01:55 pm
           سائیں یوسف رضا گیلانی کا ناصائب فیصلہ!

           سائیں یوسف رضا گیلانی کا ناصائب فیصلہ!

01:55 pm

اختیارات عہدے اور منصب کی کشش انسان کو پیچھے مڑکر نہیں دیکھنے دیتی،اگر اکتفا کا جذبہ غالب ہوتا تو سائیں سیدیوسف رضا گیلانی جو ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں یعنی سپیکر قومی اسمبلی اور وزیر اعظم پاکستان رہنے کے بعد کسی طور سینٹ کا الیکشن نہ لڑتے ۔مگر برا ہو اقتدار کی کرسی کا،یہ انسان سے استغنا کے ساتھ صبرو قناعت بھی چھین لیتی ہے ۔عجزو انکسار  اور بے مثل تواضع کی صفات کے حامل سائیں یوسف راضا گیلانی سے یہ توقع نہیں کی جاتی تھی کہ وہ اتنی آسانی سے سینٹ کے امیدوار بننے پر آمادہ ہوجائیں گے کہ انہوں نے دوہزار اٹھارہ کے انتخابات میں اپنے حلقے کے عوام سے جو زخم کھایا تھا وہی بہت کاری تھا اور بتانے والوں نے یہاں تک بتایا کہ ان کے بیٹوں نے انہیں قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے  سے شدت سے روکا تھا بلکہ ان کے ایک بیٹے نے تو ان کے مقابلے میں آنے کی دھمکی تک دے دی تھا مگر سرکار نہیں مانے ۔اس قربانی کے لئے وہ زیادہ سے زیادہ اپنے کسی فرزند کو پیش کر سکتے تھے کہ وہ اگر فتح یاب نہ بھی ہوتا تو فرق نہیں پڑنا تھا ،مگر یہ سید کی سادگی اور تواضع ہی سمجھیئے کہ پارٹی کے سامنے سپر انداز ہوگئے ،ان کے اس ناصائب فیصلے نے ان کے بہت سارے چاہنے والوں کے دلوں کو وسوسوں اور واہموں کا گھر بنا دیا ہے ،وہ جنہیں ان کی سیاسی بصیرت فراست پر کامل یقین اور بھروسہ تھا اندریں اندر سے تو لرز ہی گئے ہیں۔
بہر حال یہ گیلانی صاحب کے حوصلوں کا کڑا امتحان ہے ۔گراں باریء دل کے باوجود دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتے ہوئے بھی ڈرلگتا ہے کہ بزرگوں سے سنا ہے ایسی دعا سے گریز اچھا ہے جو دل سے نہ نکلے اور جس کے مستجاب ہونے کے یقین کی ایک رتی بھی قلب میں نہ ہو ،ویسے آواز خلق کے لحاظ سے بھی دھیان نقارہء خدا کی جانب جاتا دکھائی نہیں دیتا۔ دوہزار اٹھارہ میں جو بے مروتی ان کے حلقہ انتخاب والوں نے برتی تھی اب اس سے بڑھ کر ایک ہزیمت پی ڈی ایم بلکہ پی ایم ایل ان کی جھولی میں بھرنے جارہی ہے ۔
خاکم بدہن اگر نامراد شکست نے انہیں آلیا تو اس پیرانہ سالی میں وہ خود کو کیسے سنبھال پائیں گے ،اس پر مستزاد  لاکھوں کشتگان مرشد کیوں کریہ غم سہار پائیں گے؟حضور کے کئی چاہنے والوں کے کلیجے ابھی سے منہ کو آتے دیکھے ہیں اور بار بار مختار مسعود مرحوم کا یہ اقتباس دماغ میں گردش کررہا ہے کہ’’ قحط میں موت ارزاں ہوتی ہے اور قحط الرجال میں زندگی۔
مرگ انبوہ کا جشن ہوتو قحط ،حیاتِ بے مصرف کا کا ماتم ہو تو قحط الرجال۔۔۔اس وبا میں آدمی کا یہ حال ہوجاتا ہے کہ مردم شماری ہو تو بے شمار ،مردم شناسی ہو تو نایاب‘‘۔
آخر پی پی پی میں کیا قحط الرجال پڑا ہے کہ پی ڈی ایم کی قربان گاہ پر اتنا بڑا چڑھاوا چڑھانے لگی ہے ۔سابق وزیر اعظم ہی مقصود و مطلوب تھا تو پرویز اشرف کو مولانا کی بارگاہ میں پیش کردیتی ،سید میراں کی جھولی کے لئے ایک روگ کافی نہیںتھا جو جواں سال بیٹے کی لمبی جدائی کی صورت انہوں نے جھیلا ،اب ایک اور  روگ  سے ان کی جھولی بھرنے کا اہتمام کیا جارہا ہے ۔
سابق صدر آصف علی زرداری شائد اس زعم میں مبتلا ہیں کہ سنجرانی کی طرح سید یوسف رضاگیلانی کو بھی سینٹ کا چیئرمین منتخب کروالیں گے۔ان کی سوچ کی بلندی تک نہیں پہنچا جا سکتا ،مگر معروضی حالات جو سامنے ہیں ان میں زرداری  کا فارمولا بظاہر فٹ ہوتا دکھائی نہیں دیتا ،اوپر والوں نے انہیں کوئی یقین دہانی کروادی ہے تو الگ بات ہے ،پھرتو کچھ لوگوں کا یہ خواب کہ آئندہ وزیر اعظم بلاول ہونگے ،بھی تعبیر کے لمس سے آشنا ہوسکتا ہے ،مگر امکانات کے ایسے در واہوتے نظر نہیں آتے کہ اس رستے کی سب سے بڑی دیوار مسلم لیگ ن جو شہباز شریف پر ادھار کھانے کی روادار نہیں ،پھر بلاول تو ذوالفقار علی بھٹو شہید کا نواسہ اور محترمہ بینظیربھٹو کا بیٹا ہے ،جن کے بغض سے میاں نواز شریف کا سینہ کبھی تہی نہیں ہوسکتا۔مولانا تو اب بھی بلاول کے دروازے پر گھنٹوں انتظار کر سکتے ہیں جیسے محترمہ کے دفتر کے باہر تشریف فرما رہے اور باریابی پائی تو کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کا تمغہ سینے پر سجائے بغیر نہیںآئے۔
سابق وزیر اعظم ایک نفیس طبع ،وضع دار آدمی ،جانتے بوجھتے ایک قعر میں چھلانگ لگا رہے ہیں ،جو کالے دھن سے ناک تک بھرا ہے ۔لکشمی تو ہوتی ہی رقاصہ ہے اس کے رقص کو کون روک سکتا ہے ۔ہمارا عدالتی نظام ایسا نہیں کہ تماشے میں گھری سیاسی طوائف کو تماش بینوں کے حصار سے نکال سکے۔
کل سید یوسف رضا گیلانی کے حلقہ کے ایک بہت جید صاحب نے اپنے دل و دماغ میں کلبلاتے ایک وسوسے کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ’’ مجھے لگتا ہے جیسے ایک نئی افتاد مرشد کے پیچھے کھڑی مسکرا رہی ہے ‘‘۔ اسے کیا نام دوں کہ اس پر خودخجل ہوا جاتا ہوں ۔
دروغِ  مصلحت  آمیز  جب  عروج  پہ  ہو  
تو  آس   پاس  کہیں  چیختی   ہے   سچائی  

تازہ ترین خبریں

لیگی رہنمائوں سے بدسلوکی، سپیکر کا تحقیقات کا اعلان

لیگی رہنمائوں سے بدسلوکی، سپیکر کا تحقیقات کا اعلان

تحریک عدم اعتماد میں پی ٹی آئی کے درجنوں ارکان عمران خان کے خلاف ووٹ دیں گے،رانا ثنا اللہ

تحریک عدم اعتماد میں پی ٹی آئی کے درجنوں ارکان عمران خان کے خلاف ووٹ دیں گے،رانا ثنا اللہ

بلاول بھٹو کی چودھری برادران سے ملاقات، سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

بلاول بھٹو کی چودھری برادران سے ملاقات، سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

یااللہ خیر،3.4شدت کازلزلہ،لوگ کلمہ طیبہ کاوردکرتے ہوئے گھروں سے باہرنکل آئے

یااللہ خیر،3.4شدت کازلزلہ،لوگ کلمہ طیبہ کاوردکرتے ہوئے گھروں سے باہرنکل آئے

شیخ رشید کی عمران خان سے مصافحہ کی خبروں کی وضاحت

شیخ رشید کی عمران خان سے مصافحہ کی خبروں کی وضاحت

’’وزیراعظم نے مہنگائی کیخلاف جہاد کا اعلان کردیا‘‘

’’وزیراعظم نے مہنگائی کیخلاف جہاد کا اعلان کردیا‘‘

اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد وزیراعظم عمران خان کو ایک اور چیلنج کا سامنا

اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد وزیراعظم عمران خان کو ایک اور چیلنج کا سامنا

مسلم لیگ ن کا این اے 249 کے لیے مفتاح اسماعیل کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ

مسلم لیگ ن کا این اے 249 کے لیے مفتاح اسماعیل کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ

لوٹوں کے متعلق خوب جانتا ہوں ، ووٹ لینا مجبوری تھی لیکن ۔۔۔ عمران خان آگے  کیا کرنے جا رہے ہیں ؟

لوٹوں کے متعلق خوب جانتا ہوں ، ووٹ لینا مجبوری تھی لیکن ۔۔۔ عمران خان آگے کیا کرنے جا رہے ہیں ؟

حمزہ کا بلاول کیلئے ظہرانہ، کھانے میں کیا ہوگا؟خبر پڑھ کر آپ بھی ششدر رہ جائینگے

حمزہ کا بلاول کیلئے ظہرانہ، کھانے میں کیا ہوگا؟خبر پڑھ کر آپ بھی ششدر رہ جائینگے

وہی ہوا جس کا خدشہ تھا !!پی ڈی ایم میں سینیٹ الیکشن کے معاملے پر اختلافات سر اٹھانے لگے

وہی ہوا جس کا خدشہ تھا !!پی ڈی ایم میں سینیٹ الیکشن کے معاملے پر اختلافات سر اٹھانے لگے

بزرگ افراد کو کورونا سے بچائو کی ویکسین10 مارچ سے لگائی جائیگی

بزرگ افراد کو کورونا سے بچائو کی ویکسین10 مارچ سے لگائی جائیگی

 بلاول حمزہ شہباز سے ملاقات کیلئے ماڈل ٹاؤن پہنچ گئے

بلاول حمزہ شہباز سے ملاقات کیلئے ماڈل ٹاؤن پہنچ گئے

لیگی رہنمائوں پر حملہ :واقعہ کی مکمل انکوائری کرائی جائے گی، سپیکر قومی اسمبلی

لیگی رہنمائوں پر حملہ :واقعہ کی مکمل انکوائری کرائی جائے گی، سپیکر قومی اسمبلی