01:02 pm
 ملالہ کی مذمت! آزادی پسند کہاں ہیں؟

 ملالہ کی مذمت! آزادی پسند کہاں ہیں؟

01:02 pm

سوشل میڈیا پر ایک دفعہ پھر ملالہ یوسف زئی کا متنازعہ بیان زیر بحث ہے، میں اس مغرب زدہ آفت کی ’’پڑیا‘‘ کو اپنے کالم میں زیر بحث تو نہیں لانا چاہتا تھا مگر ’’آفت کی اس پڑیا‘‘ نے چونکہ ’’نکاح‘‘ کی خوبصورت سنت پر سنگ باری کی کوشش کی ہے اس لئے اس کا منہ توڑ جواب دینا بھی ضروری ہے، سب سے پہلے تو یہ جان کر’’جیو‘‘ کہ آفت کی اس پڑیا کو  مغرب کی کوئین بنانے میں برطانوی نشریاتی ادارے کے ساتھ ساتھ پاکستانی الیکٹرانک چینلز کا بھی پورا پورا ہاتھ ہے۔ ذرا ذہن پر زور دیجئے کہ ’’امن کی آشا اینڈ کمپنی‘‘ کا اس وقت کیا کردار  تھا کہ جب ملالہ یوسف زئی پر حملے کی خبر سامنے آئی تھی؟ میرا یہ کہنا ہے کہ اگر ’’بیڈ‘‘ میڈیا کا بنایا ہوا شاہکار کسی نے دیکھنا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ ملالہ یوسف زئی کو دیکھ لے، اگر ملالہ یوسف زئی نے برطانوی میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ کہا ہے کہ ’’ کسی کو اپنی زندگی میں رکھنے کے لئے نکاح نامے پر دستخط کی کیا ضرورت ہے؟ صرف پارٹنر بن کر کیوں نہیں رہا جاسکتا؟‘‘ تو  اس گناہ میں وہ اینکر اور اینکرنیاں بھی برابر کی شریک ہیں کہ جنہوں نے نجانے کس کے ’’اشارے‘‘ پر سوات کی بھولی بھالی کم سن ’’ملالہ‘‘ کو اپنے ٹاک شوز کے ذریعے مغرب کی کوئین بنا کر اس مقام پر لاکھڑا کیا کہ اب وہ لڑکی دین اسلام کے احکامات اور پاکستانی تہذیب و تمدن کے خلاف مغرب کا ہتھیار بن چکی ہے۔ یہ جو ’’صحافت‘‘ کے آزادی پسند چاچے، مامے بنے اپنی ہی فورسز پر گرج برس رہے ہیں۔ ان میں سے کس کی جرات ہے کہ وہ ملالہ یوسف زئی کے اس متنازعہ بیان کی مذمت کرے یا اس کے خلاف کالم لکھے؟ اگر کسی خود ساختہ ’’آزادی پسند‘‘ میں ہمت ہے تو سامنے آئے؟
پنجابی کا محاورہ ہے ’’جنے کھادیاں گاجراں ٹیڈ آنہاں دے پیڑ‘‘ یعنی جس نے گاجریں کھائی ہوں گی انہی کے پیٹ میں درد اٹھے گا، جس ادارے کی جو غلطی یا کوتاہی ہو وہ اسے بتانا لازم ہے۔ تجزیے اور تبصرے کرنا بھی درست، لیکن ’’پارٹی‘‘ بن کر کھڑا ہو جانا، اپنے ہی اداروں کو عالمی سطح پر مطعون کرنے کی کوششیں کرنا، آخر یہ سب کیا ہے؟
میرے پیارے قارئین جانتے ہیں کہ جہاں فوج کے جرنیلوں نے غلطیاں کیں۔ اس خاکسار نے اپنے کالموں میں کھل کر ان پر تنقید کی، آج کے آزادی پسند صحافتی ’’ٹارزن‘‘ جس وقت پرویز مشرف کو لال مسجد آپریشن کے لئے اکسا رہے تھے۔ یہ خاکسار اس وقت بھی ’’پرویز مشرف‘‘ کو رسواکن ڈکٹیٹر لکھا کرتا تھا، آج کے سیکولر آزادی پسند، جس وقت پرویز مشرف سے سوال کیا کرتے تھے کہ آخر لال مسجد کے علامہ عبدالرشید غازی،مولانا عبدالعزیز اور برقعہ بریگیڈ کے خلاف گورنمنٹ کی رٹ کب قائم ہوگی؟ ہم تب بھی اوصاف کے انہی صفحات پر رسواکن ڈکٹیٹر کو لال مسجد آپریشن نہ کرنے کے مشورے دیا کرتے تھے۔ تنقید برائے تعمیر ہو تو کوئی کتنا بڑا طاقتور جرنیل کیوں نہ ہو، اسے بری نہیں لگنا چاہیے،پاک فوج ہو یا آئی ایس آئی یہ پاکستان کی قومی سلامتی کے ادارے ہیں، غلطیاں ان کے بعض افراد سے بھی سرزد ہوئی ہوں گی، انہیں بھی اپنی غلطیوں کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے وکیل ہوں،صحافی ہوں، علماء ہوں یا عام لوگ 22کروڑ پاکستانیوں کو اپنے اداروں سے پیار ہے،انہیں بھی چاہیے کہ وہ صحافی ہوں، علماء ہوں،وکلاء ہوں یا عوام سب کے ساتھ شفقت اور مروت والا معاملہ کریں۔ جج ہوں، جرنلسٹ ہوں یا جرنیل انہیں اصولی اور فروعی اختلافات کو ذاتی لڑائیوں میں تبدیل کرکے ایک دوسرے کے خلاف انتقامی کارروائیوں سے ہر قیمت پر گریز کرنا چاہیے، لیکن یہ سب اس وقت ممکن ہوگا کہ جب ہر ایک کا ایجنڈا ملکی آئین کے تحت پاکستانی حدود کے اندر اندر ہو، لیکن جن کی مہاریں غیروں کے ہاتھ میں ہوں، جو دین اسلام اور فوج کو گالی دینے کے بعد امریکہ اور برطانیہ کی گود میں جا بیٹھیں اور پھر وہاں بیٹھ کر یومیہ بنیادوں پر دین اسلام کے احکامات اور پاکستانی قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف بھونکنا اپنا شعار بنالیں،پھر یہ قوم اتنی بیوقوف بھی نہیں کہ ان کی باتوں میں آجائے، میرایہ ماننا ہے کہ رسوا کن ڈکٹیٹر بھی بھگوڑا ہے؟ لیکن گل بخاری،مبشرزیدی اینڈکمپنی بھی تو مفروروں پر مشتمل ہے،آج وہ کن صحافتی ٹارزنوں کی سپورٹ کر رہی ہے اور کیوں؟
جاننے والے جانتے ہیں کہ نائن الیون کے بعد سب سے زیادہ پاکستان کا مذہبی طبقہ معتوب رہا، مذہب پسندوں کو پھانسیاں تک دی گئیں، اسلام آباد میں لاپتہ افراد کے حق میں سب سے پہلے لال مسجد کے منبر ومحراب سے شہید عبدالرشید غازی نے آواز بلند کی، علامہ غازی شہید ’’ڈیفنس آف ہیومن رائٹس‘‘ کے بانیوں میں سے تھے۔ لاپتہ افراد میں سے اکثریت کا تعلق مذہب پسندوں سے تھا اور ان میں  سے بعض وہ تھے کہ جو امریکی بلیک واٹر کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح  چبھتے تھے ، پھر میڈم آمنہ جنجوعہ کی  ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی ذمہ داری سونپی گئی کہ جنہوں نے خاتون خانہ ہونے کے باوجود لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے ایک بھرپور تحریک چلائی، ’’لاپتہ افراد‘‘ یقیناً اس بے زبان معاشرے کا آج بھی سب سے سلگتا ہوا سوال ہیں؟ لاپتہ افراد کے حق میں آواز بلند کرنا اگر جرم ہے تو یہ جرم ہم بار، بار کریں گے لیکن آئین اور قانون کے دائرے میں  رہتے ہوئے۔ شیخ الحدیث مولانا  امین اورکزئی کو ہنگو میں ان کے مدرسے کے اندر جنگی طیارے کے ذریعے نشانہ بنا کر شہید کر ڈالا گیا۔ سوات آپریشن کے دوران کیا کچھ نہیں ہوا۔ دلچسپ بات، آپریشن کی بنیاد بننے والی وہ ویڈیو کہ جس میں ایک لڑکی کو چند مشکوک  لوگ کہ جنہیں این جی او مارکہ ’’ثمر من اللہ‘‘ نے سواتی طالبان قرار دیا تھا۔ اس ویڈیو کو بعد میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے ’’جعلی‘‘ قرار دیا تھا۔ وہ متنازعہ جعلی ویڈیو جس اینکر کے ٹاک شو میں دکھائی گئی تھی وہ ’’حضرت‘‘ آج کل ثانی مولانا ظفر علی خان اور آغا شورش کشمیری بنے پھرتے ہیں۔ 
بہرحال یہ موقع نہ تو سنگ باری کرنے کا ہے اور نہ ہی کسی پہ طنزو مزاح کے تیربرسانے کا، ہاں البتہ ریکارڈکی درستگی کے لئے ہلکے پھلکے انداز میں یہ چند باتیں اس لئے لکھیں کہ کوئی یہ مت سمجھے کہ ہمارے پاس لکھنے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ ابھی تو اور اتنا کچھ باقی ہے کہ جس سے درجنوں کالم لکھے جاسکتے ہیں میری دوسری طرف کے لوگوں سے بھی اپیل ہے کہ خدارا! وہ ’’غدار‘‘ بنانے والی فیکٹریاں بند کر دیں،یہ ملک صحافیوں کا بھی اتنا ہی ہے  جتنا ججز،جرنیلوں یا عام پاکستانیوں کا، آپ اختلاف بھی رکھیں، ان کے موقف کو مسترد بھی ضرور کریں لیکن ’’غداری‘‘ کے طعنے مت دیں،کیونکہ کسی بھی محب وطن کے لئے یہ لفظ خوفناک گالی سے کم نہیں۔ (وماتوفیقی الاباللہ)

تازہ ترین خبریں

حکومت کی موثر اقتصادی پالیسیوں کے باعث ملکی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے، شفقت محمود

حکومت کی موثر اقتصادی پالیسیوں کے باعث ملکی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے، شفقت محمود

 حاملہ خواتین بھی کورونا ویکسین لگواسکتی ہیں۔ڈاکٹر فیصل سلطان

حاملہ خواتین بھی کورونا ویکسین لگواسکتی ہیں۔ڈاکٹر فیصل سلطان

انسداد دہشتگردی عدالت نے رکن قومی اسمبلی  علی وزیر پر فرد جرم عائد کردی۔

انسداد دہشتگردی عدالت نے رکن قومی اسمبلی  علی وزیر پر فرد جرم عائد کردی۔

انگلینڈ کا دورہ پاکستان کے انکار پر دکھ ہوا. چئیرمین پی سی بی رمیز راجہ 

انگلینڈ کا دورہ پاکستان کے انکار پر دکھ ہوا. چئیرمین پی سی بی رمیز راجہ 

 ملکی سربراہ کو ملنے والے تحائف ماضی کی طرح غائب نہیں ہوتےبلکہ توشہ خانہ میں جمع کروائے جاتے ہیں۔ شہباز گل

ملکی سربراہ کو ملنے والے تحائف ماضی کی طرح غائب نہیں ہوتےبلکہ توشہ خانہ میں جمع کروائے جاتے ہیں۔ شہباز گل

چہلم امام حسینؓ کے موقع پر موبائل فون سروس بند کرنے کا فیصلہ

چہلم امام حسینؓ کے موقع پر موبائل فون سروس بند کرنے کا فیصلہ

قومی کرکٹ ٹیم  کے کھلاڑی 23 ستمبر سے نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں جلوہ گر ہوں گے

قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی 23 ستمبر سے نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں جلوہ گر ہوں گے

پی ٹی آئی،مسلم لیگ ن اورپاکستان پیپلز پارٹی کاتصادم صرف دکھاوے کی سیاست ہے۔سراج الحق 

پی ٹی آئی،مسلم لیگ ن اورپاکستان پیپلز پارٹی کاتصادم صرف دکھاوے کی سیاست ہے۔سراج الحق 

ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کیلئے ایک اور سہولت کا اعلان

ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کیلئے ایک اور سہولت کا اعلان

 سواتی صاحب الیکشن کمشنر کس کی گھڑی کس کی چھڑی ہے اس سے ہمیں مطلب نہیں۔ ناصر حسین شاہ

سواتی صاحب الیکشن کمشنر کس کی گھڑی کس کی چھڑی ہے اس سے ہمیں مطلب نہیں۔ ناصر حسین شاہ

ملک کے مختلف شہروں میں تیز بارش ۔۔۔۔ بجلی فراہم کرنے والے متعدد فیڈرز پر فالٹ اور ٹرپنگ جاری

ملک کے مختلف شہروں میں تیز بارش ۔۔۔۔ بجلی فراہم کرنے والے متعدد فیڈرز پر فالٹ اور ٹرپنگ جاری

 اپوزیشن جماعتیں صرف ذاتی مفادات کا تحفظ چاہتی ہیں۔عثمان بزدار

اپوزیشن جماعتیں صرف ذاتی مفادات کا تحفظ چاہتی ہیں۔عثمان بزدار

مریم نواز نے جاتی امرااراضی انتقال منسوخی کیس میں دوبارہ فریق بنانے کی درخواست دائر کردی

مریم نواز نے جاتی امرااراضی انتقال منسوخی کیس میں دوبارہ فریق بنانے کی درخواست دائر کردی

 بی آر ٹی میں سفر کرونا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ سے مشروط کر دیا گیا ہے۔

بی آر ٹی میں سفر کرونا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ سے مشروط کر دیا گیا ہے۔