02:27 pm
دینی مدارس اور اعتراضات 

دینی مدارس اور اعتراضات 

02:27 pm

اہل اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کے انفرادی و اجتماعی اور شخصی و معاشرتی تمام معاملات میں وحی الہٰی کے پابند ہیں  اور اخروی نجات کے ساتھ ساتھ ان کی دنیوی کامیابی اور فلاح بھی آسمانی تعلیمات کی پیروی پر موقوف ہے۔ اہل اسلام حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام پیغمبروں کی تعلیمات کو حق مانتے ہیں اور ان پر ایمان رکھتے ہیں  اور ان کا یہ عقیدہ ہے کہ  محمد رسول اللہﷺ کی تعلیمات تمام انبیاء کرام کی تعلیمات کا نچوڑ و خلاصہ ہیں اور قرآن کریم وحی الٰہی کا فائنل اور مکمل ایڈیشن ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ یہ عقیدہ بھی رکھتے ہیں جو معروضی حقائق سے مکمل مطابقت رکھتا ہے کہ انبیا کرام علیہم السلام کی تعلیمات اور وحی الٰہی کا صرف وہی حصہ تاریخ کے ریکارڈ میں مکمل طور پر محفوظ ہے جو قرآن کریم اور  نبی اکرمﷺ کے ارشادات و تعلیمات پر مشتمل ہے۔ جبکہ اس کے سوا اللہ تعالیٰ کے کسی پیغمبر پر نازل ہونے والی وحی اور اس کی اپنی تعلیمات اس وقت دنیا میں کہیں بھی محفوظ حالت میں موجود نہیں ہیں۔ اس لیے آج جو شخص یا قوم بھی آسمانی تعلیمات کو اپنی زندگی کے معاملات میں راہنما بنانا چاہتا ہے اس کے لیے قرآن کریم اور اسوہ محمدؐ کی طرف رجوع کیے بغیر کوئی چارہ کار نہیں ہے۔
اہل اسلام یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ چونکہ آسمانی تعلیمات ہی نسل انسانی کی صحیح راہنمائی کی ضامن ہیں، اور انسان محض اپنی انفرادی یا اجتماعی عقل و خواہش کی بنیاد پر مسائل حل کرنے اور مثالی انسانی سوسائٹی تشکیل دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور چونکہ دنیا کے تمام مذاہب میں صرف اسلام ہی آسمانی تعلیمات کو مکمل او رمحفوظ حالت میں دنیا کے سامنے پیش کرنے کی اہلیت رکھتا ہے، اس لیے اہل اسلام کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف خود اپنی انفرادی اور معاشرتی زندگی میں قرآن و سنت پر مکمل طور پر عمل کریں بلکہ دنیا کی دوسری اقوام کے سامنے بھی اسلامی تعلیمات کو پیش کریں اور انہیں دعوت دیں کہ وہ محض انسانی عقل و خواہش پر بھروسہ کرنے کی بجائے وحی الٰہی کی بالاتر راہنمائی کو قبول کریں اور آسمانی تعلیمات کے محفوظ ترین اور فائنل ایڈیشن قرآن و سنت کی طرف رجوع کر کے انسانی سوسائٹی کو عقل و خواہش کی بے لگام پیروی سے نجات دلائیں، تاکہ دنیا کی انسانی آبادی مجموعی طور پر فطری قوانین اور نظام کے تحت امن و خوشحالی کی حقیقی منزل سے ہمکنار ہو سکے۔اس پس منظر میں ہر مسلمان اور عورت کا قرآن و سنت کی تعلیمات سے آراستہ ہونا اس کے دینی فرائض میں شامل ہے  اور مسلمانوں کی مذہبی قیادت اسے اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے کہ وہ ہر مسلمان خاندان اور فرد کو ضروری دینی تعلیمات سے بہرہ ور کرنے کے لیے جو کچھ اس کے بس میں ہو کر گزرے اور اس معاملہ میں کوئی کوتاہی روا نہ رکھے۔
بیشتر مسلم ممالک پر برطانیہ، فرانس، ہالینڈ، پرتگال اور دیگر استعماری قوتوں کے تسلط سے قبل ان ممالک میں دینی تعلیمات کے فروغ کو ریاستی ذمہ داری شمار کیا جاتا تھا۔ اور ہر مسلمان حکومت اپنے ملک کے باشندوں کو قرآن و سنت کی تعلیمات اور دینی احکام و فرائض سے آگاہ کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتی تھی جس کے لیے ہر ریاستی نظام میں خاطر خواہ بندوبست موجود ہوتا تھا۔ مگر جب استعماری قوتوں نے مختلف حیلوں اور ریشہ دوانیوں سے مسلم ممالک کے اقتدار پر قبضہ کر کر کے ان ملکوں کے نظام تبدیل کیے تو دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ تعلیمی شعبہ میں بھی تبدیلی کر کے مسلم عوام کو دینی تعلیم کے صدیوں سے چلے آنے والے تسلسل سے محروم کر دیا۔ اس صورتحال میں آسمانی تعلیمات کے تحفظ، دینی تعلیمات کے فروغ، اور مسلم عوام کو قرآن و سنت کی تعلیمات و احکام سے آراستہ کرنے کی ذمہ داری کو اپنا بنیادی اور ناگزیر فریضہ سمجھتے ہوئے مسلمانوں کی مذہبی قیادت نے اس کے لیے امداد باہمی کی بنیاد پر رضاکارانہ اور پرائیویٹ تعلیمی نظام کی بنیاد رکھی جو آج مختلف مسلم ممالک بالخصوص جنوبی ایشیاء  کے ممالک میں ہزاروں بلکہ لاکھوں دینی مدارس کی شکل میں موجود ہے۔ برصغیر پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں مغل حکومت کے دور میں درس نظامی کا یہی نصاب ملک کا سرکاری نصاب تعلیم تھا جو آج ضروری ترامیم اور تبدیلیوں کے ساتھ اسی نام سے دینی مدارس میں رائج ہے۔
 ضروری محسوس ہوتا ہے کہ دینی مدارس کے موجودہ سسٹم کے بارے میں عام طور پر کئے جانے والے سوالات کا جائزہ لے لیا جائے تاکہ مدارس کے ناقدین کا موقف اور ان کی حقیقت بھی سامنے آ جائے۔ان میں سب سے پہلا اعتراض بنیاد پرستی کا ہے ۔ اگر اس سے مراد یہ ہے کہ مدارس عام مسلمانوں کو اسلام کی بنیادی تعلیمات سے وابستہ رکھے ہوئے ہیں جس کی بدولت مسلم معاشرہ میں اس سولائزیشن کے فروغ میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے جو مذہب کے اجتماعی کردار کی نفی کرتے ہوئے سوسائٹی کی اجتماعی عقل و خواہش کی بنیاد پر سیکولر ثقافت کو پوری دنیا پر مسلط کرنے کے درپے ہے، تو دینی مدارس کو اس الزام کے قبول کرنے سے کوئی انکار نہیں ہے۔ بلکہ وہ اسے اپنے لیے الزام کی بجائے اعزاز اور کریڈٹ سمجھتے ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں کہ ان کے اس کردار کی اثر خیزی کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ اس لیے اس معاملہ میں دینی مدارس کسی قسم کی کوئی لچک قبول کرنے کے روادار نہیں ہیں۔دوسرا سوال قومی اجتماعی دھارے سے الگ رہنے اور جداگانہ تشخص قائم رکھنے کا ہے۔ اس سلسلہ میں گزارش ہے کہ اس کا تعلق بھی ان مدارس کے مقصد وجود سے ہے۔ کیونکہ جب تک ریاستی نظام ہمارے معاشرہ میں دینی تعلیمات کے فروغ، مساجد کے لیے ائمہ کی فراہمی، دینی رہنمائی کے لیے علماء  کی تیاری، اور قرآن و سنت کی تعلیم کے لیے اساتذہ مہیا کرنے کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا اور اس کے لیے قابل قبول عملی نظام پیش نہیں کرتا اس وقت تک ان مدارس کے قیام و وجود کی ضرورت بہرحال باقی رہے گی۔ ورنہ وہی خلا پیدا ہو جائے گا جس کو پر کرنے کے لیے مدارس قائم کئے گئے تھے اور اس خلا ء کو باقی رکھنے کا کوئی باشعور مسلمان رسک نہیں لے سکتا۔ اس خلا ء کو پر کرنے کے لیے نہ صرف ان مدارس کا وجود ضروری ہے بلکہ ان کی اس مالیاتی خودمختاری، انتظامی آزادی، اور نصابی تحفظات کا برقرار رکھنا بھی ناگزیر ہے جس کے بغیر یہ اپنا کردار اعتماد کے ساتھ ادا نہیں کر سکتے۔
اس لیے دینی مدارس کے جداگانہ تعلیمی نظام اور معاشرہ میں دو ذہنی اور تعلیمی دوئی کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری ریاستی نظام پر عائد ہوتی ہے جو اس کردار کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے جو ان مدارس کے جداگانہ وجود کا باعث ہے۔ مگر ان مدارس کو اجتماعی دھارے میں شامل کرنے کی خواہش کا مسلسل اظہار کرنے کا منطقی نتیجہ معاشرہ میں دینی تعلیم کے اس نظام کو یکسر ختم اور بے اثر کر دینے کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ چنانچہ مدارس دینیہ کے خلاف اس مسموم فضا میں وہ حق پسند و حقیقت پسند حضرات قابل تحسین ہیں جو ان کی ضرورت و افادیت اور خدمات کے نہ صرف معترف ہیں بلکہ ان مدارس کے ساتھ مالی و اخلاقی تعاون کرتے ہوئے اسلام کی آواز کو سربلند کرنے میں برابر کے حصہ دار ہیں۔

تازہ ترین خبریں

پارٹی میں جھگڑے کارکنوں کے نہیں قیادت کے ہیں، خواجہ آصف کا اعتراف

پارٹی میں جھگڑے کارکنوں کے نہیں قیادت کے ہیں، خواجہ آصف کا اعتراف

پی ٹی آئی کی حکومت کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے اورعام انتخابات کسی بھی وقت ہو سکتے ہیں۔خواجہ آصف

پی ٹی آئی کی حکومت کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے اورعام انتخابات کسی بھی وقت ہو سکتے ہیں۔خواجہ آصف

کھلاڑی محنت اور دیانتداری سے دنیا میں پاکستان کا نام روشن کریں۔ڈاکٹر عارف علوی 

کھلاڑی محنت اور دیانتداری سے دنیا میں پاکستان کا نام روشن کریں۔ڈاکٹر عارف علوی 

 پولیس کو ویکسین کارڈ نہ رکھنے والوں کی گرفتاری سے روک دیا گیا

پولیس کو ویکسین کارڈ نہ رکھنے والوں کی گرفتاری سے روک دیا گیا

وزیراعظم  نے قوم کا تیل نکال دیا اور کہتے ہیں کہ گھبرانا نہیں: شہبازشریف

وزیراعظم نے قوم کا تیل نکال دیا اور کہتے ہیں کہ گھبرانا نہیں: شہبازشریف

خطرناک ترین سمندری طوفان گلاب کب تک ساحل سے ٹکرائے گا،پاکستان کو کتنا خطرہ ہے۔محکمہ موسمیات نے الرٹ جاری کردیا، پاکستانیوں کیلئے بڑی خبر

خطرناک ترین سمندری طوفان گلاب کب تک ساحل سے ٹکرائے گا،پاکستان کو کتنا خطرہ ہے۔محکمہ موسمیات نے الرٹ جاری کردیا، پاکستانیوں کیلئے بڑی خبر

امارات عرب ممالک میں سب سے آگے، بڑے اعزاز کے قریب پہنچ گیا

امارات عرب ممالک میں سب سے آگے، بڑے اعزاز کے قریب پہنچ گیا

جھگڑے کارکنوں میں نہیں بلکہ پارٹی قیادت میں ہیں، خواجہ آصف

جھگڑے کارکنوں میں نہیں بلکہ پارٹی قیادت میں ہیں، خواجہ آصف

مسلم لیگ (ن) نے موجودہ صورتحال میں اسمبلیوں سے استعفوں کی مخالفت کر دی

مسلم لیگ (ن) نے موجودہ صورتحال میں اسمبلیوں سے استعفوں کی مخالفت کر دی

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کی کرسی خطرے میں پڑگئی

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کی کرسی خطرے میں پڑگئی

کراچی کے ساحلی زون پر ہزارو ں رہائشی یونٹس بنائیں گے، وزیر اعظم

کراچی کے ساحلی زون پر ہزارو ں رہائشی یونٹس بنائیں گے، وزیر اعظم

حکومت کا بوریا بستر کبھی بھی گول ہو سکتا ہے، خواجہ آصف

حکومت کا بوریا بستر کبھی بھی گول ہو سکتا ہے، خواجہ آصف

مسلم لیگ (ن) نے موجودہ صورتحال میں اسمبلیوں سے استعفوں کی مخالفت کر دی

مسلم لیگ (ن) نے موجودہ صورتحال میں اسمبلیوں سے استعفوں کی مخالفت کر دی

شی جن پھنگ کی طرف سے 2021  عالمی انٹرنیٹ کانفرنس ووجن سمٹ کے نام تہنیتی پیغام

شی جن پھنگ کی طرف سے 2021 عالمی انٹرنیٹ کانفرنس ووجن سمٹ کے نام تہنیتی پیغام