01:58 pm
نیٹوکوسب سے بڑاچیلنج

نیٹوکوسب سے بڑاچیلنج

01:58 pm

(گزشتہ سے پیوستہ)
ترکی نے شام میں اپنے کلیدی کرداراورخطے میں جغرافیائی برتری کی وجہ سے یورپ میں پناہ گزینوں کی آمدکے دبائوکوکم کیا۔نیٹوکی نظرمیں ترکی جنوبی سرحدکامحافظ ہے۔اسی لیے ترکی نے پولینڈ اوربالٹک ریاستوں کے تحفظ کی حمایت کے بدلے اتحادکواپنے دفاع کیلئے زیادہ مددفراہم کرنے پرمجبورکیا۔ترکی اس بات کامطالبہ کئی برسوں سے کررہاتھا۔ترکی میں دنیابھرمیں سب سے زیادہ چالیس لاکھ پناہ گزین موجودہیں۔ یہی بات برسلزکوانقرہ کی بات سننے پرمجبورکرتی ہے کیوںکہ ترکی دھمکی دے چکاہے کہ وہ مہاجرین کیلئے یورپ کے دروازے کھول دے گاجوکہ یورپ اورترکی کے درمیان ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ترکی کی جارحانہ حکمتِ عملی کے نتیجے میں یورپ کی جانب سے پابندیاں لگائی جاسکتی ہیں اور مشکلات کاشکارترک معیشت مزیدبدترین حالات سے دوچارہوسکتی ہے۔نیٹوکو ایک اورچیلنج عظیم یورپ کی اسٹریٹجک خودمختاری کے مطالبے سے ہے،جس سے اتحادکونقصان پہنچ سکتاہے،یورپ اوراٹلانٹک کے بگڑتے تعلقات کے پس منظرمیں کئی رہنمائوں نے کھلے عام نیٹوکی افادیت پرسوال اٹھانے شروع کردیے ہیں۔اسٹریٹجک خودمختاری کے اہم وکیل فرانس کے صدر میکرون نے لیبیاکو اسلحے کی فراہمی کے معاملے پرترکی سے ٹکرائوکے بعدنیٹوکوایک مردہ اتحادقراردیا،جس کی وجہ سے وہ ترکی کی مہم جوئی کاراستہ نہیں روک سکتے۔
حالیہ انٹرویومیں آرمینیاکے صدرنے نیٹوکی ساکھ پرسوال اٹھادیاکہ اتحاد اپنے رکن کی قفقاز میں مداخلت روکنے میں ناکام رہا۔ اگر نیٹو اپنے اندرونی اختلافات کی وجہ سے مزید مفلوج ہوجاتاہے توتنظیم کی افادیت پرشکوک میں اضافہ ہوگااور یورپی ممالک اس اتحاد سے ہٹ کراپنی سیکورٹی کابندوبست کرنے کیلئے مزید متحرک ہو جائیں گے، جس کے نتیجے میں یورپی ممالک کی جانب سے ترکی کوباہررکھ کر دیگر زیادہ قابلِ اعتبارممالک سے سیکورٹی کے حوالے سے معاہدے کیے جاسکتے ہیں۔ یورپ اورترکی کی کشیدگی کی ایک وجہ انقرہ اورماسکوکے بدلتے تعلقات بھی ہیں۔ اگرچہ یہ تعلقات2015ء میں ترکی کی جانب سے ایس یوروسی لڑاکاطیارہ گرائے جانے کے بعدکافی کشیدہ ہوگئے تھے لیکن دونوں نے بہترسیاسی اورمعاشی تعلقات قائم کرلیے،جس کے نتیجے میں ترکی نے روسی گیس لائن اورمیزائل دفاعی نظام کی خریداری کیلئے کوششیں کیں،جس کی واشنگٹن اور نیٹوکے دیگر اتحادیوں نے سخت مخالفت کی۔کچھ لوگوں نے اس کوترکی کے مشرق کی جانب جھکاؤکانتیجہ قراردیا۔ روس ترکی تعلقات میں سب سے خطرناک بات پوٹن کارویہ ہے جو نیٹواتحادکی بنیادی اقدارکے منافی ہے۔ اصل خوف یہ ہے کہ رکن ممالک کے درمیان دوطرفہ اختلافات نیٹوکوکمزورکردے گاجس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے روس ترکی کو مغرب سے مزید دور لے جا سکتاہے اوراتحادکی فیصلہ سازی کی صلاحیت کوشدیدنقصان پہنچ سکتاہے۔ 
آذربائیجان کے ساتھ تعاون ترکی اور روس  کے ساتھ مسلح تصادم کاباعث بن سکتا تھا بہرحال اس صورتحال سے ہرایک بچنا چاہتا ہے کیونکہ بہت کچھ داؤپر لگا ہوا ہے۔زیادہ امکان یہی ہے کہ روس اورترکی اتحادی بننے کے بجائے متوازن تعلقات کوترجیح دیں گے حالانکہ نیٹوکے کئی ممالک انقرہ اورماسکوکے تعلقات کوشکوک وشبہات کی نظرسے دیکھتے ہیں چونکہ ترکی اور یورپی  یونین ایک دوسرے کے خلاف سخت بیان بازی کرچکے ہیں،اس لیے اس بحران کے حل کیلئے نیٹوسے بہترکوئی پلیٹ فارم نہیں ہوسکتا۔ ترکی نیٹو کارکن ہے اوراتحاد کے ارکان کے درمیان روزانہ کی بنیادپررابطے ہوتے ہیں۔بہرحال یورپ اورترکی کی بڑھتی کشیدگی کے تناظرمیں نیٹو کومعاملات بہترکرنے کی کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ سفارت کاری کے ذریعہ اکثرکامیابی حاصل  ہوجاتی ہے۔ 
نیٹوکے سیکرٹری جنرل جینس اسٹولٹن برگ کی جانب سے حالیہ اعلان کہ ’’یونان اور ترکی کے درمیان فوجی تنازع سے بچنے کیلئے ایک طریقہ کاربنایاجائے گا،یہ سفارتی کوششوں کی کامیابی کی زبردست مثال ہے اورمعلوم ہوتاہے کہ  دونوں ممالک بھی تعلقات بہت زیادہ خراب کرنانہیں چاہتے۔بہرحال یونان اورترکی کے درمیان فوجی تصادم سے بچنے کا انتظام انقرہ اوریورپی ممالک کے درمیان سیاسی کشیدگی کوختم نہیں کرسکتا۔اس کیلئے نیٹوکوبات چیت کے ایک فورم کے طورپرکام کرتے ہوئے کرداراداکرنا چاہیے اورجہاں رکن ممالک کی سیکورٹی کامعاملہ ہو،وہاں عملی اقدام بھی اٹھانے چاہیں۔اگرسیکورٹی کی بدلتی صورتحال میں نیٹوایک کارآمد اتحاد بنا رہنا چاہتاہے تویہی کامیابی کی کلیدہے۔کسی بھی معاملے میں مشاورت کی کلیدی اہمیت ہے،لیکن نیٹو کو  بات چیت کے نتیجے میں ہونے والے فیصلوں پرعمل کی راہ بھی تلاش کرنی ہوگی۔اس اتحاد کوحمایت اورمذمت کرنے کے کھوکھلے بیانات سے آگے بڑھناچاہیے اور سوچناچاہیے کہ آس پڑوس میں جاری بحرانوں سے کس طور نمٹا جائے۔اس سے ترکی اوردیگر ممالک کے خدشات دورکرنے میں مددملے گی اور اسٹریٹجک فوائدملنے سے اتحادمزیدمضبوط ہوگا۔
نیٹواب تک کی تاریخ کاسب سے کامیاب اتحاد ہے،اس کامیابی کوبرقراررکھنے کیلئے اتحادیوں کو شام،لیبیااورقفقازمیں سکیورٹی مفادات  کے ٹکراؤ کے باوجودمتفقہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے لیکن بدقسمتی سے ایساہونہیں رہا۔ اگرترکی اورمغرب کے درمیان تعلقات مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکارہوجاتے ہیں تونیٹوممالک واشنگٹن معاہدے کے آرٹیکل چار کے تحت مشاورت طلب کرنے پر غورکرسکتے ہیں،جس کے تحت کسی بھی ممبرکی خودمختاری کوخطرے کی صورت میں مشاورتی اجلاس طلب کیاجاسکتاہے۔ موجودہ ترکی اور یورپ   تعلقات کے تناظرمیں آرٹیکل چارکواستعمال کیاجاسکتاہے کیوںکہ ترکی پورے نیٹوکی یکجہتی کیلئے خطرہ بن چکاہے،ویسے بھی ترکی کافی عرصے سے شام کے معاملے پرآرٹیکل چارکے تحت مشاورت کامطالبہ کرتارہاہے،جس کے ذریعے نیٹو کی جانب سے ترکی کی حمایت کامظاہرہ کیا جا سکے۔ آرٹیکل چارکے تحت مشاورت کی بڑی سیاسی اہمیت ہوگی اور بدمعاش ریاستوں کوایک واضح پیغام بھی بھیجاجاسکے گا۔
موجودہ صورتحال میں سفارتی کوششوں کی کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ دونوں فریق سمجھیں کہ تلخ بیان بازی اورپابندیاں لگانے کی دھمکیاں تقسیم کوبڑھاوادیں گی اورترکی کایہ خیال  مزیدمضبوط ہو جائے گاکہ اس کے یورپی اتحادی انقرہ کے خلاف متحد ہوچکے ہیں۔اس کے نتیجے میں انقرہ خودکو محاصرے میں سمجھ کر مشرق کی جانب مزیداتحادی تلاش کرے گااور اتحاد اندرونی طورپرکمزورہوجائے گا۔یورپی ممالک کوچاہیے کہ وہ سمجھوتے پر رضامندی ظاہرکریں اورترکی کویقین دلائیں کہ اس کے تحفظات کو دور کیاجائے گا۔یقینی طورپر سمجھوتا دوسرے فریق کوبھی کرنا ہوگا۔ترکی کوبھی بلاشبہ تعلقات کوبہتربنانے کیلئے اپنی خارجہ پالیسی کے کچھ بنیادی مقاصد سے پیچھے ہٹناہوگا، جس میں غیر ممالک میں پراکسیزکا استعمال ترک کرنااورروس اور نیٹوکے درمیان براہِ راست تصادم کانتیجہ بننے والے اقدامات سے گریزکرناشامل ہیں۔سب سے اہم یہ کہ ترکی کوبحیرہ روم میں تحقیق کے نام پرجہازبھیج کر کشیدگی بڑھانے جیسے اقدام سے باز رہنا ہوگا۔ یہ انقرہ کیلئے سمجھوتے کاآسان ترین راستہ ہوسکتا ہے۔ یورپی ممالک کی اس شکایت پربھی توجہ دینی ہوگی کہ ترکی مشاورت کے بجائے خارجہ پالیسی کے اہداف کیلئے یکطرفہ اقدامات کرتا ہے۔ ترکی کواس طرح کے اقدام سے قبل شفافیت کیلئے مکمل مشاورت کرنی چاہیے۔اس سارے عمل میں دو اضافی عوامل فیصلہ کن کردارادا کریں گے۔ ایک نیٹواوریورپی یونین کی اپنی حکمتِ عملی کو مربوط کرنے کی صلاحیت ہے،تمام فریقوں کو اتحاد  کا مظاہرہ کرناہوگاکیوںکہ اشتعال انگیزی سے مفاہمت کی کوششوں کونقصان پہنچ سکتا ہے‘‘۔
رواں برس دسمبرمیں یورپی کونسل کے اجلاس میں ترکی کے ساتھ تعلقات کامعاملہ حل کیاجائے گا۔اجلاس کے بعدصورتحال واضح ہوجائے گی کہ یورپی یونین کس طرح اس معاملے سے نمٹتی ہے اورکیاتمام یورپی ممبران ترکی کے خلاف پابندیوں پر متفق ہوجائیں گے،جس کے بعدہی معلوم ہوسکے گاکہ ترکی سمجھوتاکرنے کیلئے کس قدرآمادہ ہے۔ جب1974 ء میں یونان اور ترکی قبرص کے معاملے پرجنگ کی لپیٹ میں تھے توامریکانے فیصلہ کن کرداراداکیاتھااورسختی کے ساتھ مراعات دیتے ہوئے براہِ راست تصادم کوروک دیاتھا۔ اگرچہ ٹرمپ نے حالیہ بحران میں مکمل طور پر خاموشی اختیارکی لیکن آج بھی پہلے کی طرح واشنگٹن کادونوں فریقوں پراثرورسوخ معاملے کے حل میں اہم کرداراداکرسکتاہے تاکہ ماضی کی طرح نیٹوکو ناقابلِ تلافی نقصان سے بچایا جاسکے۔ٹرمپ کے اردگان کے ساتھ ذاتی تعلقات اورخطے سے عدم دلچسپی کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہوسکالیکن جوبائیڈن کی سربراہی میں نئی امریکی انتظامیہ ممکنہ طورپرترکی کے بارے میں سخت موقف  اختیار کرتے ہوئے نیٹوارکان کے درمیان بہتر تعلقات کی بحالی کیلئے فعال کردار ادا کرے گی۔ 

تازہ ترین خبریں

آٹھ کروڑ کی پیشکش، الیکشن کمیشن نے عبد السلام آفریدی سے ثبوت مانگ لیے

آٹھ کروڑ کی پیشکش، الیکشن کمیشن نے عبد السلام آفریدی سے ثبوت مانگ لیے

حکومت نے اے این پی سے چئیرمین سینیٹ کے ووٹ دینے کا فیصلہ کرلیا

حکومت نے اے این پی سے چئیرمین سینیٹ کے ووٹ دینے کا فیصلہ کرلیا

لیگی رہنمائوں سے بدسلوکی، سپیکر کا تحقیقات کا اعلان

لیگی رہنمائوں سے بدسلوکی، سپیکر کا تحقیقات کا اعلان

تحریک عدم اعتماد میں پی ٹی آئی کے درجنوں ارکان عمران خان کے خلاف ووٹ دیں گے،رانا ثنا اللہ

تحریک عدم اعتماد میں پی ٹی آئی کے درجنوں ارکان عمران خان کے خلاف ووٹ دیں گے،رانا ثنا اللہ

بلاول بھٹو کی چودھری برادران سے ملاقات، سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

بلاول بھٹو کی چودھری برادران سے ملاقات، سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

یااللہ خیر،3.4شدت کازلزلہ،لوگ کلمہ طیبہ کاوردکرتے ہوئے گھروں سے باہرنکل آئے

یااللہ خیر،3.4شدت کازلزلہ،لوگ کلمہ طیبہ کاوردکرتے ہوئے گھروں سے باہرنکل آئے

شیخ رشید کی عمران خان سے مصافحہ کی خبروں کی وضاحت

شیخ رشید کی عمران خان سے مصافحہ کی خبروں کی وضاحت

’’وزیراعظم نے مہنگائی کیخلاف جہاد کا اعلان کردیا‘‘

’’وزیراعظم نے مہنگائی کیخلاف جہاد کا اعلان کردیا‘‘

اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد وزیراعظم عمران خان کو ایک اور چیلنج کا سامنا

اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد وزیراعظم عمران خان کو ایک اور چیلنج کا سامنا

مسلم لیگ ن کا این اے 249 کے لیے مفتاح اسماعیل کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ

مسلم لیگ ن کا این اے 249 کے لیے مفتاح اسماعیل کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ

لوٹوں کے متعلق خوب جانتا ہوں ، ووٹ لینا مجبوری تھی لیکن ۔۔۔ عمران خان آگے  کیا کرنے جا رہے ہیں ؟

لوٹوں کے متعلق خوب جانتا ہوں ، ووٹ لینا مجبوری تھی لیکن ۔۔۔ عمران خان آگے کیا کرنے جا رہے ہیں ؟

حمزہ کا بلاول کیلئے ظہرانہ، کھانے میں کیا ہوگا؟خبر پڑھ کر آپ بھی ششدر رہ جائینگے

حمزہ کا بلاول کیلئے ظہرانہ، کھانے میں کیا ہوگا؟خبر پڑھ کر آپ بھی ششدر رہ جائینگے

وہی ہوا جس کا خدشہ تھا !!پی ڈی ایم میں سینیٹ الیکشن کے معاملے پر اختلافات سر اٹھانے لگے

وہی ہوا جس کا خدشہ تھا !!پی ڈی ایم میں سینیٹ الیکشن کے معاملے پر اختلافات سر اٹھانے لگے

بزرگ افراد کو کورونا سے بچائو کی ویکسین10 مارچ سے لگائی جائیگی

بزرگ افراد کو کورونا سے بچائو کی ویکسین10 مارچ سے لگائی جائیگی