01:56 pm
بی جے پی اور آزادی صحافت

بی جے پی اور آزادی صحافت

01:56 pm

جب سے بی جے پی (بھارتی جنتا پارٹی) اقتدار میں آئی ہے(2014-2021) اس نے اپنی انتہا پسند پالیسیوں کواپنا کر بھارت سے سیکولر ازم کو تقریباً ختم کردیاہے۔ دوسری طرف اب بھارت میں آزادی صحافت کے نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی ہے۔ اس وقت جب یہ کالم لکھاجارہاہے ‘ بھارت کے چھ سینئر ترین صحافیوں کو انڈین پینل کوڈ کے تحت گرفتار کرلیا گیا ہے‘ ان کاتعلق یوپی‘ بہار اور مہاراشٹرمیں شائع ہونے والے اخبارات سے ہے۔اس کے علاوہ ماحولیات میں تبدیلی سے متعلق کام کرنے والی خواتین کوبھی پابند سلاسل کردیاہے۔ واضح رہے کہ ماضی بعید میں  یعنی1922ء میں کانگریس کے رہنما گاندھی جی کو بھی اس ہی قانون کے تحت گرفتار کرکے چھ سال کے لئے جیل میں ڈال دیا گیاتھا۔ انڈین پینل کوڈ برطانیہ کی حکومت نے اس لئے بنایاتھاتاکہ بھارت میں برطانوی راج کے خلاف تنقید یا تبصرے کرنے والوں کی زبان بند کی جائے اور اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو پس دیوار زنداں رکھاجائے۔ اب اسی قانون کو بی جے پی کی حکومت اُن صحافیوں اور سوشل میڈیا پہ کام کرنے والوں کے خلاف استعمال کررہی ہے جو بی جے پی کی پالیسیوں پر جائز تنقید کررہے ہیں‘ خصویت کے ساتھ اس کی انتہا پسند پالیسیوں کے خلاف جس کی وجہ سے بھار ت اندر سے منقسم ہوگیاہے۔ اگرکو ئی صحافی مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے خلاف  بھارت کی انسانی حقوق کی پامالی سے متعلق کچھ لکھتا ہے‘ یا پھر سوشل میڈیاپر اس کا اظہار کرتاہے‘ تو ایسے صحافی کوفوراً گرفتار کرلیا جاتا ہے اور اس کو طویل عرصے تک کیلئے  اپنی صفائی کاموقع بھی فراہم نہیں کیاجاتاہے۔ اس ہی طرح اگر کوئی اخبار نویس بھارت میں جاری کسانوں کی تحریک سے متعلق بی جے پی کی پالیسیوں پر تنقید کرتا ہے‘ تواس کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جاتا ہے جو تنقید کرنے والے دیگر صحافیوں کیساتھ ہوتاہے۔
عالمی سطح پر کام کرنے والی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھی بی جے پی کی صحافیوں کے خلاف تادیبی کارروائیوں کی سخت مذمت کی ہے اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے مطالبہ  کیاہے کہ وہ اپنے ملک میں آزادی صحافت کو یقینی بنائے‘ کیونکہ جمہوریت کے ارتقا میں صحافت کی آزادی کا اہم رول ہے۔ اسی طرح بھارت میں صحافت کی آزادی کیلئے کام کرنے والی دیگر تنظیموں نے بھی بی جے پی کی حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ وہ آزادی صحافت پر قدغن یا پابندیاں لگانے سے گریز کرے نیز حکومت اپنی پالیسیوں کاازخود جائزہ لے کہ کیوں بھارت کے سینئر صحافی اور لکھاری حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں اور صحافت کی آزادی کامطالبہ کررہے ہیں‘ اس وقت بھارت ساری دنیا میں صحافت پر غیر ضروری اور نامناسب پابندیاں لگانے کی وجہ سے بدنام ہورہاہے۔رہی سہی کسر کسان تحریک نے پوری کردی ہے۔ 
تاہم بھارت میں صحافیوں کا ایک حلقہ ایسا بھی ہے جو بی جے پی کی حکومت کے گن گارہاہے۔ انہیں باقاعدہ حکومت کی جانب سے پیسہ ملتاہے جبکہ انہیں مشورہ دیاجاتاہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ پاکستان کے خلاف لکھیں اور بولا کریں۔ 
بھارت کا دانشور طبقہ جس میں ہر مذہب کے پڑھے لکھے افراد شامل ہیں‘ انہوں نے بھی حال ہی میں ایک مہم شروع کی ہے جس میں بی جے پی کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کے جمہوری ‘سماجی وثقافتی حسن کو تباہ کرنے سے باز رہے  ویسے بھی بھارت کبھی ایک ہندو ملک نہیں رہاہے اور نہ بن سکے گا۔ اس ملک کی تہذیبی وتمدنی ارتقا میں کئی مذاہب کی دانش اور حکمت شامل رہی ہے انگریزوں کی آمد سے پہلے بھارت کی خوشحالی اور مذہبی ہم آہنگی میں مسلمانوں کاکلیدی کردار رہاہے۔ اس کے برعکس بھارت کی موجودہ انتہا پسند مسلمان دشمن حکومت اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ دوسری طرف آزادی صحافت سے متعلق پاکستان میں لکھنے ‘بولنے اور حکومت کے خلاف تبصرہ کرنے کی پوری آزادی حاصل ہے‘ بلکہ مادر پدر کرنے کی حد تک! بھارت پاکستان میں صحافت‘ کی آزادی کوبھی اپنی مکارانہ چالوں سے اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کرتارہتاہے۔ بعض نادان‘ ناسمجھ اور لالچی صحافیوں کے ذریعہ پاکستان کے خلاف جعلی خبریں شائع کروائی جاتی ہیں تاکہ حکومت بدنام ہو  اور حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کو فائدہ پہنچ سکے۔ لیکن پاکستان کے صحافیوں کی اکثریت وطن دوست ہونے کے ساتھ جعلی خبریں شائع کرنے سے اجتناب برتی ہے‘ پوری دنیا پاکستان میں آزادی صحافت کی تعریف کرتی ہے جبکہ بھارت میں صحافت پر پابندیوں کے خلاف احتجاج کرکے بی جے پی کی حکومت پہ مسلسل دبائو ڈالاجارہاہے۔فرق صاف ظاہر ہے ۔ذرا سوچیئے!

تازہ ترین خبریں

اپوزیشن کی رہی سہی ’’کثر ‘‘ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں نکال دیں گے ، فواد چوہدری

اپوزیشن کی رہی سہی ’’کثر ‘‘ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں نکال دیں گے ، فواد چوہدری

گوگل کا خواتین کا عالمی دن کے موقع پر خراج تحسین

گوگل کا خواتین کا عالمی دن کے موقع پر خراج تحسین

شہبازشریف کے خاندان پرایک اور بڑی مشکل  آن پڑی

شہبازشریف کے خاندان پرایک اور بڑی مشکل آن پڑی

تحریک طالبان پاکستان  دوبارہ افغانستان سے منظم ہورہی ہے،دہشت گردوں کو شکست دیں گے ،شیخ رشید

تحریک طالبان پاکستان دوبارہ افغانستان سے منظم ہورہی ہے،دہشت گردوں کو شکست دیں گے ،شیخ رشید

سرگودھا: کرکٹ میچ کے دوران جھگڑا، 20 سے زائد لڑکوں کا نوجوان پر بہیمانہ تشدد

سرگودھا: کرکٹ میچ کے دوران جھگڑا، 20 سے زائد لڑکوں کا نوجوان پر بہیمانہ تشدد

سندھ ہائی کورٹ کالاپتہ بچوں کی بازیابی کیلئے بڑا حکم

سندھ ہائی کورٹ کالاپتہ بچوں کی بازیابی کیلئے بڑا حکم

ایس ایچ او میاں عمران عباس کے قتل کا مقدمہ درج

ایس ایچ او میاں عمران عباس کے قتل کا مقدمہ درج

وزیراعظم نے مہنگائی کا ’’جن‘‘ بوتل میں بند کرنے کیلئے اہم آج اجلاس طلب کرلیا

وزیراعظم نے مہنگائی کا ’’جن‘‘ بوتل میں بند کرنے کیلئے اہم آج اجلاس طلب کرلیا

پی ڈی ایم کا اجلاس آج اسلام آباد میں ہوگا،آصف زرداری کی شرکت متوقع

پی ڈی ایم کا اجلاس آج اسلام آباد میں ہوگا،آصف زرداری کی شرکت متوقع

وفاقی وزیر داخلہ نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کا نوٹس لے لیا

وفاقی وزیر داخلہ نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کا نوٹس لے لیا

خواتین کو مساوی حقوق دینا بے نظیر بھٹو کا خواب تھا،بلاول بھٹو زرداری

خواتین کو مساوی حقوق دینا بے نظیر بھٹو کا خواب تھا،بلاول بھٹو زرداری

’’وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ‘‘

’’وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ‘‘

پاکستان کی تعمیر و ترقی میں خواتین نے روشن کردار ادا کیا،شبلی فراز

پاکستان کی تعمیر و ترقی میں خواتین نے روشن کردار ادا کیا،شبلی فراز

خواتین انتخابی عمل میں شریک ہو کر جمہوری عمل کو آگے بڑھاتی ہیں: چیف الیکشن کمشنر

خواتین انتخابی عمل میں شریک ہو کر جمہوری عمل کو آگے بڑھاتی ہیں: چیف الیکشن کمشنر