01:08 pm
کشمیریوں کا حق خود ارادیت

کشمیریوں کا حق خود ارادیت

01:08 pm

 (آخری حصہ)
اس مقصد کے پیش نظر، اقوام متحدہ نے دنیا بھر میں، خاص طور پر فلسطین اور کشمیر کے تنازعات کے تناظر میں کئی قراردادیں منظور کیں۔ 1970 ء میں منظور کی گئی قرارداد 2649 نہ صرف محکوم لوگوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کرتی ہے بلکہ متعلقہ لوگوں کے حق خود ارادیت کے حصول کے لئے کسی بھی طریقے کو اپنانے کا اعادہ کرتی ہے۔پاکستان 1981ء  سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں حق خودارادیت کے بارے میں قرار داد پیش کر رہا ہے جس کی ہمیشہ حمایت کی جارہی ہے۔ اس سال بھی، اقوام متحدہ کی 193 رکنی کمیٹی نے بغیر کسی ووٹ کے، 81 ممالک کے تعاون سے ایک پاکستانی قرار داد منظور کی۔جس کا آغاز پر ذکر کیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے وہ در حقیقت عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی طرف سے کشمیری عوام کی حالت زار پر لاتعلقی کا نتیجہ ہے، جوانڈیا کو اپنے حق خود ارادیت کے انکار کے ساتھقتل و غارت کو  جاری رکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔
کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں کے حوالے سے یہ بتانا مناسب ہے کہ کشمیر میںبھارتی لشکر کشی کے بعد دونوں ممالک کے مابین شروع ہونے والی جنگ کے نتیجے میں، انڈیا نے ہی اس مسئلہ  کو اقوام متحدہ میں لیا۔ اقوام متحدہ نے اس موضوع پر اپنے مباحثے کے دوران 23 قراردادیں منظور کیں، جن میں 13 اگست 1948 ء اور 5 جنوری 1949ء  کی یونیسف کی دو قراردادیں بھی شامل تھیں، جن میں اقوام متحدہ کے زیراہتمام کشمیر میں ریفرنڈم کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ الحاق کے متنازعہ آلے اور تقسیم کی منصوبہ بندی کی طرح، اقوام متحدہ کی قراردادوں نے بھی لوگوں کے حق خود ارادیت کے عمل کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے حق کو پوری طرح سے تسلیم کیا۔ 
 اقوام متحدہ نے اپنی قراردادوں 91 اور 122 کے ذریعے بھی بھارتی  موقف کی تردید کی کہ مسئلہ کشمیر کو مقبوضہ کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کے ذریعہ حل کر دیاگیا ہے۔ ان قراردادوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ الحاق کے سوال کو اس موضوع کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں میں شامل حل کے بغیر کسی بھی طرح سے حل نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کشمیر پربھارت  کے دعوے حقائق کے منافی ہیں اور ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ پاکستان اور بھارت دونوں ایک ساتھ  2013ء کواقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل ممبر رہے ۔بھارت سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے لئے سر گرم لابی میں مصروف ہے۔ افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کو شکست ہو چکی ہے ۔دنیا کی طاقتور ترین طاقتین طالبان سے بات چیت کی بھیک مانگ رہی ہیں۔دنیا افغانستان میں بھارت کو بڑا کردار دے کر اسے اس خطے کا چوکیدار بنا رہی ہے۔افغان فورسز اور پرائیویٹ ملیشیا کو بھارت ورغلا کرپاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی تربیت دے رہا ہے۔افغانوں کو ڈیورنڈ لائن توڑنے پر تیار کیا جا رہاہے۔ عمران خان حکومت کرپشن کے خاتمے کے کھوکھلے نعروں اور نیب زدہ بن چکی ہے کہ معاشی معاملات میں پھنس کر اس کی دنیا کے تیزی سے بدلتے سنگین حالات پر شاید بہت کم توجہ ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ سیاستدانوں کو ایک دوسرے کا تختہ الٹنے اور اقتدار کے حصول کی زیادہ فکر ہے۔اس صورتحال میںکشمیر ی عوام کایوم حق خود ارادیت منانا دلچسپ  ہے۔ بھارت اشتعال پر اتر آیا ہے۔ جنگ پر اکسا رہا ہے۔پاکستان میں مشاورت یا کسی اجلاس کی کارروائی یا پارلیمنٹ میں بحث یا منظوری یا پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی کی تشکیل نو کی کارروائی میں مسئلہ کشمیر پر بحث کی کسی کو فرصت نہیں۔ جبکہ اس پر بحث کی ضرورت ہے۔اگر ایسا نہ ہوا تو یہ عمران خان حکومت کی مجبوریوں اور کمزوریوں کے ساتھ ساتھ حماقتوں کو آشکار کرے گا۔ ماضی کی  حکومتوں اور اسٹیبلشمنٹ کو گمان تھا کہ ان کا وقت ملک کے لئے سنجیدہ فیصلوں کا تقاضا نہیں کرتا ۔مگر انھوں نے کشمیر کو عالمی تنازعہ کے خانے سے اٹھا کر پاک بھارت مسائل میں ڈال کر بڑی غفلت  کی۔کشمیر کو انٹرنیشنل مسئلے سے بائی لیٹرل  یا دو طرفہ بنا دیا۔ جب کہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر اب بھی ہے۔ اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین اب بھی بھارت کی مخالفت کے باوجودجموں وکشمیر کی جنگ بندی لائن کی نگرانی کر رہے ہیں۔ جن پر بھارتی فوج نے فائرنگ بھی کی ہے۔ 5جنوری کو یوم حق خود ارادیت منانے کا بھی ایک یہی تقاضا ہے کہ یوم حق خود ارادیت کے پس منظر اور پیش منظر کو سمجھتے ہوئے دنیا میں مدلل سفارتی کوششیں تیز کی جائیں۔ پاکستان نے شملہ ، تاشقند معاہدوں اور اعلان لاہور کی ناکامی کے باوجود ان سے دستبرداری کی طرف توجہ نہیں دی۔ جب کہ اس کی ضرورت ہے۔ ان دو طرفہ معاہدوں کی ناکامی کے بعد اقوام متحدہ  چارٹرکے چیپٹر16میں آرٹیکل 103پر توجہ دی جائے جس میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے مابین کوئی تنازعہ باہمی یا بین الاقوامی معاہدوں سے حل نہ ہو سکے تو پھر موجودہ چارٹر کے تحت مسئلہ حل کیا جائے گا۔ مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کو تمام دیگر دو طرفہ یا بین لاقوامی معاہدوں پر فوقیت حاصل ہو گی۔ علاوہ ازیں بین الاقوامی عدالت انصاف نے نامیبیا، مغربی سہارا، مشرقی تیمور سے متعلق جس اصول کو اپنایا، وہی اصول کشمیر اور فلسطین سے متعلق بھی اپنایا جائے۔  اس کے لئے موثر اور معقول لابنگ کی ضرورت ہے۔

تازہ ترین خبریں

نیا تعلیمی سال کب سے شروع ہو گا۔۔ ؟ سالانہ امتحانات کے حوالے سے بھی بڑا اعلان۔۔ طلبہ کے لیے شاندار خبر

نیا تعلیمی سال کب سے شروع ہو گا۔۔ ؟ سالانہ امتحانات کے حوالے سے بھی بڑا اعلان۔۔ طلبہ کے لیے شاندار خبر

پیر سے نہم تا بارہویں کے طالب علموں کی کلاسز کا آغاز

پیر سے نہم تا بارہویں کے طالب علموں کی کلاسز کا آغاز

رمضان میں بھی عوام بجلی سے محروم ۔۔۔ بٹگرام کے خیر آباد فیڈرپر پچھلے 72 گھنٹوں سے بجلی غائب ۔۔ علامہ عطا محمد دیشانی نے وارننگ دے دی

رمضان میں بھی عوام بجلی سے محروم ۔۔۔ بٹگرام کے خیر آباد فیڈرپر پچھلے 72 گھنٹوں سے بجلی غائب ۔۔ علامہ عطا محمد دیشانی نے وارننگ دے دی

عالمی وبا کورونا وائرس ۔۔ راولپنڈی کے مزید علاقوں میںلاک ڈاون نافذ ۔۔۔ کہیںآپ کا علاقہ تو شامل نہیں ۔۔خبر دیکھیں

عالمی وبا کورونا وائرس ۔۔ راولپنڈی کے مزید علاقوں میںلاک ڈاون نافذ ۔۔۔ کہیںآپ کا علاقہ تو شامل نہیں ۔۔خبر دیکھیں

کرکٹ شائقین کیلئے بری خبر ۔۔۔ پاکستان کے نوجوان کھلاڑی جاں بحق ہوگئے

کرکٹ شائقین کیلئے بری خبر ۔۔۔ پاکستان کے نوجوان کھلاڑی جاں بحق ہوگئے

خورشید قصور کےبھائی بیرسٹر عمر قصوری کا انتقال ہو گیا

خورشید قصور کےبھائی بیرسٹر عمر قصوری کا انتقال ہو گیا

عالمی وبا کورونا وائرس ۔۔ راولپنڈی کے مزید علاقوں میںلاک ڈاون نافذ ۔۔۔ کہیںآپ کا علاقہ تو شامل نہیں ۔۔خبر دیکھیں

عالمی وبا کورونا وائرس ۔۔ راولپنڈی کے مزید علاقوں میںلاک ڈاون نافذ ۔۔۔ کہیںآپ کا علاقہ تو شامل نہیں ۔۔خبر دیکھیں

نومنتخب وزیرخزانہ کے گرد گھیرا تنگ ۔۔۔۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اہم قدم اٹھا لیا

نومنتخب وزیرخزانہ کے گرد گھیرا تنگ ۔۔۔۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اہم قدم اٹھا لیا

سینئر صحافی سلیم صافی کے گھر کہرام مچ گیا۔۔۔ انتہائی بری خبر

سینئر صحافی سلیم صافی کے گھر کہرام مچ گیا۔۔۔ انتہائی بری خبر

محکمہ انسداد دہشتگردی کے 11سرکاری پستول غائب ہوگئے

محکمہ انسداد دہشتگردی کے 11سرکاری پستول غائب ہوگئے

بلوچستان کے کئی علاقوں میںزلزلے کے جھٹکے

بلوچستان کے کئی علاقوں میںزلزلے کے جھٹکے

30سے زائد ارکان اسمبلی کی جہانگیرترین کو استعفوں کی پیشکش

30سے زائد ارکان اسمبلی کی جہانگیرترین کو استعفوں کی پیشکش

جائداد کا تنازع ۔۔۔ خوفناک لڑائی ۔۔۔۔ کتنی جانیں گئی؟؟ ۔۔ انتہائی افسوسناک خبر

جائداد کا تنازع ۔۔۔ خوفناک لڑائی ۔۔۔۔ کتنی جانیں گئی؟؟ ۔۔ انتہائی افسوسناک خبر

شوکت ترین کا کچھ روز پہلےکا انٹرویو سامنے آگیا

شوکت ترین کا کچھ روز پہلےکا انٹرویو سامنے آگیا