12:28 pm
 سنگاپور بنک میں ایک ارب ڈالر!!نیا سکینڈل!

 سنگاپور بنک میں ایک ارب ڈالر!!نیا سکینڈل!

12:28 pm

٭ٹرمپ، ایوان نمائندگان، مواخذہ منظور، سینٹ میں حتمی فیصلہO اسرائیل کی شام کے ایرانی ٹھکانوں پر شدید بم باری، 57 ہلاکتیںO لاہور۔ بڑے ’بدمعاشوں‘ کے اڈوں پر چھاپے، 97 گرفتار، بھاری تعداد میں اسلحہ برآمدO شاہد خاقان کی واپسیO مولانا فضل الرحمان کو سنیٹر بنانے کا وعدہ O ن لیگ، شہبازشریف، خواجہ آصف، عدالتوں میںپیشیاں، کارکن نہ آنے پر قیادت برہمO سینٹ، الیکشن میں بھرپور حصہ لیںگے، یوسف رضا گیلانی O سنگا پور کے بنک میں شریف خاندان کے مبینہ ایک ارب ڈالروں کا انکشاف O نیب: مولانا کے دو فرنٹ مینوں کی چار حج کمپنیاں، مولانا پر کروڑوں کمانے کا الزامO لورا لائی: اپوزیشن کا جلسہ، مریم، بلاول غائبO کرونا 55 ہلاک، 2408 نئے کیس، 2366 تشویش ناکO شہزاداکبر: مریم اورنگزیب کو غلط الزام پر 50 کروڑ کا نوٹس۔
٭امریکہ کے باقی چار روز کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نئی نئی شامتوں اورذلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایوان نمائندگان نے 197 کے مقابلہ میں 232 ووٹوں سے اس کے مواخذہ کی قرارداد منظور کر لی اور اسے فوری طور پر برطرف کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم حتمی فیصلہ، سینٹ کرے گا۔ سینٹ امریکہ کا طاقت ور ترین سیاسی ادارہ ہے اسکے تمام ارکان براہ راست منتخب ہوکر آتے ہیں۔ امریکہ کا نائب صدر اس کا چیئرمین ہوتا ہے۔ سینٹ امریکہ کے بجٹ، اعلیٰ عدالتوں کے ججوں اور سفیروں وغیرہ کی تقرریوںاور دوسرے اہم معاملات کی منظوری دیتا ہے۔ ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی نے تو ٹرمپ کو فوری طور پر برطرف کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے مگر سینٹ میں ایسے معاملات پر فوری فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ طویل بحث مباحثہ ہوتا ہے۔ موجودہ چیئرمین مائیک پنس پہلے ہی ٹرمپ کو ہٹانے کی مخالفت کر چکے ہیں۔ اس طرح ٹرمپ مزید چار دن صدرکے عہدہ پر قائم رہ سکتا ہے مگر اس کے خلاف سنگین الزام ہے کہ اس کے اکسانے پر اس کے حامیوں نے کانگریس پر مجرمانہ حملہ کیا، وسیع پیمانہ پر توڑ پھوڑ کی۔ اس ہنگامے میں پولیس کی کارروائی سے پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔ ٹرمپ نے دو روز قبل پھر اپنے حامیوں کے احتجاج کی حمائت کی مگر گزشتہ روز مذمت کر دی کہ قانون شکنی نہیں ہونی چاہئے تھی۔ ٹرمپ اور اس کی بیوی ملانیا نے 20 جنوری کو نئے صدر بائیڈن کی حلف برداری میں شریک نہ ہونے کا اعلان کیا ہے، اس پر بائیڈن نے مسرت کا اظہار کیا ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ ایوان نمائندگان (قومی اسمبلی) نے اس سے قبل دسمبر 2019ء میں بھی ٹرمپ کے خلاف مواخذہ کی قرارداد منظور کی تھی اسے سینٹ نے منظور نہیں کیاتھا۔ اس وقت سینٹ میں ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کی اکثریت تھی اس کے پاس 51 اور مخالف ڈیموکریٹک پارٹی کی 49 نشستیں تھیں۔ اب یہ ترتیب بدل گئی ہے اور ڈیموکریٹ ارکان کی تعداد 51 ہو گئی ہے۔ تاہم کسی صدر کے مواخذہ کے لئے دو تہائی (کم از کم 68) ارکان کی منظوری لازمی ہے جو مشکل دکھائی دے رہی ہے۔ قابل ذکر بات کہ ایوان نمائندگان میں خود ٹرمپ کی پارٹی کے 10 ارکان نے بھی اس کے مواخذہ کے حق میں ووٹ دیئے ہیں! ٹرمپ چار روز کے بعد صدر کے عہدہ سے فارغ ہو بھی جائیں تو بھی مواخذہ ہو سکتا ہے! اسے گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے۔
٭لاہور میں گزشتہ روز اچانک پولیس نے رات کے وقت مبینہ طور پر ’’بڑے بڑے‘‘ بدمعاشوں کے اڈوں پر چھاپے مار کر 97 افراد کو جوا بازی، دہشت گردی، ناجائز اسلحہ اور دوسرے متعدد مقدمات کے سلسلے میں گرفتار کر لیا۔ چھاپے زیادہ ٹرکوں کے اڈوں پر مارے گئے ان میں ’ٹیپو ٹرکاں‘ والا شاہ عالم گیٹ کے چوک میں مشہور اڈا اور ایک ن لیگی ایم پی اے سہیل شوکت بٹ کا اڈا بھی شامل ہے۔ ٹیپو ٹرکاں والے اڈے اور ایک دوسرے بڑے اڈے کے مالکان کے درمیان فائرنگ اور خونریز لڑائیوں میں دونوں طرف کے متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
٭لندن: پانامہ کیس کے بعد اب اچانک ’ براڈ شیٹ کیس‘ نے بھی اسی طرح کی اہمیت اختیار کر لی ہے۔ براڈ شیٹ کے ایرانی نژاد مالک ’کاوی موسوی‘ نے نیا انکشاف کر دیا ہے کہ سنگا پور کے ایک بنک میں نوازشریف خاندان کے ایک ارب ڈالروں کا اکائونٹ سامنے آیا ہے۔ موسوی نے کہا ہے کہ اس کی کمپنی سے معاہدہ کیا جائے تو اس اکائونٹ کے حقائق سامنے لائے جا سکتے ہیں۔ یہ معاملہ فی الحال تصفیہ طلب ہے تاہم قارئین جانتے ہوں گے کہ نوازشریف وزیراعظم تھے تو اکثر اپنی اہلیہ کلثوم نواز (مرحومہ) کو علاج کے لئے سنگا پور لے جایا کرتے تھے۔ اس وقت برطانیہ یا امریکہ کی بجائے سنگا پور میں علاج کی منطق ناقابل فہم لگتی تھی مگر اب ایک ارب ڈالروں کے اکائونٹ کے انکشاف نے معاملہ کو قابل فہم بنا دیا ہے!
٭براڈ شیٹ معاملہ حکومت اور اپوزیشن دونوںکے لئے دردسر بنتا جا رہا ہے۔ موجودہ حکومت پر الزام ہے کہ اس کے دور میں نیب نے ایک برطانوی عدالت کے فیصلہ پر براڈ شیٹ کمپنی کو کسی اہم کارکردگی کے بغیر سات ارب روپے دے دیئے ہیں۔ حکومت کا موقف ہے کہ براڈشیٹ نے نوازشریف کو دنیا بھر میں متعدد اثاثے خریدنے کا ملزم قرار دے دیا ہے۔ دونوں طرف سے الزامات کی بوچھاڑ کے دوران ن لیگ، بلکہ مریم نواز کی ذاتی ترجمان مریم اورنگ زیب نے اچانک وزیراعظم کے مشیر شہزاد اکبر پر الزام عائدکر دیا کہ انہوںنے اپوزیشن پر الزامات کے لئے براڈ شیٹ کو بھاری ادائیگی میں سے بھاری کمیشن مانگا ہے۔ اس پر شہزاد اکبر نے مریم اورنگ زیب کو 50 کروڑ روپے ہرجانہ اور معافی مانگنے کا نوٹس بھیج دیا ہے۔ یہ نوٹس صرف سیاسی تشہیر کے لئے ہوتے ہیں۔ آج تک کبھی کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ شہباز شریف نے دو سال قبل عمران خان کو دس ارب روپے کا نوٹس بھیجا تھا جوپتہ نہیں کہاں پر کون سی الماری میں بند پڑا ہے؟ اس طرح کے اور یعنی ایک دوسرے کے خلاف بہت سے نوٹس جاری ہوتے رہے ہیں۔ ایک نوٹس البتہ جزوی طور پر نتیجہ خیز ثابت ہوا مگر اس پر بھی عمل نہ ہو سکا۔ تقریباً 30، 35 سال قبل خان ولی خان نے ایک اخبار کو کسی خبر پر پانچ کروڑ روپے ہرجانہ کا نوٹس دیا۔ عدالت نے اخبار کو پانچ کروڑ کی ادائیگی کا حکم جاری کر دیا۔ مگر اس کے بعد ولی خان  خاموش ہو گئے۔ ایک بار لاہور آئے۔ میں نے اس رقم کی وصولی کے بارے میں پوچھا۔ ہنسنے لگے کہ ’’جناب! ہم سیاسی لوگ ہیں، یہ محض سیاسی کارروائیاں ہوتی ہیں۔ سیاست دان میڈیا کو دشمن نہیں، دوست بناتا ہے‘‘ چند روز بعداخبار کی طرف سے بڑی عزت کے ساتھ ولی خان کو دفتر بلایا گیا اور بڑے اہتمام کے ساتھ ان کا تفصیلی انٹرویو شائع کیا گیا۔ اس کے بعد ولی خان جب بھی لاہور آتے، اخبار کے دفتر ضرور جاتے۔
٭شاہد خاقان عباسی اپنی بیمار بہن اور بہنوئی کی عیادت کے لئے امریکہ گئے۔ کچھ ’باخبر‘ اینکر پرسنوں اور ’تجزیہ نگاروں‘ نے فوراً ’اندر‘ کی خبریں چھاپ دیں کہ شاہد خاقان عباسی بھی نوازشریف کی طرح جھوٹ بول کر پاکستان کو چھوڑ گئے ہیں اور امریکہ میں حسین حقانی سے مل کر عمران خان کی حکومت کے خلاف مہم چلائیں گے۔ مگر، کچھ بھی نہ ہوا۔ عباسی صاحب کو 15 دن کے لئے باہر جانے کی اجازت ملی تھی وہ باوقار انداز میں مقررہ مدت میں واپس آ گئے۔ اب میڈیا کے بزرجمہروں نے ’اندرونی‘ انکشاف کیا ہے کہ شاہد خاقان عباسی لندن سے مریم نواز کے لئے کوئی اہم پیغام لائے ہیں۔ نوازشریف اور مریم میں 24 گھنٹے فون پر مسلسل رابطہ رہتا ہے، مریم ہر بات کو دبنگ انداز میں بیان کرتی چلی جاتی ہیں۔ کوئی خفیہ پیغام کیا ہو سکتا ہے؟
٭گزشتہ روز بلوچستان کے وسط میں واقع شہر لورا لائی میں اپوزیشن اتحاد کا جلسہ منعقد ہوا۔ اس کی روداد چھپ چکی ہے۔ جلسے میں بلاول اور مریم نواز شریک نہیں ہوئے۔ مریم نواز مالاکنڈ بھی نہیں گئی تھیں۔ بلاول چار جلسوںسے غیر حاضری کے بعد مالاکنڈ گئے مگر لورا لائی سے پھر غائب!! اس جلسے میں مولانا فضل الرحمان تقریباً اکیلے تھے۔ ایک وجہ تو یہ کہ ن لیگ، پیپلزپارٹی اور اپوزیشن اتحاد کی دوسری پارٹیاں قومی و صوبائی اسمبلیوں کی 8 نشستوں کے ضمنی انتخابات اور پھر سینٹ کے انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ بلاول کو والد کی علالت کامسئلہ بھی درپیش ہے۔ اپوزیشن کے اب تک دس بارہ سے زیادہ جلسے ہو چکے ہیں۔ ویسے پہلے جلسے میں جو مطالبات کئے گئے وہ بھی سارے واپس لئے جا چکے ہیں۔ حکومت کے خاتمہ کی ساری تاریخیں بھی گزر گئیں، کچھ بھی نہ ہوا۔ اب خبریں آ رہی ہیں کہ اپوزیشن کے ساتھیوں نے مولانا کو صرف ضمنی و سینٹ کے انتخابات میں شرکت پر راضی کر لیا بلکہ یہ وعدہ ہی کر لیا ہے کہ سینٹ کے الیکشن میں مولانا کو سینٹ کی ایک نشست دے دی جائے گی اور اگرن لیگ اورپیپلزپارٹی کو اکثریت مل گئی تو مولانا کو سینٹ کا چیئرمین بھی بنایا جا سکتا ہے! بات دلچسپ لگتی ہے مگر سیاست میں سب کچھ ہو سکتا ہے!
 

تازہ ترین خبریں

وفاقی حکومت حساس ڈیٹا محفوظ بنانے کیلئے قانون سازی کرے،سندھ ہائیکورٹ

وفاقی حکومت حساس ڈیٹا محفوظ بنانے کیلئے قانون سازی کرے،سندھ ہائیکورٹ

آئندہ بجٹ میں19 لاکھ نوکریاں دینے کا ہدف مقرر

آئندہ بجٹ میں19 لاکھ نوکریاں دینے کا ہدف مقرر

وزیرخارجہ شاہ محمود کا دورہ یو اے ای کامیاب ۔۔ دوست ملک نے بڑی خوشخبری سنادی

وزیرخارجہ شاہ محمود کا دورہ یو اے ای کامیاب ۔۔ دوست ملک نے بڑی خوشخبری سنادی

اس سال صرف50 ہزار پاکستانی حج کر سکیں گے،وزیر مذہبی امور نور الحق قادری

اس سال صرف50 ہزار پاکستانی حج کر سکیں گے،وزیر مذہبی امور نور الحق قادری

سندھ میں میٹرک اور انٹر کے امتحانات میں تاخیر کا خدشہ

سندھ میں میٹرک اور انٹر کے امتحانات میں تاخیر کا خدشہ

جہانگیر ترین گروپ کا حکومتی سیاسی کمیٹی سے ملاقات سے انکار

جہانگیر ترین گروپ کا حکومتی سیاسی کمیٹی سے ملاقات سے انکار

 لاہور کے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بحال

لاہور کے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بحال

عوام تیاری کریں۔۔۔آج ملک میںکیا ہونےوالاہے؟ جان کر روزہ داروں کا چہرہ کھل اٹھےگا

عوام تیاری کریں۔۔۔آج ملک میںکیا ہونےوالاہے؟ جان کر روزہ داروں کا چہرہ کھل اٹھےگا

حکومت کا ایک اور یو ٹرن۔۔۔ کالعدم تنظیم سے پابندی کے حوالے سےاب کیا فیصلہ کرنےوالی ہے؟عوام کیلئے یقین کرنا مشکل

حکومت کا ایک اور یو ٹرن۔۔۔ کالعدم تنظیم سے پابندی کے حوالے سےاب کیا فیصلہ کرنےوالی ہے؟عوام کیلئے یقین کرنا مشکل

شاہ محمود قریشی دورہ ایران کیلئے روانہ ہو گئے

شاہ محمود قریشی دورہ ایران کیلئے روانہ ہو گئے

اب کتنی عمرپرریٹائرکیاجائے گا،حکومت نے بڑااعلان کردیا

اب کتنی عمرپرریٹائرکیاجائے گا،حکومت نے بڑااعلان کردیا

وفاقی حکومت پے درپے بلنڈر کررہی ہے ،خورشید شاہ

وفاقی حکومت پے درپے بلنڈر کررہی ہے ،خورشید شاہ

عمران خان کل بھی پارلیمان کو چکمہ دے کر نکل گئے،رانا ثنا اللہ

عمران خان کل بھی پارلیمان کو چکمہ دے کر نکل گئے،رانا ثنا اللہ

این اے 249ضمنی انتخاب،الیکشن کمیشن نے اہم فیصلہ کرلیا

این اے 249ضمنی انتخاب،الیکشن کمیشن نے اہم فیصلہ کرلیا