12:49 pm
عبرت ناک شکست ،حسرت ناک انجام ؟

عبرت ناک شکست ،حسرت ناک انجام ؟

12:49 pm

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سیاست بڑی عجیب ہے ۔ اس میں خاص کردار ایک مخصوص طبقے کا ہوتا ہے ۔ عوام ووٹ دیتے ہیں ۔اپنے گھر کی بالکنی میں کھڑے ہوکرآقائوں سے بھیک مانگی جاتی ہے کہ مجھے 100اکثریت نہیں دوتہائی اکثریت چاہیے اور پتہ نہیں کس نامعلوم طریقے سے لیکن صبح سے پہلے مل جاتی ہے ۔ ڈسکہ جیسے حلقے میں انسانیت کا قتل عام کیاجاتا ہے لوگ بھاگ جاتے ہیں گرفتار نہیں ہوتے  مرنے والے مرگئے ۔ دوتہائی مانگنے والوں کی آواز آتی ہے ۔ ہمیں نئے الیکشن چاہیے ۔وہ مخصوص طبقہ پورے ملک کے سامنے اپنی خدمات پیش کرتے ہوئے ہر چیز الٹ پلٹ دیتاہے اور پھر کراچی کی بلدیہ کے طریقے سے سابقہ آقائوں کو ان کا من پسند نتیجہ حاصل کرنے میں سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
ریاست پاکستان میں جن سز ایافتہ لوگوں کو جیل میں ہونا چاہیے وہ سہولت کاروں کی مدد سے خود اپنے زرخرید غلاموں کے ذریعے قوم کا مسیحا ثابت کررہے ہوتے ہیں جبکہ دوسری طرف بحث ہورہی ہوتی ہے کہ ضمانت تو عیادت کے لئے دی گئی تھی ، مریض اپنے سہولت کاروں کی مدد سے ملک سے فرار ہوکر عدالت اور ریاست کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہوگیا    اور عیادت کے نام پرضمانت یافتہ سیاست کررہے ہیں ،اس ملک میں نظام حسرتناک شکست سے دوچار ہے ۔اب یہ حقیقت واضح ہوگئی ہے کہ یہاں مخصوص طبقے کے مخصوص افراد ریاست،  اداروں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قوانین سے برتر ہیں ۔ 
انہیں ا ن کی مرضی کے فیصلے پیش کئے جاتے ہیں ۔ ان کے خاندان کے افراد خود کو احتساب اور تفتیش سے بالاترسمجھتے ہیں ۔وہ درخواست نما حکم دیتے ہیں کہ ہمارے بنائے ہوئے مال سے بیرون ملک جائیدادوں اور ٹیکسوں کا حساب مانگنے والے پاکستانی ادارے کیا حیثیت رکھتے ہیں ۔ وہ تو ہم سے پوچھ نہیں سکتے کہ ہم نے مال کیسے بنایا، مبینہ طور پاکستان کے صحافتی حلقوں اور اداروں میں خوف کی حالت میں آپس میں ایک بات کی جاتی ہے کہ ، جب ایک مفرور مجرم کو واپسی پر ایک سہولت دی ،اسے تمام جرائم سے بری کردیا گیا ،تو ایک خاندان کو بیرون ملک جائیدادیں پیش کی گئی ۔مزید سہولت دیتے ہوئے عدالت میں اپنے اقبال جرم اور بیان سے مکرنے والے شخص کو سہولت دیکر ( وہ شخص ایک ایسا طوطا تھا جس میں بڑے سہولت کاروں کی جان ہے ) نہ صرف بری کردیا گیا بلکہ اس کے خلاف کیس ختم کردیا گیا اور بعد میں کہا گیا کہ اگر کسی صحافی ،الیکٹرانک میڈیا یا شخص نے اس بارے کوئی بات کی تو کارروائی ہوگی ۔ 
 سب خوفزدہ اور خاموش ہوگئے ۔ ستم ظریفی دیکھئے سہولت یافتہ ان افراد کا پورا گینگ اس وقت پاکستان سے مفرور ہوکر اسی ملک میں ہے جہاں سہولت یافتہ اور سہولت دہندگان کی جائیدادیں ثابت اورموجود ہیں ۔ دونوںہی کہتے ہیںیہ ہمارے ننھے اور معصوم بچوں کی ہیں ۔ہمیں کیوں پوچھ رہے ہو ۔تم ہوتے کون ہو پوچھنے والے ۔پھر یہ کہا گیا کہ کن خفیہ اداروں نے ہماری اجازت کے بغیر ہماری بیرون ملک جائیدادوںکا کھوج لگایا ۔ یہ غیر قانونی عمل ہے اداروں کو جواب دہ ہوناپڑے گا۔کاش وہ یہ بھی بتا دینے کہ ، کیا وہ ادارے ریاست پاکستان کے نہیں کیا ان کا بنیادی کام ریاست کے مال کی لوٹ مار، کرپشن اور ایسے اقدامات کی نگرانی نہیں جن سے ملک وقوم کا مفاد وابستہ ہے ؟ نہیں سپریم کورٹ کے ریمارکس کے مطابق یہ سسلین مافیا انتہائی طاقتور ہے ،ادارے ،ریاستیںاور لوگ ان سے ڈرے ہوئے رہتے ہیں ۔
جسٹس قیوم کا نام غلامانہ عاجزانہ فیصلوں کی ایک نظیر ہے ۔وہی جسٹس قیوم جس نے بے نظیر کے خلاف عاجزانہ فیصلہ پیش کیا ساتھیوں سمیت برطرف کردیا گیا ،حیرت کی بات ہے بعد میں اسی پیپلز پارٹی کو سہولت فراہم کرتے ہوئے اس کا سوئس کیس ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ،سوال پیدا ہوتا ہے کہاں کا انصاف ،کہاں کا قانون اور کہاں ہیں وہ ادارے جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اساس اور مضبوطی کے ضامن ہیں ۔جان کی امان ہو تو عرض کریں ،یہاں تو آئینہ دکھانے یا ٹویٹ کرنے پر قانون سے بالا تر طبقہ ملزم ہوتو کہتا ہے میری دولت کا حساب کتاب کوئی نہیں پوچھ سکتا ۔
 پاکستان کی تاریخ میں افتخار کا کردار بھی یادگار ہے۔ اسے قانون کی حکمرانی پر مسلط کردیا گیا ۔ موجودہ حکمرانوں نے عوامی ویلفیئر کے جو وعدے کئے ان پر عمل کے لئے ناکامی میں ان کے دائیں بائیں بیٹھے ہوئے لوگ ہی رکاوٹ بن گئے ، اگر انصاف کی بات کی جائے تو وہ گھر سے شروع ہوتا ہے ۔گھر میں بیٹھے ہوئے ہی بڑے ملزم اور مجرم ہونے کے باوجود ایک منٹ میں حکومت ختم کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں،   اور جو مخلص ہیں ان کو کھڈے لائن لگانے والے وہ لوگ ہیں جو کل ایک قومی اشتہاری مجرم کے پاس چکر لگا لگا کر اس کی پارٹی میں شامل ہونے کے لئے منتیں کررہے تھے ۔ ان لوگوں کی اندرونی سازشوں ، مردم شناسی اور میرٹ نہ ہونے کی وجہ سے آج حکمران پارٹی پورے ملک میں اسی عبرتناک شکست اور حسرتناک انجام سے دوچار ہورہی ہے۔جس کا شکار پاکستان کے اداروں میں موجود سہولت کاروں کی وجہ سے ادارے اور انتظامیہ ہے ۔ جس کامظاہرہ ہر حکومتی حکم کی تعمیل کی بجائے لیت ولعل سے کام لینے کے عمل سے ہورہا ہے ،کاش پاکستان کے خوف ،ذہنی اور عملی غلامی سے نجات حاصل کرکے   ریاست کے لئے کام کرنے والوں کو آگے لائیں ،بریانی کی ایک پلیٹ ،روٹی نان، چند روپوں اور برادری ازم سے نکل کر ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان کے لئے خلوص دل سے کام اور کرپشن کے خلاف جہاد کریں ۔  

تازہ ترین خبریں

وزیراعظم عمران خان سعودی عرب کا دورہ کیوں کر رہے ہیں؟ بڑی وجہ سامنے آگئی

وزیراعظم عمران خان سعودی عرب کا دورہ کیوں کر رہے ہیں؟ بڑی وجہ سامنے آگئی

عید سے قبل حکومت نے عوام کو بڑی خوشخبری سنا دی،ایسا اعلان کہ ہرکوئی خوشی سے باغ باغ ہوگیا

عید سے قبل حکومت نے عوام کو بڑی خوشخبری سنا دی،ایسا اعلان کہ ہرکوئی خوشی سے باغ باغ ہوگیا

50 کروڑ ڈالر کہاں سے آنیوالے ہیں ؟ملکی معیشت کیلئے شاندار خوشخبری

50 کروڑ ڈالر کہاں سے آنیوالے ہیں ؟ملکی معیشت کیلئے شاندار خوشخبری

گورنر بلوچستان ڈٹ گیا،خبر نے سیاسی ایوانوں میںکھلبلی مچادی

گورنر بلوچستان ڈٹ گیا،خبر نے سیاسی ایوانوں میںکھلبلی مچادی

قطر کے وزیر خزانہ کو گرفتار کرلیا گیا

قطر کے وزیر خزانہ کو گرفتار کرلیا گیا

کتنے قیدیوں کی سزا میں کمی اور کتنوں کو رہا کردیاجائیگا؟نوٹیفکیشن جاری، عید سے قبل بڑی خبر آگئی

کتنے قیدیوں کی سزا میں کمی اور کتنوں کو رہا کردیاجائیگا؟نوٹیفکیشن جاری، عید سے قبل بڑی خبر آگئی

شہباز شریف کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

شہباز شریف کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مہنگائی کا ایک اور وار: نیپرا نے بجلی مزید مہنگی کردی

مہنگائی کا ایک اور وار: نیپرا نے بجلی مزید مہنگی کردی

شہباز شریف نے لندن جانے کی تیاری کر لی

شہباز شریف نے لندن جانے کی تیاری کر لی

کورونا وائرس ، حکومت نے بیرون ملک مقیم  پاکستانیوں کو ایک اور بڑی سہولت فراہم کردی

کورونا وائرس ، حکومت نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ایک اور بڑی سہولت فراہم کردی

پنجاب اسمبلی سے منظور کردہ شوگر فیکٹریز کنٹرول بل پر عمل در آمد روک دیا گیا

پنجاب اسمبلی سے منظور کردہ شوگر فیکٹریز کنٹرول بل پر عمل در آمد روک دیا گیا

عید کے موقع پر ورکرز کو بروقت تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے میڈیا ہاؤسز کیلئے 40کروڑ روپے جاری کیے گئے ،وزیراطلاعات

عید کے موقع پر ورکرز کو بروقت تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے میڈیا ہاؤسز کیلئے 40کروڑ روپے جاری کیے گئے ،وزیراطلاعات

ایمیزون کا ملک میں آنا ایک بہت بڑی پیش رفت ہے،مشیر تجارت

ایمیزون کا ملک میں آنا ایک بہت بڑی پیش رفت ہے،مشیر تجارت

فردوس عاشق اعوان خواتین کرکٹرز کو کوچنگ کی خواہشمند

فردوس عاشق اعوان خواتین کرکٹرز کو کوچنگ کی خواہشمند