12:56 pm
شکریہ چین!

شکریہ چین!

12:56 pm

گزشتہ کئی دنوں سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ روز کا معمول بن گئی ہے خصوصیت کے ساتھ کراچی میں یہ صورتحال انتہائی سنگین صورتحال اختیار کرگئی ہے۔ جیسا کہ پاکستان کے عوام جانتے ہیں کہ یہ شہر پاکستان کی معاشی ترقی کاحب ہے لیکن بجلی کی مسلسل لوڈشیڈنگ کی وجہ سے چھوٹے بڑے تمام صنعتی ادارے بری طرح متاثر ہورہے ہیں ‘ موجودہ حکومت کے ترجمان کاکہناہے کہ پاکستان میں بجلی کی پیداوار سرپلس ہے۔ اگر واقعی صورتحال ایسی ہے تو پھر لوڈشیڈنگ کیوں ہورہی ہے؟ اس کا اطمینان بخشش جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔ تاہم میں نے جو کچھ بالائی سطور میں لکھاہے اس کا خلاصہ ماسوائے اس کے اور کچھ نہیں ہے کہ حکومت کی جانب سے بجلی کی مستقل بنیاد پر فراہمی معاشی ترقی کے لئے اشد ضروری ہے۔ جن ترقی پذیر ممالک نے حال ہی میں ترقی کی ہے‘ اس کی سب سے بڑی وجہ بجلی کی فراہمی تھی جس کی مدد سے کارخانوں کے علاوہ زرعی پیداوار میں اضافہ ہورہا ہے۔ پاکستان بھی ایک ترقی پذیر ملک ہے۔ اس کی اکانومی کادارومدار زرعی شعبے سے منسلک ہے جس پر ماضی کی حکومتوں کے علاوہ موجودہ حکومت نے بھی کوئی خاصل توجہ نہیں دی ہے۔ محض کسانوں کے حق میں بیان دینے سے زرعی پیداوار میں اضافہ نہیں ہوتاہے بلکہ ان کے لئے ایک جامع حکمت اختیار کی جاتی ہے۔ اگر پاکستان کو واقعی اقتصادی ترقی کرنی ہے تو پالیسی سازوں کو بجلی کی لوڈشیڈنگ کوختم کرناہوگا بلکہ اس مقصد کے حصول کے لئے بجلی کی پیداوار بھی میں اضافہ کرناگزیر ہوچکاہے۔
 تاہم یہ خوشی کی بات ہے کہ دوسرے ایٹمی بجلی گھرK-2 نے اپناکام شروع کردیاہے جس کے ذریعہ 1100  میگاواٹ بجلی پیدا ہورہی ہے۔ جو نیشنل گرڈ میں شامل کردی گئی ہے جس کے سبب لوڈشیڈنگ کو کم کرنے میں خاصی مدد ملے گی۔ نیز صنعتی اور زرعی شعبے کو کسی حد تک ان کی طلب کے مطابق بجلی مل سکے گی۔ قارئین ایٹمی بجلی گھر K-2 اور K-3 کا سنگ بنیاد سابق وزیراعظم نوازشریف نے 2015ء  میں رکھاتھا۔ پیراڈائز پوائنٹ پر واقع یہ دونوں ایٹمی بجلی گھروں کی تعمیر چین کے ماہرین نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی کے تعاون سے مکمل کیاہے۔ K-2 ایٹمی بجلی کا افتتاح 21مئی کو وزیراعظم جناب عمران خان نے ورچوئل آن لائن کے ذریعہ کیاہے جس میں چین کی قیادت بھی موجود تھی۔ K-3 ایٹمی بجلی گوکہ مکمل ہوگیاہے لیکن اس کا افتتاح اگلے سال یعنی2022ء میں کیاجائے گا۔ ابھی یہ ایٹمی بجلی گھر ٹرائل بنیادوں پر کام کررہاہے۔ اس ایٹمی بجلی گھر کی پیداوار ی صلاحیت گیارہ سو میگاواٹ ہے۔ ان دونوں ایٹمی بجلی گھروں کی تعمیر پر 9500بلین ڈالر خرچ ہوئے ہیں۔چین اور انٹرنیشنل اٹاک انرجی کمیشن نے مل کر اس کے اخراجات برداشت کئے ہیں‘ جبکہ عالمی مالیاتی اداروں نے اس منصوبے میں مدد کی ہے۔ اس طرح اب کراچی میں تین ایٹمی بجلی گھر کمرشل بنیادوں پر کام کررہے ہیں۔ پہلا ایٹمی بجلی گھر کراچی میں کنیڈا نے تعمیر کیاتھا۔ جیسا کہ میں نے بالائی سطور میں لکھا ہے کہ ان دونو ں ایٹمی بجلی گھروں کا سنگ بنیاد اس وقت کے وزیراعظم جناب نوازشریف نے رکھاتھا۔ یہ اگست کامہینہ تھا سمندر اپنے پورے جوبن پرتھا‘ اس کی لہریں قرب وجوار میں واقع چھوٹی پہاڑیوں سے ٹکرار رہی تھیں اور منظر انتہائی دلکش لگ رہاتھا ۔
 نوازشریف نے سنگ بنیاد رکھنے کے بعد چینی انجینئروں سے پوچھا کہ کیا یہ ایٹمی بجلی گھر ان کے دور میں مکمل ہوجائیں گے۔؟ چینی انجینئر خاموش رہابعد میں اس نے کہا کہscience and politics are two differnt things چینی ماہرین نے یہ دونوں ایٹمی بجلی گھرانتہائی کم لاگت اورکم وقت میں تعمیر کئے ہیں۔ ان کا سیفٹی اسٹینڈرڈ دنیا کے کسی بھی ایٹمی بجلی گھر کے سیفٹی اسٹینڈرڈ سے کم نہیں ہے۔ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس نے ایٹمی توانائی کی بنیاد ’’ایٹم برائے امن‘‘ پر رکھی ہے۔ ان دونوں بجلی گھروں کی تعمیر سے یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ  آئندہ سالوں میں پاکستان بجلی کی پیداوار میں خودکفیل ہوسکتاہے جس کے براہ راست اثرات پاکستان صنعت  اور زراعت پر مرتب ہوں گے۔ مزید براں اب موجودہ حالات کا تقاضاہے کہ پاکستان گیس کی کمی کو پورا کرنے کے لئے ایران پاکستان گیس پائپ لائن کی تعمیر شروع کردے‘ اس میں مزید تاخیر نہ کرے۔جیسا کہ میں نے پچھلے کالموں میں بھی لکھاہے کہ ایران نے اپنی حصے کی پائپ لائن کی تعمیر مکمل کرلی ہے جبکہ پاکستان نے ابھی تک اس پر سنجیدگی سے غور نہیں کیاہے۔ شاید امریکہ بہادر کے خوف سے ‘ لیکن پاکستان ایران گیس پائپ لائن کی تعمیر کے سلسلے میں چین سے مدد لی جاسکتی ہے۔وہ بخوشی اس میں مدد کرسکتاہے۔ بلکہ اس کو سی پیک کاحصہ بھی بناسکتاہے ۔ سردیوں میں جب گیس کی شدید کمی محسوس کی جائے گی تو اس وقت اس کمی کوکونسا ملک پورا کرسکتاہے۔ اس مسئلہ پر سنجیدگی سے سوچنے کے بعدعمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔ پاکستان قرضے لے کر کب تک اپنی معیشت کے خدوخال کو ٹھیک کرتارہے گا ؟ اقتصادی خودانحصاری سے قومی آزادی کاتصور جڑاہوا ہے۔ جن ممالک نے اقتصادی ترقی اپنی مدد آپ‘ محنت ‘ ایمانداری اور مسلسل کام سے تخلیق کی ہے وہ آج پوری دنیا کے سامنے سرخرو ہورہے ہیں اور آئندہ بھی ہونگے۔ جبکہ ہمارے ارباب اختیار صرف خوش نما بیانات دے کر عوام کو بیوقوف بنارہے ہیں اور بلکہ ترقی معکوس کی طرف لے جارہے ہیں۔ کاش ہم چین کی ترقی کچھ سبق سیکھتے۔ذرا سوچئیے!

تازہ ترین خبریں

ایک دن پہلے ہی کپتان کڑی تنقید کرنے والے ایاز امیر پر حملہ کس نے کیا ؟ عمران خان میدان میں آگئے ، بڑا انکشاف کر ڈالا

ایک دن پہلے ہی کپتان کڑی تنقید کرنے والے ایاز امیر پر حملہ کس نے کیا ؟ عمران خان میدان میں آگئے ، بڑا انکشاف کر ڈالا

صبح صبح موٹروے پر خوفناک حادثہ ، شہادتوں کی اطلاعات

صبح صبح موٹروے پر خوفناک حادثہ ، شہادتوں کی اطلاعات

انا للہ وانا الیہ راجعون ۔۔۔ 6.1شدت کا زلزلہ، کئی افراد جاں بحق،متعدد زخمی

انا للہ وانا الیہ راجعون ۔۔۔ 6.1شدت کا زلزلہ، کئی افراد جاں بحق،متعدد زخمی

کے الیکٹرک نے مستثنیٰ علاقوں میں رات  کو بھی لوڈشیڈنگ کا اعلان کردیا

کے الیکٹرک نے مستثنیٰ علاقوں میں رات کو بھی لوڈشیڈنگ کا اعلان کردیا

ویلکم ٹو پی ٹی آئی ۔۔اداکارہ لیلیٰ زبیری پی ٹی آئی وومن ونگ کی رکن بن گئیں

ویلکم ٹو پی ٹی آئی ۔۔اداکارہ لیلیٰ زبیری پی ٹی آئی وومن ونگ کی رکن بن گئیں

پورا ہفتہ بارشیں، آئندہ سات دن کہاں کہاں برسات ہو گی؟ تفصیلی پیشنگوئی آگئی

پورا ہفتہ بارشیں، آئندہ سات دن کہاں کہاں برسات ہو گی؟ تفصیلی پیشنگوئی آگئی

عمران خان کا تگڑا سیاسی یارکر، پیپلزپارٹی رہنما کی وکٹ اڑا لی

عمران خان کا تگڑا سیاسی یارکر، پیپلزپارٹی رہنما کی وکٹ اڑا لی

اے این پی کی حکومت سے علیحدگی، امیر حیدر خان ہوتی نے اعلان کر دیا

اے این پی کی حکومت سے علیحدگی، امیر حیدر خان ہوتی نے اعلان کر دیا

کیا آپکا اب بھی آرمی چیف سے رابطہ ہے؟ صحافی کے سوال پر عمران خان کا حیران کن ردِ عمل

کیا آپکا اب بھی آرمی چیف سے رابطہ ہے؟ صحافی کے سوال پر عمران خان کا حیران کن ردِ عمل

اوگرا نے کتنے روپے پیٹرول کی قیمت بڑھانے کی تجویز دی تھی؟ تہلکہ خیز انکشاف

اوگرا نے کتنے روپے پیٹرول کی قیمت بڑھانے کی تجویز دی تھی؟ تہلکہ خیز انکشاف

عنقریب صدر مملکت شہباز شریف کو اعتماد کا ووٹ لینےکا کہیں گے، شیخ رشید کی پیش گوئی

عنقریب صدر مملکت شہباز شریف کو اعتماد کا ووٹ لینےکا کہیں گے، شیخ رشید کی پیش گوئی

"  وزیر اعلیٰ پنجاب کے معاملے پر منصور علی خان نے دونوں پارٹیوں کو مشورہ دے دیا، ایسا کیوں کہا ؟ جانیں 

" وزیر اعلیٰ پنجاب کے معاملے پر منصور علی خان نے دونوں پارٹیوں کو مشورہ دے دیا، ایسا کیوں کہا ؟ جانیں 

شاہ محمود اشارے دے رہے ہیں کہ اگلی مرتبہ مجھے وزیراعلی بنایا جائے،سینئر صحافی ہارون الرشید نے بڑی خبر بریک کر دی

شاہ محمود اشارے دے رہے ہیں کہ اگلی مرتبہ مجھے وزیراعلی بنایا جائے،سینئر صحافی ہارون الرشید نے بڑی خبر بریک کر دی

لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد پنجاب اسمبلی میں نمبر گیم کیا ہے ؟جانیں مکمل تفصیلات

لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد پنجاب اسمبلی میں نمبر گیم کیا ہے ؟جانیں مکمل تفصیلات