12:53 pm
فطرت،  قدرت اور ضرورت

فطرت،  قدرت اور ضرورت

12:53 pm

اگر غور کریں تو فوراً ہمارے سامنے نمایاں ہو جائے گا انسان کے حیوانی وجود نے مرتبہ ٔ  انسانیت میں پہنچ کر نشو ونما اور ارتقاء کی تمام پچھلی منزلیں بہت پیچھے چھوڑ دی ہیں اور بلندی کے ایک ایسے ارفع مقام پر پہنچ گیا ہے جو اسے کرہ ٔ ارضی کی تمام مخلوقات سے الگ اور ممتاز کر دیتا ہے۔ اب اسے اپنی لامحدود ترقیوں کے لئے ایک لامحدود بلندی کا نصب العین چاہیئے جو اسے برابر اوپر ہی کی طرف کھینچتا رہا۔اس کے اندر بلند سے بلند تر ہوتے رہنے کی طلب ہمیشہ ابلتی رہتی ہے اور وہ اونچی سے اونچی بلندی تک اڑ کر بھی رکنا نہیں چاہتی۔اس کی نگاہیں ہمیشہ اوپر ہی کی طرف لگی رہتی ہیں ۔سوال یہ ہے کہ یہ لامحدود بلندیوں کا نصب العین کیا ہو سکتا ہے؟ ہمیں بلاتاتل تسلیم کر لینا پڑے گا کہ خدا کی ہستی کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتا۔اگر یہ ہستی اس کے سامنے سے ہٹ جائے تو پھر اس کے لئے اوپر کی طرف دیکھنے کے لئے کچھ باقی نہیں رہے گا۔کرہِ ارضی کی موجودات میں جتنی چیزیں ہیں ، سب انسان سے نچلے درجے کی ہیں وہ ان کی طرف نظر نہیں اٹھا سکتا تھا۔لیکن ان میں بھی کوئی ہستی ایسی نہیں جو اس کے لئے نصب العین بن سکے۔وہ سورج کو اپنانصب العین نہیں بنا سکتا۔وہ چمکتے ہوئے ستاروں سے عشق نہیں کر سکتا۔سورج اس کے جسم کو گرمی بخشتا ہے۔لیکن اس کی مخفی قوتوں کی امنگوں کو گرم نہیں کر سکتا۔ ستارے اس کی اندھیری راتوں میں قندیلیں روشن کر دیتے ہیں لیکن اس کے دل و دماغ کو روشن نہیں کر سکتے۔ پھر وہ کون سی ہستی ہے جس کی طرف وہ اپنی بلند پروازیوں کے لئے نظر اٹھا سکتا ہے؟یہاں اس کے چاروں طرف پستیاں جو اسے انسانیت کی بلندی سے پھر حیوانیت کی پستیوں کی طرف لے جانا چاہتی ہیں، حالانکہ وہ اوپر کی طرف اڑنا چاہتا ہے۔وہ عناصر کے درجے سے بلند ہو کر نباتاتی زندگی کے درجہ میں آیا۔نباتات سے بلند تر ہو کر حیوانی زندگی کے درجہ میں پہنچا۔پھر حیوانی مرتبہ سے اُڑکر انسانیت کی شاخِ بلند پر اپنا آشیانہ بنایا۔اب وہ اس بلندی سے پھر نیچے کی طرف نہیں دیکھ سکتا۔
اگرچہ حیوانیت کی پستی اسے برابر نیچے ہی کی طرف کھینچتی رہتی ہے۔وہ فضاء کی لا انتہا بلندیوں کی طرف آنکھ اٹھاتا ہے۔اسے بلندیوں ،  لامحدود بلندیوں کا ایک بامِ رفعت چاہیئے جس کی طرف وہ برابر دیکھتا رہے اور جو اسے ہر دم بلند سے بلند تر ہوتے رہنے کا اشارہ کرتا رہے۔اسی حقیقت کو ایک جرمن فلسفی نے ان لفظوں میں ادا کیا تھا ’’انسان تن کر سیدھا کھڑا نہیں رہ سکتا جب تک کو ئی چیز اس کے سامنے موجود نہ ہو،جو خود اس سے بلند تر ہے۔وہ کسی بلند چیز کے دیکھنے ہی کے لئے سر اوپر کر سکتا ہے‘‘۔بلندی کا یہ نصب العین خدا کی ہستی کے تصور کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے؟ اگر یہ بلندی اس کے سامنے سے ہٹ جائے تو پھر اسے نیچے کی طرف دیکھنے کے لئے جھکنا پڑیگا اور جونہی اس نے نیچے کی طرف دیکھا،  انسانیت کی بلندی پستی میں گرنے لگی۔یہی صورتحال ہے جو ہمیں یقین دلاتی ہے کہ خدا کی ہستی کا عقیدہ انسان کی ایک فطری ضرورت کے تقاضے کا جواب ہے اور چونکہ فطری تقاضے کا جواب ہے،  اس لئے اس کی جگہ انسان کے اندر پہلے سے موجود ہونی چاہئے۔زندگی کے ہر گوشہ میں انسان کے فطری تقاضے ہیں ۔ فطرت نے فطری تقاضوں کے فطری جواب دئیے ہیں اور دونوں کا دامن اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ باندھ دیا ہے کہ اب اس کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، دونوں میں سے کون پہلے ظہور میں آیا تھا،  تقاضے پہلے پیدا ہوئے تھے یا ان کے جوابوں نے پہلے سر اٹھایا تھا؟چنانچہ جب ہم کوئی فطری تقاضہ محسوس کرتے ہیں تو ہمیں پورا پورا یقین ہوتا ہے کہ اس کا فطری جواب بھی ضرور موجود ہوگا۔اس حقیقت میں ہمیں کبھی شبہ نہیںہوتا ۔مثلاً ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کے بچہ کی دماغی نشوونما کے لئے مثالوں اور نمونوں کی ضرورت ہوتی ہے۔وہ مثالوں اور نمونوں کے بغیر اپنی فطری قوتوں کو ان کی اصلی چال چلا نہیں سکتا۔ حتیٰ کہ بات کرنا بھی نہیں سیکھ سکتا جو اس کے مرتبہ انسانیت کا امتیازی وصف ہے اور چونکہ یہ اس کی ایک فطری طلب ہے اس لئے ضروری تھا کہ خود فطرت ہی نے روزا ول سے اس کے جوابات بھی مہیا کر دئیے ہوتے۔چنانچہ یہ جواب پہلے ماں کی ہستی میں ابھرتا ہے ۔ پھر باپ کے نمونے میں سر اٹھاتا ہے۔پھر روز بروز اپنا دامن پھیلاتا جاتا ہے۔ 
اب غور کریں کہ اس صورتحال کا یقین کس طرح ہمارے دماغوں میں بسا ہوا ہے؟ ہم کبھی اس میں شک کر ہی نہیں سکتے۔ ہمارے دماغوں میں یہ سوال اٹھتا ہی نہیں کہ بچے کے لئے والدین کا نمونہ ابتدا ء سے کام دیتا آیا ہے یا بعد کو انسانی بناوٹ نے پیدا کیاہے؟ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ ایک فطری مطالبہ ہے اور فطرت کے تمام مطالبے جبھی سر اٹھاتے ہیں جب ان کے جواب کا بھی سر وسامان مہیا ہوتا ہے۔آسٹریلیا کے وحشی قبائل سے لے کر تاریخی عہد کے متمدن انسانوں تک کوئی بھی اس تصور کی امنگ سے خالی نہیں رہا۔وہاں کے زمزموں کا فکری مواد اس وقت بننا شروع ہوا تھا جب تاریخ کی صبح بھی پوری طرح طلوع نہیں ہوئی تھی اور حتیوں اور عیلامیوں نے جب اپنے تعبدانہ تصورات کے نقش و نگار بنائے تھے تو انسانی تمدن کی طفولیت نے ابھی ابھی آنکھیں کھولی تھیں ۔مصریوں نے ولادت ِ مسیح سے ہزاروں سال پہلے اپنے خدا کو طرح طرح کے ناموں سے پکارا اور صنعت گروں نے مٹی کی پکی ہوئی اینٹوں پر حمد و ثناء کے وہ ترانے کندہ کئے جو گزری ہوئی قوموں سے انہیں ورثہ میں ملے تھے۔کالم پڑھنے کے بعد اپنے آپ سے یہ سوال پوچھنا ہے کہ ہم نے کہاں سے اوپر کی طرف پرواز کی ،  کہاں سے ہم بھٹک گئے،  کہاں سے ہم نے پستی کی راہ اختیار کی۔یقیناً ہم نے پرواز کی اور پرواز کرتے وقت ہم اوج ثریا تک پہنچ گئے لیکن ہم نے کبھی پستیوں کی طرف جانے میں دیر نہیں کی۔ہمیں  فطرت،  قسمت،  توکل اور محنت کا سہارا لے کر ایک دفعہ پھر اکڑ کر کھڑا ہونا ہے۔اپنے قد کو اونچا کرنا ہے ۔ مجھے یہاں ایک سرائیکی شاعر شجاع آبادی کا شعر یا د آیا ہے:
نجومی نہ  ڈراوے  دے  اساں  کوں بدنصیبی دے
جدوں ہتھاں تے چھالے پئے لکیراں خود بدل ویسن


 

تازہ ترین خبریں

ان دو خاندانوں کو این آر او دینا ملک سے سب سے بڑی غداری ہے، وزیراعظم پھٹ پڑے

ان دو خاندانوں کو این آر او دینا ملک سے سب سے بڑی غداری ہے، وزیراعظم پھٹ پڑے

جوتوں سے پہچانا گیا   اللہ تعالیٰ کا نظام بھی کیسا عجیب ہے‘  وہ جب کسی ظالم سے نفرت کرتا ہے  تو اس کی قبر کی بھی بخشش نہیں ہوتی...

جوتوں سے پہچانا گیا اللہ تعالیٰ کا نظام بھی کیسا عجیب ہے‘ وہ جب کسی ظالم سے نفرت کرتا ہے تو اس کی قبر کی بھی بخشش نہیں ہوتی...

ناریل کے گرم پانی کے معجزات، ماہرین نے حیران کن تحقیق بیان کر دی

ناریل کے گرم پانی کے معجزات، ماہرین نے حیران کن تحقیق بیان کر دی

محمد رضوان کو محنت کا صِلہ مل گیا، آئی سی سی نے بڑی خوشخبری سنا دی

محمد رضوان کو محنت کا صِلہ مل گیا، آئی سی سی نے بڑی خوشخبری سنا دی

ایک ہفتے میں ڈالر ، سعودی ریال اور برطانوی پائونڈ کی قدر میں کتنی کمی ہوئی؟ مکمل تفصیلات آگئیں

ایک ہفتے میں ڈالر ، سعودی ریال اور برطانوی پائونڈ کی قدر میں کتنی کمی ہوئی؟ مکمل تفصیلات آگئیں

بارشیں مزید کب تک جاری رہیں گی؟ محکمہ موسمیات نے ٹھنڈی ٹھنڈی پیشنگوئی کر دی

بارشیں مزید کب تک جاری رہیں گی؟ محکمہ موسمیات نے ٹھنڈی ٹھنڈی پیشنگوئی کر دی

نیوزی لینڈکی وزیراعظم جیسنڈرا آرڈرن کی شادی سے پہلے ہی خوشیاں خاک میں مل گئیں

نیوزی لینڈکی وزیراعظم جیسنڈرا آرڈرن کی شادی سے پہلے ہی خوشیاں خاک میں مل گئیں

عمران خان کی چھٹی ۔۔اگلا وزیراعظم کون ہو گا؟سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بڑا دعویٰ کر دیا

عمران خان کی چھٹی ۔۔اگلا وزیراعظم کون ہو گا؟سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بڑا دعویٰ کر دیا

بارشوں اور برفباری نے تباہی مچادی، اب تک کتنی ہلاکتیں ہو گئیں؟ افسوسناک تفصیلات جاری

بارشوں اور برفباری نے تباہی مچادی، اب تک کتنی ہلاکتیں ہو گئیں؟ افسوسناک تفصیلات جاری

سستےگھروں کی الاٹمنٹ کیلئے قرعہ اندازی شروع، ساڑھے 3 مرلہ گھر کی ماہانہ قسط کیا ہوگی؟ خوشخبری سنا دی گئی

سستےگھروں کی الاٹمنٹ کیلئے قرعہ اندازی شروع، ساڑھے 3 مرلہ گھر کی ماہانہ قسط کیا ہوگی؟ خوشخبری سنا دی گئی

خبردار!!احتیاط کیجئے  موٹروے پر سفر کرنے سے پہلے یہ خبر پڑھ لیں ، موٹروےپولیس نے ہدایات جاری کردیں

خبردار!!احتیاط کیجئے موٹروے پر سفر کرنے سے پہلے یہ خبر پڑھ لیں ، موٹروےپولیس نے ہدایات جاری کردیں

کورونا کیسز میں اضافہ ، کئی علاقوں میں لاک ڈائون نافذ کرنے کا فیصلہ

کورونا کیسز میں اضافہ ، کئی علاقوں میں لاک ڈائون نافذ کرنے کا فیصلہ

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کس تاریخی موقع پر پاکستان آئیں گے؟خوشخبری سنا دی گئی

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کس تاریخی موقع پر پاکستان آئیں گے؟خوشخبری سنا دی گئی

کورونا کیسز میں اضافہ ، صوبائی حکومت جس نے ان ڈور شادیوں اور پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی لگا دی

کورونا کیسز میں اضافہ ، صوبائی حکومت جس نے ان ڈور شادیوں اور پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی لگا دی