02:08 pm
بجلی بریک ڈائون، سرحدوں پر پاک بھارت طیاروں کی پروازیں

بجلی بریک ڈائون، سرحدوں پر پاک بھارت طیاروں کی پروازیں

02:08 pm

٭بجلی بریک ڈائون، کوئی وجہ معلوم نہ ہو سکی، سات اہلکار گرفتار!Oسرحدوں پر پاک وبھارت طیاروں کی پروازیں آصف زرداری، شدید علیل ہسپتال میں تیز بخار،شوگر لیول گر گیا، سخت کمزوری، نیم بے ہوشی! بیٹا بلاول اسلام آباد میں O مالا کنڈ میںاپوزیشن کا جلسہ، شدید سردی، تیز سرد ہوا، مریم نواز پھر نہیں آئیںO بھارت! کسانوں کا محاصرہ، ڈیڑھ ماہ گزر گیا، مزید 20 ہزار پہنچ گئےO پنجاب:8 فروری سے سہولت بازار ختم O واشنگٹن، ٹرمپ، مواخذے کی قرارداد، گوگل، فیس بک، ٹویٹر، انسٹا گرام کی پابندیاں O کرونا، 46 اموات، 2900 نئے مریض، 2300 کی حالت تشویش ناکO پیپلزپارلیمانی پارٹی، آصف زرداری بلامقابلہ صدر، فرحت اللہ بابر سیکرٹری جنرل O لاہور، وکلا کی بار ایسوسی ایشن اور بار کونسل میں ہوائی فائرنگ، حملہ، توڑ پھوڑ، متعدد گرفتار و مقدمے O ٹائمز آف انڈیا۔ 20 سال قبل وفات پانے والے آغا ہلالی کا پاکستان کے خلاف ’تازہ‘ بیان! O ن لیگ، تنخواہوں سے محروم 40 ملازمین کی بغاوت O عوام کے ساتھ نیا فراڈ کی ایک داستان۔
٭ایک اہم واقعہ: اتوار، 9 جنوری کو بھارت کے انگریزی کے سب سے بڑے اخبار ٹائمز آف انڈیا نے جلی سرخیوں کے ساتھ ایک خبر پہلے صفحہ پر نمایاں شائع کی کہ پاکستان کے ایک سابق سفارت کار آغا ہلالی نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں تسلیم کیا ہے کہ پچھلے سال فروری میں بھارتی طیاروں نے پاکستان کے علاقہ بالا کوٹ پر حملہ کر کے کالعدم تنظیم کے 300 افراد ہلاک کر دیئے تھے۔ میں نے فوری طور پر سوشل میڈیا پر وضاحت جاری کی کہ یہ خبر مکروہ جھوٹ کا پلندہ ہے، آغا ہلالی کا تو 6 فروری 2001ء کو کراچی میں انتقال ہو گیا تھا، وہ 20 سال بعد ایک ٹیلی ویژن پر کیسے آ گئے؟ میرے اس سوال پر ایک بین الاقوامی ادارے نے نوٹس لیا اور ٹائمز آف انڈیا سے وضاحت طلب کر لی۔ ٹائمز آف انڈیا کا جواب آنے سے پہلے پاکستان کے ہی بھارت کے ایک نمک خوار ’دانش ور‘ نے مجھ پر طنز کی کہ یہ بات آغا ہلالی نے نہیں کہی بلکہ آغا ہلالی کے بیٹے آغا ظفر ہلالی نے کہی ہے، اور یہ کہ ٹائمز آف انڈیا نے سہواً ظفر ہلالی کی بجائے آغا ہلالی کا نام لکھ دیا ہے۔ اس شخص نے کہا کہ خبر درست ہے، بھارت کے 36 اخبارات اور ٹیلی ویژنوں نے شہ سرخیوں سے یہ خبر ظفر ہلالی کے نام سے جاری کی ہے۔
٭تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ظفر ہلالی پاکستان کے سابق سفیر رہے ہیں، نہائت محب وطن پاکستانی اور دفاعی امور کے معروف تجزیہ نگار ہیں۔ انہوں نے 24 دسمبر کو ایک نجی ٹیلی ویژن ’’ہم نیوز‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے بالاکوٹ پر بھارتی طیاروں کے مبینہ حملے اور 300 افراد کی ہلاکت کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ پاکستان کی حکومت نے اسی روزبھارت کو سخت منہ توڑ جواب نہیں دیا، البتہ اگلے روز اس کا طیارہ مار گرایا۔ ظفر ہلالی نے انٹرویو کے دوران دوبار اپنا موقف دہرایا کہ بھارت کے طیاروں کا حملہ اور 300 افراد کی ہلاکت محض ایک جھوٹا افسانہ ہے۔ اس انٹرویو کے دو ہفتے بعد 9 جنوری کو ایک خبر رساں ایجنسی آئی این این نے مذکورہ خبر جاری کر دی ہے کہ ظفر ہلالی نے بھارتی حملے اور 300 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ 10 جنوری کو ظفر ہلالی کی بھارت کے میڈیا کی اس خبر کی سخت تردید آ گئی۔ مگر پاکستان کے ٹکڑوں پر پلنے و الے اس بھارتی نمک خوار دانش ور کو پاکستان کے خلاف بدزبانی پر کسی شرم و حیا کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی! (میرے پاس ظفر ہلالی کے 24 دسمبر کے انٹرویو اور بھارتی اخبارات کی خبروں کی تفصیل محفوظ ہے۔)
٭ ایک اہم ذاتی واقعہ ۔ اتوار کے روز موبائل فون کی گھنٹی بجی، ایک مردانہ آواز آئی… ’’میں خالد بخاری (میرا بھتیجا) بول رہا ہوں۔ ابھی کڈنی کے آپریشن کے بعد گھر آیا ہوں۔ بہت تکلیف میں ہوں ڈاکٹر ساتھ ہے اسے فیس دینی ہے، فوری طور پر 10 ہزار روپے بھیج دیں، پرسوں واپس کر دوں گا۔‘‘ یہ کال 03345201439 نمبر سے آئی جو خالد کا نہیں تھا مگر آواز بالکل خالد کی تھی۔ میں نے نمبر چیک کئے بغیر محض آواز پر پریشان ہو کر کسی طرح پیسوں کا انتظام کیا پھر فون آیا کہ پیسوں کا کیا انتظام ہوا؟ میں نے کہاکہ خود آ جائو یا بیٹے کو بھیج دو۔ جواب آیا کہ خود نہیں آ سکتا۔ بیٹا پاس نہیں، اسی نمبر پر ایزی پیسہ پر بھیج دیں۔ جلدی کریں، میں تکلیف میںہوں۔ اب میں نے نمبر پھر دیکھا تو وہ خالد کا نہیں تھا۔ خالد کو اس کے نمبر پر فون کیا کہ کیا مسئلہ ہے؟ اس نے حیرت کا اظہار کیا کہ میں نے تو ایسا کوئی فون نہیں کیا۔ میرا آپریشن تو ہوا ہے مگر پیسوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں نے اس شخص کو فون کر کے سخت لہجہ میں بات کرنے کی کوشش کی، اس نے فون بند کر دیا۔ میں نے اس کا نمبر ایف آئی اے کے ایک بڑے افسر کو بھیج دیا ہے۔ اس افسر نے بتایا ہے کہ انہیںپہلے بھی ایسی بہت سی شکایات ملی ہیں۔ فراڈیے لوگ ہسپتالوں میں جا کر مریضوں کا، تھانوں میں گرفتار افراد اور کسی حادثے کے شکار ہونے والے افراد وغیرہ کے نام پتہ اور دوسری معلومات حاصل کر کے انہی کی مکمل آواز میں ان کے رشتہ داروں کو دوسرے مقامی طور پر یا دوسرے شہروں میں فوری امداد کی اپیل کرتے ہیںاور اپنے نمبروں پر ایزی پیسہ وغیرہ کے ذریعے لوٹ رہے ہیں۔ اب تک بہت سے لوگ ایسے فراڈیوں کے ہاتھوں لاکھوں گنوا چکے ہیں۔ پہلے بے نظیر بھٹو سکیم کے انعام، سرکاری پلاٹوں کی الاٹ منٹوں، سٹیٹ بنک کی انکوائری کے نام پر بنک اکائونٹ جاننے کے بعد بھاری لوٹ مارکے بے شمار دوسرے سکینڈلوں کے بعد اب نیا فراڈ!! مجھے دو خواتین اور ایک شخص نے بتایا ہے کہ اس طرح کی  لوٹ مار سے بھاری رقموں سے محروم ہو چکے ہیں۔ قارئین کرام! احتیاط کیجئے! ایسی کالوں پر بالکل اعتبار نہ کریں۔ کسی کی مدد کرنا ہو تو پہلے ذاتی طور پر پوری چھان بین اور مکمل اطمینان کے بعد مدد کریں اور فراڈ کرنے والوں کے نمبر فوری طور پر ایف آئی اے کو بھجوا دیں۔ میرے ساتھ فراڈ کرنے کی کوشش کرنے والے کا نمبر پھر سے دیکھ لیں ’’03345201439‘‘
٭اب دوسری باتیں! ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات اچانک بارہ گھنٹے تک بجلی کے بریک ڈائون سے پورا ملک مکمل اندھیرے  میں ڈوب گیا۔ ہر قسم کا کاروبار رک گیا، کارخانے بند ہو گئے۔ سخت سردی کے باعث پنکھے بند ہونے کی اذیت ناک صورت حال تو سامنے نہ آئی مگر ٹیلی ویژن اور وائی فائی وغیرہ بند ہو جانے سے پورے ملک میں افواہیں پھیل گئیں کہ کوئی انتہائی دہشت گردی وغیرہ کا معاملہ پیش آ گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک خبر آ گئی کہ اسلام آباد اور سرحدوں پر پاک فضائیہ کے طیارے مسلسل پروازیں کر رہے ہیں۔ دوسری طرف بھارت سے اطلاع آئی کہ بھارتی ایئرفورس نے بھی ہائی الرٹ کا اعلان کر دیا ہے اور اس کے بہت سے جنگی طیارے سرحدوں پر پہنچ گئے ہیں۔ ان خبروں سے عوام کا پریشان ہونا فطری بات تھی۔ رات بہت پریشانی میں گزری۔ صبح اخبارات کے بروقت آنے پر اطمینان ہوا کہ کوئی ایسی غیر معمولی باتا نہیں، کوئی اچانک تکنیکی مسئلہ پیدا ہوا ہے۔ بجلی تقریباً 12 گھنٹے بعد دوپہر کو بحال ہونا شروع ہوئی۔ اطلاع ملی کہ گدو بیراج کے بجلی گھر میں عملے کی غفلت سے ایک معمولی فالٹ پیدا ہوا، عملہ غائب تھا، اسے بروقت ٹھیک نہ کیا گیا اور فالٹ بڑھتا چلا گیا جس کا نتیجہ کہ ملک بھر کے فیڈر ٹرپ کر گئے۔ اس بارے میں عملہ کے سات افسر اور دوسرے ارکان معطل کئے جا چکے ہیں۔
٭کسی بجلی گھر میں کسی فنی خرابی کا پیدا ہونا ایسی غیر معمولی بات نہیں۔ ماضی کی حکومتوں کے دور میںآٹھ بار ایسے ملک گیر بریک ڈائون ہو چکے ہیں۔ نوازشریف کے دور میں ایک بار ساڑھے نو گھنٹے اور آصف زرداری کے دور میں چھ چھ گھنٹے، ایک بار اڑھائی گھنٹے تک ایسے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ امریکہ جیسے انتہائی ترقی یافتہ اور دوسرے ملکوں میں شدید برف باری، بارش اور دھند وغیرہ سے ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں، اب بھی ہو رہے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ امریکہ میں ایک رات صرف تین گھنٹے کے ایسے بریک ڈائون میں مکمل اندھیرے میں سینکڑوں بڑے چھوٹے سٹور لٹ گئے۔ سٹوروں کا اربوں ڈالروں کا سامان لوٹ لیا گیا اور یہ کہ ان سٹوروں میں موجود بے شمار خواتین کی بے حرمتی کے واقعات پیش آئے۔ شکر ہے کہ ہمارے ہاں وہ ماحول نہیں، ہماری معاشرتی اقدار بالکل مختلف اور قابل تحسین ہیں۔ اب یہ کہ چلیں ایک اتفاقیہ واقعہ ہو گیا۔ بجلی بند ہوئی اور بحال ہو گئی…مگر…مگر بہت اہم، بہت سنجیدہ قسم کا سوال پیدا ہوتا ہے کہ کسی بجلی گھر کے ایک یا دو افراد کسی سازش کے شکار ہو کر پورے ملک کو کسی انتہائی خطرناک صورتحال سے دوچار کر سکتے ہیں؟ یہ ملک کی نہائت حساس سکیورٹی کا معاملہ ہے۔ گدوبیراج کا عملہ غیر حاضر تھا تو اوپرکی انتظامیہ کیوں لاعلم رہی؟ یہ معمولی نہیں، انتہائی سنگین غفلت ہے! کون ایسی کوتاہیوں کا کون نوٹس لے گا؟ میںبہت عرصہ پہلے گدو بیراج کے پاور ہائوس کی افتتاحی تقریب میں شریک ہوا تھا۔ یہ پاور ہائوس دریائے سندھ کے بالکل کنارے پر واقع ہے۔ اس میں دریائے سندھ سے پانی لایا جاتا ہے  جو گیس یا تیل کی بھٹیوں میں آگ سے بھاپ کی شکل اختیار کرتا ہے۔ اس بھاپ سے مشینیں چلتی اور بجلی بناتی ہیں۔ میں نے اس وقت ایک سوال کیا تھا جس کا کبھی جواب نہیں ملا کہ آگ سے بھاپ بنانے کے لئے نہائت صاف پانی کی ضرورت ہوتی ہے مگر گدو بیراج میں سے گزرنے والا دریائے سندھ کا پانی پورے ملک کے گندے پانی اور مٹی وغیرہ سے بھرا ہوتا ہے، اس پانی سے مشینیں پوری طرح کام نہیں کر سکیں گی۔ میرا یہ عام فہم قسم کا سوال تھا مگر جواب نہ مل سکا…اور…اور اب تک ہونے والے بجلی کے بریک ڈائون کے بیشتر واقعات کا گدوبیراج کے پاور ہائوس سے تعلق ہوتا ہے!!

 

تازہ ترین خبریں