروں کا نشانہ ہی نہیں رہیں ،اُنہیں تاحال یہ علم ہی نہیں کہ گو سیاست بھی ایک کھیل ہی ہے مگر کرکٹ اور سیاست کے کھیل میں بہت فرق ہوتا ہے ۔جو اس فرق کا ادراک ناں رکھتا ہو اسے میدان میں چھلانگ نہیں لگانا چاہئے کہ ہمارا سیاسی میدان کسی قواعدوضوابط والے کھیل کے لئے نہیں قلابازیوں کے لئے ہے۔
میاں نواز شریف بھی تحریک استقلال سے قلابازیاں کھاتے کھاتے آمریت کے ہنڈولے تک پہنچے ،وہاں انہیں جونیجولیگ کا پنگھوڑا مل گیا جس میں جھولتے جھولتے بڑے میاں صاحب کی دولت کے بل بوتے پر قبضہ کرلیا،پھر یہ ہوا کہ آم تو آم گٹھلیوں کے بھی دام وصول کئے جن سے انہوں نے اپنے خاندان کو بھی عیش و عشرت کے مزوں میں برابر کا حصہ دار بنایا ،مگر وہ ایک بات جو انہیں گوارہ نہ تھی وہ یہ کہ وزارت عظمیٰ کی خلعت پر ان کے اقتدار شریک بھائی یا بھتیجے نظر نہ رکھیں بلکہ یہ خلعت ان کی بیٹی پر سجے ،وہی اس کی وارث بنے ،اسی لئے مریم نواز کو دائو پیچ بھی وہ سکھائے جو بلی جانتی ہے شیرنہیں ۔یہی وجہ ہے کہ گزشتہ رات ایک ٹی وی شو میں سابق گورنر سندھ محمد زبیر کے نام کے ساتھ ترجمان مریم نواز لکھا آرہاتھا جبکہ دیگر شرکاء کے نام کے نیچے ان کی پارٹی کا نام لکھا تھا۔
اب یہ اس ملک کی وقوم کی بدنصیبی ہے یا تاریخ کا جبر کہ بہتر برس سے بانیء پاکستان قائد اعظم محمد علیؒ جناح کا سیاسی وارث کوئی بھی نہ بنا ،پاکستان کی خالق ہونے کا دعویٰ کرنے والی جماعت مسلم لیگ نے پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ،اس کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے اور اس کے ملی وجود کو نامستحکم کرنے میں مسلم لیگ ہی سر فہرست ہے۔جتنی بھی آمریتیں آئیں وہ اسی جماعت کی کاسہ لیسیوں سے آئیں اورہر آمریت کی کوکھ سے ایک نئی مسلم لیگ نے جنم لیا اورملک کے جمہوری تشخص کو پامال کرنے میں جو کردار لیگیوں نے ادا کیا اتنا آمروں نے نہیں کیا کہ نت نئی مسلم لیگیں آمریت کی چھتری تلے ہی حکومتیں کرتی رہیں ۔مسلم لیگیوں ہی نے ہمیشہ جرنیلوں کو یہ باور کرایا کہ ان کے بغیر اس ملک کا نظام حکومت و ریاست چلنا مطلق دشوار ہے ،اسی امر نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی شہید بینظیر بھٹو کے ہاتھوں ایک  جنرل کو تمغہء جمہوریت دلوایا اور آج وزیر اعظم عمران خان کو یہی عارضہ لاحق ہے ،وہ بہت برے طریقے سے اس نفسیاتی دبائو تلے دبے ہوئے ہیں کہ ان کی حکومت’’ ان بیساکھیوں ‘‘ کے بِنا نہیں چل سکتی ،یوں ہی نہیں بلکہ انہیں بھی یہ یقین ہوگیا ہے کہ ’’اُن ‘‘ کے سہارے کے بغیر کوئی surviveکر ہی نہیں سکتا ۔جبکہ عام آدمی کی رائے بھی اب یہی ہے کہ ہماری کوئی حکومت اپنے استحکام کے لئے اوپر والوں کی محتاج ہوتی ہے اوراس محتاجی سے انحروف اس حکومت کی موت کا پروانہ ہوتا ہے ۔
موجودہ سیاسی کھلواڑ نے ایک طرف وزیراعظم عمران خان کو بوکھلاہٹ میں مبتلا کیا ہوا ہے تو دوسری طرف پی ڈی ایم کی ساری کی ساری قیادت بوکھلائی ہوئی ہے اس کی سمجھ سے بالاتر ہے کہ کس طور سیاست کرے کہ جلد سے جلد زمام اقتدار اس کے ہاتھ آجائے،اس کے لئے مریم بی بی تو تمام تر اخلاقی اقدار کو خاطر میں لائے بغیر سیاسی اعتبار جمانے کی کوشش میں ہے ،یہی وجہ ہے کہ مولانا اپنے پی ڈی ایم کے مدارالمہام ہونے پر شاکی نظر آتے ہیں انہیں یہ قلق ہے کہ اتحاد کے  سربراہ وہ ہیں اور فیصلے مریم نواز کے چلتے ہیں جبکہ موصوفہ ن لیگ کی بھی نائب صدر ہیں اور شہباز شریف گو زندان میں ہیں جماعت کے بڑے فیصلے کرنے کا حق بھی انہی کے پاس ہے کہاں پی ڈی ایم کے فیصلے بھی مریم نواز کرنے لگی ہیں ۔
اُدھر پی پی پی نے الگ کھلواڑ ڈالا ہوا ہے اوپر سے یہ مطالبہ بھی منڈھ دیا ہے کہ اسمبلیوں سے استعفے تب دیئے جائیں گے جب میاں نواز شریف بہ نفس نفیس پاکستان آئیں گے،گویا کہ مریم نواز اس کے لئے بھی قابل اعتبار نہیں ہے بھلے بلاول اور مریم کے درمیان سوشل روابط اتنے مضبوط ہوچکے ہیں کہ مریم نواز اپنے والد کی برسوں کی نفرت پر محبت کا غازہ چڑھانے کے لئے گڑھی خدابخش جانے سے بھی گریز پا نہ ہوئیں۔ عام الفاظ میں یہ سب سیاسی کھلواڑ لگتے ہیں مگر وزیراعظم عمران خان ہیں کہ ان حالات میں بھی گھبرائے ہوئے ہیں بلکہ شدید نوعیت کی بوکھلاہٹ  ہر پل ان کے چہرے پر دکھائی دیتی ہے جس سے لگتا ہے کہ انہوں نے واقعی ابھی حکومت سنبھالنے کی تیاری نہیں کی تھی فقط سیاست میں جگہ بنانے تک کا کام کیا تھا ۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ وہ ایکvisionaryانسان ہیں مگر انہوں نے اپنے وژن کے حصول کے لئے وقت سے پہلے اندھی چھلانگ لگائی جس کے نتیجے میں ان کی جماعت کو اقتدار کا سنگھاسن تو مہیا ہوگیا مگر ایک بصیرت افروز حکومت چلانے کے لئے لوگ نہیں ملے ، تقدیر نے انہیں ان لوگوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جن کا ملک و قوم کے ساتھ کبھی عمدہ برتائو نہیں رہا۔یہ جو سیاسی کھلواڑ چاروں اور پھیلائو نظر آتا ہے یہ انہیں لوگوں کی کرشمہ سازی ہے۔
 

تازہ ترین خبریں