02:50 pm
  خطرات کا  خلاصہ  

  خطرات کا  خلاصہ  

02:50 pm

 سال گزشتہ میں پاکستان نے نشیب و فراز کے کئی مراحل طے کئے۔ نشیب زیادہ تھے فراز قدرے کم! کئی محاذوں پر ہمہ جہت جد وجہد جاری ہے۔ اندرونی محاذ پر معاشی بحران سے نبٹنا حکومت کی اولین ترجیح ہے ! مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ اسی کمزور پہلو پر وار کر کے حزب اختلاف حکومت کو چاروں شانے چت کرنا چاہتی ہے۔ بلاشبہ مہنگائی اور معاشی بوجھ کی بدولت عوام میں حکومت سے ناراضی بڑھی ہے۔ وزیر اعظم کو اس امر کا ادراک ہے اسی لئے گذشتہ برس کے اختتامی ہفتے میں انہوں نے کابینہ کے اراکین کو کارکردگی بہتر کرنے کی واضح ہدایات دیں۔ نئے سال کے آغاز پر گذشتہ برس کے دوران ملک کو لاحق اہم خطرات کا مجموعی جائز ہ ضرور لینا چاہیے ۔ اندرونی محاذ پر معاشی بحران کے علاوہ دہشت گردی ، سیاسی عدم استحکام ، خراب گورننس ، کرونا کی وبائی لہر اور نسل پرست پریشر گروپس کی پروپیگنڈہ مہم نے ملکی استحکام کو کئی پہلوئوں سے متاثر کیا۔ بیرونی محاذ پر معاملات کافی گھمبیر رہے۔ 
بھارت کا پاک مخالف جنون مزید شدت اختیار کرتا دکھائی دیا۔ مودی کی قیادت میں بی جے پی کا شدت پسند حلقہ مقبوضہ کشمیر میں غاصبانہ قبضے کو پکا کر نے اور پاکستان کو ہر محاذ پر شکست فاش دینے کے لیے بے تاب ہوئے جا رہے ہیں۔ گذ شتہ برس مقبوضہ کشمیر میں غیر کشمیریوں کو آباد کروا کر آبادی کا تناسب بدلنے کی مہم عروج پر رہی۔ ایسے متنازعہ قوانین نافذ کئے گئے جن کی مدد سے غیر مقامی لوگ کشمیریوں کی زمین جائیداد با آسانی ہتھیا سکیں ۔ گذشتہ ماہ ضلعی پنچائیتی کونسل کے انتخابات کا ڈھکوسلہ بھی رچایا گیا ۔ ایک ماہ پر محیط یہ انتخابات آٹھ مختلف مراحل میں مکمل ہوئے۔ گو مجموعی طور پر بی جے پی کو ان انتخابات میں شکست فاش ہوئی اور اکثریت فاروق عبداﷲ کی زیر قیادت ماضی قریب میں تشکیل پانے والے گوپکار الائینس نے لی لیکن جموں میں ستر نشستوں کے ساتھ بی جے پی کو برتری رہی۔ بھارتی حکومت حسب سابق انتخابات میں ووٹنگ کی کم شرح کو بڑھا چڑھا کر پیش کر کے یہ ثابت کر رہی ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام آرٹیکل تین سو ستر کی منسوخی پر بے حد مسرور ہیں جبکہ زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ گزشتہ برس ایل او سی پر بھارت کی جارحیت میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا۔ لداخ محاذ پر چین سے درگت بنوانے کے بعد بھارت نے پاکستان کے خلاف جنگی محاذ گرم کر کے عوام کی آنکھوں میں اپنی ساکھ بہتر بنانے کی سر توڑ کوشش کی ۔ فرانسیسی رافیل طیاروں کی پہلی کھیپ ملنے کے بعد بھارتی وزراء اور عسکری قیادت تسلسل سے پاکستان کو دھمکیاں دیتے رہے۔ 
بھارت نے قوم پرست اور لسانی پریشر گروپس کی مدد سے پاکستان کے خلاف ایک جانب دہشت گردی کا شیطانی سلسلہ تیز کیا تو دوسری جانب دنیا بھر میں جعلی خبروں کا جال پھیلا کر منفی پروپیگنڈہ مہم جوئی مہمیز دی۔ بھارت کی اس جعلسازی کا بھانڈہ یورپی یونین ڈس انفو لیب نامی این جی او نے پھوڑا۔ عالمی میڈیا یہ چشم کشا حقائق جان کر بھارت کی جعلسازی پر حیران و پریشان ہے کہ کس طرح پندرہ برس تک عالمی اداروں اور یورپی ممالک کو پاکستان کے بارے میں گمراہ کیا جاتا رہا۔ اس مقصد کیلئے سینکڑوں جعلی میڈیا ویب سائٹس بنائی گئیں، اعلیٰ یورپی عہدیداروں کی جعلی تصاویر کا استعمال کیا گیا اور تیرہ برس قبل فوت ہوجانے والے انسانی حقوق کے علمبردار پروفیسر کی شناخت اور جعلی بیانات کا استعمال کیا گیا۔ بھارت کا سری واستوا گروپ یورپ سے پھیلائی جانے والی ان جعلی خبروں کے نیٹ ورک کا سرپرست تھا جبکہ بھارتی نیوز ایجنسی اے این آئی تمام جعلی خبروں کو مستند بنا کر پیش کرنے میں پیش پیش رہی۔ بھارتی پروپیگنڈے کی مہم بیرون ملک ہی نہیں بلکہ پاکستان میں بھی پورے زور و شور سے جاری رہی۔ 
سوشل میڈیا کے ذریعے عساکر پاکستان کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ پھیلایا جاتا رہا ۔ بھارت سے کنٹرول کئے جانے والے جعلی سوشل میڈیا اکائونٹس سے لسانی نفرت ، فرقہ وارانہ تفریق اور ملک کی نظریاتی اساس کے خلاف مواد پر مبنی پروپیگنڈہ مہم چلوائی جا رہی ہے۔ بیرون ملک مقیم خود ساختہ جلاوطنی کا ڈھونگ رچانے والے مٹھی بھر سوشل میڈیائی مداری اس کھیل میں پیش پیش ہیں۔ بعد از خرابی بسیار پاکستانی حکومت نے نئے سوشل میڈیا قواعد و ضوابط کی منظوری دی ہے تاکہ ملک دشمن قابل اعتراض مواد کو سوشل میڈیا سے بروقت ہٹا یا جاسکے۔ اس اقدام کی ضرورت بہت عرصے سے محسوس کی جارہی تھی ۔ سابقہ حکومتیں اس معاملے پر یکسوئی سے محروم رہیں۔ موجودہ حالات میں مشکوک پس منظر کے حامل بیرون ملک مقیم عناصر آزادی اظہار رائے کی آڑ میں سوشل میڈیا قواعد کے خلاف واویلا مچا رہے ہیں۔ 
گذشتہ برس میں لاحق خطرات کا خلاصہ یہی ہے کہ پاکستان بیک وقت کئی محاذوں پر الجھا ہوا ہے۔ بھارتی جارحیت کشمیر ، افغانستان اور داخلی محاذ پر پاکستان کی بقا کے لیے مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہے۔ غیر ملکی قوتوں کے اشاروں پر پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے والے عناصر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سمیت سیاسی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی صفوں میں چھپے بیٹھے ہیں۔ رواں برس میں پاکستان کو ان عناصر کے خلاف راست اقدام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ 










 





 

تازہ ترین خبریں

کراچی کے علاقے گرومندر میں کباب ہاوس میں آگ لگ گئی ، نقصان کا خدشہ 

کراچی کے علاقے گرومندر میں کباب ہاوس میں آگ لگ گئی ، نقصان کا خدشہ 

بیگم نسیم ولی خان کی نماز جنازہ ولی باغ میں ادا کردی گئی 

بیگم نسیم ولی خان کی نماز جنازہ ولی باغ میں ادا کردی گئی 

پاکستانیوں کیلئے خوشخبری ۔۔۔ چین سے کورونا ویکسین کی مزید دو کھیپس پاکستان پہنچ گئیں۔

پاکستانیوں کیلئے خوشخبری ۔۔۔ چین سے کورونا ویکسین کی مزید دو کھیپس پاکستان پہنچ گئیں۔

عید کے بعد سرکاری ملازمین کی ایک اور عید ۔۔۔۔ تنخواہوں و پنشن میں اضافے کی تجویز

عید کے بعد سرکاری ملازمین کی ایک اور عید ۔۔۔۔ تنخواہوں و پنشن میں اضافے کی تجویز

غداروہ ہےجوکشمیربھارت کی جھولی میں ڈال دے،مریم نواز 

غداروہ ہےجوکشمیربھارت کی جھولی میں ڈال دے،مریم نواز 

چُلبلے اور نت نئے بیانات دینے والی وفاقی وزیر زرتاج گل کا عید الفطر پر خصوصی انٹرویو

چُلبلے اور نت نئے بیانات دینے والی وفاقی وزیر زرتاج گل کا عید الفطر پر خصوصی انٹرویو

لرزہ خیز حادثہ بڑی تعداد میں جانی نقصان ہوگیا ، ایمبولینسیں روانہ ، ہر طرف چیخ وپکار

لرزہ خیز حادثہ بڑی تعداد میں جانی نقصان ہوگیا ، ایمبولینسیں روانہ ، ہر طرف چیخ وپکار

لاک ڈاؤن کے حوالے سے نیا نوٹیفکیشن جاری،عید کے بعد شہریوں کیلئے بڑی خبر آگئی

لاک ڈاؤن کے حوالے سے نیا نوٹیفکیشن جاری،عید کے بعد شہریوں کیلئے بڑی خبر آگئی

سمندری طوفان کے پاکستانی ساحل سے ٹکرانے کا خطرہ ٹل گیا

سمندری طوفان کے پاکستانی ساحل سے ٹکرانے کا خطرہ ٹل گیا

شہر قائد میں کے پیسوں عوض قبر توڑ کر دوسری میت کی تدفین کا انکشاف

شہر قائد میں کے پیسوں عوض قبر توڑ کر دوسری میت کی تدفین کا انکشاف

تعلیمی اداروں کی بندش سے متعلق طلبا کیلئے ایک اور بڑی خبر،حکومت نے چھٹی کے دن اہم فیصلہ کرلیا

تعلیمی اداروں کی بندش سے متعلق طلبا کیلئے ایک اور بڑی خبر،حکومت نے چھٹی کے دن اہم فیصلہ کرلیا

پاکستان کیلئے شاندار اعلان ،شہریوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی

پاکستان کیلئے شاندار اعلان ،شہریوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی

اسرائیل کے غزہ پر بدترین حملے ،41 بچوں سمیت 154افراد شہید

اسرائیل کے غزہ پر بدترین حملے ،41 بچوں سمیت 154افراد شہید

 ’’فلسطینی بچی ننھی منی مچھلیاں بچا کر خوش،خبر پڑھ کر آپ کی آنکھیں نم ہوجائینگی

’’فلسطینی بچی ننھی منی مچھلیاں بچا کر خوش،خبر پڑھ کر آپ کی آنکھیں نم ہوجائینگی