01:20 pm
کشمیریوں کا حق خود ارادیت

کشمیریوں کا حق خود ارادیت

01:20 pm

جنوری کے پہلے ہفتہ میں ہر برس دنیا بھر میں کشمیری حق خود ارادیت کے دن کے طور پر مناتے ہیں۔ یہ دن اقوام متحدہ کی طرف
جنوری کے پہلے ہفتہ میں ہر برس دنیا بھر میں کشمیری حق خود ارادیت کے دن کے طور پر مناتے ہیں۔ یہ دن اقوام متحدہ کی طرف سے سات دہائیاں قبل کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی حمایت میں منظور کردہ قرارداد کی مناسبت سے منایا جاتا ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے گزشتہ برس  19دسمبر 2019ء کو بھی پاکستان کی تحریک پر ایک قرار داد منظور کی ،جس میں مظلوم کشمیری عوام کے بھارتی قبضے سے آزادی کے لئے حق خودارادیت کی جدوجہد کو ازسر نو جائز قرار دیا گیا۔اتفاق رائے سے منظور کی جانے والی اس قرار داد، جس میںدنیا کے 81  ممالک نے تعاون کیا ، نے ان ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی غیر ملکی فوجی مداخلت اور بیرونی ممالک اور علاقوں پر قبضے کے ساتھ ساتھ جبر، امتیازی سلوک اور غیر مہذب  کارروائیوں کو بھی فوری طور پر ختم کریں۔قرارداد کی منظوری کے بعد اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے اسے ایک کامیابی قرار دیا۔حق خود ارادیت سے متعلق اقوام متحدہ  کے چارٹر  کے باب اول کا آرٹیکل 1 (2) عالمی ادارہ کے مقصد اور اصولوں کا اجمالی خاکہ پیش کرتا ہے۔ اس میں ان الفاظ میں خود ارادیت کے حق کا مقصد بیان کیا گیا ہے ’’   مساوی حقوق اور لوگوں کے حق خودارادیت کے اصول پر، اور عالمی امن کو مستحکم کرنے ،دوسرے مناسب اقدامات اٹھانے کے لئے ، احترام کی بنیاد پر اقوام کے مابین دوستانہ تعلقات استوار کئے جائیں‘‘۔ اس بنیاد پر ہر کسی کو حق خود ارادیت حاصل ہے۔ اس کے تحت لوگ  اپنے سیاسی سٹیٹس کا آزادانہ تعین کرسکتے ہیں، آزادی سے اپنی معاشی، سماجی اور ثقافتی ترقی پر توجہ دے سکتے ہیں۔بین الاقوامی عدالت انصاف نے نامیبیا، مغربی سہارا، مشرقی تیمور سے متعلق اسی اصول کو اپنایا۔ مگر کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کرنے کے لئے بھارت پر دبائو نہ ڈالا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان سیکڑوں دو طرفہ مذاکرات اور معاہدے ناکام ہو جانے کے بعد پاکستان نے معلوم نہیں ان کالموں میں توجہ دلانے کے باوجود یو این چارٹر کے چیپٹر 16میں آرٹیکل 103پر توجہ کیوں نہ دی۔
  آج  ایک بار پھر یوم حق خود ارادیت منایا جا رہا ہے۔نریندر مودی کی سرپرستی میں بی جے پی بھارت کو ہندو راشٹریہ بنانے کے ایجنڈے پر گامزن ہے۔کشمیری طلباء، ملازمین، کاروباری افراد کا ہی نہیں بلکہ اب شہریت قانون اور نام نہاد زرعی اصلاحات کی آڑ میں بھارت میں مسلمانوں اور سکھوں کا جینا حرام کیا گیا ہے۔ 5جنوری 1949ء کواقوام متحدہ نے ایک قرارداد منظور کی ۔ جس میں جموں کشمیر میں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی غیر جانبدارانہ اور شفاف رائے شماری کرانے کا کہا گیا۔ لیکن بھارت دنیا کو دھوکہ دینے کے لئے کشمیر میں نام نہاد الیکشن کو ہی رائے شماری کے متبادل کے طور پر پیش کرتا رہا ہے۔
بھارت مقبوضہ کشمیر میں حالیہ ڈرامہ بازی پر مبنی ضلعی ترقیاتی کونسل انتخابات کو جمہوریت کی مثال کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ بھارتی ڈرامہ بازیوں کے دوران ہی نیا عیسوی سال آ گیا اور حق خود ارادیت کی یاد بھی تازہ ہو گئی۔ 5جنوری 1949 کی قراداد اقوام متحدہ کے کمیشن برائے پاکستان اور بھارت نے منظور کی۔کمیشن امریکہ کی سربراہی میں تشکیل دیا گیا ۔جس کے ارکان میں ارجنٹائن،بیلجیئم،کولمبیا اورچیکو سلواکیہ شامل تھے۔کمیشن نے پاکستان اور بھارت کی جانب سے کشمیر میں رائے شماری کرانے کے اصول اور طریقہ کارتسلیم کرنے کے بعد ہی سلامتی کونسل میں قراردادپیش کی ۔قرارداد کے تحت ریاست کے الحاق  کا فیصلہ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے جمہوری طریقے سے ہو گا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کمیشن کی رضامندی سے رائے شماری ایڈمنسٹریٹر نامزد کریں گے۔ جو بین الاقوامی شہرت یافتہ اور قابل اعتماد شخصیت ہو گی ، اسے رسمی طور پر جموں و کشمیر گورنمنٹ رائے شماری ایڈمنسٹریٹر کے طور پر تعینات کرے گی۔بھارت نے 23دسمبر 1948ء اور پاکستان نے25دسمبر1948ء کو اقوام متحدہ کے کمیشن کو لکھے گئے اپنے مکاتیب  میں رائے شماری کے طریقہ کار کو تسلیم کیا۔بھارت اور پاکستان کی جانب سے تحریری طور پر تسلیم شدہ اصول جن کی اقوام متحدہ نے توثیق کی، کا خلاصہ ذیل میں ہے۔
1۔ریاست جموں و کشمیر کے پاکستان یا بھارت سے الحاق کے سوال کا فیصلہ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے جمہوری طریقے سے ہو گا۔2۔رائے شماری،یو این کمیشن کے 13اگست 1948ء کی قرارداد کے پہلے اور دوسرے حصہ کے تحت انتظامات مکمل ہونے پر ہو گی۔    3۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کمیشن کی رضامندی سے رائے شماری کرانے کے لئے ایڈمنسٹریٹر نامزد کریں گے۔4۔ رائے شماری ایڈمنسٹریٹر جموں و کشمیر کی حکومت سے وہ تمام اختیارات حاصل کریں گے جو آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے لئے موزون ہوں گے۔ 5۔ رائے شماری ایڈمنسٹریٹر اپنے  معاونین اور مبصرین کے تقرر کا اختیار ہو گا۔6۔جموں و کشمیر سے تمام بیرونی عناصر کا انخلاء کیا جائے گا۔7۔جموں وکشمیر کے مہاجرین کو واپس گھروں کو آنے کی آزادی ہو گی۔8۔تما م قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔9۔اقلیتوں کو تحفظ دیا جائے گا۔
 اقوام متحدہ کے کمیشن برائے پاکستان و بھارت نے قرارداد میں پاکستان اور بھارت کے مابین جنگ بندی کرنے،جنگ بندی کی نگرانی کے لئے اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کی تعیناتی اور مسئلہ کشمیر کشمیریوں کی مرضی کے مطابق حل کرنے کی بات کی ۔ 5جنوری 1949 ء کی قرارداد میں پاکستانی وزیر خارجہ ظفر اللہ خان کے اقوام متحدہ کو مکتوب کے بعد رائے شماری کو پاکستان اور بھارت سے الحاق تک محدود کر دیا گیا۔جبکہ جموں و کشمیر کے عوام غیر محدود و غیر مشروط رائے شماری کا مطالبہ کر رہے تھے۔یہی وجہ ہے کہ قوم پرست جماعتیں یوم حق خود ارادیت کو احتجاج کے طور پر مناتی ہیں۔تا ہم 5جنوری 1949 ء کی قرارداد  سے کشمیریوں کی اکثریت اتفاق کرتی ہے۔  13اگست1948ء کی قراررداد کی روشنی میں آج بھی اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین جنگ بندی لائن پر دونوں ممالک کے سیز فائر کی نگرانی کر رہے ہیں۔بھارت کی کوشش ہے کہ یہ فوجی مبصرین واپس چلے جائیں۔بھارتی حکمرانوں نے اس سلسلے میں اسلام آباد کو بار ہا سبز باغ دکھائے۔معاشی اور سیاسی رعایتیں دینے کا جھانسہ دیا،دوستی کی باتیں کیں،وفود کے تبادلے کئے، بیک چینل ڈپلومیسی کا سہارا لیا، لیکن بات نہ بنی۔ بھارت چاہتا ہے کہ امریکہ اور مغربی ممالک کے تعاون سے سلامتی کونسل کے ذریعے فوجی مبصرین واپس چلے جائیں۔ وہ سرحدوں کو گرم کر رہا ہے۔ اس کا زور اب جنگ بندی لائن، ورکنگ بائونڈری پر ہے۔
عوام  کا حق خودارادیت جدید بین الاقوامی قانون کا ایک بنیادی اصول ہے۔اس پر محمد اشرف نے زبردست تبصرہ کیا۔ خود ارادیت کا نظریہ قوم پرستی کے نظریہ کی ایک ضمنی پیداوار کے طور پر تیار ہوا۔ اس نے فرانسیسی اور امریکی انقلابات میں کردار ادا کیا۔ اتحادیوں نے پہلی جنگ عظیم میں امن کے مقصد کے طور پر خود ارادیت کو قبول کیا۔ امریکی صدر ووڈرو ولسن نے  اپنی چودہ نکات میں امن کے لئے ضروری شرائط کے طور پر جنگ کے بعد کی دنیا کے لئے خود ارادیت کو ایک اہم مقصد قرار دیا۔ پرانی آسٹریا ،ہنگری اور عثمانی سلطنتوں اور روس کے سابق بالٹک علاقوں کو متعدد نئی ریاستوں میں تقسیم کیا گیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعدغلام اور محکوم  لوگوں میں خودمختاری کا فروغ اقوام متحدہ کے اہم اہداف میں شامل ہوگیا۔ یہاں تک کہ اس کے پیشرو، لیگ آف نیشنس نے بھی اس اصول کو تسلیم کیا۔
(جاری ہے)
 

تازہ ترین خبریں