01:19 pm
فوج کو معاف رکھیں

فوج کو معاف رکھیں

01:19 pm

فوج دو، چار جرنیلوں کا نام نہیں… بلکہ ان لاکھوں جوانوں کا بھی نام ہے کہ ملکی دفاع کی خاطر جو اپنی جانیں نچھاور کرنے کیلئے ہر وقت تیار رہتے ہیں
فوج دو، چار جرنیلوں کا نام نہیں… بلکہ ان لاکھوں جوانوں کا بھی نام ہے کہ ملکی دفاع کی خاطر جو اپنی جانیں نچھاور کرنے کیلئے ہر وقت تیار رہتے ہیں … وزیراعظم عمران خان جو یہ کہتے ہیں کہ ’’میرے اور فوج کے خلاف سازش ہو رہی ہے … پی ڈی ایم اس سازش کا حصہ ہے، فوج ریاستی ادارہ اور میں منتخب وزیراعظم ہوں، ثبوت دیا جائے کہ فوج ہماری پشت پناہی کررہی ہے … اپوزیشن بتائے کہ میں نے کون سی چیز اپنے منشور کے خلاف کی ہے؟‘‘
سوال یہ ے کہ عمران خان اگر جانتے ہیں کہ فو ج کے خلاف سازش ہو رہی ہے اور پی ڈی ایم اس کا صرف حصہ ہے … تو انہیں قوم کو یہ بھی بتانا چاہیے تھا کہ جس سازش کا پی ڈی ایم صرف حصہ ہے وہ سازش دراصل کر کون رہاہے ؟ اصل سازش کہاں پر ہو رہی ہے؟ اور اگر عمران خان کا یہ بیان محض سیاسی ہے اور ان کو پی ڈی ایم کے  جلسوں اور متوقع لانگ مارچ کے اعلان نے بوکھلا دیا ہے  تو سچی بات ہے کہ انہوں نے ملکی دفاع کے سب سے مضبوط ادارے کے ساتھ بہت بڑی زیادتی کرنے کی کوشش کی ہے۔
جہاں تک ان کا اپنے حوالے سے یہ کہنا ہے کہ وہ منتخب وزیراعظم ہیں ، ایسے لگتا ہے کہ یہ کہہ کر جیسے وہ اپنے آپ کو یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں … ورنہ کم ا ز کم پی ٹی آئی والے تو مانتے ہیں کہ وہ منتخب وزیراعظم ہی ہیں ، رہ گئی بات پی ڈی ایم میں شامل سیاسی جماعتوں کی تو انہوں نے جولائی2018ء میں ہونے والے انتخابات کے بعد پہلے دن ہی انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دے کر انہیں کٹھ پتی اور سلیکٹڈ قرار دے دیا تھا … مولانا فضل الرحمن نے تو اسمبلیوں میں نہ بیٹھنے کا مشورہ بھی دے ڈالا تھا، عمران خان یہ بات جانتے تھے کہ  اپوزیشن انہیں منتخب وزیراعظم تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے اور ان کی حکومت آنے کے بعد ملک میں مہنگائی بھی عروج پاتی چلی جارہی ہے …بجائے اس کے کہ وہ اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں کے ساتھ بیٹھ کر ملکی مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے … ان کا رویہ اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کے ساتھ نخوت اور نفرت بھر ا رہا … اگر بقول ان کے نواز شریف اور زرداری چور تھے تو کم از کم مولانا فضل الرحمن پر اس حوالے سے تو نہ کوئی مقدمہ تھا اور نہ ہی کوئی ثبوت، مگر عمران خان وزیراعظم بننے کے بعد بھی ’’مولانا‘‘ پر نہ صرف یہ کہ الزامات لگاتے رہے … بلکہ ان کی شخصیت کا مذاق اڑانے میں بھی انہوں نے کوئی کسر نہ چھوڑی، اپوزیشن کا تو کام ہی حکومت پر تنقید کرنا اور حکمرانوں کو ٹف ٹائم دینا ہوتا ہے … لیکن وزیراعظم سمیت ان کے وزراء کی فوج ظفر موج نے اپوزیشن کو پریشان کرنے میں بھی کوئی کسر نہ چھوڑی، ایک طرف یہ سب ہو رہا تھا  ، عوام مہنگائی سے تڑپ رہی ہے اور دوسری طرف وزیراعظم سمیت تمام پی ٹی آئی کا بیانیہ یہ رہا کہ حکومت اور فوج ایک بیج پر ہے … خدا جھوٹ نہ لکھوائے ، کتنی ہی مرتبہ وزیراعظم نے یہ فرمایا کہ فوج ہمارے ساتھ ہے ، فوج  کو پتہ ہے کہ میں کرپٹ نہیں ہوں، اس خاکسار نے تب بھی لکھا تھا کہ ایک منتخب وزیراعظم کو یہ سب کچھ کہنے کی ضرورت کیوں  درپیش رہتی ہے؟  اپوزیشن کے الزامات کے جواب میں اس قسم کے دعوے کرنا، نہ صرف حکومتی کمزوری کو ظاہر کرتاہے بلکہ ایک ’’معتبر ادارہ‘‘ بھی زیربحث آجاتا ہے۔
جب ’’مہنگائی‘‘ تمام حدیں توڑ کر آسمان کی بلندیوں کو بھی کراس کر جائے تو پھر حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ بے قابو مہنگائی کو کنٹرول کرکے عوام کو ریلیف فراہم کرے  نہ کہ ڈ نڈے سے ڈرا کر خاموش کرانے کی کوشش کرے ، رہ گئی بات احتساب کی، دکھ کی بات یہ ہے کہ اب تو عوام یہ بات کہنے پر مجبو ر ہیں کہ نیب نے احتساب کے نام پر انتقام کو پروان چڑھایا… وگرنہ ان ڈھائی سالوں میں زرداری اور شریف فیملی سے لوٹی ہوئی کتنی رقم نیب نے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروائی؟ نیب کو چاہیے کہ وہ قوم کو بتائے ، میں یہ بات لکھے بغیر نہیں رہ سکتا کہ وزیراعظم  عمران خان کے ڈھائی سالہ دور حکومت میں بدقسمتی سے پاکستان کا معتبر قومی ادارہ عوام میں زیربحث آگیا … اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار کے حوالے سے گفتگو پہلے بھی کی جاتی رہی … لیکن  عمران خان کا دور حکومت اس حوالے سے اول نمبر رہا کہ حکومتی نااہلیوں اور کمزوریوں کے سبب اسٹیبلشمنٹ پر اعلانیہ تنقید شروع ہوگئی، حکومت کی اپنی کریڈیبلٹی تو یہ ہے کہ پی ڈی ایم ، ابھی تک ان سے مذاکرات پر آمادہ  نہیں ہوئی… فنکشنل لیگ کے جنرل سیکرٹری محمد علی درانی پہلے کوٹ لکھپت جیل میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے ملے اور پھر پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے انہوں نے لاہور میںملاقات کرکے انہیں مذاکرات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی ، لیکن مولانا فضل الرحمن نے میڈیا کی موجودگی میں محمد علی درانی کے ہمراہ پریس ٹاک کی … وہ بھی سب کے سامنے ہے ، لیکن ہمارے دوست محمد علی درانی ابھی تک ہمت نہیں ہارے … ان کاکہنا ہے کہ ’’ان کے پاس ٹریک ٹو ڈائیلاگ کا سب سے بڑا مینڈیٹ ہے، مولانا فضل الرحمن سے شرائط کے ساتھ ڈائیلاگ کو آگے بڑھانے کا کہا ہے … وہ پرامید ہیں  …  کہ جلدسیاسی در جہ حررات میں کمی واقع ہوگی … محمد علی درانی کہتے ہیں کہ کوئی  بھی ڈائیلاگ اتفاق سے نہیں  ، اختلاف سے شروع ہوتا ہے … مجھے یقین ہے کہ سب مذاکرات کی میز پر آجائیں گے۔‘‘
محمد علی درانی تو بڑے پرامید دکھائی دیتے ہیں … لیکن میں یہ بات سوچ رہا ہوں کہ جب ملک کا وزیراعظم یہ بات کہے گا کہ ان کے اور فوج  کے خلاف سازش ہو رہی ہے اور پی ڈی ایم اس سازش کا حصہ ہے تو پھر کون سے مذاکرات اور کس کے ساتھ مذاکرات؟
مذاکرات یا افہام و تفہیم کے لئے ماحول کو سازگار بنانا حکومت کی ذمہ داری ہوا کرتی ہے … جب حکمران ہی نفرت اور عداوت کی آگ بھڑکائے رکھیں گے تو پھر اپوزیشن کا تو فائدہ ہی اسی میں ہے کہ حکومت کو مشکل سے مشکل حالات سے دوچار رکھے ، حکومت ہو یا اپوزیشن جس طرح پاکستان سب کا ہے، ایسے فوج بھی سب کی ہے، فوج کو متنازعہ بنانے کی کوئی بھی کوشش ملک کو کمزور کرنے کے مترادف ہوگا، وزیراعظم کو اب بھی امید ہے کہ پی ڈی ایم جو تحریک  چلا رہی ہے اس کا عوامی مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہے … تبھی تو انہوں نے کہا ہے کہ ’’عوام تب نکلتے ہیں جب ان کے مسائل کے لئے تحریک چلائی جائے‘‘ یہاں پھر سوال اٹھانا ہمارا حق ہے کہ اگر وزیراعظم کو یقین ہے کہ عوام پی ڈی ایم کے ساتھ نہیں ہیں تو پھر انہیں پریشانی کیا ہے؟ قومی اور عوامی مسائل پر گفتگو کرنے کی بجائے اور ان کا ہدف تنقید  پی ڈی ایم کیوں بنی رہتی ہے؟ وزیراعظم ہوں یا اپوزیشن لیڈر …میری دونوں اطراف سے گزارش ہے کہ خدارا! وہ فوج کو

تازہ ترین خبریں