01:39 pm
ضمنی الیکشن کے نتائج حکومت اور اپوزیشن کیلئے سبق !

ضمنی الیکشن کے نتائج حکومت اور اپوزیشن کیلئے سبق !

01:39 pm

تحریک انصاف کا حکومتی سفراور پی ڈی ایم کا اپوزیشن کا۔ اس سفر میں کئی چہرے آئے اور کئی گئے لیکن اس دور میں بحث کا موضوع تبدیلی،احتساب اور
تحریک انصاف کا حکومتی سفراور پی ڈی ایم کا اپوزیشن کا۔ اس سفر میں کئی چہرے آئے اور کئی گئے لیکن اس دور میں بحث کا موضوع تبدیلی،احتساب اور معیشت کی صورتحال اور غریب آدمی کے لیے دال روٹی کے حصول کی مشکلات ہی رہی صرف ن لیگ ملک کی تمام صورتحال کا ذمہ دار اداروں کو گردانتی رہی اور جتنا ذمہ دار پی ٹی آئی حکومت کو قرار دیا گیا اتنا ہی قومی اداروں کو بھی۔ مہنگائی سے تحریک انصاف کی مقبولیت میں تو کمی آئی لیکن عوام کی اپنے ہی اداروں سے جنگ کی شروعات کوئی اچھا شگون نہیں ہے۔آج بات دونوں مسائل پر ہو گی۔ پہلے بات کرتے ہیں مہنگائی اور حکومت اور حالیہ ضمنی انتخابات کے نتائج کی۔ پاکستان تحریک انصاف اس نعرے پر حکومت میں آئی تھی کہ وہ معاشی نمو میں اضافہ کرے گی جب کہ بے روزگاری اور مہنگائی کو کم کرے گی لیکن تمام سروے اور رپورٹس حکومت کے اس دعوے کو مسترد کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارے کے مطابق پاکستان میں مہنگائی اور بے روزگاری بڑھے گی جب کہ معاشی ترقی کی نمو میں بھی کمی ہوگی۔ماہرین کے خیال میں اس مایوس کن رپورٹ سے یہ بات واضح ہے کہ آٹے اور چینی کے بحرانوں میں گھرے پاکستان میں مزید معاشی بدحالی آئے گی، جو اپنے ساتھ مہنگائی کا سیلاب بھی لائے گی اور لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی کم کرے گی۔ حکومت کے کچھ حلقے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ یہ برس روزگار فراہم کرنے اورعوام کو ریلیف فراہم کرنے کا سال ہے اور یہ کہ وفاقی حکومت ایک لاکھ سے زائد افراد کو روزگار دینے کا بھی سوچ رہی ہے لیکن حکومت کے ناقدین کا خیال ہے کہ آئی ایم ایف کی اس رپورٹ کے پیش نظر ایسا نہیں لگتا کہ عوام کو روزگار ملے گا یا پھر انہیں مہنگائی اور غربت سے نجات ملے گی اگر کہیں ایسا ہوتا نظر آرہا ہوتا تو حالیہ ضمنی الیکشن میں نتائج مختلف ہوتے۔ معیشت دانوں کی بحث ومباحث سے دور عوام صرف اس بات کا جواب چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی اپنے وعدے کے مطابق لوگوں کو نوکریاں کب دے گی اور مہنگائی و بے ورزگاری کو کب کم کرے گی۔ پی ٹی آئی کے حمایتی ان سارے مسائل کا ذمہ دار ن لیگ کی پالیسیوں کو ٹھہراتے ہیں لیکن یہ نہ تو عوام کے مسائل کا حل ہے اور نہ ہی سیاسی قد کاٹھ اس سے بہتر ہو سکتا ہے۔ سماجی سطح پر اس امر سے سیاست دانوں کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے۔ جتنے بھی سروے آ رہے ہیں ان میں عوام نے مہنگائی،بیروزگاری میں اضافہ،کابینہ میں برے ارکان کی موجودگی، کرپشن اور یوٹرن لینے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے اس کا حل صرف ایک ہے کہ وزیراعظم کے لیے یہ ایک بڑا موقع ہے جس میں وہ اپنی قائدانہ اور مدبرانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے اور اپنے ذاتی عناد اور غم و غصے کو پس پشت ڈالتے ہوئے ہوئے ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے سیاسی مذاکرات کا آغاز کریں۔ عوام کیلئے عوامی مسائل حل کرنے پر توجہ دی جائے اور سیاستدانوں کیلئے اورمنفی سیاسی حدت کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت،اپوزیشن کے ساتھ مصالحانہ رویہ اختیار کرے اور اس کی ابتدا پارلیمان کی کارروائی سے شروع کی جا سکتی ہے۔ عموماً حکومتیں پارلیمان میں مصالحانہ کردار ادا کرتی ہیں اور اپوزیشن شوروغوغا کرتی ہیں مگر ہماری پارلیمان میں حکومت نے اپوزیشن کا کردار بھی ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔بعض وزرا کی ٹیم روزانہ کی بنیاد پر اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے رکیک حملے کر رہے ہوتے ہیں جس سے حزب اختلاف کو مزید مشتعل کیا جاتا ہے۔ پارلیمانی جمہوریت میں ایسا حکومتی رویہ کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ یہ ایک مصالحانہ قدم جس میں اپوزیشن پر بلاوجہ اشتعال انگیز تنقید کا خاتمہ شامل ہو، پارلیمان کی کارروائی میں تہذیب کا عنصر لا سکتا ہے اور اپوزیشن کے لیے حکومت کو لعن طعن کرنے کے لیے کم مواد مہیا کرے گا۔ حکومت کو احساس ہونا چاہیے کہ اس کی حکمرانی میں عوام ان کا بدعنوانی کے بارے میں روزانہ کی بنیاد پر واویلے سے تنگ آ چکے ہیں اور انہیں اب ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ شاید اس حکومت میں عوام کے مسائل کا کوئی حل اور صلاحیت ہی نہیں اور بدعنوانی کا اس عرصے کے بعد بھی رونا دھونا لوگوں کی توجہ خوفناک معاشی مسائل کو حل کرنے میں ناکامی سے ہٹانے پر ہے۔مہنگائی سے پسے عوام کے غیض و غضب سے لگ رہا تھا کہ شاید منصفانہ انتخابات کی صورت میں پی ٹی آئی آئی نہ جیت سکے۔ ایسی انتخابی پسپائی کسی حکومت کے اقتدار کے وسط میں کوئی اچنبھبے کی بات نہیں ہوتی۔ اپوزیشن کا بیانیہ بڑھتی ہوئی ناقابل یقین مہنگائی کی وجہ سے بھی عوام میں مقبول ہوتا جا رہا ہے۔اس لیے اپوزیشن کو ہر وقت لتاڑنے کی بجائے حکومت کی ساری توجہ مہنگائی کو روکنے پر مرکوز ہونی چاہیے۔ آٹا اور چینی کے بحران کے ذمہ داروں کے خلاف ابھی تک کوئی تادیبی کارروائی نہیں کی گئی۔ ان کے خلاف اقدامات سے اس لہر پر کچھ حد تک قابو پایا جا سکتا ہے اور عوام کے غم و غصے میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔ مہنگائی میں کمی سے اپوزیشن کے لیے عوام کو حکومت کے خلاف کسی فیصلہ کن تحریک کے لیے میدان میں اتارنے میں کافی مشکل پیش ہو سکتی ہے۔اب آتے ہیں پی ڈی ایم میں ن لیگ صرف مریم نواز کی اداروں پر بے جا تنقید کی طرف۔جس طرح ضمنی انتخابات میں بھی مریم نواز نے اداروں کو نشانہ بنائے رکھا اس عوام کے ایک طبقے کو اپنے ہی اداروں کے ساتھ لڑانے کی کوشش پاکستان اور خود ن لیگ کیلئے انتہائی نقصان دہ ہو گی ۔ مریم نواز اگر صرف حکومتی کارکردگی پر توجہ دیں تو وہ سیاستدان بنیں گی اور اگر عوام اور ملکی اداروں کو لڑانے میں نام آتارہا تو نتائج ان کو بھی بھگتنا پڑیں اور ان کی پارٹی کو بھی۔مریم کو یہ یاد رکھنا چاہیے تھا کہ ان کا بیانیہ ووٹ کو عزت دو گلگت بلتستان کے انتخابات میں بری طرح پٹ گیا، مریم نواز نے وہاں بہت جلسے کیے،ان کی آمد سے قبل ہی مسلم لیگ ن وہاں ٹوٹ چکی تھی،ن لیگ کے سابق ارکان اسمبلی اور امیدواران اڑ چکے تھے یا آزاد الیکشن لڑنے کے لئے ن لیگ چھوڑ گئے تھے لیکن انہوں نے پھر بھی اداروں کو ٹارگٹ کیا ان کے لوگ رینجرز اور پولیس افسران کو بلاوجہ نشانہ بناتے رہے جس سے عوام کا غم وغصہ مہنگائی سے ہٹ کر ن لیگ خصوصاً مریم نواز کی طر ف چلا گیا۔ عوام جان چکے کہ ہماری سیاسی جماعتیں آج جو زخم چاٹ رہی ہیں وہ گھائو ان کے اپنے لگائے ہوئے ہیں۔ 2002ء سے مسلسل جمہوریت چل رہی ہے۔سترہ برس کے دوران تمام سیاسی جماعتوں کی حکومتوں کے بعد آج یہ حالت ہے کہ عوام دو وقت کی روٹی پوری کرنے سے قاصر ہیں، ووٹر ذلیل سے ذلیل خوار ہو رہا ہے اور مریم نواز نعرے لگا رہی ہیں ووٹ کو عزت دو۔حالیہ ضمنی الیکشن کے نتائج حکومت اور اپوزیشن کیلئے سبق سے کم نہیں اب بھی حکومت یا اپوزیشن میں سے جو عوام کے مسائل پر توجہ دیے گا مستقبل اس کا ہو گا اور جو اپنے ہی اداروں یا صرف تنقید برائے تنقید میں مصروف رہا مستقبل میں اس کی کوئی جگہ نہیں کیونکہ یہ عوام پاکستان کے ہیں اور ان کی ترجیح پاکستان اور اپنے مسائل کا حل ہو گا اور کچھ نہیں۔
 

تازہ ترین خبریں

آٹھ کروڑ کی پیشکش، الیکشن کمیشن نے عبد السلام آفریدی سے ثبوت مانگ لیے

آٹھ کروڑ کی پیشکش، الیکشن کمیشن نے عبد السلام آفریدی سے ثبوت مانگ لیے

حکومت نے اے این پی سے چئیرمین سینیٹ کے ووٹ دینے کا فیصلہ کرلیا

حکومت نے اے این پی سے چئیرمین سینیٹ کے ووٹ دینے کا فیصلہ کرلیا

لیگی رہنمائوں سے بدسلوکی، سپیکر کا تحقیقات کا اعلان

لیگی رہنمائوں سے بدسلوکی، سپیکر کا تحقیقات کا اعلان

تحریک عدم اعتماد میں پی ٹی آئی کے درجنوں ارکان عمران خان کے خلاف ووٹ دیں گے،رانا ثنا اللہ

تحریک عدم اعتماد میں پی ٹی آئی کے درجنوں ارکان عمران خان کے خلاف ووٹ دیں گے،رانا ثنا اللہ

بلاول بھٹو کی چودھری برادران سے ملاقات، سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

بلاول بھٹو کی چودھری برادران سے ملاقات، سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

یااللہ خیر،3.4شدت کازلزلہ،لوگ کلمہ طیبہ کاوردکرتے ہوئے گھروں سے باہرنکل آئے

یااللہ خیر،3.4شدت کازلزلہ،لوگ کلمہ طیبہ کاوردکرتے ہوئے گھروں سے باہرنکل آئے

شیخ رشید کی عمران خان سے مصافحہ کی خبروں کی وضاحت

شیخ رشید کی عمران خان سے مصافحہ کی خبروں کی وضاحت

’’وزیراعظم نے مہنگائی کیخلاف جہاد کا اعلان کردیا‘‘

’’وزیراعظم نے مہنگائی کیخلاف جہاد کا اعلان کردیا‘‘

اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد وزیراعظم عمران خان کو ایک اور چیلنج کا سامنا

اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد وزیراعظم عمران خان کو ایک اور چیلنج کا سامنا

مسلم لیگ ن کا این اے 249 کے لیے مفتاح اسماعیل کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ

مسلم لیگ ن کا این اے 249 کے لیے مفتاح اسماعیل کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ

لوٹوں کے متعلق خوب جانتا ہوں ، ووٹ لینا مجبوری تھی لیکن ۔۔۔ عمران خان آگے  کیا کرنے جا رہے ہیں ؟

لوٹوں کے متعلق خوب جانتا ہوں ، ووٹ لینا مجبوری تھی لیکن ۔۔۔ عمران خان آگے کیا کرنے جا رہے ہیں ؟

حمزہ کا بلاول کیلئے ظہرانہ، کھانے میں کیا ہوگا؟خبر پڑھ کر آپ بھی ششدر رہ جائینگے

حمزہ کا بلاول کیلئے ظہرانہ، کھانے میں کیا ہوگا؟خبر پڑھ کر آپ بھی ششدر رہ جائینگے

وہی ہوا جس کا خدشہ تھا !!پی ڈی ایم میں سینیٹ الیکشن کے معاملے پر اختلافات سر اٹھانے لگے

وہی ہوا جس کا خدشہ تھا !!پی ڈی ایم میں سینیٹ الیکشن کے معاملے پر اختلافات سر اٹھانے لگے

بزرگ افراد کو کورونا سے بچائو کی ویکسین10 مارچ سے لگائی جائیگی

بزرگ افراد کو کورونا سے بچائو کی ویکسین10 مارچ سے لگائی جائیگی