01:17 pm
پاکستان کی بقا کے لئے افغانستان میں امن ضروری ہے

پاکستان کی بقا کے لئے افغانستان میں امن ضروری ہے

01:17 pm

1980ء کی دہائی میں جنرل ضیا ء الحق کی خارجہ پالیسی ان کی اعلیٰ بصیرت ،  کامیاب حکمتِ عملی ،  جرأت اور تدبر پر دلالت کرتی ہے۔ ’’افغانستان پر روسی حملہ اور کشمیر کے سلسلے میں جنرل ضیاء الحق نے جس جرأت ،  صبر وحکمت،  خارجہ اور بین الاقوامی امور میں دانشمندی و فراست کا مظاہرہ کی وہ سب ایک کتاب کے برابر ہے اور انہوں نے اسلام آباد میں بیٹھ کر چند منظم قبائلی لشکروں کے ذریعے دنیا کی سب سے بڑی سپر طاقت کے پرخچے اڑا دیے اور دیوار برلن سے لے کر چین کی سرحد تک درجنوں ممالک کی آزادی کا راستہ کھول دیا۔‘‘۔ ایران میں فروری 1979ء میں اسلامی انقلاب آگیا۔امریکہ ’’شیطان اکبر‘‘ قرار  پایا اور روس ’’شیطان دوم‘ ‘۔ امریکہ نے فضائی کارروائی کے ذریعے اپنے یرغمالی آزاد کرانے کی جو کوشش کی، وہ ناکام ہو گئی
۔روس وقتی طور پر خوش تھا لیکن امام خمینی کی حکومت نے امریکی ایجنٹوں کے ساتھ روسی گماشتوں کا بھی صفایا شروع کر دیا۔بحرہند میں امریکی اثرو رسوخ کو شدید خطرہ لاحق تھا۔اس کے چھٹے اور ساتویں بحری بیڑے کی حرکت سے ایران حکومت نہ مرعوب ہوئی ،  نہ متاثر اور یہ بات امریکی حکومت کے لئے بحرحال باعثِ تشویش تھی۔پاکستان کی تحریک نظام مصطفی نے روس کے مسلم عوام میں ذوق انقلاب کو ہوا دی ان کی دبی ہوئی ایمان کی چنگاریوں کو ہوا ملی۔وہاں اسلام کے احیاء کے لئے خفیہ تحریکوں نے جنم لینا شروع کیا۔بالخصوص شیعہ مسلک کے مسلمانوں کی ایران کے انقلاب سے بہت حوصلہ افزائی ہوئی۔روس نے اس علاقہ میں گڑبڑ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پیش قدمی کا فیصلہ کیاتاکہ وہ خود اپنے وجود کو شکست دریخت سے بچا سکے۔70ء کی دہائی سے روس کے زیراثر افغانستان میں ایک کشمکش بپا تھی۔ ظاہر شاہ کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سردار داؤد کو برسر اقتدار لانا روس کی مداخلت کی پالیسی کا آغاز تھا۔نور محمد ترہ کئی کا انقلاب 27اپریل1978ء  سوشلسٹ نظام نافذ کرنے کے نعرے کے ساتھ آیا تھا لیکن رو س ’’زیر اثر حکومت‘‘ کی بجائے ’’مؤثر کنٹرول چاہتا تھا۔اس لیے ایک اور انقلاب برپا کر کے 14ستمبر 1979ء کو حفیظ اللہ امین کو اقتدار سونپا گیا اور ترہ کئی اور اس کا خاندان ہلاک کر دئیے گئے۔مزید مداخلت کے لئے افغانستان کے سوشلسٹوں کی ’’خلق ‘‘ اور ’’پرچم ‘‘ دھڑوں میں اختلافات کو ہوا دی گئی اور صرف دو ماہ بعد ببرک کارمل کا اقتدار قائم کیا گیا اور اس کے اقتدار کو قائم کرنے کے لئے 1979ء میں روسی فوجیں افغانستان میں داخل ہوگئیں ۔اس کے پس منظر میں دو عوامل تھے ۔ اولاً حفیظ اللہ امین کی ہوانا میںغیر جانبدار ملکوں کی کانفرنس میں پاکستان کے صدر ضیاء الحق اور دیگر مسلم سربراہانِ مملکت سے ملاقاتیں اور دوسرے ایران میں کمیونسٹ ورکروں کا  صفایا۔روس نے بوکھلاہٹ کے عالم میں ایک ایسے آزاد مسلم ملک میں اپنی فوجیں داخل کر دیں جو پہلے ہی اس کا طفیلی تھا۔روسی حکومت اپنی ہی قائم کردہ حکومت کی اتنی سی آزادی برداشت نہ کر سکی کہ وہ علاقائی امن و امان کے لئے دیگر مسلمان ملکوں سے براہِ راست مذاکرات کرے۔ پاکستان کے اندر بہت سے ’’مخلص حامی‘‘ اور بہت سے ’’امدادی رقوم لینے والے‘‘ تھے اور اس وقت روس کی فوجی طاقت کا غلغلہ اتنا زیادہ تھا کہ امریکہ بھی اس کاراستہ روکنے سے گھبرا رہا تھا۔ بالخصوص اس لئے بھی کہ ایران میں انقلاب نے اسے ایک مضبوط حمایتی سے محروم کر دیا تھا اور نئی ایرانی حکومت امریکی سی۔آئی۔ اے کی مداخلت اور سازشوں کو بے نقاب کرنے میں مصروف تھی۔صدر ضیاء الحق نے ا س مرحلے پر افغانستان سے آنے والے مہاجرین کے لئے پاکستان کی سرحدیں کھول دینے کا تاریخی فیصلہ کیا۔ پاکستان میں روسی لابی نے اس کی شدید مخالفت کی۔سفارتی سطح پر ضیاء الحق حکومت نے اس جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے سب سے پہلے اسلامی ممالک سے رابطہ کیا اور بسرعت تمام انتظامات کرکے اسلامی وزرائے خارجہ کاہنگامی اجلاس اسلام آباد میں طلب کر لیا۔یہ اجلاس 27جنوری سے 29جنوری 1980ء تک منعقد ہوا۔امت مسلمہ کے نمائندوں نے روسی جارحیت کی مذمت کی۔افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔افغان مسئلہ کو صرف پاکستا ن کا ہی نہیں عالم اسلام کا مسئلہ قرار دیا اور افغان مہاجرین کی آمد سے معاشی بوجھ کو مل کر اٹھانے پر آمادگی ظاہر کی۔ یہ ضیاء الحق کی پہلی سفارتی کامیابی تھی۔پاکستان کے لئے جہاد افغانستان ایک بڑی آزمائش تھی۔ روس کے ہم فکر اخبار نویس اور سیاستدان ضیاء حکومت کے خلاف پروپیگنڈہ میں مصروف تھے کیونکہ مارشل لاء کے باوجود پریس سابق جمہوری حکومت سے زیادہ آزاد تھا۔ روس کی مخالفت کو حماقت قرار دیا جا رہا تھا۔ضیاء الحق کا مؤقف بالکل اصولی تھا۔ایک مسلمان ہمسایہ ملک کی آزادی ختم کی جا رہی ہے،  اس کی غیر جانبداری ختم ہو کر رہ گئی ہے اور اس کا اسلامی تشخص ختم کیا جا رہا ہے۔افغان مجاہدین اپنی ہی نہیں ہماری جنگ بھی لڑ رہے ہیں ۔ ہم اپنی ہمسائیگی میں روس کی کارروائی سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ہم انسانیت کے نام پر افغانوں کا ساتھ دینے پر مجبور ہیں ۔اسلامی اخوت اور ثقافتی رشتے اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہم ان کا ساتھ دیں ۔مئی1980ء میں گیارہواں اجلاس اسلام آباد ہی میں منعقد ہوا۔افغانستا ن کے مسئلہ پر روس کی مذمت کی،  دوسرے ملکوں میں فوجی اڈوں کے قیام اور بڑی طاقتوں کی طرف سے چھوٹی قوموں کے استحصال کو ہدف تنقید بنایا۔اس طرح اسلامی وزرائے خارجہ نے ہر مسئلہ کا الگ الگ جائزہ لے کر ثابت کر دیا کہ ’’وہ کسی بھی بلاک سے متاثر ہوئے بغیر آزادانہ فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔جنرل ضیاء الحق نے یکم اکتوبر 1980ء کو پندرہویں صدی ہجری کے آغاز پر 90کروڑ مسلمانوں کے نمائندے کی حیثیت سے جنرل اسمبلی سے خطاب کیا۔دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تلاوت قرآن پاک سے اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی شروع ہوئی۔صدر کا خطاب بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع ہوا۔صدر نے کرہ ارض پر ہونے والے ظلم و ناانصافیوں کی نشاندہی کی اور رنگ و نسل،  عقیدے و جنس کے تعصبات ختم کرنے پر زور دیا۔آپ نے پرزور انداز میں دعویٰ کیا کہ اسلام نسل انسانی کو درپیش مسائل حل کر سکتا ہے۔ صدر ضیاء الحق نے عالم اسلام کو درپیش مسائل بھی پیش کئے جن میں افغانستان میں روسی جارحیت،  مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیلی سازشیں ، ایران و عراق اختلاف میں بیرونی مداخلت وغیرہ شامل تھے۔صدر ضیاء الحق کی تقریر فکر انگیز تھی ۔ اس کو نہ صرف اسلامی ممالک نے سراہا بلکہ دنیا کے عام ممالک نے بھی اٹھائے گئے نکات کی اہمیت کو محسوس کیا۔

تازہ ترین خبریں

میری خواہش ہے کہ عمران خان کو گرفتار کیا جائے اور اسی سیل میں رکھا جائے جہاں مجھے رکھا گیا تھا،وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ

میری خواہش ہے کہ عمران خان کو گرفتار کیا جائے اور اسی سیل میں رکھا جائے جہاں مجھے رکھا گیا تھا،وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ

شیریں مزاری کی گرفتاری، پی ٹی آئی نےملک گیر احتجاج کی کال دیدی

شیریں مزاری کی گرفتاری، پی ٹی آئی نےملک گیر احتجاج کی کال دیدی

پی ٹی آئی کی خاتون رہنما شیریں مزاری کو گرفتار کر لیا گیا

پی ٹی آئی کی خاتون رہنما شیریں مزاری کو گرفتار کر لیا گیا

منی لانڈنگ کیس کی سماعت، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ عدالت میں پیش 

منی لانڈنگ کیس کی سماعت، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ عدالت میں پیش 

الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے منحرف اراکین کو نااہل قرار دے دیا

الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے منحرف اراکین کو نااہل قرار دے دیا

پنجاب حکومت کو بڑا جھٹکا لگ گیا، لاہور ہائیکورٹ نے اہم فیصلہ سنا دیا

پنجاب حکومت کو بڑا جھٹکا لگ گیا، لاہور ہائیکورٹ نے اہم فیصلہ سنا دیا

بلاول بھٹو زرداری کا عمران خان کے دورہ روس کا دفاع

بلاول بھٹو زرداری کا عمران خان کے دورہ روس کا دفاع

سپریم کورٹ نے پراسیکیوشن کو ہائی پروفائل کیسز واپس لینے سے روک دیا

سپریم کورٹ نے پراسیکیوشن کو ہائی پروفائل کیسز واپس لینے سے روک دیا

آپ کی شکل اچھی ہو تو آپ کے مرد ساتھی ۔۔۔پی ٹی آئی کی خاتون رہنما زرتاج گل کا معنی خیز بیان آگیا

آپ کی شکل اچھی ہو تو آپ کے مرد ساتھی ۔۔۔پی ٹی آئی کی خاتون رہنما زرتاج گل کا معنی خیز بیان آگیا

حکومت قائم رہے گی یا اسمبلیاں تحلیل ہوں گی؟ اگلے دو دن انتہائی اہم قرار۔۔وزیراعظم شہباز شریف کو کس کی یقین دہانی کا انتظار ہے؟

حکومت قائم رہے گی یا اسمبلیاں تحلیل ہوں گی؟ اگلے دو دن انتہائی اہم قرار۔۔وزیراعظم شہباز شریف کو کس کی یقین دہانی کا انتظار ہے؟

حمزہ شہباز عہدے پر برقرار رہیں گے یا نہیں؟  حکومتی اتحادیوں نے فیصلہ سنا دیا

حمزہ شہباز عہدے پر برقرار رہیں گے یا نہیں؟ حکومتی اتحادیوں نے فیصلہ سنا دیا

وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجونےتحریک عدم اعتماد پر دستخط  کرنے والے ارکان کیخلاف انتہائی اقدام اٹھانے کا اعلان کر دیا

وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجونےتحریک عدم اعتماد پر دستخط کرنے والے ارکان کیخلاف انتہائی اقدام اٹھانے کا اعلان کر دیا

عمران خان سے متعلق ہوشربا انکشافات، فرح گوگی اور مانیکاخاندان کے پول کھول کر رکھ دیئے

عمران خان سے متعلق ہوشربا انکشافات، فرح گوگی اور مانیکاخاندان کے پول کھول کر رکھ دیئے

 اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمر سرفراز چیمہ کو بڑا جھٹکا دیدیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمر سرفراز چیمہ کو بڑا جھٹکا دیدیا