02:06 pm
مچھ، اسٹیبلشمنٹ  اور ریاستی اداروں کا کردار

مچھ، اسٹیبلشمنٹ  اور ریاستی اداروں کا کردار

02:06 pm

اسٹیبلشمنٹ سول ہو یا عسکری اس کا کام پس منظر میں رہ کر ریاستی اور عوامی مفادات کا تحفظ اور حصول ہوتا ہے۔ مچھ میں ہزارہ شہداء کی جو ’’تدفین ہوگئی‘‘ وہ سیاستدانوں
اسٹیبلشمنٹ سول ہو یا عسکری اس کا کام پس منظر میں رہ کر ریاستی اور عوامی مفادات کا تحفظ اور حصول ہوتا ہے۔ مچھ میں ہزارہ شہداء کی جو ’’تدفین ہوگئی‘‘ وہ سیاستدانوں کے سبب نہیں، نہ ہی حکومتی سیاسی کوشش کا بارآور ہونا تھا بلکہ یہ مشکل ترین مرحلہ اسٹیبلشمنٹ اور ریاستی اداروں کی محنت شاقہ کا ثمر ہے۔ لہٰذا میں اپنے کالموں میں اکثر اسٹیبلشمنٹ کے خاموش کردار کی تائید کیا کرتا ہوں۔ سیاست دان خواہ کسی بھی پارٹی کے ہوں، وہ خاموش رہ کر نہ سیاست کرتے ہیں ، نہ ہی خاموش رہ کر حکومت اور حکمرانی کرتے ہیں۔ ان کی زبان کو اکثر بولنے کی بیماری ہوتی ہے۔ ہر وقت بولتے رہنا ، مزید بولتے رہنا، ان کی سیاسی مجبوری سے زیادہ شخصی عادت اور کاوش  ہو جاتی ہے۔ عملی سیاست میں کم بولنا اور تول کر بولنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ مگر حکومت میں موجود بہت سے وزراء فضول ، غیر ضروری بلکہ حماقتوں کا اظہار کرتے بیانات دیتے، باتیں کرتے رہتے ہیں۔ جس سے حکومت کے اندر سے ، کابینہ کے اندر سے بھی عدم اتفاق ، عدم استحکام، غیر سنجیدگی ، طفلانہ پن، خود غرضی، ذاتی نمائش کا پتہ چلتا رہا ہے۔ ان کے رویئے سے فوج کو بھی شدید نقصان ہوتا ہے۔ ایسا  ہونا  اس وقت تو بہت آسان ہو جاتا ہے جب حکومت مانگے تانگے افراد ارکان اسمبلی کی مرہون منت ہو۔ عمران خان کی یہ بد قسمتی کہلائے گا کہ انہیں جو حکومت ملی وہ عددی طو ر پر بہت کمزور ہے۔ اتحادیوں کے سبب یہ حکومت قائم ہے۔ اتحادی بوقت ضرورت بلیک میل بھی کرتے ہیں۔ سینٹ میں اپنے خاندان کے افراد یا ساتھیوں کو لانے کے لئے اتحادی ساتھیوں نے عمران خان کو بلیک میل کیا ہے۔ پنجاب میں اتحادی اکثر ناراض  رہے مگر سنا ہے اب وہ مکمل طور پر راضی ہیں کیونکہ ان کے خاندان کے ایک فرد کو سینیٹر بنوانے کی رضامندی عمران خان نے دے دی ہے۔
عمران خان عمومی سیاسی افتاد طبع کا کردار نہیں ہے۔ قدرت الٰہی نے پاکستان کو شریف خاندان کی بادشاہت سے نجات دلانے کی ذمہ داری عمران خان کے نام سیاسی طور پر کی ہے۔ جبکہ شریف خاندان کے ترجمان، اکثر کہتے ہیں کہ انہیں اقتدار سے عمران خان نے نہیں بلکہ فوج و اسٹیبلشمنٹ  نے نکالا ہے۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ انہیں اقتدار سے اللہ تعالیٰ نے نکالا ہے۔ وہ اقتدار جو ان کی خاندانی بادشاہت کا نام تھا اب وہی اقتدار ان کی خاندانی ذلت، توہین، کرتوتوں کے بے نقاب ہو جانے کا نام بن گیا ہے۔ اسی کو قرآنی الفاظ میں ’’ایام کی تبدیلی‘‘ کا نام ملتا ہے۔ بظاہر مچھ معاملات کے بعد پرسکون ہونا چاہیے  سب کچھ مگر اپوزیشن کے حضرات مولانا، مریم اور ان کے رفقاء سرجوڑ کر بیٹھ گئے ہیں کہ ان کا مطمع نظر تو خراب ہوگیا ہے۔ وہ میتوں کی عدم تدفین، دھرنے، احتجاجوں کے ذریعے حکومت کو بہت کمزور ، ناتواں کرنا چاہتے تھے۔ اپوزیشن نے کسی مذہبی شخصیت کو بھی مچھ معاملات میں داخل کیا تھا تاکہ وہ پروگرام کو لمبا کرے گا مگر اب ان کی کوششوں کے باوجود بھی مفاہمت سے تدفین ہوگئی ہے اور معاملات ٹھنڈے ہوگئے ہیں۔ مگر یہ سب کچھ کس نے کیا ہے؟ جی یہ سب کچھ ان ریاستی اداروں اور اسٹیبلشمنٹ نے کیا ہے جس کو اپوزیشن کی طرف سے سخت تنقید، تذلیل کی زبان میں ارسال کردہ الفاظ ملتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ خاموش کردار کی ادائیگی کا نہ کوئی سیاسی معاوضہ لیتی ہے نہ ہی شہرت حاصل کرتی ہے۔ یہ سب بدکام سیاستدان کرتے ہیں، خواہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں۔ ریاستی اداروں کے اس حسن کاکردگی کا میں کھل کر اعتراف کرتا ہوں، انہیں شاباش دیتا ہوں۔ عوام آنے والے موسموں میں اپنی فوج، ریاستی اداروں کا ساتھ دیں، ان کی مدد کریں۔
اب ذرا آنے والے دنوں کی مشکلات کا ذکر بھی کرلیں۔17 جنوری سے عطارد، مشتری وغیرہ پھر منظر سے غائب ہو جائیں گے اور ان کا غائب ہونا21 فروری تک رہے گا۔ لہٰذا17 جنوری سے فروری کا پورا مہینہ یعنی اگلا ڈیڑھ دو مہینے کا عرصہ  اسٹیبلشمنٹ ، فوج،  ریاستی اداروں پر سخت مشکل مرحلہ بھی ہوسکتا ہے۔ سینٹ الیکشن کے انعقاد  پذیر ہو جانے تک یعنی 7 جنوری سے 45 دن۔ تقریباً21 فروری تک تو مارشل لاء لگنے کے نجوم میزانی میں اسباب پیدا  ہوتے رہیں گے۔ یہ الگ بات ہے کہ جنرل باجوہ اور ہمارے دیگر کور  کمانڈرز مارشل لاء ہرگز نہیں لگائیں گے بلکہ وہ حکومت کو تمام تر کمزوریوں کے باوجود ریاستی مفادات کے حصول میں مدد فراہم کریں گے۔ جنرل باجوہ کا ذاتی نجوم میزان بھی شدید دبائو محسوس کرے گا بطور خاص فروری کے آخری پندرہ دنوں میں۔ ممکن ہے کہ دشمن کی طرف سے فتنہ گری، تخریب کاری، امن و امان کے معاملات نئے سرے سے پیدا کیے جائیں۔ امریکہ میں فوج، اسٹیبلشمنٹ  بہت سے نئے سخت مراحل سے گزر سکتی ہے۔ ٹرمپ کے آخری دنوں میں بہت کچھ مزید ہوسکتا ہے۔
’’الوھی‘‘ نجوم میزان میں تقدیر و تدبیر الٰہی ہے۔ مجھے بزرگ ماہر نجوم نے بار بار کہا تھا کہ ٹرمپ اور امریکہ کے حوالے سے چھ سات جنوری خاص طور پر مصیبت کا نام ہوگا۔ اب16 اور17 جنوری امریکہ و ٹرمپ کے حوالے سے بہت سخت ہیں۔ انڈیا کے لئے2021 ء نئی درد سری کا آغاز ہے۔2022-23 ء انڈیا کے ٹوٹنے کا نجوم میزان کا ربانی تدبیراتی موسم ہے۔ اکیلے پاکستان کو  رگڑا دینا انڈیا کا وطیرہ رہا ہے۔ مگر اب اس کا پھڈا لداخ و تبت میں چین کے ساتھ بھی ہے۔ نیپال کے ساتھ بھی۔ بنگلہ دیش کے ساتھ بھی۔ بھوٹان کے ساتھ بھی۔ کیونکہ یہ سارے ممالک اور علاقے چینی اثرورسوخ کی طرف جاچکے ہیں۔ لہٰذا ہماری اسٹیبلشمنٹ ، فوج، ریاستی اداروں کا کام2021 ء میں شائد بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔ بہت سے ہنگامہ خیز معاملات طلوع ہوتے رہیں گے۔
عمران خان کی حکومت کے بھی مئی تک کا عرصہ بہت زیادہ مشکلات، مسائل کے نام ہوتا رہے گا۔ ویسے تو عملاً مجھے توقع ہے کہ مارشل لاء نہیں لگے گا۔ مگر سینٹ انتخابات کے بعد شائد ایمرجنسی نافذ ہو جائے گی۔ روحانی وجدان کے لاہور میں مقیم بزرگ کئی مہینوں سے کہہ رہے ہیں کہ2021 ء کا سال علماء، مذہبی شخصیات، مذہبی اداروں، وکلاء، ججوں کے حوالے سے بہت سخت اقدامات کانام ہوسکتا ہے۔ کس قدر شرمناک بات ہے کہ لاہور میں بار انتخابات کے ساتھ وکلاء نے کھل کر فائرنگ کی ہے۔ وکلاء دلیل و استدلال کا نام تھا اب غنڈہ گردی کا نام ہوگیا ہے۔
 

تازہ ترین خبریں

ایم کیو ایم نے وزیراعظم کو اعتماد کے ووٹ کے بدلے ڈپٹی چیئرمین شپ مانگ لی

ایم کیو ایم نے وزیراعظم کو اعتماد کے ووٹ کے بدلے ڈپٹی چیئرمین شپ مانگ لی

اعتماد کا ووٹ! عمران خان کا دیوانہ میدان میں آگیا، اپنے کپتان کے لیے بھوکے پیٹ عبادت شروع کر دی، مگر یہ ہے کون؟

اعتماد کا ووٹ! عمران خان کا دیوانہ میدان میں آگیا، اپنے کپتان کے لیے بھوکے پیٹ عبادت شروع کر دی، مگر یہ ہے کون؟

پی ٹی آئی اپنے ارکان کس طرح پورے کرے گی؟ حکمت عملی سامنے آگئی

پی ٹی آئی اپنے ارکان کس طرح پورے کرے گی؟ حکمت عملی سامنے آگئی

’ہمارے کتنے ارکان نے خود کو بیچا‘ وزیر اعظم اراکین اسمبلی کے سامنے پھٹ پڑے، اجلاس میں جذباتی مناظر

’ہمارے کتنے ارکان نے خود کو بیچا‘ وزیر اعظم اراکین اسمبلی کے سامنے پھٹ پڑے، اجلاس میں جذباتی مناظر

اعتماد کاووٹ۔۔پی ڈی ایم کیاکرنیوالی ہے،کھلاڑیوں  کی مشکلات میں اضافہ کردینے والی خبرآگئی

اعتماد کاووٹ۔۔پی ڈی ایم کیاکرنیوالی ہے،کھلاڑیوں کی مشکلات میں اضافہ کردینے والی خبرآگئی

کرتار پور کو پرانے انداز میں آباد کرنے کا فیصلہ

کرتار پور کو پرانے انداز میں آباد کرنے کا فیصلہ

جماعت اسلامی کا وزیراعظم کواعتماد کا ووٹ نہ دینےکا اعلان لیکن مجموعی طور پر کتنے ووٹ ملنے کا امکان ہے؟

جماعت اسلامی کا وزیراعظم کواعتماد کا ووٹ نہ دینےکا اعلان لیکن مجموعی طور پر کتنے ووٹ ملنے کا امکان ہے؟

8.1 شدت کازلزلہ ،لوگ خوف کے مارے گھروں سے باہرنکل آئے،سونامی کی وارننگ جاری

8.1 شدت کازلزلہ ،لوگ خوف کے مارے گھروں سے باہرنکل آئے،سونامی کی وارننگ جاری

گَل بڑی وَدھ گئی اَے۔۔۔سینیٹ الیکشن کے بعد صحافی غریدہ فاروقی نے حکومت کے زخموں پر نمک چھڑک دیا

گَل بڑی وَدھ گئی اَے۔۔۔سینیٹ الیکشن کے بعد صحافی غریدہ فاروقی نے حکومت کے زخموں پر نمک چھڑک دیا

الیکشن کمیشن کی وزیراعظم کیخلاف پریس کانفرنس،وفاقی وزراء بول پڑے

الیکشن کمیشن کی وزیراعظم کیخلاف پریس کانفرنس،وفاقی وزراء بول پڑے

وزیراعظم نے چیئرمین سینٹ کوبلالیا،کیاہونے والاہے؟شہراقتدار سے بڑی خبرآگئی

وزیراعظم نے چیئرمین سینٹ کوبلالیا،کیاہونے والاہے؟شہراقتدار سے بڑی خبرآگئی

اگر کسی کو ہمارے فیصلوں پر اعتراض ہے تو ۔۔۔وزیراعظم  کی تقاریرکے بعد الیکشن کمیشن کابھی جواب آگیا،دبنگ اعلان

اگر کسی کو ہمارے فیصلوں پر اعتراض ہے تو ۔۔۔وزیراعظم کی تقاریرکے بعد الیکشن کمیشن کابھی جواب آگیا،دبنگ اعلان

سبی ، بابر کچ میں بارودی سرنگ  دھماکہ،متعدد افرادزخمی

سبی ، بابر کچ میں بارودی سرنگ دھماکہ،متعدد افرادزخمی

جنوبی پنجاب کے پانچ محکمے ختم کرنے کا فیصلہ

جنوبی پنجاب کے پانچ محکمے ختم کرنے کا فیصلہ