01:03 pm
ایک خطرناک منظر نامہ

ایک خطرناک منظر نامہ

01:03 pm

٭جنوبی وزیرستان: بارودی سرنگ، بم دھماکہ، ایک فوجی شہید متعدد زخمیO افغانستان سے امریکہ کے انخلا میں تیزی، پاکستان کے لئے شدید خطرہO سپریم کورٹ، نیب بارے سخت ریمارکسO لاہور، ڈاکو مقابلہ پولیس کے زنگ آلود ہتھیار،فائرنگ نہ ہو سکی، کانسٹیبل شہیدOچند لوگوں کے کہنے پر ’’میں پاکستان زندہ باد نہیں کہہ سکتا‘‘ جاوید لطیف کا نیا بیانO سرگودھا: والدین کے تحفظ آرڈی ننس کے بعد بیٹے نے باپ کو گھر سے نکال دیاO لاہور بجلی: روزانہ چھ گھنٹے لوڈ شیڈنگ کا فیصلہ O بھارت:تلنگانہ 37333 بچے کرونا میں مبتلاO شہباز شریف و حکومت: ایک دوسرے کے خلاف درخواستیں واپس!
٭دوسرے مسائل نمٹ نہیں رہے اور نیا پریشان کن خطرناک مہیب مسئلہ سامنے آ گیا ہے۔ جس کا فی الحال عام عوام کو احساس نہیں مگر یہ مسئلہ جنم لے چکا ہے، اگلے ڈیڑھ دو ماہ سے اس کی سنگینی شروع ہو جائے گی۔ مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ نے تیزی سے افغانستان کو خالی کرنا شروع کر دیا ہے۔ مشہور خبررساں ادارے (اے ایف پی) (ازانل فرانس پریس) کے مطابق افغانستان میں امریکہ کی بری و فضائی افواج کا سب سے بڑا بگرام کا اڈا اگلے 20 روز تک بالکل خالی ہو جائے گا اور اسکا کنٹرول افغان فوج سنبھال لے گی۔ دوسری طرف قندھار میں امریکی فضائی فوج کا اڈا بالکل خالی کیا جا چکا ہے۔ اس وقت تک افغانستان سے امریکہ اور نیٹو افواج افغانستان کو 45 فیصد تک خالی کر چکی ہیں، انہیں جولائی کی ابتدا تک افغانستان کو مکمل طور پر خالی کرنا ہے۔بگرام کا بہت بڑا فوجی اڈا روس نے 1980ء میں افغانستان پر حملہ کے بعد قائم کیا تھا۔ اس میں بیک وقت لاکھوں فوجی اور بے شمار طیارے موجود رہ سکتے ہیں۔ فوجی مبصرین کے مطابق افغان فوج کے لئے اتنے بڑے اڈے کو سنبھالنا ممکن نہیں جب کہ طالبان افغانستان کے دو تہائی سے زیادہ حصے تک پھیل چکے ہیں اور اب تیزی سے باقی جگہ بھی سنبھال رہے ہیں۔ افغان فوج مسلسل ہر جگہ سے پسپا ہو رہی ہے جب کہ صدر اشرف غنی کی موجودہ حکومت صرف کابل، بلکہ صرف صدارتی محل تک محدود ہو چکی ہے۔ اس کا کسی بھی وقت چل چلائو دکھائی دے رہا ہے۔ اشرف غنی بالآخر طالبان کے ساتھ مل کر قومی حکومت بنانے پر رضا مند ہو گیا ہے مگر طالبان کو اپنی مکمل فتح دکھائی دے رہی ہے۔ وہ ایک بالکل بے بس اور بے اختیار برائے نام حکمران حکومت کے ساتھ سمجھوتہ کے لئے تیار نہیں۔ بلکہ یہ کہ طالبان نے افغان حکومت اور فورس کے خلاف جارحانہ کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ اشرف غنی نے اس صورت حال سے گھبرا کر پاکستان سے تعاون کی اپیل کی مگر اس موقع پر پاکستان کے لئے طالبان سے دشمنی مول لینا آسان نہیں، یوں اشرف غنی کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس نے چند روز قبل پاکستان کے خلاف سخت زہریلا بیان دیا ہے اور اس پر طالبان سے گٹھ جوڑ کا الزام لگایا ہے۔ یہ وہ صورت حال ہے جسے میں نے پاکستان کے لئے نہائت خطرناک قرار دیا ہے۔
٭عالمی مبصرین کے مطابق امریکہ اور نیٹو کی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں مختلف قبائلی گروہوں، طالبان اور افغان فوج کے درمیان شدید خانہ جنگی کا خطرہ ہے اس میں وسیع پیمانہ پر کشت و خون اور تباہی کا وہی منظر دکھائی دے رہا ہے جو 1980ء میں افغانستان پر سوویت یونین (اب روس) کے حملے سے پیدا ہوا تھا۔ طالبان اور سوویت یونین کی مزید فوج کی جنگ کے نتیجہ میں لاکھوں دربدر افغان مہاجرین پاکستان اور ایران میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے تھے۔ افغانستان کے اندر ہزاروں افراد ہلاک و زخمی ہو گئے۔ افغانستان میں اس جنگ کے نتیجہ میں سوویت یونین ٹوٹ گیا۔ اس کی افغانستان اور ایران سے ملنے والی بہت سی مقبوضہ ریاستیں آزاد ہو گئیں۔ سوویت یونین کی پسپائی یوں ہوئی کہ وہ صرف روس کی حدود میں سمٹ گیا۔ ملک میں قحط پڑ گیاا س کا کمیونزم کا نظریہ سرمایہ داری کے نظریہ میں تبدیل ہو گیا اور درانتی اور ہتھوڑے والا قومی پرچم بھی ختم ہو گیا۔
٭یہ داستان طول پکڑ گئی مگر ہم کبوتر کی طرح آنکھیں بند نہیں رکھ سکتے۔ آنے والے دو تین ماہ خطرناک حقیقت کے طور پر دکھائی دے رہے ہیں۔ امریکہ وغیرہ کی افواج جانے کے بعد افغانستان میں سخت ابتری، خانہ جنگی، مختلف حصوں پر مختلف قبائلی گروہوں کے قبضے اور ایک دوسرے کے ساتھ لڑائیوں کا مہیب نقشہ دکھائی دے رہا ہے۔ یہ لڑائی افغانستان کے اندر تک محدود نہیں رہے گی، مختلف جنگی گروہ پاکستان میں داخل ہو کر یہاں اپنے جنگی مرکز قائم کر سکتے ہیں۔ شکستیں کھانے والے گروہ پاکستان میں پناہ لے سکتے ہیں۔ یہ ساری صورت حال واضح دکھائی دے رہی ہے اس سے پاکستانی ذمہ دار حلقے بھی واضح طور پر پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔
٭ایک مختصر ذکر افغانستان میں امریکہ کی لاحاصل جنگی کارروائیوں کے نتیجہ میں خود امریکہ کے بھاری نقصانات کا!! خود امریکی وزارت دفاع کے مطابق افغانستان میں امریکہ کے چار ہزار سے زیادہ فوجی مارے گئے (عراق میں بھی چار ہزار مروائے تھے) مگر امریکہ کے لئے چودھراہٹ کی خاطر اپنے فوجی مروانا محض ایک مشغلہ ہے۔ مختلف اوقات میں مختلف جنگوں میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کا ایک مختصر جائزہ 1846-48ء میکسیکو سے جنگ، امریکی ہلاکتیں 19 ہزار 1861-65 سول وار تین لاکھ 62 ہزار۔ دوسری عالم گیر جنگ 1941-46 چار لاکھ آٹھ ہزار…ان اعداد و شمار کے سامنے افغانستان میں صرف چار ہزار امریکیوں کی موت کیا اہمیت رکھتی ہے؟ ایک آخری بات کہ امریکی فوجیوں کی لاشیں امریکہ میں رات  کے وقت واپس جاتی ہیں اور متعلقہ علاقوں میں پہلے مکمل بلیک آئوٹ کیا جاتا ہے (یہی حال بھارت میں مقبوضہ کشمیر سے جانے والی بھارتی لاشوں کا ہوتا ہے)
٭سارا کالم افغانستان کی نذر ہو گیا مگر جو کچھ واضح طور پر سامنے دکھائی دے رہا ہے، اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا! لیکن یہ سب کچھ اقتدار کے لئے ایک دوسرے سے دست و گریبان، جانوروں کی طرح لڑنے والے، سیاست دانوں کو دکھائی نہیں دے رہا ذرا حرص و ہوا کی لڑائیاں دیکھیں، عمران خان کی جہانگیر ترین کے ساتھ لٹھ بازی، مولانا فضل الرحمن کی حکومت اور پیپلزپارٹی سے دوطرفہ محاذ آرائی، شہباز شریف اور مریم نواز کی رسہ کشی! شہباز شریف بنام نوازشریف! (کھل کر آمنے سامنے!) پیپلزپارٹی بنام مولانا فضل الرحمان و عمران خان۔ چلئے کوئی اور باتیں کریں۔
٭ لاہور میں ڈاکوئوں سے سُندر کے علاقے میں مقابلہ ہوا۔ پولیس کے اہلکاروں کی رائفلیں زنگ آلود تھیں، اندر مٹی بھی بھری ہوئی تھی، یہ رائفلیں چل نہ سکیں ڈاکوئوں کی فائرنگ سے ایک کانسٹیبل شہید ہو گیا۔ ڈاکو بھاگ گئے!
٭پاکستان کے خلاف بیان دینے والے زیرحراست شیخوپورہ کے جاوید لطیف نے پھر کہا ہے کہ چند لوگوں کی خاطر میں ’پاکستان زندہ باد‘ نہیں کہہ سکتا۔
٭سپریم کورٹ: ایک سینئر جج کے ریمارکس:’’نیب بالکل غیر جانبدار نہیں، اپنوں کے کیس اینٹی کرپشن میں بھیج دیتی ہے، غریب افراد کے کیس اپنے پاس رکھ کر انہیں ذلیل و خوار کیا جاتا ہے۔‘‘
٭پنجاب اسمبلی کے باہر ن لیگ کی عظمیٰ بخاری کی پریس کانفرنس میں تحریک انصاف  کے وزیر فیاض الحسن بھی آ گئے۔ مشترکہ پریس کانفرنس کی تجویز دی۔ عظمیٰ بخاری بگڑ گئیں، کہا کہ پہلے استعفا دے کر آئو، ن لیگ والوں کے تیور دیکھ کر وزیر کو بھاگنا پڑا!

تازہ ترین خبریں

حکومت کی موثر اقتصادی پالیسیوں کے باعث ملکی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے، شفقت محمود

حکومت کی موثر اقتصادی پالیسیوں کے باعث ملکی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے، شفقت محمود

 حاملہ خواتین بھی کورونا ویکسین لگواسکتی ہیں۔ڈاکٹر فیصل سلطان

حاملہ خواتین بھی کورونا ویکسین لگواسکتی ہیں۔ڈاکٹر فیصل سلطان

انسداد دہشتگردی عدالت نے رکن قومی اسمبلی  علی وزیر پر فرد جرم عائد کردی۔

انسداد دہشتگردی عدالت نے رکن قومی اسمبلی  علی وزیر پر فرد جرم عائد کردی۔

انگلینڈ کا دورہ پاکستان کے انکار پر دکھ ہوا. چئیرمین پی سی بی رمیز راجہ 

انگلینڈ کا دورہ پاکستان کے انکار پر دکھ ہوا. چئیرمین پی سی بی رمیز راجہ 

 ملکی سربراہ کو ملنے والے تحائف ماضی کی طرح غائب نہیں ہوتےبلکہ توشہ خانہ میں جمع کروائے جاتے ہیں۔ شہباز گل

ملکی سربراہ کو ملنے والے تحائف ماضی کی طرح غائب نہیں ہوتےبلکہ توشہ خانہ میں جمع کروائے جاتے ہیں۔ شہباز گل

چہلم امام حسینؓ کے موقع پر موبائل فون سروس بند کرنے کا فیصلہ

چہلم امام حسینؓ کے موقع پر موبائل فون سروس بند کرنے کا فیصلہ

قومی کرکٹ ٹیم  کے کھلاڑی 23 ستمبر سے نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں جلوہ گر ہوں گے

قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی 23 ستمبر سے نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں جلوہ گر ہوں گے

پی ٹی آئی،مسلم لیگ ن اورپاکستان پیپلز پارٹی کاتصادم صرف دکھاوے کی سیاست ہے۔سراج الحق 

پی ٹی آئی،مسلم لیگ ن اورپاکستان پیپلز پارٹی کاتصادم صرف دکھاوے کی سیاست ہے۔سراج الحق 

ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کیلئے ایک اور سہولت کا اعلان

ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کیلئے ایک اور سہولت کا اعلان

 سواتی صاحب الیکشن کمشنر کس کی گھڑی کس کی چھڑی ہے اس سے ہمیں مطلب نہیں۔ ناصر حسین شاہ

سواتی صاحب الیکشن کمشنر کس کی گھڑی کس کی چھڑی ہے اس سے ہمیں مطلب نہیں۔ ناصر حسین شاہ

ملک کے مختلف شہروں میں تیز بارش ۔۔۔۔ بجلی فراہم کرنے والے متعدد فیڈرز پر فالٹ اور ٹرپنگ جاری

ملک کے مختلف شہروں میں تیز بارش ۔۔۔۔ بجلی فراہم کرنے والے متعدد فیڈرز پر فالٹ اور ٹرپنگ جاری

 اپوزیشن جماعتیں صرف ذاتی مفادات کا تحفظ چاہتی ہیں۔عثمان بزدار

اپوزیشن جماعتیں صرف ذاتی مفادات کا تحفظ چاہتی ہیں۔عثمان بزدار

مریم نواز نے جاتی امرااراضی انتقال منسوخی کیس میں دوبارہ فریق بنانے کی درخواست دائر کردی

مریم نواز نے جاتی امرااراضی انتقال منسوخی کیس میں دوبارہ فریق بنانے کی درخواست دائر کردی

 بی آر ٹی میں سفر کرونا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ سے مشروط کر دیا گیا ہے۔

بی آر ٹی میں سفر کرونا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ سے مشروط کر دیا گیا ہے۔