12:54 pm
اسرائیل کا قیام اور بقا کی جدوجہد

اسرائیل کا قیام اور بقا کی جدوجہد

12:54 pm

(گزشتہ سے پیوستہ)
چونکہ بیت المقدس کو عیسائیوں سے مسلمانوں نے حاصل کیا تھا اس لیے اس کے قبضہ و کنٹرول کے بارے میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان شدید مخاصمت رہی ہے۔ صلیبی جنگوں کے دوران یورپ کی متحدہ فوجوں نے گیارہویں صدی عیسوی کے آخر میں بیت المقدس پر قبضہ کر لیا تھا جو کم و بیش نوے سال رہا اور سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے مسلسل معرکوں کے بعد اسے عیسائیوں کے قبضے سے آزاد کرایا۔ بیت المقدس فلسطین کا دارالحکومت تھا جو درمیان کے مذکورہ نوے برس کے عرصہ کے علاوہ حضرت عمرؓ کے دور سے مسلمانوں کے پاس ہی رہا ہے، حتیٰ کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد برطانیہ نے دسمبر ۱۹۱۷ء میں اس پر قبضہ کر کے اس پر اپنا اقتدار قائم کر لیا۔
اس سے قبل فلسطین خلافت عثمانیہ کا صوبہ تھا، پہلی جنگ عظیم میں خلافت عثمانیہ نے جرمنی کا ساتھ دیا تھا اس لیے جرمنی کی شکست کے ساتھ ہی خلافت عثمانیہ بھی شکست و ریخت کا شکار ہوگئی تھی اور اس بندر بانٹ میں فلسطین پر برطانیہ کا قبضہ عالمی سطح پر تسلیم کر لیا گیا۔ ’’گاڈ فرے ڈی بولون‘‘ نامی انگریز کمشنر نے ۱۰ دسمبر ۱۹۱۷ء کو فلسطین کا اقتدار سنبھالا اور ۱۵ مئی ۱۹۴۸ء تک فلسطین پر برطانیہ کا قبضہ رہا۔ خلافت عثمانیہ نے یہودیوں کو ویزے پر بیت المقدس آنے اور اپنے مقدس مقامات کی زیارت اور وہاں عبادت کی آزادی دے رکھی تھی مگر انہیں فلسطین میں زمین خریدنے، کاروبار کرنے اور رہائش اختیار کرنے کا حق قانونی طور پر حاصل نہیں تھا۔
اس دوران یہودیوں نے عالمی سطح پر ’’صہیونیت‘‘ کے عنوان سے ایک تحریک کا آغاز کیا۔ صہیون بیت المقدس کا ایک پہاڑ ہے جو یہودیوں کے ہاں بہت متبرک سمجھا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اس پہاڑی پر حضرت داؤد علیہ السلام کی عبادت گاہ تھی۔ اس پہاڑ کے تقدس کو عنوان بنا کر یہودیوں نے تحریک شروع کی جس میں فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن قرار دے کر اسے واپس لینے کا عزم کیا گیا تھا۔ صہیونی تحریکوں کے لیڈروں نے اس وقت کے عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمید دوم مرحوم سے درخواست کی کہ یہودیوں کو فلسطین میں آباد ہونے کا حق دیا جائے۔ سلطان نے اس سے انکار کر دیا، انہیں بیش بہا مالی مراعات کی پیش کش کی جو انہوں نے قبول نہیں کیں۔ سلطان عبد الحمید دوم نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ انہیں معلوم تھا کہ یہودی صرف فلسطین میں آباد ہونے کا حق نہیں مانگ رہے بلکہ اس کی آڑ میں بیت المقدس پر قبضہ کرنے کا پروگرام رکھتے ہیں، اس لیے ان کی ملّی غیرت نے گوارا نہیں کیا کہ وہ یہودیوں کو اس بات کا موقع فراہم کریں۔ اس وجہ سے سلطان عبد الحمید دوم یہودیوں کے غیظ و غضب کا نشانہ بنے اور ان کے خلاف وہ تحریک چلی جس کے نتیجے میں وہ خلافت سے محروم ہو کر نظر بندی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوگئے اور اسی نظر بندی میں ان کا انتقال ہوا۔
اس موقع پر برطانیہ کے وزیر خارجہ بالفور نے اعلان کیا کہ وہ فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن تسلیم کرتے ہیں اور موقع ملنے پر انہیں وہاں آباد ہونے کی سہولت فراہم کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔ اسے اعلان بالفور کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے عوض یہودیوں نے پہلی جنگ عظیم کے دوران برطانیہ کے مالی نقصانات کی تلافی کرنے کا وعدہ کا تھا اور ان مالی مفادات کے باعث برطانیہ اور اس کے ساتھی ممالک نے فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
۱۹۱۸ء سے ۱۹۴۸ء تک برطانیہ نے فلسطین میں یہودیوں کی آمد اور آبادی کی سرپرستی کرکے ’’اعلان بالفور‘‘ کے ذریعہ کیا گیا وعدہ پورا کیا اور جب دیکھا کہ فلسطین کا ایک بڑا حصہ یہودی خرید چکے ہیں تو ۱۵ مئی ۱۹۴۸ء کو فلسطین کا علاقہ یہودیوں اور فلسطینیوں کے درمیان تقسیم کرنے کا اعلان کر کے برطانیہ وہاں سے چلا گیا۔ اس کے بعد فلسطینیوں اور یہودیوں کے درمیان جنگوں اور جھڑپوں کا وسیع سلسلہ چل نکلا۔ یہودیوں نے اپنے لیے برطانیہ کی طرف سے مخصوص کردہ علاقے میں اسرائیل کے نام سے نئی سلطنت قائم کرنے کا اعلان کر دیا جسے امریکہ اور روس سمیت عالمی طاقتوں نے تسلیم کر لیا اور اقوام متحدہ نے بھی اسرائیل اور فلسطین کے درمیان حد بندی کر کے اسرائیل کو ایک آزاد ریاست قرار دینے کا اعلان کر دیا۔
اس کشمکش میں یہودیوں نے اچھے خاصے علاقے پر قبضہ کیا مگر بیت المقدس کا مشرقی حصہ جس میں بیت المقدس کا مقدس احاطہ ہے، اردن کے پاس رہا اور اس پر اس کا انتظامی حق تسلیم کر لیا گیا۔ ۱۹۶۷ء کی عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل نے (مصر، شام اور اردن کے دیگر علاقوں کے ساتھ) یروشلم کے مشرقی حصے اور مسجد اقصیٰ پر بھی قبضہ کر لیا اور اس وقت سے یہ علاقہ اسرائیل کے قبضے میں ہے۔
اسرائیل نے اس دوران مسلسل کوشش کی ہے کہ بیت المقدس پر اس کے قبضے کو جائز تسلیم کیا جائے اور یروشلم کو غیر متنازعہ شہر قرار دے کر اسرائیل میں شامل قرار دیا جائے لیکن عالمی رائے عامہ اس کے اس موقف کو قبول نہیں کر رہی۔ ۱۹۹۵ء میں جب اسرائیل نے یروشلم کو اپنا دارالحکومت قرار دیا تو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ۵ دسمبر ۱۹۹۵ء کو بھاری اکثریت کے ساتھ قرار داد منظور کر کے اسرائیل کے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دے دیا اور واضح طور پر کہا کہ یروشلم کی حیثیت ایک متنازعہ شہر کی ہے اور باقاعدہ فیصلہ ہونے تک یہ متنازعہ شہر ہی رہے گا۔
  فلسطینیوں کو جو دنیا بھر میں لاکھوں کی تعداد میں پناہ گزین ہیں اور مہاجر ہیں، ان کا وطن واپس دلانے اور بیت المقدس کو اسرائیل کے ناجائز تسلط سے آزاد کرانے کے لیے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کو سنجیدگی کے ساتھ کوئی ٹھوس لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے کہ ہمارا ملی فریضہ بہرحال یہی بنتا ہے۔

تازہ ترین خبریں

سپریم کورٹ نے پراسیکیوشن کو ہائی پروفائل کیسز واپس لینے سے روک دیا

سپریم کورٹ نے پراسیکیوشن کو ہائی پروفائل کیسز واپس لینے سے روک دیا

آپ کی شکل اچھی ہو تو آپ کے مرد ساتھی ۔۔۔پی ٹی آئی کی خاتون رہنما زرتاج گل کا معنی خیز بیان آگیا

آپ کی شکل اچھی ہو تو آپ کے مرد ساتھی ۔۔۔پی ٹی آئی کی خاتون رہنما زرتاج گل کا معنی خیز بیان آگیا

حکومت قائم رہے گی یا اسمبلیاں تحلیل ہوں گی؟ اگلے دو دن انتہائی اہم قرار۔۔وزیراعظم شہباز شریف کو کس کی یقین دہانی کا انتظار ہے؟

حکومت قائم رہے گی یا اسمبلیاں تحلیل ہوں گی؟ اگلے دو دن انتہائی اہم قرار۔۔وزیراعظم شہباز شریف کو کس کی یقین دہانی کا انتظار ہے؟

حمزہ شہباز عہدے پر برقرار رہیں گے یا نہیں؟  حکومتی اتحادیوں نے فیصلہ سنا دیا

حمزہ شہباز عہدے پر برقرار رہیں گے یا نہیں؟ حکومتی اتحادیوں نے فیصلہ سنا دیا

وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجونےتحریک عدم اعتماد پر دستخط  کرنے والے ارکان کیخلاف انتہائی اقدام اٹھانے کا اعلان کر دیا

وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجونےتحریک عدم اعتماد پر دستخط کرنے والے ارکان کیخلاف انتہائی اقدام اٹھانے کا اعلان کر دیا

عمران خان سے متعلق ہوشربا انکشافات، فرح گوگی اور مانیکاخاندان کے پول کھول کر رکھ دیئے

عمران خان سے متعلق ہوشربا انکشافات، فرح گوگی اور مانیکاخاندان کے پول کھول کر رکھ دیئے

 اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمر سرفراز چیمہ کو بڑا جھٹکا دیدیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمر سرفراز چیمہ کو بڑا جھٹکا دیدیا

بطورگورنر پنجاب عہدے سے برطرفی کیخلاف درخواست، اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمر سرفراز چیمہ کو بڑا جھٹکا دیدیا

بطورگورنر پنجاب عہدے سے برطرفی کیخلاف درخواست، اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمر سرفراز چیمہ کو بڑا جھٹکا دیدیا

آئندہ دو روز موسم کیسا رہے گا؟ محکمہ موسمیات نے پیشنگوئی کر دی

آئندہ دو روز موسم کیسا رہے گا؟ محکمہ موسمیات نے پیشنگوئی کر دی

ہنگامہ خیز واپسی، عامر لیاقت نے سوشل میڈیا پر شدید تنقید کے بعد نئی ویڈیو جاری کر دی، حیران کن دعویٰ کر دیا

ہنگامہ خیز واپسی، عامر لیاقت نے سوشل میڈیا پر شدید تنقید کے بعد نئی ویڈیو جاری کر دی، حیران کن دعویٰ کر دیا

10کلو آٹے کا تھیلا کتنے سو روپے کا ملے گا؟ حکومت نے بڑی خوشخبری سنا دی

10کلو آٹے کا تھیلا کتنے سو روپے کا ملے گا؟ حکومت نے بڑی خوشخبری سنا دی

رواں سال کی پہلی پری مون سون بارشوں کا سلسلہ شروع، کن کن شہروں میں بارش ہو گی؟ محکمہ موسمیات نے پیشنگوئی کر دی

رواں سال کی پہلی پری مون سون بارشوں کا سلسلہ شروع، کن کن شہروں میں بارش ہو گی؟ محکمہ موسمیات نے پیشنگوئی کر دی

لندن سے راتوں رات پاکستان آمد، ن لیگی کارکنان مین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی

لندن سے راتوں رات پاکستان آمد، ن لیگی کارکنان مین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی

ڈالر نے پاکستانی معیشت کی کمر توڑ ڈالی، تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر جا پہنچا

ڈالر نے پاکستانی معیشت کی کمر توڑ ڈالی، تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر جا پہنچا