02:57 pm
سلامتی کونسل کی رکنیت کا جشن،بھارت کا کشمیر میں قتل عام

سلامتی کونسل کی رکنیت کا جشن،بھارت کا کشمیر میں قتل عام

02:57 pm

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا دو سال کے لئے غیر مستقل رکن بننے کا جشن مناتے ہوئے  بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں قتل عام تیز کر دیا ہے۔ سرینگر کے نزدیک مظفر آبادروڈ پر واقع لاوے پورہ میں بھارتی قابض فورسز کے مشترکہ آپریشن کے دوران بلا اشتعال قتل کئے گئے تین نہتے کشمیری نوجوانوں کے افراد خانہ اور رشتہ دارکئی دنوں سے احتجاج کر رہے ہیں۔مگر کوئی ان کی سننے والا نہیں۔کشمیریوں کو کوئی انصاف دلانے والا نہیں۔وہ لاشوں کی واپسی اور نام نہاد فورسز کے آپریشن کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ان کے بچے بالکل بے قصور ہیں، جنہیں فرضی تصادم میں قتل کیاگیا۔وہ سخت سردی اور برستی برف میں ’’ہمیں انصاف دو، انکائونٹر کی تحقیقات کرو، لاشیں واپس کرو‘‘جیسے نعرے لگا رہے ہیں۔احتجاج کے شرکا آہ و بکا کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں’’ہمارے ساتھ ظلم ہوا ہے، یہ ظلم دنیا کے کسی بھی کونے میں نہیں ہونا چاہیے، کیا یہی وہ امن ہے‘‘۔16 سالہ شہید نوجوان اطہر مشتاق کے والد مشتاق احمد کا کہنا ہے’’میں مزدوری کرتا ہوں، میں نے سوچا تھا کہ اپنے بیٹے کو ایک بڑا افسر بنائوں گا، لیکن ظالموں نے میرے بیٹے کو بڑی بے دردی سے قتل کر دیا، میرا بیٹا 16 سال کا تھا، اس نے تمہارا (انڈیا)کیا بگاڑا تھا‘‘۔’’مجھے پیسے نہیں ،بیٹے کی لاش چاہیے،مجھے میرے بیٹے کی لاش دے دو،کیا بھارتی فوجی میرے جگر کے ٹکڑے کو مجھ سے چھین کر خوش ہو گئے ہیں‘‘۔اطہر مشتاق کی خالہ نے کہا’’اطہر ہمارا اکلوتا بیٹا تھا، ہم سے ہمارا گردہ نکالا گیا ہے، ہمیں اس کی لاش واپس چاہیے، ہم اس کی دوری برداشت نہیں کر سکتے ہیں، ہم نے اس کے لئے قبر بھی خود تیارکر رکھی ہے‘‘۔ان کے دو مطالبات ہیں، ایک کیس کی تحقیقات کی جائے اور دوسرا لاشیں واپس کی جائیں۔’’گھر والوں کو لاشیں نہ دینا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، آپ ایک مردہ لاش کو دینے سے کیوں ڈر رہے ہیں، انڈیا کا فوجی کوئی فرشتہ نہیں ہے، شوپیاں فرضی تصادم ہمارے سامنے ایک مثال ہے‘‘۔ ان کا مزید کہنا تھا ’’آپ نے ہم سے ہمارے تین نوجوان چھیننے ہیں، اگر وہ مسلح تحریک کا حصہ تھے تو ہمیں اس کا ثبوت دیں، آپ عدالت، وکیل اور جج خود نہیں بن سکتے، اطہر ایک نابالغ لڑکا تھا، اس پر کوئی بڑا کیس نہیں بن سکتا تھا‘‘۔
 30 دسمبر2020 ء کو ہونے والے لاوے پورہ فرضی تصادم میں بھارتی فورسز نے تین جنگجوئوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا جنہیں وہاں سے تقریباً ایک سو کلو میٹر دور کرگل شاہراہ پر سونہ مرگ میں سپرد خاک کیا گیا۔قتل کئے گئے نوجوانوں کی شناخت اعجاز احمد گنائی، اطہر مشتاق اور زبیر احمد کے بطور ہوئی تھی۔ 
 لاو ے پورہ فرضی جھڑپ میں جنوبی ضلع پلوامہ اور شوپیان سے تعلق رکھنے والے تین نوجوانوں کی بیہمانہ ہلاکت کے بعد پلوامہ میں مسلسل سات روزسے موبائیل اور انٹر نیٹ خدمات معطل ہیںجس کے نتیجے میں صارفین کو شدید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔مگر بھارت کو کشمیریوں کی مشکلات سے کیا لینا دینا۔ بھاری حکمران نہتے عوام کو زیادہ سے زیادہ مشکلات میں ڈالنے سے ہی لطف اندوز ہوتے ہیں۔
لاوے پورہ کا قتل عام امشی پورہ شوپیان کی انکوائری رپور ٹ سامنے آنے کے موقع پر رونماہوا ہے،اورامشی پورہ انکائونٹرمیں بھارتی قابض آرمی کے ایک کیپٹن کوجعلی مقابلے کیلئے قصوروار اور ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔مگر قاتل بھارتی فوجیوں کو کوئی سزا نہیں دی جاتی۔بلکہ ان کو قتل عام کے میڈلز دیئے جاتے ہیں اور سٹارز لگائے جاتے ہیں۔
بھارتی حکومت اور ان کی کٹھ پتلی گورنر انتظامیہ کشمیریوں کی نعشیں لواحقین کے سپردکرنے سے گریز کر رہے ہیں تاکہ وہ اُن کی تجہیزوتکفین انجام دے سکیں۔گزشتہ کئی برسوں سے کشمیر میں یہی ظالمانہ پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔ بھارت غیر جانبدارانہ تحقیقات کے مطالبات کو نظر انداز کر رہا ہے۔بھارت نے ایک بار پھرتین نہتے نوجوانوں کوقتل کیا اور بعد میں اُنہیں عسکریت پسند قرار دیا۔قابض انتظامیہ تینوں مہلوکین کی نعشوں کو اہل خانہ کے سپرد کرنے سے گھبرا رہی ہے۔کشمیر کے بھارت نواز سیاستدان بھی قابض گورنر کوخطوط ارسال کر رہے ہیں کہ’’ ایسی ماں جو اپنے پیارے بیٹے کی اچانک اور اذیت ناک موت پر غمزدہ ہے، اسے اسکے چہرے کو دیکھنے کے آخری موقع سے محروم نہیں ہونا چاہئے،نہ وہ اپنے لخت جگر کی لاش کیلئے بھیک مانگنے کی مستحق ہے،یہ غیر انسانی رویہ ناقابل قبول ہے‘‘۔ معاملے کی اعلیٰ سطحی اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کون کرے گا۔بھارت خود ہی قاتل اور خود ہی جج ہے۔ کشمیری نوجوانوں کو بے دردی سے قتل کرنا پھر ان کو دہشت گرد قرار دینا اور ان کی لاشیں اُن کے والدین اور اہل خانہ کے سپرد نہ کرنا بھارت کی ظالمانہ پالیسیوں کی ایک کڑی ہے۔کشمیریوں کواپنے بچوں کی تجہیز و تکفین اور اپنے آبائی قبرستان میں دفن کرنے کی بھی اجازت نہیں۔ جس طرح سے بھارت نے دبائو پر امشی پورہ، شوپیان فرضی تصادم کی تحقیقات کی ، اُسی طرح ہوکرسر،لاوے پورہ فرضی تصاد م کی بھی تحقیقات کی جائے اور قتل کئے گئے نوجوانوں کی لاشیں اُن کے گھر والوں کے سپرد کی جائیں۔ لاوے پورہ تصادم میں غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانے کے مطالبے کے حق میںمقبوضہ کشمیر میں ہڑتال ہے۔شہر سرینگر کے مرکزی علاقوں لالچوک، بڈشاہ چوک، ریگل چوک، مائسمہ، مہاراجہ بازار، گونی کھن،ہری سنگھ ہائی سٹریٹ، بٹہ مالو ،مولانا آزاد روڈ، ریذیڈنسی روڑ میں تجارتی و دیگر متعلقہ سرگرمیاں ٹھپ ہیں۔شہر خاص کے نوہٹہ، گوجوارہ، نواب بازار، صفا کدل،اور حبہ کدل علاقوں میں بھی بازار بند ہیں، ٹرانسپورٹ کی نقل وحمل معطل ہے۔پلوامہ اور شوپیان میں بھی سبھی کاروباری و تجارتی مراکز بند ہیں۔مگر جب تک بھارت پر عالمی دبائو نہیں پڑتا، وہ غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات سے گریز کرتا رہے گا۔ امید ہے عمران خان حکومت اس سلسلے میں عالمی برادری کی توجہ کشمیر میں بھارتی قتل عام اور ظلم و جبر کی پالیسی کی جانب گامزن کرانے میں کامیاب ہو گی تا کہ بھارت کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد کو طاقت سے کچلنے کے لئے مظالم کا سلسلہ بند کرنے پر مجبور ہو۔بھارت سلامتی کونسل کا دو سال کے لئے رکن بننے کا جشن کشمیریوں کا قتل عام کر کے منا رہا ہے۔دنیا بھارت کو اس قتل عام سے روکے۔

 

تازہ ترین خبریں

کنیز اول اپنی جھوٹی رام لیلا میں روزانہ ایک نئے شگوفے کا اضافہ کرتی ہیں،فردوس عاشق اعوان

کنیز اول اپنی جھوٹی رام لیلا میں روزانہ ایک نئے شگوفے کا اضافہ کرتی ہیں،فردوس عاشق اعوان

حکومت جاتے ہی وزراءپہلی رات جہاز سے بھاگ جائیں گے،شاہد خاقان عباسی

حکومت جاتے ہی وزراءپہلی رات جہاز سے بھاگ جائیں گے،شاہد خاقان عباسی

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس،اہم فیصلے متوقع

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس،اہم فیصلے متوقع

عمران خان کےفیصلوں سے14ہزارارب کاقرض بڑھ گیا،مریم اورنگزیب

عمران خان کےفیصلوں سے14ہزارارب کاقرض بڑھ گیا،مریم اورنگزیب

مہنگائی سے نجات کیلئے عمران خان سے چھٹکارہ ناگزیر ہے ،بلاول بھٹو زرداری

مہنگائی سے نجات کیلئے عمران خان سے چھٹکارہ ناگزیر ہے ،بلاول بھٹو زرداری

مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے اسلامی ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر آنا ہو گا ،شاہ محمود قریشی

مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے اسلامی ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر آنا ہو گا ،شاہ محمود قریشی

چیئرمین نیب کا راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے میں مبینہ کرپشن کی تحقیقات کا حکم

چیئرمین نیب کا راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے میں مبینہ کرپشن کی تحقیقات کا حکم

خادم اعلیٰ کالبادہ اوڑھ کرکرپٹ اعلیٰ بننےوالےکےحساب دینےکاوقت ہے،شہبازگل

خادم اعلیٰ کالبادہ اوڑھ کرکرپٹ اعلیٰ بننےوالےکےحساب دینےکاوقت ہے،شہبازگل

 مہنگائی سے نجات کیلئے عمران خان سے چھٹکارہ ناگزیر ہے ،بلاول

مہنگائی سے نجات کیلئے عمران خان سے چھٹکارہ ناگزیر ہے ،بلاول

طاقتور ترین لوگ بھی قانون سے مبراء نہیں،حکومتی اہلکاروں کو احتساب کا خوف ہونا چاہئے،فواد چوہدری

طاقتور ترین لوگ بھی قانون سے مبراء نہیں،حکومتی اہلکاروں کو احتساب کا خوف ہونا چاہئے،فواد چوہدری

سول ایوی ایشن نے اندرون ملک کرایوںمیں اضافہ کر دیا

سول ایوی ایشن نے اندرون ملک کرایوںمیں اضافہ کر دیا

ڈرو اس وقت سے جب تمہارے پاس حکومت اور حکومتی  طاقت نہیں رہے گی،انشاءاللّہ فتح حق اور سچ کی ہوگی

ڈرو اس وقت سے جب تمہارے پاس حکومت اور حکومتی طاقت نہیں رہے گی،انشاءاللّہ فتح حق اور سچ کی ہوگی

 طاقتور ترین لوگ بھی قانون سے مبراء نہیں،حکومتی اہلکاروں کو احتساب کا خوف ہونا چاہئے،فواد چوہدری

طاقتور ترین لوگ بھی قانون سے مبراء نہیں،حکومتی اہلکاروں کو احتساب کا خوف ہونا چاہئے،فواد چوہدری

مولانا طارق جمیل سلمان خان کے فین ہو گئے ، سلمان خان کے والد کو کس بات کی مبارکباد دیدی؟

مولانا طارق جمیل سلمان خان کے فین ہو گئے ، سلمان خان کے والد کو کس بات کی مبارکباد دیدی؟