12:57 pm
جنگیں حکمتِ عملی سے جیتی جاتی ہیں 

جنگیں حکمتِ عملی سے جیتی جاتی ہیں 

12:57 pm

آج دنیا پھر میں مسلمان ممالک ہی میدان جنگ بنے ہوئے ہیں ۔پرانی تاریخ پڑھی جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس زمانے میں جنگیں کثرت ِ افراد سے نہیں اور نہ ہی مال و زر سے لڑی جاتی تھیں بلکہ اس وقت بھی اور آج بھی جنگ بہتر حکمتِ عملی سے لڑی جاتی ہے۔ جتنے بھی بہادر جرنیلوں سے مسلمانوں کی تاریخ بھری پڑی ہے ۔ ان سب نے اپنی اپنی بہتر حکمتِ عملی اور خدا پر کامل یقین سے ہی جیتی تھیں۔اس کی سب سے پہلی مثال جنگِ بدر میں ہزاروں کی تعداد میں صرف تین سو تیرہ کی فتح ہے۔اس کے بعد بھی آج تک1965ء میں پاک بھارت جنگ میں پاکستانی افواج نے اپنے سے سات گنا بڑے ملک کی افواج کو شکست دی۔ ایسے بہت سے جنگی معرکے ہیں جس میں مسلمانوں نے ایسے بہادری کے جوہر دکھائے ۔آج میں ترک دور میں سلطنتِ عثمانیہ کی حکومت پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں ۔عثمانی ترک وسط ایشیا کے ادغوز قبیلے سے تھے۔چنگیز خان کی سختیوں سے تنگ آکر یہ لوگ اسلامی سرزمینو ں میں پہنچے پھر ایشیائے کو چک کا رخ کیا جہاں سلجوق حکمران تھے اور قونیہ ان کا مرکز تھا۔عثمانیوں کا سردار ارطغرل تھا۔ارطغرل اپنے قبیلے کو لئے جا رہا تھا کہ اتفاق سے ایک میدان میں پہنچا جہاں دو فریقوں کے درمیان جنگ ہو رہی تھی۔ایک فریق کی فوج بہت زبردست تھی۔دوسرا فریق کمزور تھا۔ارطغرل کو کمزور کی حالت دیکھ کر رحم آ گیا،  فوراً اپنے چار پانچ سو جنگجو آدمی لے کر کمزور فریق کی مدد کے لئے جنگ میں کود پڑا۔اس مردانگی سے لڑا کہ طاقت ور فوج کو شکست ہو گئی۔اس وقت معلوم ہوا کہ جن کو شکست دی وہ تاتاری تھے اور جس فوج کی مدد کی وہ قونیہ کے سلجوقی سلطان علاؤالدین کیقباد کا لشکر تھا۔سلطان علاؤالدین نے خوش ہو کر ارطغرل کو دریائے سکاریہ کے کنارے رومی سرحد کے قریب ایک وسیع جاگیر دے دی۔
ارطغرل نوے برس کی عمر پا کر 1288ء میں فوت ہوا۔اس کا بیٹا عثمان خان قبیلے کا سردار بنا۔ عثمان خان نے کئی علاقے فتح کئے ،  بار بار رومیوں کو شکست دی۔کئی چھوٹے بڑے سرداروںکوشکست دیتا ہوا بروصہ پہنچا ۔دس برس تک اس کا محاصر ہ جاری رکھا۔عثمان خان نے بسترِ مرگ پر بروصہ کی فتح کی خبر سنی۔اس کے بعد اس کا بہادر بیٹا ادرخان اس کا جانشین بنا۔ ادر خان نے اپنے بڑے بھائی علاؤالدین کو اپنا وزیراعظم بنایا۔دونوں بھائیوں نے مل کر سارے ایشائے کو چک کو فتح کر لیا۔ رومیوں کے پاس صرف دو شہر رہ گئے۔ اسی اثناء میں خود قیصر روم نے ادر خان سے مدد مانگی اس پر ادر خان یورپ میں داخل ہوا۔گیلی پولی اور آس پاس کے علاقے فتح کر کے وہاں ترکوں کی نو آبادیاں قائم کیں۔ ادر خان بہت بڑا فاتح ہی نہ تھا بلکہ رعایا کی بھلائی کا بھی اسے بہت خیال تھا۔اس نے بے شمار مسجدیں ،  خانقاہیں ،  مدرسے،  سرائیں اور لنگر خانے بنوائے۔ ادر خان نے ترکوں کی شہرہ آفاق فوج رینی چری کی بنیاد رکھی۔جسے یورپ جنی سری کہتے ہیں ۔اس کے لفظی معنی ہیں جدید فوج۔ادر خان کے بعد اس کا بیٹا سلطان مراد تخت نشین ہوا۔اس کی توجہ زیادہ تر یورپ پر تھی۔اس نے بروصہ کو چھوڑ کر ایڈریا نوپل (ادرنہ) کو اپنا دارالحکومت بنایا۔
27اگست 1389ء کو قوصوہ کے مقام پر مراد کی فوج اور رومی عیسائیوں کے درمیان ایک بڑی جنگ ہوئی جس میں دشمن کا سپہ سالار سردیا کا بادشاہ مارا گیا۔سلطان مراد مخالف فوج کے ایک سردار کے ہاتھوں زخمی ہو کر شہید ہوا۔ سلطان مراد کے بعد اس کا بیٹا بایزید یلدرم تخت نشین ہوا۔اس نے ایشیاء اور یورپ میں بہت سے علاقے فتح کئے۔مقدونیہ ،  سالونیکا اور آس پاس کے علاقوں پر قبضہ جمانے کے بعد قسطنطنیہ کا محاصرہ کر لیا۔اسی اثناء میں صلیبیوں (عیسائیوں ) کی ایک فوج نے دریائے ڈانیوب عبور کر کے سلطان بایزید کی مملکت کے اندر نکوپولس کا محاصرہ کر لیا۔سلطان قسطنطنیہ کا محاصرہ چھوڑ کر اس طرف بڑھا اور صلیبیوں کو تباہ کر کے رکھ دیا۔سلطان بایزید نے پھر قسطنطنیہ کا محاصرہ کرلیا۔قیصر روم قسطنطنیہ کا ایک حصہ مسلمانوں کے حوالے کر کے صلح کی درخواست کر رہا تھاکہ امیر تیمور بلائے ناگہانی بن کر بایزید کے سر پر آپہنچا۔انگورا کے میدان میں 1402ء میں امیر تیمور نے بایزید کو شکست دی اور اسے گرفتار کر لیا۔اگر تیمور جنگ نہ چھیڑتا تو سلطان محمد فاتح سے کم و بیش پچاس برس پہلے قسطنطنیہ فتح ہو چکا ہوتا اور ترک فوجیں بایزید کی کمان میں آگے نکل جاتیں۔انگورا کے بعد تیمور نے ایشیاء کو چک کے مختلف شہروں میں لوٹ مار کی۔بایزید کے بیٹے تخت و تاج کے لئے لڑنے لگے۔دس برس تک یہ کشمکش جاری رہی۔1413ء میں محمد اپنے دوسرے بھائیوں کو شکست دے کر تخت نشین ہوا۔یہ تاریخ میں محمد اول کہلاتا ہے۔ 1421ء میں محمد اول کا بیٹامرادثانی تخت نشین ہوا۔فتوحات کا سلسلہ پھر شروع ہوگیا۔قیصر نے مجبور ہو کر خراج دینے کا اقرار کیا۔بحیرہء اسود کے کنارے بلغاریہ کی مشہور بندرگاہ ورنہ(Varna) کے مقام پر مراد نے ہنگری کے بادشاہ کے زیر کمان عیسائیوں کی ایک بڑی فوج کو شکست دی۔
1451ء میں مراد فوت ہوا۔اس کے بعد اس کا چھوٹا بیٹا محمد جسے تاریخ میں محمد فاتح کا لقب دیا گیا ہے۔تخت نشین ہوا۔اس نے 1453ء میں قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا۔29مئی 1453ء کوترک فوجیں شہرمیں داخل ہوئیں۔آخر قسطنطنیہ جسے مسلمان امیر معاویہ ؓ  کے زمانے سے فتح کرنے کی کو شش کر رہے تھے، مسلمانوں کے قبضے میں آگیا اور سلطنت عثمانیہ کا پایہ ٔ  تخت بن گیا۔اس فتح نے محمد کو محمد فاتح بنا دیا۔سلطان محمد فاتح کے عہد میں جنوبی سردیہ ،  البانیہ،  بوسنیا اور کریمیا فتح ہوئے۔ وینس والوں کواپنی بحری قوت پر بڑا ناز تھا۔سلطان محمد نے انہیں شکست دے کر سقوطری پر قبضہ کر لیا۔سلطان محمد فاتح کی وفات کے بعد اس کا ایک بیٹا جو قسطنطنیہ میں تھا یایزید ثانی کے نام سے تختِ حکومت پر بیٹھا اس کے عہد میں ترکوں کے بحری بیڑے اور وینس کے بحری بیڑے کے درمیان 28جولائی 1499ء کو سخت جنگ ہوئی جس میں وینس نے شکست کھائی۔بایزید کے عہد میں ایران اور ترکی میں بھی لڑائیاں شروع ہو گئیں۔بایزید کے بعد 1512ء میں سلیم نے تختِ سلطنت پر قدم رکھا۔


تازہ ترین خبریں

آئی ایم ایف اور پی ڈی ایم حکمرانوں نے پاکستانی عوام کے حقوق پامال کرنے کی تیاری کرلی، ہیومن رائٹس واچ کا انکشاف

آئی ایم ایف اور پی ڈی ایم حکمرانوں نے پاکستانی عوام کے حقوق پامال کرنے کی تیاری کرلی، ہیومن رائٹس واچ کا انکشاف

پاکستان سے یومیہ 50لاکھ ڈالر افغانستان سمگل، بلوم برگ نے حکومتی کارکردگی کا پول کھول دیا

پاکستان سے یومیہ 50لاکھ ڈالر افغانستان سمگل، بلوم برگ نے حکومتی کارکردگی کا پول کھول دیا

وزیراعظم شہبازشریف کا دورہ ترکیہ ملتوی

وزیراعظم شہبازشریف کا دورہ ترکیہ ملتوی

سائنسدان2 ہزار  سال پرانی  نباتی خاتون کا چہربنانے میں کامیاب ہوگئے

سائنسدان2 ہزار سال پرانی نباتی خاتون کا چہربنانے میں کامیاب ہوگئے

ہزاروں لوگوں نے رجسٹریشن کرائی،ہم جیل بھرو تحریک شروع کر چکے ہیں، فواد چوہدری

ہزاروں لوگوں نے رجسٹریشن کرائی،ہم جیل بھرو تحریک شروع کر چکے ہیں، فواد چوہدری

الیکشن ایک ساتھ ہونے چاہیں،بار بار انتخابات سے ملک انتشار کا شکار ہوگا،خواجہ سعد رفیق

الیکشن ایک ساتھ ہونے چاہیں،بار بار انتخابات سے ملک انتشار کا شکار ہوگا،خواجہ سعد رفیق

ترکی ،شام تباہ کن زلزلے سے ہونے والی ہلاکتیں اور مناظر دماغ کو سن کر رہے ہیں، شہباز شریف

ترکی ،شام تباہ کن زلزلے سے ہونے والی ہلاکتیں اور مناظر دماغ کو سن کر رہے ہیں، شہباز شریف

ملک کے بالائی علاقوں میں مزید برفباری کا امکان

ملک کے بالائی علاقوں میں مزید برفباری کا امکان

پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات، اہم فیصلہ آج ہو گا

پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات، اہم فیصلہ آج ہو گا

توشہ خانہ کیس ، عدالت نے عمران خان   حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا

توشہ خانہ کیس ، عدالت نے عمران خان حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا   اجلاس آج  ہوگا

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج ہوگا

ترکیہ   میں زلزے  نے تباہی مچا دی ،  سات روزہ سوگ کا اعلان

ترکیہ میں زلزے نے تباہی مچا دی ، سات روزہ سوگ کا اعلان

ترکیہ اور شام میں زلزلے سے تباہی، ہلاکتیں 1300 سے زائد، ترکیہ میں ایمرجنسی نافذ

ترکیہ اور شام میں زلزلے سے تباہی، ہلاکتیں 1300 سے زائد، ترکیہ میں ایمرجنسی نافذ

اے پی سی کیلئے پی ٹی آئی کو دعوت نامہ نہیں ملا، فواد چوہدری

اے پی سی کیلئے پی ٹی آئی کو دعوت نامہ نہیں ملا، فواد چوہدری