01:01 pm
 موت کی حقیقت اور مسنون تعزیت

 موت کی حقیقت اور مسنون تعزیت

01:01 pm

 انسانی تخلیق کے قرآنی اور سائنسی مراحل کے مطابق رحم مادر میں نر اور مادہ جرثوموں کے ملاپ سے جماہواخون بنتا ہے جو بعد ازاں گوشت کے ایک لوتھڑے کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ ہڈیاں بنتی ہیں اور یہ گوشت ان پر چڑھا دیا جاتا ہے۔ تقریباً چار ماہ کی مدت میں اس بدن میں روح ڈال دی جاتی ہے جس سے وہ حس و حرکت کے قابل ہوجاتا ہے۔ چھ سے نو ماہ کے عرصے میں مکمل انسانی صورت تشکیل پا جاتی ہے۔ اگلا مرحلہ پیدائش ہے جس کے بعد’’ جسم اور روح کا مرکب حضرت انسان‘‘ دنیا کی مقررہ عمرعالم رنگ و بو میں گزارتا ہے۔قدرت کے اٹل قانون کے مطابق روح کے بدن میں رہنے کا وقت طے شدہ ہے اور اس مادی وجود سے روح کے پرواز کرنے کا نام’’ موت‘‘ ہے۔ موت ہمیں اپنی حیثیت یاد دلاتی رہتی ہے کہ ہم اس دنیا میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے نہیں آئے بلکہ مسافر ہیں۔ کورونا کے دوران موت کی شرح عام دنوں کے مقابلے میں زیادہ تھی البتہ حسب معمول دنیا بھر میں  ہرروزدیڑھ لاکھ کے لگ بھگ انسان لقمہ اجل بنتے ہیں۔کسی عزیز کی موت کا رنج و غم ایک فطری عمل ہے البتہ اس صدمے کو صبر و استقامت اور حوصلے سے برداشت کرنا ہی بندہ مومن کے شایان شان ہے۔اسلامی تعلیمات کی روشنی میں پورے وقار اورادب واحترام کے ساتھ میت کی تکفین اور تدفین کی جائے۔میت کے ورثاء کے ساتھ اظہار ہمدردی وغم گساری کو ’’تعزیت‘‘کہا جاتا ہے۔تعزیت ایک مسنون عمل کے ساتھ ساتھ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر حق بھی ہے۔مصیبت کے وقت کسی کو ذہنی وجذباتی سہارا دینا بہت بڑی مدد ہوتی ہے۔ 
رسولﷲ صلیﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’’جو اپنے مسلمان بھائی کی مصیبت میں اس سے اظہار ہمدردی کرتا ہے ﷲ تعالیٰ روز قیامت اسے قابل رشک پوشاک پہنائیں گے‘‘(تاریخ دمشق:کتاب الجنائز: رقم ۳۹۹۰۱) اس عمل کو خالصتاً قرآن وسنت کے مطابق رضائے الہٰی کے لئے بجالانا چاہئے تاکہ انسانی ہمددری کے ساتھ ساتھ قرآن وسنت کی پیروی کا ثواب بھی حاصل ہو۔تعزیت کا وقت موت سے تین دن تک ہے۔اس کے بعدتعزیت کرنے کو پسندیدہ نہیں کہا گیا کیونکہ اس سے غم تازہ ہوگا البتہ اگر تعزیت کرنے والا یا جس سے تعزیت کی جارہی ہے وہاں موجود نہ ہو یا اسے علم نہ ہو تو تین دن کے بعد بھی تعزیت میں حرج نہیں۔خط وکتابت کے ذریعے بھی تعزیت کی جاسکتی ہے۔امام حاکم اور طبرانی کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول معظم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی ﷲ عنہماکے لئے ان کے بیٹے کے انتقال پر تعزیت نامہ لکھوایا تھا۔تعزیت کرتے وقت میت کے لواحقین کو بھی دعائوں میں یاد رکھا جائے۔یہ ایک مسنون طریقہ بھی ہے اوراس میں اہل میت کے ساتھ اظہار ہمدردی اور خیر خواہی بھی ہوتاہے۔تعزیت میں یہ بھی شامل ہے کہ اہل میت کے بچوں کی نگہداشت کا اہتمام ہو، ان کا دل بہلایا جائے اور انہیں اپنے گھر کے بچوں میں شامل کیا جائے، کیونکہ چھوٹے بچوں کو گھر میں کسی کے فوت ہونے کا کوئی زیادہ احساس نہیں ہوتا ہے، لہٰذا اہل میت کے بچوں کا خیال رکھنا بھی تعزیت کی ایک صورت ہے۔ گھر میں وفات کے سبب غم والم کے شکار افراد کی تسلی،غمخواری وہمدردی کے لئے ان کی تعزیت کرنے سے دین اسلام کی عظمت اور اس کی خوبیوں کا مظاہرہ ہوتا ہے۔
مسلمانوں میں یکجہتی اور ایک دوسرے سے ہمدردی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اہل میت کی مصیبت میں تخفیف ہوتی ہے، ان کی ضرورتوں کی تکمیل کی راہ پیدا ہوتی ہے اور اس طرح کے حالات میں انہیں خوشی ومسرت کا سامان مہیا ہوتا ہے۔ اسلام مسلمانوں کو کسی غیر مسلم سے سماجی تعلقات رکھنے اور ان کے ساتھ لین دین سے نہیں روکتا اسی طرح خوشی و غمی کے اظہار کے لیے مذہب یا رنگ و نسل کی بھی کوئی تفریق نہیں کرتا ہے۔ اسلام انسانیت کے احترام کادرس دیتا ہے اور بحیثیت انسان ہر فرداحترام کا حقدار اور مستحق ہے چاہے وہ جس مذہب، رنگ ونسل سے تعلق رکھتا ہو۔ حدیث وسیرت کی کتابوں میں یہودی کے جنازے کا واقعہ موجود ہے کہ ایک دِن رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ گزرا تو وہ کھڑے ہوگئے،صحابہ رضیﷲ عنہم نے عرض کیا اے ﷲ کے رسول یہ تو ایک یہودی کا جنازہ ہے تو رسول ﷲﷺ نے فرمایا کہ کیاوہ انسان نہیں تھا؟ غیر مسلم کی تعزیت کے سلسلے میں ایک فرق سمجھنا ضروری ہے کہ تعزیت، اظہارِ ہمدردی اور دعاے مغفرت میں بڑا فرق ہے۔ دعائے مغفرت صرف اہل ایما ن کے لیے کی جاسکتی ہے اور انہی کے ساتھ مخصوص ہے جبکہ غیر مسلم کی وفات پر اظہارِ ہمدردی کیا جاسکتا ہے۔خاوند فوت ہوجائے تو عورت کیلئے چار ماہ اور دس دن تک عدت اور سوگ کی مدت ہے۔ اس دوران عورت گھر میں عدت گزارے اور بنائو سنگھار اور غیر ضروری زیب و زینت سے اجتناب کرے۔ اس دوران پیغام نکاح کی اجازت ہے جبکہ نکاح نہیں کر سکتی۔
ہماری سماجی زندگی میں کئی ایک خرافات نے جگہ بنا لی ہے جو وہاں سے ہٹنے کا نام ہی نہیں لیتیں۔ اسلام میں ایصال ثواب ایک جائز اور مشروع عمل ہے جس پر قرآن و حدیث میں بے شمار دلائل موجود ہیں۔ میت کیلئے دعائے مغفرت مسنون عمل اور سنت انبیاء ہے البتہ ہمارے ہاں فوت شدہ فرد کے ترکہ سے جس طرح ایصال ثواب کے نام پر بے تحاشہ خرچ کرکے کئی کئی ڈشیں تیار کی جاتی ہیں جو کہ اسراف اور تبذیر کے زمرے میں آتا ہے۔ کسی کے مرنے کے بعد سوم چہلم وغیرہ میں جو عام دعوت ہوتی ہے، اس پر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی قدس سرہ نے مستقل ایک رسالہ تصنیف فرمایا، ’’جلیُّ الصوت لنھی الدعوۃ اَمامَ الموت‘‘ جو دعوتِ میت، کے نام سے شائع ہواہے، اس میں اور دیگر فتاوے میں اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے اس کی ممانعت کی ہے۔ ایک جگہ فرماتے ہیں۔’’مردہ کا کھانا صرف فقرا کے لیے ہے، عام دعوت کے طور پر جو کرتے ہیں یہ منع ہے، غنی (مالدار) نہ کھائے۔ (احکام شریعت دوم، ص 16)سوم دہم چہلم وغیرہ کا کھانا مساکین کو دیاجائے، برادری کو تقسیم یا برادری کو جمع کرکے کھلانا بے معنی ہے کمافی مجمع البرکات، موت میں دعوت ناجائزہے۔ (فتاویٰ رضویہ 4/ 223) ہمارے ہاں ایصال ثواب کے نام پر بیوہ عورتوں اور یتیم بچوں کے مال میں سے دعوتیں اڑائی جاتی ہیں جو کہ قابل مذمت عمل ہے۔ بعض غریب خاندان کے لوگ قرض لے کر ان دعوتوں کا اہتمام کرتے ہیں کہ ناک نہ کٹ جائے۔ اہل محلہ اورعزیز و اقارب کو چاہیے کہ کم از کم تین دنوں تک میت کے گھر آنے والے مہمانوں اور اہل خانہ کے لئے کھانے پینے کا بندوبست کریں۔ اسلام بہت آسان اور خوبصورت زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاتا ہے لیکن بہت سی مشکلات رسم و رواج کے ہاتھوں ہم نے اپنے اوپر خود مسلط کی ہوئی ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ان خرافات سے جان چھڑائی جائے۔ تلاوت قرآن، دعائے مغفرت،صدقہ و خیرات اور کلمات خیر کے ذریعے میت کو ایصال ثواب کیا جائے البتہ ان فضولیات کے خلاف عملی جہاد کی ضرورت ہے۔

تازہ ترین خبریں

ڈالر کی قدر بڑھنے سے  ملک میں مہنگائی کا طوفان  آئے گا ، شوکت ترین

ڈالر کی قدر بڑھنے سے ملک میں مہنگائی کا طوفان آئے گا ، شوکت ترین

ملک کو تباہ کرنے والوں کا محاسبہ انتہائی ضروری ہے ، اسحاق ڈار نے تجویز دیدی

ملک کو تباہ کرنے والوں کا محاسبہ انتہائی ضروری ہے ، اسحاق ڈار نے تجویز دیدی

صوبے، پاکستان ریلوے کی زمین  واپس کریں،خواجہ سعد رفیق کی اپیل

صوبے، پاکستان ریلوے کی زمین واپس کریں،خواجہ سعد رفیق کی اپیل

فواد کی پیشی پر پولیس اہلکاروں سے کوئی تکرار نہیں ہوئی ،حبہ چوہدری کا بیان آگیا

فواد کی پیشی پر پولیس اہلکاروں سے کوئی تکرار نہیں ہوئی ،حبہ چوہدری کا بیان آگیا

بھارتی اداکار انو کپور کو سینے میں شدید تکلیف ، اسپتال داخل

بھارتی اداکار انو کپور کو سینے میں شدید تکلیف ، اسپتال داخل

آئی ایم ایف  معاہدہ  اسی ہفتے طے پا جائے گا، جلد  مشکل حالات سے باہر نکلیں گے، شہباز شریف

آئی ایم ایف معاہدہ اسی ہفتے طے پا جائے گا، جلد مشکل حالات سے باہر نکلیں گے، شہباز شریف

پرویز الٰہی کا فیصل چوہدری کوفون، فواد کی گرفتاری سے متعلق بیان پر معذرت کرلی

پرویز الٰہی کا فیصل چوہدری کوفون، فواد کی گرفتاری سے متعلق بیان پر معذرت کرلی

وزیراعظم شہبازشریف نے گرین لائن ٹرین سروس کا افتتاح کردیا

وزیراعظم شہبازشریف نے گرین لائن ٹرین سروس کا افتتاح کردیا

مفتاح اسماعیل نے بھی فواد چوہدری گرفتاری کی مخالفت کردی

مفتاح اسماعیل نے بھی فواد چوہدری گرفتاری کی مخالفت کردی

لال حویلی کو آج ہی واگزار کرایا جائے گا،ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر وقف املاک بورڈ

لال حویلی کو آج ہی واگزار کرایا جائے گا،ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر وقف املاک بورڈ

آصف  زرداری نے عمران خان کو قتل کرنے کی سازش کر رکھی ہے ،ثبوت موجود ہیں، شیخ رشید

آصف زرداری نے عمران خان کو قتل کرنے کی سازش کر رکھی ہے ،ثبوت موجود ہیں، شیخ رشید

نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کو  کام سے روکا جائے ، پی ٹی آئی نے تعیناتی سپریم کورٹ میں چیلنج  کردی

نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کو کام سے روکا جائے ، پی ٹی آئی نے تعیناتی سپریم کورٹ میں چیلنج کردی

فرخ حبیب کیخلاف مقدمہ درج، ایف آئی آر کو بہت ہی ماٹھی کہانی  قرار دیدیا

فرخ حبیب کیخلاف مقدمہ درج، ایف آئی آر کو بہت ہی ماٹھی کہانی قرار دیدیا

بتائیں کس قانون کے تحت عمران خان کو گرفتار کیا جائے گا؟  اسد عمر 

بتائیں کس قانون کے تحت عمران خان کو گرفتار کیا جائے گا؟  اسد عمر