12:49 pm
نیو ورلڈ آرڈر، مسلمان ممالک کی ضرورت

نیو ورلڈ آرڈر، مسلمان ممالک کی ضرورت

12:49 pm

ظلم کا خاتمہ انصاف کے لئے دہائیاں دینے سے کبھی ہوا ہے اور نہ کبھی ہوگا۔ ظالم کا ہاتھ روکنے کے لئے اس سے برتر طاقت درکار ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے مسلمان ممالک کے پاس مطلوبہ ضروری طاقت موجود  نہیں ہے۔ لہٰذا معاملہ فلسطینی عوام کا ہو یا شام اور افغانستان کے افتادگان خاک کا قصہ ہو اصل بات یہ ہے کہ مسلمان عالمی طاقتوں کے قہر کا شکار اس لئے ہیں کہ وہ کمزور ہیں۔ ان کے پاس وہ ضروری طاقت نہیں جو ظالم کا ہاتھ روک سکے۔ فلسطینی عوام کو مظالم سے نجات دلانے کے لئے  نہ سہی اپنے آپ کو اسرائیلی ہتھکنڈوں سے بچانے کی خاطر عرب ممالک نے ,1967 1956اور 1973ء میں  اسرائیل کے ساتھ پنجہ آزمائی کی لیکن ناکام رہے۔ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک اس کی پشت پر کھڑے تھے۔ آج بھی وہ اسرائیل کے پشت پناہ ہیں۔ چین کے وزیر خارجہ نے سلامتی کونسل میں امریکی کردار کے بارے میں جو کہا وہ اپنی جگہ ایک پوری تاریخ کا قصہ ہے۔ امریکہ نے ہمیشہ اسرائیل کے خلاف کارروائی کا راستہ روکا ہے، امریکہ نے ایسی قراردادوں کو بھی ویٹو کیا ہے جو غزہ کے مظلوم و بے بس انسانوں پر اسرائیلی بمباری روکنے کے لئے اقوام متحدہ میں پیش کی گئی۔ اگر جنرل اسمبلی کے 144ممالک اسرائیل کے خلاف قرارداد کی حمایت کرتے ہیں تو امریکہ ایک ووٹ کی طاقت سے اس قرارداد کو مسترد کر دیتا ہے۔ یہ ہے عالمی انصاف اور عالمی سلامتی کے ادارے کی حالت زار، ایسے میں ہم مسلمان ہمیشہ انصاف کی دہائیاں دینے میں اپنا وقت ضائع کرتے ہیں۔
کب اشک بہانے سے کٹی ہے شب ہجراں
کب کوئی بلاصرف دعائوں سے ٹلی ہے
مسلمان ممالک نااتفاقی کا شکار ہیں چنانچہ گزشتہ نصف صدی سے جنگوں کا مرکز مسلمان ممالک ہیں۔ یہ جنگیں کسی نہ کسی بہانے ان پر مسلط کی گئی ہیں۔ افغان جہاد، ایران عراق جنگ، کویت عراق جنگ، افغان جنگ (9/11) اور شام جنگ  سمیت ہر جنگ کا نشانہ مسلمان ممالک ہیں۔ مسلمان نشانہ ہیں اور اسلام نشانہ ہے لیکن ہم خواب غفلت سے بیدار ہونے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اگر مسلمان ممالک باہم متحد ہوتے تو وہ سلامتی کونسل کی رکنیت حاصل کر سکتے تھے۔ ایک بات میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر مسلمان ممالک یورپی یونین کی طرز پر ایک مضبوط سیاسی و معاشی اتحاد قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو دنیا میں ایک نیا ورلڈ آرڈر قائم ہو جائے گا۔ یہ نیو ورلڈ آرڈر دنیا میں امن لانے کا سبب بنے گا۔
مسلمان ممالک اگر اتحاد کی مضبوط لڑی میں پرو دئیے جائیں تو اس سے نہ صرف وہ تختہ مشق بننے سے بن جائیں گے بلکہ سیاسی و معاشی اتحاد  ان کے لئے خوشحالی اور ترقی کے نئے دروازے کھول دے گا۔ یہ ایک فطری جغرافیائی اتحاد ہوگا۔ آٹھ مسلمان ممالک انڈونیشیا، ملائیشیا، مالدیپ، پرونائی، بنگلہ دیش، البانیہ، گیانا اور سوری نام کے علاوہ باقی تمام مسلمان ممالک جغرافیائی اعتبار سے ملحق ہیں۔ چنانچہ وہ باآسانی اپنی سرحدیں کھول کر مشترکہ تجارت کو فروغ دے سکتے ہیں۔ جب یہ خطہ زمین سنگل مارکیٹ کی صورت اختیار کرے گا تو مشرق و مغرب کے مابین عالمی تجارت کے لئے بھی سہولت پیدا ہوگی۔
ہم جانتے ہیں کہ مسلمان ممالک کے پاس قدرتی وسائل کی بہتات ہے توانائی کے وسیع ذخائر سے مالا مال عرب ممالک دیگر مسلمان ممالک کے ساتھ مل کر اس خطہ کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ دنیا میں خام تیل کے ذخائر کا تقریباً72فیصد مسلمان ممالک کے ساتھ مل کر اس خطہ کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ دنیا میں خام تیل کے ذخائر کا تقریباً72فیصد مسلمان ممالک کے پاس ہے۔ اسی طرح دریافت شدہ گیس کا 53فیصد مسلمان ممالک میں موجود ہے۔ انسانی وسائل کا دنیا میں کوئی متبادل نہیں ہے۔ 2009ء میں شائع ہونے والی او آئی سی کی شماریاتی کتاب کے مطابق مسلمان ممالک کے پاس 600 ملین افراد کی زبردست افرادی قوت موجود ہے۔ یہ لیبر فورس متوازی طور پر تقسیم ہے اور اس کی استعداد کار (Participation Rate)یورپی  یونین کے مقابلے کی ہے۔ پاکستان جیسے زرخیز زمین رکھنے والے ممالک اور اس کی ایٹمی طاقت بھی مسلمان ممالک کا اثاثہ ہیں۔
الغرض مسلمان ممالک کے آپس میں معاشی تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں جنہیں ایکسپوز کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مابین باہمی رابطے کو فروغ دے کر یہ مقاصد حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ مسلمان ممالک کے درمیان تعاون کے لئے قائم عالمی تنظیم او آئی سی اب تک سیاسی  اور نہ ہی معاشی میدان میں کوئی قابل ذکر کردار ادا کر سکی ہے۔ مسلمان ممالک کے مابین تعاون کو فروغ دینے کے لئے ضروری ہے کہ او آئی سی سے چند قدم آگے بڑھ کر ’’مسلم یونین‘‘ کا پلیٹ فارم کیا جائے جو اسلامی مشترکہ مارکیٹ جیسے خوابوں کو روشن تعبیر دے سکے۔ یاد رہے کہ اسلامی مشترکہ مارکیٹ کی تجویز او آئی سی پلیٹ فارم سے 1974ء میں سامنے آئی تھی لیکن اس پر اب تک ٹھوس  پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔ او آئی سی کی طرف عرب لیگ کا حال بھی برا ہے۔ عرب لیگ او آئی سی کی نسبت ایک مضبوط گروپنگ ہے۔ یہ بالاتر قومی اداروں (Supranational Institutions)پر مشتمل ایک ایسی تنظیمہے۔ جو 22عرب ممالک کی نمائندگی کرتی ہے لیکن عملی اعتبار سے اس کی کارکردگی بھی مایوس کن ہے۔ ’’دی گریٹر عرب فری ٹریڈ ایریا‘‘(GAFTA) کا معاہدہ عرب لیگ کی واحد کامیابی تصور کی جارہی تھی لیکن معاشی تعاون کی یہاں بھی وہ شکل نہ بن سکی جو یورپی یونین کا خاصا ہے۔ سائز کے اعتبار سے عرب لیگ یورپی یونین سے بڑا رقبہ  رکھتی ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے اس کی اہمیت یہ ہے کہ شمالی چاڈ کو نکال کر تقریباً ہر عرب ملک کے ساتھ سمندر موجود ہے۔
بے شمار مشترکات  اور اتنے اہم محل وقوع کے باوجود عرب لیگ معاشی تعاون کی وہ داستان رقم نہیں کر سکی جو یورپی یونین کی صورت میں دنیا کو دیکھنے کو ملی۔ گافٹا بھی آسیان جیسا معاہدہ ثابت ہوا جبکہ مسلمان ممالک کو باہمی تعاون کے لئے ایک مضبوط معاشی کوآرڈی نیشن کی ضرورت ہے جو ’’مسلم یونین‘‘ کی صورت میں میسر آسکتی ہے۔ مسلمان ممالک جب اس طرح کے معاشی و سیاسی تعاون کے لئے  متحد ہو جائیں گے تب جا کر انہیں وہ طاقت حاصل ہوگی جو ظلم کا راستہ بھی روکے گی اور عالمی امن کے قیام کے لئے بھی مددگار ثابت ہوگی۔

تازہ ترین خبریں

سپریم کورٹ نے پراسیکیوشن کو ہائی پروفائل کیسز واپس لینے سے روک دیا

سپریم کورٹ نے پراسیکیوشن کو ہائی پروفائل کیسز واپس لینے سے روک دیا

آپ کی شکل اچھی ہو تو آپ کے مرد ساتھی ۔۔۔پی ٹی آئی کی خاتون رہنما زرتاج گل کا معنی خیز بیان آگیا

آپ کی شکل اچھی ہو تو آپ کے مرد ساتھی ۔۔۔پی ٹی آئی کی خاتون رہنما زرتاج گل کا معنی خیز بیان آگیا

حکومت قائم رہے گی یا اسمبلیاں تحلیل ہوں گی؟ اگلے دو دن انتہائی اہم قرار۔۔وزیراعظم شہباز شریف کو کس کی یقین دہانی کا انتظار ہے؟

حکومت قائم رہے گی یا اسمبلیاں تحلیل ہوں گی؟ اگلے دو دن انتہائی اہم قرار۔۔وزیراعظم شہباز شریف کو کس کی یقین دہانی کا انتظار ہے؟

حمزہ شہباز عہدے پر برقرار رہیں گے یا نہیں؟  حکومتی اتحادیوں نے فیصلہ سنا دیا

حمزہ شہباز عہدے پر برقرار رہیں گے یا نہیں؟ حکومتی اتحادیوں نے فیصلہ سنا دیا

وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجونےتحریک عدم اعتماد پر دستخط  کرنے والے ارکان کیخلاف انتہائی اقدام اٹھانے کا اعلان کر دیا

وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجونےتحریک عدم اعتماد پر دستخط کرنے والے ارکان کیخلاف انتہائی اقدام اٹھانے کا اعلان کر دیا

عمران خان سے متعلق ہوشربا انکشافات، فرح گوگی اور مانیکاخاندان کے پول کھول کر رکھ دیئے

عمران خان سے متعلق ہوشربا انکشافات، فرح گوگی اور مانیکاخاندان کے پول کھول کر رکھ دیئے

 اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمر سرفراز چیمہ کو بڑا جھٹکا دیدیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمر سرفراز چیمہ کو بڑا جھٹکا دیدیا

بطورگورنر پنجاب عہدے سے برطرفی کیخلاف درخواست، اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمر سرفراز چیمہ کو بڑا جھٹکا دیدیا

بطورگورنر پنجاب عہدے سے برطرفی کیخلاف درخواست، اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمر سرفراز چیمہ کو بڑا جھٹکا دیدیا

آئندہ دو روز موسم کیسا رہے گا؟ محکمہ موسمیات نے پیشنگوئی کر دی

آئندہ دو روز موسم کیسا رہے گا؟ محکمہ موسمیات نے پیشنگوئی کر دی

ہنگامہ خیز واپسی، عامر لیاقت نے سوشل میڈیا پر شدید تنقید کے بعد نئی ویڈیو جاری کر دی، حیران کن دعویٰ کر دیا

ہنگامہ خیز واپسی، عامر لیاقت نے سوشل میڈیا پر شدید تنقید کے بعد نئی ویڈیو جاری کر دی، حیران کن دعویٰ کر دیا

10کلو آٹے کا تھیلا کتنے سو روپے کا ملے گا؟ حکومت نے بڑی خوشخبری سنا دی

10کلو آٹے کا تھیلا کتنے سو روپے کا ملے گا؟ حکومت نے بڑی خوشخبری سنا دی

رواں سال کی پہلی پری مون سون بارشوں کا سلسلہ شروع، کن کن شہروں میں بارش ہو گی؟ محکمہ موسمیات نے پیشنگوئی کر دی

رواں سال کی پہلی پری مون سون بارشوں کا سلسلہ شروع، کن کن شہروں میں بارش ہو گی؟ محکمہ موسمیات نے پیشنگوئی کر دی

لندن سے راتوں رات پاکستان آمد، ن لیگی کارکنان مین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی

لندن سے راتوں رات پاکستان آمد، ن لیگی کارکنان مین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی

ڈالر نے پاکستانی معیشت کی کمر توڑ ڈالی، تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر جا پہنچا

ڈالر نے پاکستانی معیشت کی کمر توڑ ڈالی، تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر جا پہنچا