02:00 pm
فوجی ترجمان اور مولانا

فوجی ترجمان اور مولانا

02:00 pm

فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے، کوئی بیک ڈور رابطے نہیں،پنڈی آنے کا جواز نہیں اگر آئے تو چائے پانی پلائیں گے، فوجی ترجمان کا بیان۔
کالم کا آغاز ایک لطیفہ نما بیان سے کرتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل نے کہا ہے کہ عمران خان نے دیگر اداروں کی طرح کرکٹ بورڈ کا بھی بیڑہ غرق کر دیا ہے۔ عبدالقادر پٹیل  ایسے جیالا رکن اسمبلی ہیں جو اسمبلی کارروائی میں اکثر خلل ڈالتے رہنے کے بھی عادی ہیں مگر ہیں تو وہ رکن قومی اسمبلی۔ لطف لیجئے جہاں تک فوجی ترجمان کے بیان کا تعلق ہے۔ اس پر زیادہ بات کرنے کی بجائے، کیونکہ یہ بیان بڑا واضح ہے، بیک ڈور رابطوں کے حوالے سے بھی، پی ڈی ایم کے اندرونی معاملات پر بات کرتے ہیں۔
پیپلزپارٹی کے بائیں بازو کے، ایم اے فلسفہ از پنجاب یونیورسٹی، خاندانی تعلق اہل حدیث گجر، لالہ موسیٰ کے خاندان سے، قمرالزمان کائرہ  کا بیان ہے کہ ’’راولپنڈی‘‘ جانے کا بیان فضل الرحمان کی ذاتی رائے ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے مالاکنڈ والے جلسے میں فوج پر تنقید اور بیانات پر یہ بہتر تبصرہ، تجزیہ پی ڈی ایم میں سے ہو تو کیا مطلب؟ سمجھ جائیں مولانا کی سیاسی کشتی ڈوب رہی ہے۔
پیپلزپارٹی کے جٹ برادری کے سیکولر، لبرل، مفکر، شاعر، مصنف، مگر اہل حدیث خاندان کا ماضی بعید پس منظر رکھتے، عظیم باپ چوہدری احسن اور عظیم ماں جس نے تحریک پاکستان میں پنجاب اسمبلی پر پاکستانی جھنڈا لہرایا تھا، کے بیٹے چوہدری اعتزاز احسن کا بیان ہے کہ آصف علی زرداری فوری طور پر عمران خان کے استعفیٰ کے حق میں نہیں اور ان کی راولپنڈی کی طرف مارچ جیسے (مولانا فضل الرحمان کے) عزائم پر رائے مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پی ڈی ایم کی تحریک نے کامیابی حاصل کرنی ہے تو نواز شریف کو واپس آنا ہوگا۔ کیا نواز شریف واپس آجائیں گے؟ مبشرلقمان، ایک اینکر پرسن کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم صرف ایک آدمی کا نام ہے اور وہ مولانا فضل الرحمان ہے۔ باقی لوگوں کو اہمیت دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ پروگرام دی لاسٹ آور میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پی ڈی ایم کی موت مریم نواز کے ہاتھوں ہوگئی ہے۔ اپنے والد کی 35سالہ سیاست کو اس نے ختم کر دیا۔ اپنے چچا (شہباز شریف) کی سیاست ختم کر دی، اب پی ڈی ایم کو ختم کرنے پر تل گئی ہے۔ البتہ پی ڈی ایم کی تحریک میں جو بھی شدت آئے گی اور ضرور آئے گی، تو وہ صرف مولانا فضل الرحمان کے سبب آئے گی۔ رانا عظیم ایک صحافی و تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ میاں نواز شریف کی یہ خواہش اور  مطالبہ تھا کہ ہر صورت پارلیمنٹ کا خاتمہ ہو (بے شک مارشل لاء ہی لگ جائے) سینٹ الیکشن نہ  ہوں، مولانا فضل الرحمان اور نواز شریف اس معاملے پر متفق تھے۔ مگر پی پی پی کی خواہش ہے کہ اگر عمران خان جائے تو نئے سیٹ اپ میں پی پی پی  کو کردار ملے اور عبوری سیٹ اپ کچھ عرصے کے لئے آجائے۔ رانا عظیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ نواز شریف کے قریبی ساتھی دو عرب ملکوں سے رابطے میں تھے۔ گزشتہ روز دونوں عرب ممالک نے نواز شریف کو انکار کر دیا ہے۔
لاہور سے خبر ہے کہ اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) نے ان ہائوس تبدیلی کا امکان مسترد کر دیا ہے۔ مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز کی زیرصدارت سیالکوٹ، گوجرانوالہ کے ٹکٹ ہولڈر کا اجلاس ہوا جس میں ضمنی انتخابات پر مشاورت کی گئی۔ یاد رہے ڈسکہ سیالکوٹ سے ایک سیٹ پر قومی اسمبلی کا ضمنی انتخاب ہونے جارہا ہے۔
سینٹ میں پنجاب سے دوبارہ ٹکٹ مسلم لیگ (ن) کس کو دے گی؟ راجہ ظفر الحق، پرویز رشید، پروفیسر ساجد میر ریٹائر ہو رہے ہیں۔ جبکہ مریم نواز شریف و نواز شریف کے ذاتی ترجمان اور مسلم لیگ (ن) کے سندھ کے صدر ایک شاہ صاحب نے پنجاب (لاہور) میں اپنا ووٹ درج کروایا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سندھی شاہ کو شہباز شریف کی حمایت حاصل ہے اور زبیر عمر کو مریم نواز کی۔ پرویز رشید کو یقینا نیا ٹکٹ ملے گا، شائد زبیر عمر کو بھی پنجاب سے سینیٹر بنوانے کی مریم نواز سرتوڑ کوشش کرے گی۔ راجہ ظفرالحق اور ساجد میر کیا نظرانداز ہوں گے یا اکاموڈیٹ؟ مشکل سوال ہے۔ ویسے جنرل عمر جو جنرل یحییٰ خان کے سقوط ڈھاکہ پروجیکٹ میں دست راست تھے کے چار بیٹے ہیں، ایک نیشنل بینک میں صدر ہیں۔ ایک اسد عمر اسلام آباد سے دوسری مرتبہ ایم این اے اور وفاقی وزیر ہیں۔ ایک زبیر عمر جو ماشاء اللہ نواز شریف کے نفس ناطقہ ہیں اور ایک چوتھے بھائی ان کے مسلم  لیگ (ق) کے چوہدری پرویز الٰہی کے قریب ہیں۔ کیسا ہے؟ جنرل عمر کے بیٹوں نے ہر پارٹی میں مورچہ لگا رکھا ہے۔ جو بھی اقتدار میں ہوگا خاندان کا تو بھلا ہی کرے گا۔
آخر میں صدر ٹرمپ کے حوالے سے کچھ خبر اور تجزیہ، امریکی کانگرس کے ڈیموکریٹ ارکان نے صدر کو ہٹانے کی قرارداد پیش کر دی ہے۔ منگل کو ووٹنگ ہوگی ہے۔ کانگرس میں اکثریت ڈیموکریٹس کی ہے۔ اب سینٹ میں بھی 51فیصد برتری ڈیموکریٹس کو حاصل ہے۔ اگر مواخذہ شروع ہوا تو اس کو مکمل کرنے میں کافی زیادہ وقت شائد کئی دن یا ہفتے لگ سکتے ہیں۔ سوال ہے کہ نینسی پلوسی ٹرمپ کا مواخذہ کرنے پر کیوں تلی ہوئی ہیں؟ کیونکہ 20جنوری کو تقریب حلف برادری میں صدر ٹرمپ کے حامیوں کی یلغار کا خطرہ موجود ہے۔ جبکہ 20جنوری کے بعد ٹرمپ جوبائیڈن مخالف شدید احتجاجی رویہ اپنانے والے ہیں۔ وہ منصوبہ رکھتے ہیں کہ وہ جوبائیڈن انتظامیہ کو ناکام بناتے رہیں گے تاکہ 2024ء میں  وہ پھر سے صدارتی امیدوار بن جائیں۔ یادرہے کہ 2023ء سے 2025ء کا عرصہ ماہرین نجوم کے نزدیک امریکہ اور بھارت کے ٹوٹ جانے کا ہے۔ انڈیا تو 2022ء سے 2023ء کے درمیان  ٹوٹنے کی طرف چل پڑے گا۔ اللہ کا حکم ہے جبکہ امریکہ 2023ء سے 2025ء کے درمیان جبکہ  2025ء میں مکمل ٹوٹ جائے گا۔ اللہ کے حکم سے۔
 

تازہ ترین خبریں

وزارت خزانہ نے ایف نائن پارک گروی رکھنے کی وضاحت کردی

وزارت خزانہ نے ایف نائن پارک گروی رکھنے کی وضاحت کردی

پانی ذخیرہ کرنے کیلئے جنوبی پنجاب میں سمال ڈیمز بنائیں گے،عثمان بزدار

پانی ذخیرہ کرنے کیلئے جنوبی پنجاب میں سمال ڈیمز بنائیں گے،عثمان بزدار

 پی ڈی ایم کا اہم اجلاس4فروری کو طلب

پی ڈی ایم کا اہم اجلاس4فروری کو طلب

نالائقوں نے پاکستان کو نیلام گھر بنا دیا ،مریم اورنگزیب

نالائقوں نے پاکستان کو نیلام گھر بنا دیا ،مریم اورنگزیب

شبلی فراز نے پی ڈی ایم کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کاثبوت دیدیا

شبلی فراز نے پی ڈی ایم کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کاثبوت دیدیا

پی ڈی ایم اختلافات کے باعث شدید کشمکش کا شکار ہے ،وزیرخارجہ

پی ڈی ایم اختلافات کے باعث شدید کشمکش کا شکار ہے ،وزیرخارجہ

اسلام آباد ہائیکورٹ :حکومت نے سوشل میڈیا قواعد پر نظر ثانی کی حامی بھرلی

اسلام آباد ہائیکورٹ :حکومت نے سوشل میڈیا قواعد پر نظر ثانی کی حامی بھرلی

 خیبرپختونخوا میں 73فیصد سروے مکمل کرلیا ، طلبہ کو جلدسکالرشپ دینگے،ثانیہ نشتر

خیبرپختونخوا میں 73فیصد سروے مکمل کرلیا ، طلبہ کو جلدسکالرشپ دینگے،ثانیہ نشتر

سندھ ایپکس کمیٹی کا5ماہ بعد اجلاس ،نیشنل ایکشن پلان پر غور

سندھ ایپکس کمیٹی کا5ماہ بعد اجلاس ،نیشنل ایکشن پلان پر غور

عمران خان ہی 2023تک وزیراعظم ر ہیںگے،گورنرپنجاب

عمران خان ہی 2023تک وزیراعظم ر ہیںگے،گورنرپنجاب

پی ڈی ایم کی وجہ سے لعنت بھیجنے والوں کو آج پارلیمنٹ یادآیا،رانا ثنا اللہ

پی ڈی ایم کی وجہ سے لعنت بھیجنے والوں کو آج پارلیمنٹ یادآیا،رانا ثنا اللہ

مریم نوازآج پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کریں گی

مریم نوازآج پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کریں گی

استعفے یاعدم اعتماد،ہمارا مقصدنااہل حکومت کو گھربھیجنا ہے،قمرزمان کائرہ

استعفے یاعدم اعتماد،ہمارا مقصدنااہل حکومت کو گھربھیجنا ہے،قمرزمان کائرہ

بلاول کابیان ایک رائے،اسے اختلافات نہیں کہا جاسکتا،عظمیٰ بخاری

بلاول کابیان ایک رائے،اسے اختلافات نہیں کہا جاسکتا،عظمیٰ بخاری