12:55 pm
سر سید احمد خانؒ، قائد اعظمؒ اور مسلم اوقاف

سر سید احمد خانؒ، قائد اعظمؒ اور مسلم اوقاف

12:55 pm

(گزشتہ سے پیوستہ)

 اس پس منظر میں برطانوی دور میں وقف قوانین کے حوالہ سے ’’وقف علی الاولاد‘‘ کے شرعی قوانین کے بارے میں جدوجہد کے ایک مرحلہ کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ ’’قائد اعظم کے ابتدائی تیس سال‘‘ کے مصنف رضوان احمد لکھتے ہیں کہ وقف علی الاولاد مسلمانوں کا ایک مسلّمہ قانون تھا لیکن ۱۸۷۳ء میں بمبئی ہائیکورٹ نے اس کے خلاف ایک فیصلہ صادر کیا جس کی ضرب اسلامی قوانین پر پڑی اور مسلمانوں میں شدید اضطراب برپا ہوا۔ ۱۸۵۷ء کے بعد کا وہ زمانہ مسلمانوں کے لیے جس قدر ہولناک تھا اس سے ہم سب باخبر ہیں، مسلمانوں کے لیے انگریزی حکومت یا انگریزی عدالت کے خلاف آواز بلند کرنا آسان نہیں تھا۔ مسلمانوں کی حیثیت انگریزوں کی نظر میں ایک باغی قوم کی تھی اس لیے مسلمان بہت پھونک پھونک کر قدم رکھتے تھے۔ مگر انگریزوں کی حکومت یا عدالت کی طرف سے کوئی نہ کوئی کارروائی ایسی ہوتی رہتی تھی جس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے تھے۔ وہ ایسی کارروائیوں کے مقاصد و عزائم کو بھی خوب سمجھتے تھے لیکن حالات ناسازگار تھے۔ آخر ۱۸۷۸ء اور ۱۸۸۲ء کے دوران سرسید احمد خان نے بمبئی ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف احتجاجی تقریر کی، پھر جسٹس امیر علی نے خالص علمی و قانونی انداز سے اس پر تنقید کی اور مضامین لکھے مگر سب سنی ان سنی ہوتی رہی۔
 ۱۸۹۴ء تک ہندوستان کی مختلف عدالتوں میں وقف علی الاولاد کے مسئلہ پر مختلف فیصلے ہوتے رہے یہاں تک کہ عدالتی فیصلوں کے تضاد کو بنیاد بنا کر اسے پریوی کونسل میں لے جایا گیا جہاں جانے کا مطلب یہ تھا کہ اس کی بابت قول فیصل صادر کیا جائے۔ چنانچہ پریوی کونسل نے وقف علی الاولاد کے خلاف قول فیصل صادر کر دیا۔ پریوی کونسل کے اس فیصلے کے معنی یہ تھے کہ ہندوستان کی مختلف عدالتوں میں اس مسئلہ پر جو مختلف و متضاد فیصلے صادر ہوتے رہے صرف اس تضاد کا خاتمہ نہیں ہوا بلکہ اصل مسئلہ یعنی وقف علی الاولاد کے مسلمہ قانون اسلامی کا بھی خاتمہ ہوگیا۔ یہ گویا ضرب کاری تھی جو مسلمانوں کے قلب و جگر پر لگی، ان کی نظر میں یہ مداخلت فی الدین کا برملا اقدام تھا۔ محڈن ایسوسی ایشن کلکتہ نے گورنمنٹ کی توجہ اس طرف مبذول کرائی، یادداشتیں بھیجیں، درخواستیں گزاریں، مسلمانوں کا نقطہ نظر واضح کیا، سبھی کچھ کیا لیکن انگریزوں کی حکومت کو بہرصورت اپنی فرماں روائی کی زمین ہموار کرنی تھی اور صرف ایک دو صوبے یا علاقے میں نہیں بلکہ سارے برعظیم میں کرنی تھی اور اپنے قوانین ایک گوشے سے دوسرے گوشے تک رائج کرنے تھے جس کی کوشش وہ ایک مدت سے کر رہے تھے۔
 رضوان احمد نے یہ اس مرحلہ کا تذکرہ کیا ہے جب وقف علی الاولاد کے شرعی قوانین پر مسلمانوں کے مطالبات و احتجاج کو نظرانداز کرتے ہوئے اس شرعی قانون کا خاتمہ کر دیا گیا۔ جبکہ ’’قائد اعظم اور اسلام‘‘ کے مصنف  محمد حنیف شاہد اس سے اگلے مرحلہ کا ذکر کرتے ہیں جس میں قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے ’’سپریم ایمپریل کونسل‘‘ کا ممبر منتخب ہونے کے بعد ۱۹۱۱ء میں ’’مسلم اوقاف‘‘ کو قانونی حیثیت دلوانے کے لیے کونسل میں ایک بل پیش کیا اور مسلسل محنت کے بعد ۱۹۱۳ء میں اسے کونسل سے منظور کروا لیا۔ قائد اعظمؒ نے یہ مسودہ قانون مولانا شبلی نعمانیؒ کے مشورہ سے مرتب کیا اور اپنی قابلیت و محنت کے ذریعے اسے بالآخر منظور کرا لیا۔ اس بل پر بہت اعتراضات ہوئے جن کے جوابات قائد اعظمؒ نے دلیل و منطق کے ساتھ دیے، ان میں سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ
’’اس بل پر ایک اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ یہ عوامی حکمت عملی (public policy) کے خلاف ہے، اس کا جواب بہت آسان ہے، حکومت کا فرض ہے کہ مسلمانوں پر ’’شرع محمدیؐ‘‘ نافذ کرے، عوامی حکمت عملی کا تصور اسلامی فقہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا، لہٰذا اس کو خارج از بحث سمجھنا چاہیے۔ جہاں تک اسلامی فقہ کا تعلق ہے کسی ایسی حکمت عملی کا تصور ممکن نہیں جس کے تقاضے اس بل کے مقاصد کے خلاف ہوں۔‘‘
اس پس منظر میں ہم اپنے موجودہ حکمرانوں سے گزارش کرنا چاہیں گے کہ مسلمانوں پر ’’شرع محمدیؐ‘‘ کے نفاذ کا جو مطالبہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے ۱۹۱۱ء کے دوران برطانوی ہندوستان کی سپریم ایمپیریل کونسل میں کیا تھا اور اسے اپنے پیش کردہ بل کی حد تک منوانے میں کامیاب ہوئے تھے، اس شرع محمدیؐ کا نفاذ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مسلمانوں کا بھی حق ہے اور کسی بین الاقوامی ادارے، قانون اور معاہدے کو مسلمانوں کے اس جائز حق کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔
 

تازہ ترین خبریں

ان دو خاندانوں کو این آر او دینا ملک سے سب سے بڑی غداری ہے، وزیراعظم پھٹ پڑے

ان دو خاندانوں کو این آر او دینا ملک سے سب سے بڑی غداری ہے، وزیراعظم پھٹ پڑے

جوتوں سے پہچانا گیا   اللہ تعالیٰ کا نظام بھی کیسا عجیب ہے‘  وہ جب کسی ظالم سے نفرت کرتا ہے  تو اس کی قبر کی بھی بخشش نہیں ہوتی...

جوتوں سے پہچانا گیا اللہ تعالیٰ کا نظام بھی کیسا عجیب ہے‘ وہ جب کسی ظالم سے نفرت کرتا ہے تو اس کی قبر کی بھی بخشش نہیں ہوتی...

ناریل کے گرم پانی کے معجزات، ماہرین نے حیران کن تحقیق بیان کر دی

ناریل کے گرم پانی کے معجزات، ماہرین نے حیران کن تحقیق بیان کر دی

محمد رضوان کو محنت کا صِلہ مل گیا، آئی سی سی نے بڑی خوشخبری سنا دی

محمد رضوان کو محنت کا صِلہ مل گیا، آئی سی سی نے بڑی خوشخبری سنا دی

ایک ہفتے میں ڈالر ، سعودی ریال اور برطانوی پائونڈ کی قدر میں کتنی کمی ہوئی؟ مکمل تفصیلات آگئیں

ایک ہفتے میں ڈالر ، سعودی ریال اور برطانوی پائونڈ کی قدر میں کتنی کمی ہوئی؟ مکمل تفصیلات آگئیں

بارشیں مزید کب تک جاری رہیں گی؟ محکمہ موسمیات نے ٹھنڈی ٹھنڈی پیشنگوئی کر دی

بارشیں مزید کب تک جاری رہیں گی؟ محکمہ موسمیات نے ٹھنڈی ٹھنڈی پیشنگوئی کر دی

نیوزی لینڈکی وزیراعظم جیسنڈرا آرڈرن کی شادی سے پہلے ہی خوشیاں خاک میں مل گئیں

نیوزی لینڈکی وزیراعظم جیسنڈرا آرڈرن کی شادی سے پہلے ہی خوشیاں خاک میں مل گئیں

عمران خان کی چھٹی ۔۔اگلا وزیراعظم کون ہو گا؟سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بڑا دعویٰ کر دیا

عمران خان کی چھٹی ۔۔اگلا وزیراعظم کون ہو گا؟سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بڑا دعویٰ کر دیا

بارشوں اور برفباری نے تباہی مچادی، اب تک کتنی ہلاکتیں ہو گئیں؟ افسوسناک تفصیلات جاری

بارشوں اور برفباری نے تباہی مچادی، اب تک کتنی ہلاکتیں ہو گئیں؟ افسوسناک تفصیلات جاری

سستےگھروں کی الاٹمنٹ کیلئے قرعہ اندازی شروع، ساڑھے 3 مرلہ گھر کی ماہانہ قسط کیا ہوگی؟ خوشخبری سنا دی گئی

سستےگھروں کی الاٹمنٹ کیلئے قرعہ اندازی شروع، ساڑھے 3 مرلہ گھر کی ماہانہ قسط کیا ہوگی؟ خوشخبری سنا دی گئی

خبردار!!احتیاط کیجئے  موٹروے پر سفر کرنے سے پہلے یہ خبر پڑھ لیں ، موٹروےپولیس نے ہدایات جاری کردیں

خبردار!!احتیاط کیجئے موٹروے پر سفر کرنے سے پہلے یہ خبر پڑھ لیں ، موٹروےپولیس نے ہدایات جاری کردیں

کورونا کیسز میں اضافہ ، کئی علاقوں میں لاک ڈائون نافذ کرنے کا فیصلہ

کورونا کیسز میں اضافہ ، کئی علاقوں میں لاک ڈائون نافذ کرنے کا فیصلہ

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کس تاریخی موقع پر پاکستان آئیں گے؟خوشخبری سنا دی گئی

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کس تاریخی موقع پر پاکستان آئیں گے؟خوشخبری سنا دی گئی

کورونا کیسز میں اضافہ ، صوبائی حکومت جس نے ان ڈور شادیوں اور پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی لگا دی

کورونا کیسز میں اضافہ ، صوبائی حکومت جس نے ان ڈور شادیوں اور پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی لگا دی