01:38 pm
ریاستِ مدینہ کیسے وجود میں آئی؟

ریاستِ مدینہ کیسے وجود میں آئی؟

01:38 pm

اس کے بعد آنحضرتؐ جب سعد بن عبادہؓ کے ہاں پہنچے تو حال احوال پوچھنے کے بعد آپ نے انہیں اس واقعہ کے بارے میں بتایا کہ ابو حباب نے یہ کام کیا
(گزشتہ سے پیوستہ)
اس کے بعد آنحضرتؐ جب سعد بن عبادہؓ کے ہاں پہنچے تو حال احوال پوچھنے کے بعد آپ نے انہیں اس واقعہ کے بارے میں بتایا کہ ابو حباب نے یہ کام کیا ہے۔ عبد اللہ بن ابی کی کنیت ابوحباب تھی۔ سعد بن عبادہؓ نے جواب میں جو بات کہی اس نے ایک تاریخی حقیقت کھول دی۔ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! یہ ایسا ہی ہے، لیکن آپ کو تو معلوم ہے اس کے ساتھ کیا ہوا ہے؟ آپ کی ہجرت اور تشریف آوری سے پہلے ’’اتفق اھل ھذہ البحیرہ‘‘ اس ساحلی پٹی کے رہنے والوں نے ایک حکومت اور ریاست قائم کرنے پر اتفاق کر لیا تھا اور حکمران کے طور پر عبد اللہ بن ابی کا انتخاب بھی کر لیا تھا۔ لوگ تیاری کر رہے تھے کہ ’’یعصبونہ اور یتوجونہ‘‘ کہ اس کی تاجپوشی یا دستار بندی کر دیں، آپؐ کے آنے سے اس کا سارا کھیل ختم ہو گیا ہے۔ گویا آج کل کی اصطلاح میں انتخاب ہو گیا تھا صرف حلف اٹھانا رہ گیا تھا۔سعد بن عبادہؓ نے کہا کہ آپ کے آنے سے اس کی حکمرانی چلی گئی ہے بس اسی کا غصہ نکال رہا ہے۔ چنانچہ اس کے بعد پھر عبد اللہ بن ابی ساری زندگی غصہ ہی نکالتا رہا، کلمہ پڑھنے سے پہلے بھی اور کلمہ پڑھنے کے بعد بھی۔ اصل غصہ یہ تھا۔ چنانچہ ایک پس منظر یہ ہے کہ اس علاقے میں ریاست اور حکومت کے قیام کا تصور بلکہ ایک حد تک پیشرفت پہلے سے موجود تھی۔ 
دوسرا پس منظر یہ ہے کہ ہجرت سے پہلے دو تین سال جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مختلف قبائل سے مذاکرات چلتے رہے۔ حضورؐ مکہ چھوڑنا چاہتے تھے لیکن ایسے ٹھکانے کی تلاش میں تھے جہاں جا کر ریاست قائم کر سکیں۔ ادھر یثرب کی صورتحال یہ تھی کہ بنو اوس اور بنو خزرج کی آپس میں لڑائیاں چلتی رہتی تھیں۔ یہاں کے بڑے قبیلے یہی دونوں تھے۔ ایک صدی سے زیادہ عرصہ حرب بعاث ان کے ہاں چلی، تین چار نسلیں آپس میں لڑتی رہیں اور بے شمار لوگ دونوں طرف سے قتل ہوئے۔ دونوں قبیلوں کے سنجیدہ لوگ اس لڑائی سے تنگ آ گئے تھے۔ جبکہ یہودی درمیان میں ان کی لڑائی کو ہوا دیتے رہتے تھے، کبھی اس کو اسلحہ بیچتے اور کبھی اس کو۔ اب جن دو قبیلوں کے درمیان کئی پشتوں سے لڑائیاں چل رہی ہوں اور قتل و قتال کا وسیع سلسلہ ہو ان کا آپس میں ایک دوسرے پر متفق ہونا تو ناممکن ہی تھا جبکہ یہودیوں سے یہ دونوں تنگ تھے۔ یہ لوگ تلاش میں تھے کہ کوئی ایسی شخصیت ہمیں ملے جس پر ہم اکٹھے ہو جائیں۔ چنانچہ دونوں طرف کے بوڑھے بوڑھے آپس میں بیٹھے اور مشورہ کیا کہ کوئی راستہ نکالتے ہیں، کوئی تیسری قوت مل جائے جو یہودیوں کی طرح سازشی نہ ہو اور ہمیں آپس میں اکٹھا کر دے۔ اس دوران ان کو معلوم ہوا کہ مکہ مکرمہ میں کوئی صاحب ہیں جو توحید اور نبوت کے اعلان کے ساتھ اچھی اچھی باتیں کرتے ہیں۔ سب سے پہلے ان کے پانچ افراد مکہ گئے ہجرت سے تین سال پہلے۔ حج کے موقع پر منٰی کی پہاڑیوں میں حضورؐ سے انہوں نے خفیہ ملاقات کی اور آپؐ کی باتیں سنیں۔ پھر آپس میں مشورہ کیا کہ یہ صاحب تو ہمارے کام کے ہیں، بڑی اچھی باتیں کرتے ہیں اور یہ اس علاقے میں تنگ بھی ہیں، ہمیں ایسی ہی شخصیت کی ضرورت ہے جبکہ ان کو ساتھیوں کی ضرورت ہے۔ ان میں اسعد بن زرارہؓ تھے، عبادہ بن صامتؓ تھے، جو بڑے صحابہ کرامؓ میں سے ہیں۔ انہوں نے کلمہ پڑھا، مسلمان ہوئے اور حضورؐ کو دعوت دی کہ یا رسول اللہ! آپ ہمارے پاس یثرب آجائیں۔ حضورؐ نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم کے انتظار میں ہوں کہ میری ہجرت کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے گا، اگلے سال بات کریں گے۔ 
اگلے سال یثرب سے بارہ آدمی حضورؐ کی خدمت میں مکہ مکرمہ آئے۔ اس سال ’’بیعت عقبہ اولیٰ‘‘ ہوئی۔ لیکن پھر بھی حضورؐ نے یثرب جانے کے لیے ہاں نہیں کی۔ یہ سب لوگ مسلمان ہو گئے تھے اور انہوں نے بھی حضورؐ کو دعوت دی کہ یا رسول اللہ! آپ ہمارے پاس یثرب آجائیں ہم آپ کے معاون ہوں گے۔ آپؐ نے فرمایا، اگلے سال بات کریں گے۔ اگلے سال پھر یثرب سے ستر آدمی آئے۔ ان ملاقاتوں میں سے ایک ملاقات کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ 
حضرت عباسؓ حضورؐ کے چچا تھا۔ چچا اور بھتیجا ہم عمر ہوں تو دوست بھی ہوتے ہیں۔ دو سال کا فرق تھا دونوں میں۔ حضرت عباسؓ سے کوئی پوچھتا تھا کہ آپ بڑے ہیں یا حضرت محمد؟ تو کہا کرتے تھے کہ بڑے وہ ہیں لیکن پیدا میں پہلے ہوا تھا۔ حضرت عباسؓ نے کلمہ تو فتح مکہ کے موقع پر پڑھا تھا جبکہ یہ اس سے دس سال پہلے کی بات ہے۔ ان خفیہ مذاکرات میں ایک موقع پر وہ حضورؐ کے ساتھ تھے، اپنے بھتیجے کے ساتھ تھے، پیغمبر کے ساتھ نہیں۔ بیعت کے موقع پر اوس کے سردار سعد بن معاذؓ نے حضورؐ سے کہا کہ یا رسول اللہ! آپ ہمارے پاس تشریف لے آئیں۔ حضرت عباسؓ نے کہا کہ سوچ کر بات کرو کیا کہہ رہے ہو؟ میرے بھتیجے کو اپنے ہاں لے جانے کا مطلب سمجھتے ہو؟ پورے جزیرۃ العرب سے لڑنا پڑے گا۔ اگر پاؤں میں زور ہے تو بات کرو ورنہ آرام سے بیٹھو۔ اس کی حفاظت کے لیے ہم کافی ہیں، کلمہ پڑھیں نہ پڑھیں لیکن حفاظت کر رہے ہیں۔ جبکہ بنو ہاشم نے آپؐ کی حفاظت کی، جناب ابی طالب نے بھی کی اور جناب عباسؓ نے بھی کی۔ اس پر سعد بن معاذؓ نے کہا کہ ہمیں پوری طرح پتہ ہے کہ کیا ہو گا؟  سوچ سمجھ کر اور ہر قسم کے نتیجے کے لیے تیار ہو کر ہم آپؐ کو دعوت دے رہے ہیں۔ اسعد بن زرارہؓ کھڑے ہوئے اور کہا کہ ہم ایمان لائے ہیں، آپؐ کو اللہ کا رسول مانتے ہیں، ہمیں پتہ ہے کہ حضرت محمدؐ کو وہاں جگہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ عرب کے ہر گھر سے لڑنا ہو گا، ہم اس کے لیے تیار ہیں۔ 
چنانچہ اس ریاست کے قیام کے لیے تین سال مسلسل مذاکرات ہوئے اور جناب نبی اکرمؐ نے دوسرے سال بارہ نقیب مقرر کر دیے یہ فرما کر کہ حضرت موسٰی علیہ السلام کے بارہ نقیب تھے ’’اثنا عشرہ نقیبًا‘‘ میں بھی تم میں بارہ نمائندے مقرر کرتا ہوں، جا کر علاقے میں کام کرو، ماحول بناؤ، جب اللہ تعالیٰ کا حکم ہو گا میں آجاؤں گا۔ 
تاریخ کا دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ ’’میثاق مدینہ‘‘ جو کہ ریاست کے قیام اور حکومت سازی کا معاہدہ تھا، کیا اس میں صرف مسلمان تھے یا غیر مسلم بھی شامل تھے؟ تین قبیلے تو یہودیوں کے تھے اور اردگرد کے دیگر غیر مسلم قبائل بھی تھے۔ اس معاہدے میں شامل فریق مسلمان بھی تھے، یہودی بھی تھے اور مشرکین بھی۔ اس کے ساتھ ایک سوال یہ بھی سامنے آتا ہے کہ کیا حضورؐ نے یثرب پر قبضہ کر کے ریاست قائم کی تھی؟ حضورؐ نے قبضہ کر کے ریاست قائم نہیں کی تھی بلکہ وہاں کے لوگوں پر تین سال محنت کر کے، وہاں کی آبادی کو اعتماد میں لے کر یہ ریاست قائم کی تھی۔ اس ریاست کے قیام کی محنت میں ایک لڑائی بھی نہیں ہوئی۔ باہمی ملاقاتیں اور مذاکرات ہوئے ہیں، نہ حملہ کیا اور نہ قبضہ کیا، تین سال کے مسلسل فیلڈورک کے بعد تمام لوگوں کو اعتماد میں لے کر مذاکرات کے ذریعے یہ ریاست قائم ہوئی۔ 
چنانچہ ریاست مدینہ کے پیچھے ایک محرک تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی جدوجہد تھی اور دوسرا یثرب کے قبائل اوس اور خزرج کی آپس کی لڑائی کا ماحول تھا۔ حضورؐ فرماتے ہیں کہ مجھے ہجرت کے لیے انتظار تو تھا کہ حکم آئے گا، علامتیں بھی بتا دی گئی تھیں کہ کونسے علاقے میں جانا ہے لیکن متعین نہیں تھا۔ 
 

تازہ ترین خبریں

لیگی رہنمائوں سے بدسلوکی، سپیکر کا تحقیقات کا اعلان

لیگی رہنمائوں سے بدسلوکی، سپیکر کا تحقیقات کا اعلان

تحریک عدم اعتماد میں پی ٹی آئی کے درجنوں ارکان عمران خان کے خلاف ووٹ دیں گے،رانا ثنا اللہ

تحریک عدم اعتماد میں پی ٹی آئی کے درجنوں ارکان عمران خان کے خلاف ووٹ دیں گے،رانا ثنا اللہ

بلاول بھٹو کی چودھری برادران سے ملاقات، سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

بلاول بھٹو کی چودھری برادران سے ملاقات، سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

یااللہ خیر،3.4شدت کازلزلہ،لوگ کلمہ طیبہ کاوردکرتے ہوئے گھروں سے باہرنکل آئے

یااللہ خیر،3.4شدت کازلزلہ،لوگ کلمہ طیبہ کاوردکرتے ہوئے گھروں سے باہرنکل آئے

شیخ رشید کی عمران خان سے مصافحہ کی خبروں کی وضاحت

شیخ رشید کی عمران خان سے مصافحہ کی خبروں کی وضاحت

’’وزیراعظم نے مہنگائی کیخلاف جہاد کا اعلان کردیا‘‘

’’وزیراعظم نے مہنگائی کیخلاف جہاد کا اعلان کردیا‘‘

اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد وزیراعظم عمران خان کو ایک اور چیلنج کا سامنا

اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد وزیراعظم عمران خان کو ایک اور چیلنج کا سامنا

مسلم لیگ ن کا این اے 249 کے لیے مفتاح اسماعیل کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ

مسلم لیگ ن کا این اے 249 کے لیے مفتاح اسماعیل کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ

لوٹوں کے متعلق خوب جانتا ہوں ، ووٹ لینا مجبوری تھی لیکن ۔۔۔ عمران خان آگے  کیا کرنے جا رہے ہیں ؟

لوٹوں کے متعلق خوب جانتا ہوں ، ووٹ لینا مجبوری تھی لیکن ۔۔۔ عمران خان آگے کیا کرنے جا رہے ہیں ؟

حمزہ کا بلاول کیلئے ظہرانہ، کھانے میں کیا ہوگا؟خبر پڑھ کر آپ بھی ششدر رہ جائینگے

حمزہ کا بلاول کیلئے ظہرانہ، کھانے میں کیا ہوگا؟خبر پڑھ کر آپ بھی ششدر رہ جائینگے

وہی ہوا جس کا خدشہ تھا !!پی ڈی ایم میں سینیٹ الیکشن کے معاملے پر اختلافات سر اٹھانے لگے

وہی ہوا جس کا خدشہ تھا !!پی ڈی ایم میں سینیٹ الیکشن کے معاملے پر اختلافات سر اٹھانے لگے

بزرگ افراد کو کورونا سے بچائو کی ویکسین10 مارچ سے لگائی جائیگی

بزرگ افراد کو کورونا سے بچائو کی ویکسین10 مارچ سے لگائی جائیگی

 بلاول حمزہ شہباز سے ملاقات کیلئے ماڈل ٹاؤن پہنچ گئے

بلاول حمزہ شہباز سے ملاقات کیلئے ماڈل ٹاؤن پہنچ گئے

لیگی رہنمائوں پر حملہ :واقعہ کی مکمل انکوائری کرائی جائے گی، سپیکر قومی اسمبلی

لیگی رہنمائوں پر حملہ :واقعہ کی مکمل انکوائری کرائی جائے گی، سپیکر قومی اسمبلی