02:26 pm
رسوائیوں کا سفر آخر کب تک؟

رسوائیوں کا سفر آخر کب تک؟

02:26 pm

مولانا فضل الرحمن کہتے ہیں کہ  اگر پاکستان نے امریکہ کو اڈے دیئے تو افغانستان سمیت چین اور ایران کا اعتماد کھو دیں گے‘‘ مولانا کا یہ بیان اس موقع پر سامنے
مولانا فضل الرحمن کہتے ہیں کہ  اگر پاکستان نے امریکہ کو اڈے دیئے تو افغانستان سمیت چین اور ایران کا اعتماد کھو دیں گے‘‘ مولانا کا یہ بیان اس موقع پر سامنے آیا کہ جب تقریباً گزشتہ ایک ہفتے سے پاکستان میں امریکہ کو اڈے دینے کی خبروں پر بحث چھڑی ہوئی ہے… یاد رہے کہ اس بحث کا آغاز امریکہ کے نائب وزیر دفاع ڈیوڈ ہیلوے کے اس بیان کے بعد ہوا کہ جو انہوں نے امریکی سینٹ کمیٹی  کو بتایا کہ ’’پاکستان، امریکہ کو زمینی اور فضائی تصرف فراہم کرتا رہے گا … انہوں نے افغانستان میں امن و امان کو ممکن بنانے کے حوالے سے پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا … پاکستان نے افغانستان میں اہم کردار ادا کیا ہے … پاکستان نے افغانستان میں امریکی عسکری مفادات کی اعانت کے لئے اپنی فضائی حدود اور زمینی سہولتیں استعمال کرنے کی اجازت بھی دی ہے‘‘۔
امریکی نائب وزیر دفاع ڈیوڈ ہیلوے کے اس بیان نے پوری پاکستانی قوم میں بے چینی کی فضا پیدا کر دی ہے ،  گو کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزرات خارجہ کے ترجمان نے امریکہ کو پاکستان میں اڈے دینے کی سختی سے تردید کی ہے … لیکن پاکستان کے عوام چونکہ ’’دودھ کے جلے ہوئے ہیں ، اسی لئے چھاچھ کو بھی  پھونک پھونک کر پینے کے عادی ہوچکے ہیں …  بیس سال پہلے پاکستان کے عوام ایک ’’کمانڈو‘‘ کو کولن پاول  کی ایک ٹیلی فون کال پر ڈھیر ہوتے  صرف دیکھ ہی نہیں چکے … بلکہ بھگت بھی چکے ہیں ، اگر اس وقت ’’رسوا کن ڈکٹیٹر‘‘ امریکی کولن پاول کی کال پر ڈھیر ہوکر پاکستان کی فضائی اور زمینی حدود امریکہ کے حوالے نہ کرتا تو ممکن ہے کہ ان ستر سے اسی ہزار پاکستانیوں کی جانیں بچ جاتیں کہ جو امریکی جنگ کے شعلوں کی نذر ہوگئے … ان اسی ہزار پاکستانیوں میں سیکورٹی فورسز کے اہلکار، جید علماء کرام، اسکالرز  اور عام پاکستانی بھی شامل ہیں … رسوا کن ڈکٹیٹر نے پاکستان کی زمین امریکہ کے حوالے کرتے ہوئے قوم کو جس خوش حالی اور اقتصادی ترقی کی خوشخبری سنائی تھی … آج20 سال بعد دیکھ لیجئے کہ امریکہ کو اپنے برادر اسلامی ملک افغانستان کے خلا ف اڈے فراہم کرنے والے پاکستان کی اقتصادی اور معاشی صورتحال  کس کسمپرسی اور بدحالی اور ابتری کا شکار ہے … کوئی دبئی میں مفرور رسوا رکن ڈکٹیٹر سے پوچھ کر قوم کو بتائے کہ نائن الیون کے بعد کولن پاول کی ٹیلی فون کال سے خوفزدہ ہوکر افغان طالبان کے خلاف امریکہ کو اڈے دینے کا ’’پاکستان‘‘ کو کیا فائدہ ہوا؟ ملا محمد عمر مجاہد کے طالبان … اگر نائن الیون سے پہلے افغانستان کی طاقت تھے تو آج بیس اکیس سال بعد بھی ملا محمد عمر مرحوم کے طالبان ہی افغانستان کی طاقت ہیں … رسوا کن ڈکٹیٹر نے بیس سال قبل امریکہ کو پاکستان میں اڈے فراہم کرکے رسوائیوں اور پسپائیوں کا جو سفر شروع کیا تھا … اگر عمران خان نے پرویز مشرف کی بنائی ہوئی قاتل اور خونی خارجہ پالیسیوں کو ختم نہ کیا تو پاکستان کے عوام یہ سمجھنے پر مجبور ہوں گے کہ رسوائیوں اور پسپائیوں کا وہ سفر بیس سال بعد بھی جاری ہے ، امریکہ   طالبان کے ہاتھوں جوتے کھا کر خود تو افغانستان سے فرار کے راستے پر گامزن ہے … لیکن اگر وہ جاتے جاتے ایک دفعہ پھر پاکستان کو آگ اور خون کے سمندر میں دھکیلنا چاہتا ہے ، کہا یہ جارہاہے کہ امریکہ پاکستان کو اربوں ڈالر دے گا… سوال  یہ ہے کہ رسوا کن ڈکٹیٹر کے دور میں بھی امریکہ نے پاکستان کو بڑے ’’ڈالرز‘‘ دیئے تھے لیکن ان ’’ڈالرز‘‘ کا پاکستان کے عوام کو تو کوئی فائدہ حاصل نہ ہوا بلکہ اس رسوا کن ڈکٹیٹر نے تو کراچی کی پاکباز بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی سمیت سینکڑوں مسلمان نوجوان امریکہ کو بیچ کر ڈالر کمائے تھے؟ امریکی پٹاری کا کوئی دانش فروش بتاسکتا ہے  کہ ان ڈالروں کا کیا ہوا ؟ صرف ’’ڈالروں‘‘ کا ہی نہیں … بلکہ پرائی آگ کے شعلے پاکستان میں منتقل کرنے والا رسوا کن ڈکٹیٹر آج کہاں ہے؟ جس نے خودغرضی پر مبنی سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگایا تھا … آج اسے پاک سرزمین پر آنے  سے ہی ڈر کیوں لگتا ہے؟
ہمیں ان ڈالروں سے بچنا چاہیے کہ جن ڈالروں کے ساتھ انسانی لہو اور لاشوں کی داستانیں جڑی ہوئی ہوں، سابق آرمی چیف جنرل اسلم بیگ کے بعد جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا یہ کہنا کہ امریکہ، افغانستان میں شکست کھاچکا ہے، مگر اب وہ پاکستان میں بیٹھنا چاہتا ہے… خطرے کی بہت بڑی گھنٹی ہے ، مولانا فضل الرحمن ’’کٹھ پتلی‘‘ نہیں بلکہ ’’ویژنری‘‘ سیاست دان ہیں … یہ وہ سیاست دان ہیں کہ جنہیں لندن اور واشنگٹن پر نہیں بلکہ مکہ اور مدینہ پر اعتماد ہے، حکومت اور بالادست قوتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ (ر) جنرل اسلم بیگ اور مولانا فضل الرحمن جیسی شخصیات کی رائے کو مقدم جانے،  ان کی پکار پر کان دھرے، اب وطن عزیز مزید کسی دہشت گردی کا متحمل نہیں ہوسکتا، ہمارے حکمرانوں نے  گزشتہ20 سالوں میں ’’امریکہ‘‘ کے لئے بہت کچھ کیا ہے … لیکن حکمرانوں نے جتنی زیادہ امریکی ’’غلامی‘‘ میں فدویانہ پن کا اظہار کیا … پاکستان اور اس کی عوام کی مشکلات میں اتنا ہی زیادہ اضافہ ہوا ، ’’امریکہ‘‘ کی وجہ سے پاکستان کے مسائل میں کمی آنے کی بجائے ہمیشہ اضافہ ہی ہوا، اس لئے موجودہ حکومت کو ہوش کے  ناخن لینے چاہئیں اور امریکہ کو افغانستان کے خلاف پاکستانی  سرزمین استعمال کرنے کی قطعاً اجازت نہیں دینی چاہیے … تاکہ چین اور افغانستان کی بھی پاکستان پر بداعتمادی نہ ہو۔
 

تازہ ترین خبریں

حلقہ این اے 118 میں عمران خان کے کاغذات نامزدگی چیلنج

حلقہ این اے 118 میں عمران خان کے کاغذات نامزدگی چیلنج

کپتان نے شہباز گل کے حوالے سے کیاکہاتھااورکس اہم ترین وزیرنےا ن کی بات کی تردیدکردی

کپتان نے شہباز گل کے حوالے سے کیاکہاتھااورکس اہم ترین وزیرنےا ن کی بات کی تردیدکردی

جشن آزادی کی تقریب  میں ایسی بے حیائی ہوئی کہ میں نے ٹوپی اتار کر آنکھوں پر ہاتھ رکھ لی

جشن آزادی کی تقریب میں ایسی بے حیائی ہوئی کہ میں نے ٹوپی اتار کر آنکھوں پر ہاتھ رکھ لی

عمران  کے کراچی آنے سےپیپلز پارٹی کی کا نپیں ٹانگناشروع ہوگئیں ،زرداری صاحب اب آپ نے گھبرانانہیں ،فواد چوہدری

عمران کے کراچی آنے سےپیپلز پارٹی کی کا نپیں ٹانگناشروع ہوگئیں ،زرداری صاحب اب آپ نے گھبرانانہیں ،فواد چوہدری

 کینسر سے انتقال کرنے والے ہاشم رضا نے موت سے چند دن پہلے معافی مانگتے ہوئے کیا خواہش کی تھی؟

کینسر سے انتقال کرنے والے ہاشم رضا نے موت سے چند دن پہلے معافی مانگتے ہوئے کیا خواہش کی تھی؟

اگر حکومت کی کوئی مجبوری ہے تومیں اس فیصلے میں شامل نہیں ،نواز شریف کی پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے فیصلے کی سخت مخالفت

اگر حکومت کی کوئی مجبوری ہے تومیں اس فیصلے میں شامل نہیں ،نواز شریف کی پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے فیصلے کی سخت مخالفت

۔۔ یہ کس مشہور شخصیت کی تصویر ہے جسے ان کے قریبی لوگ بھی نہیں پہچان پاتے؟

۔۔ یہ کس مشہور شخصیت کی تصویر ہے جسے ان کے قریبی لوگ بھی نہیں پہچان پاتے؟

۔ شادی کے 2 سال بعد بیوی کو نظر آنا بند ہوا تو شوہر نے شریک حیات ساتھ کیا سلوک کیا؟

۔ شادی کے 2 سال بعد بیوی کو نظر آنا بند ہوا تو شوہر نے شریک حیات ساتھ کیا سلوک کیا؟

پنجاب اسمبلی میں نجی قرض پر سود کی پابندی کا بل منظور

پنجاب اسمبلی میں نجی قرض پر سود کی پابندی کا بل منظور

سوناایک مرتبہ پھرمہنگا،فی تولہ قیمت میں کتنااضافہ ہوگیا،شادی کاارادہ کرنے والے افرادکے لیے بری خبرآگئی

سوناایک مرتبہ پھرمہنگا،فی تولہ قیمت میں کتنااضافہ ہوگیا،شادی کاارادہ کرنے والے افرادکے لیے بری خبرآگئی

افسران کی موجیں ختم۔۔۔پنجاب حکومت نے بڑافیصلہ کرلیا

افسران کی موجیں ختم۔۔۔پنجاب حکومت نے بڑافیصلہ کرلیا

’’شہبازگل کو ننگا کرکے مارا گیا‘‘ عمران خان اور پرویز الٰہی آمنے سامنے

’’شہبازگل کو ننگا کرکے مارا گیا‘‘ عمران خان اور پرویز الٰہی آمنے سامنے

روہڑی بائی پاس پر کوچ اُلٹ گئی، خواتین و بچوں سمیت کتنے مسافر جاں بحق ہوگئے ،انتہائی افسوسناک خبرآگئی

روہڑی بائی پاس پر کوچ اُلٹ گئی، خواتین و بچوں سمیت کتنے مسافر جاں بحق ہوگئے ،انتہائی افسوسناک خبرآگئی

ستمبر یا اکتوبر میں وطن واپسی،سابق وزیراعظم میاں نواز شریف لاہورکے بجائے کس شہرکواپنامسکن بنائیں گے

ستمبر یا اکتوبر میں وطن واپسی،سابق وزیراعظم میاں نواز شریف لاہورکے بجائے کس شہرکواپنامسکن بنائیں گے